ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  وزیراعظم شہباز، صدر اردوان اور صدر پزشکیان کے فون پر رابطے

Iran Israel War, Prime Minister Shahbaz Sharif, city42

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے فون پر بات کی اور رجب طیب اردوان نے فون پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کی۔

ترک صدر طیب اردگان نے ہفتے کے روز اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایرا پر حملوں کے ذریعے خطے کو آگ لگانے اور جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی ایران پر جارحیت اور فلسطینی عوام کے خلاف مظالم کی شدید مذمت کی۔

  وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا  جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی،وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کو ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ 

 وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران کہا کہ اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری اور سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو عالمی امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں،دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی اور اقوام متحدہ و عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کا فوری نوٹس لے۔

 وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر قیامِ امن کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کریں گے۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کو اسلامی تعاون یوتھ فورم کی جانب سے ملنے والے اعزاز پر مبارکباد بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی رابطے میں رہیں گے،ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی ولی عہد سے رابطہ کیا،انھوں نے کہا کہ ایران اسرائیل مسئلہ صرف مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے، اسرائیل کو روکنا ناگزیر ہے، صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

 ترک صدر نے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت خطے کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، ایران پر حملے نے اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کر دیا، علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے اسرائیل کو روکا جانا ضروری ہے۔