ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 اسرائیل ایران میں ریجیم چینج کی طرف جا بھی سکتا ہے

 Iran Regime Change, City42 Irani Diaspora , Maryam Rajavi
کیپشن: File Photo اسرائیل اور ایران کی دیرینہ کنفلکٹ میں طویل عرصہ سے اسرائیل سے یہ منسوب کیا جاتا رہا ہے کہ وہ درپردہ ایران میں ریجیم چینج کے لئے کوشش کر رہا ہے، اب پہلی مرتبہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حکومت بدلنے کے لئے ایران کے عوام کو براہ راست مخاطب کیا تو پرانی سازشی تھیوری ایک بار پھر ڈسکس ہونے لگی ہے کہ ایران پر حملےکا اصل مقصد ہی ریجیم چینج ہے۔ یہ کارٹوں کسی ایرانی آرٹسٹ کا بنایا ہوا ہے جس مین نیتن یاہو کی ریجیم چینج کی مبینہ کوشش کا تمسخر اڑایا گیا ہے۔

سٹی42: اسرائیل کے ایک سینئر اہلکار  نے بتایا ہے  کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا 'کوئی اعلان کردہ ہدف نہیں'، لیکن اگر ایران اسرائیلی شہروں پر حملے جاری رکھے گا تو سب سب امکانات موجود ہیں۔  

 اسرائیلی حکومت کے کچھ عہدیداروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ریجیم چینج اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں کا اوبجیکٹو نہیں ہے لیکن یہ تہران کے اقدامات کی بنیاد پر تبدیل ہوسکتا ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے ہفتے کے روز چینل 12 کو بتایا کہ "حکومت کو گرانے کے لیے کوئی اعلانیہ پالیسی نہیں ہے۔ لیکن اگر ایران شہری آبادی کو نقصان پہنچانا اور سرخ لکیروں کو عبور کرنا جاری رکھتا ہے تو تمام آپشنز میز پر ہوں گے"۔

نائب وزیر الموگ کوہن - ایک معمولی کھلاڑی جو اسرائیل میں جنگ کی رہنمائی کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں میں شامل نہیں ہے - اس  بے بھی X کو پوسٹ کیا کہ ایرانیوں سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

Caption ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد دو دن کے دوران ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کے حامیوں نے سڑکوں پر آ کر اسرائیل کے خلاف  روایتی احتجاج کئے تو ان احتجاجوں مین شریک افراد کی تعداد انتہائی تھوڑی ہے۔ لیکن خامنہ ای کے حامیوں کی تعداد کم بہرحال نہیں ہوئی۔

بی بی سی فارسی سروس کے  ایڈیٹر نے ایران میں ریجیم چینج کی قیاس آرائیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ لوگ حکومت کی تبدیلی کے لئے سڑکوں پر آ جائیں۔

انترنیشنل میڈیا میں بہرحال نیتن یاہوکی ایک  گفتگو مسلسل ڈسکس ہو رہی ہے جس میں انہوں نے ایران کے عوام سے مخاطب ہو کر ان سے آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کی حمایت نہ کرنے کے متعلق باتیں کیں۔

Caption  ایرانی مجاہدینِ خلق کی لیڈر مریم رجوی ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت اور پورا نظام بدلنے کی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان سے متفق ہونے والے لوگ ایران چھوڑ جاتے ہیں اور جو ایران کے اندر رہتے ہیں وہ خواہ متفق ہوں، سڑکوں پر احتجاج کے لئے کبھی نہیں آتے کوینکہ سڑک پر احتجاج عموماً جیل لے جاتا ہے۔

ایران مین ریجیم چینج درحقیقت ایران کے کئی اپوزیشن گروپوں کی دیرینہ خواہش پر مبنی نعرہ ہے جو سب کے سب ایران سے باہر رہ رہے ہیں۔ وہ سب لوگ ایران مین ریجیم کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن ایران کے اندر رہنے والے عوام اس مقصد کے لئے سڑک پر کبھی نہیں آئے، حتیٰ کہ اکتوبر   2022 میں مہسا امینی کے حراست مین قتل کے بعد ہونے والے سخت احتجاجوں میں بھی عوام کو  ریجیم چینج کی طرف لے جانا بیرون ملک مقیم سیاسی گروپوں کے لئے محض خواب ہی رہا۔۔

Caption مہسا امینی کے حراستی قتل کے بعد یورپ اور ایران کے اندر یکساں شدت کے ساتھ احتجاج ہوئے لیکن ایران میں یہ احتجاج کسی منظم تحریک کو جنم نہیں دے سکے۔