کیپشن: 15 جون 2025 کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے دوران، شمالی اسرائیل کے تمرا میں ایک رہائشی عمارت میں ہنگامی امداد کے اداروں کے کارکن کام کر رہے ہیں۔ (اسرائیل فائر اینڈ ریسکیو سروس)
سٹی42: تمرا میزائل کے حملے میں جاں بحق ہونے والی چار خواتین کا اسرائیلی مسلم خطیب خاندان سے ہے۔
عبرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، شمالی اسرائیل میں تمرا شہر کی ایک عمارت پر آج رات کے اوائل میں ایرانی میزائل کے حملے کے چار متاثرین ایک ہی خاندان کی خواتین ہیں۔
ان خواتین کا نام منار خطیب اور ان کی دو بیٹیاں 20 سالہ ہالا اور 13 سالہ شادا کے ساتھ ساتھ ایک اور رشتہ دار خاتون بھی ہے جس کا نام منار ہے۔
سٹی42: دفتر خارجہ نے پاک ایران سرحد کی بندش سے متعلق خبروں کی تردید کر دی۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاک ایران سرحد کی بندش سے متعلق خبریں گمراہ کن اور جھوٹی ہیں پاکستان اور ایران کے درمیان تمام بارڈر کراسنگ مکمل فعال ہیں اور سرحد پر آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سرحدی صورتحال سے متعلق افواہوں میں کوئی صداقت نہیں اور تمام بارڈر کراسنگ مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔
ن بارڈر پہنچ گئے 18 Jun, 2025 | 06:40 PM
پانچ سو پاکستانیوں کی تافتان بارڈر کے راستے واپسی ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کے باعث پاکستانیوں کی ایران سے واپسی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، آج مزید 500 سے زائد پاکستانی شہری تفتان بارڈر پہنچے جن میں زائرین، مزدور، تاجر اور سٹوڈنٹس شامل ہیں۔
لیویز ذرائع کے مطابق، ایرانی علاقوں میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد بڑی تعداد میں پاکستانی شہری اپنی حفاظت کے پیش نظر واپسی اختیار کر رہے ہیں۔ ایران سے زائرین کی تفتان بارڈر آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج مزید 250 پاکستانیوں کو تفتان بارڈر سے ان کے گھروں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے بارڈر پر تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
گزشتہ روز سے اب تک مجموعی طور پر 1450 سے زائد پاکستانیوں کو تفتان بارڈر سے وطن کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ کیا جا چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور لیویز فورس کی نگرانی میں تمام آپریشنز کو منظم طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے تاکہ واپسی کا عمل پرامن اور محفوظ انداز میں مکمل ہو سکے۔
اس سے پہلے
کل پاکستانیوں کو لے کر قومی ایئر لائن کی خصوصی پرواز ترکمان کے شہر اشک آباد سے اسلام آباد پہنچی تھی۔ پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے 107 پاکستانی وطن پہنچے ہیں۔
ایرانی فضائی حدود کی بندش پر پاکستانی شہری زمینی راستے سے اشک آباد منتقل کیے گئے تھے، اس سلسلے میں ایرانی اور ترکمان حکام سے رابطے میں رہ کر پاکستانی سفارتخانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔
پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے پی آئی اے کی خصوصی پرواز حکومت پاکستان کی ہدایت پر بھیجی گئی تھی، مسافروں نے بر وقت اقدام پر حکومت اور پی آئی اے کا شکریہ ادا کیا۔
سٹی42: ایل پی جی مافیا نے ایران اسرائیل جنگ کو لے کر پاکستان میں خوف پھیلانا شروع کر دیا، ادارے بھانگ پی کر سوئے پڑے ہیں۔
پاکستان میں آج شب تک ایل پی جی ہر گاؤں کی دوکان پر موجود ہے جہاں سے لوگ ضرورت کے مطابق ڈیڑھ دو کلو ایل پی جی سلندر میں بھروا کر لے جا رہے ہیں لیکن ایل پی جی مافیا یہ بے پر کی افواہیں اڑا رہا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی قلت ہونے والی ہے اور قلت ہوئی تو گھریلو سلنڈر کی قیمت کئی ہزار روپے بڑھ جائے گی۔
ایل پی جی کے بزنس کو آئل ایند گیس ریگولیٹری اتھارٹی ریگولیٹ کرتی ہے اور اوگرا کی مقرر کی ہوئی قیمتوں پر گیس فروخت ہو رہی ہے، جہاں مافیا کے لوگوں کو موقع ملتا ہے وہ عوام سے زیادہ قیمت اینٹھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ادارے چھاپے مارتے ہیں۔
آج ایل پی جی ایسوسی ایشن کے نام سےگیس فروشوں کا لیڈر بننے کے شوقین ایک لال بھجکڑ نے یہ ہوائی اڑائی ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے سبب پاکستان میں ایل پی جی کی قلت ہونے والی ہے اور سلنڈر کی گیس بہت مہنگی ہونے کا "خدشہ" ہے۔ اپنے تحریری بیان میں ایل پی جی ڈسٹریبیوٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے یہ ہائیپوتھیٹیکل دعویٰ کیا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ سے ملک میں مائع پیٹرولیم گیس ( ایل پی جی)کاسنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
عرفان کھوکھر نے فرمائش کی ہے کہ حکومت ایل پی جی کی امپورٹ کے لیےخصوصی بندوبست کرے۔ ایل پی جی کی سٹوریج میں اضافہ نہ کیا گیا تو قلت ہونےسے قیمت بڑھنےکا خدشہ ہے۔
سٹی42: آج اتوار کی صبح اسرائیل پر ایران کے میزائلوں کے نئے حملے میں مرنے والوں کی تعداد تین اور زخمیوں کی تعداد 140 ہو گئی۔
ایک نوعمر بچے سمیت 25 زخمیوں کو اچیلوف ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ اچیلوف میڈیکل سینٹر نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے تازہ ترین بیراج کے بعد 25 افراد جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، اسپتال پہنچے۔
تین کی حالت اعتدال میں ہے اور باقی اچھی حالت میں ہیں۔
زخمیوں کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ہسپتال نے متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک ہاٹ لائن کھولی ہے۔
سٹی42: اتوار کی صبح بیت یام کی عمارت پر ایرانی میزائل کے حملے میں مرنے والوں کی تعداد 3 ہو گئی۔ آج صبح کے میزائل حملوں میں سو سے زیادہ زخمیوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن مین سے کئی شدید زخمی ہیں۔ یہ تمام لوگ سویلین ہیں۔ اس سے پہلے اتوار اور ہفتے کی درمیانی رات اسرائیل کے شہر تمیر پر ایرانی میزائل گرنے سے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے تھے کل ہفتے کی رات اسرائیل پر ایرانی میزائلوں کے حملوں میں چار افراد مرے تھے جن میں دو عورتیں شامل تھیں، آج مرنے والوں میں کم از کم تین خواتین ہیں۔
اسرائیلی سیکورٹی فورسز اتوار، 15 جون، 2025 کو صبح سویرے بیت یام میں ایک تباہ شدہ عمارت کا معائنہ کر رہی ہیں جسے ایران سے فائر کیے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آج صبح ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل کے بت یام میں ایک عمارت پر گرنے کے بعد تین افراد کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے۔
ابتدائی امداد کے ادارہ میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون 60، 70 سال کی ایک عمر رسیدہ خاتون اور 13 سال کا ایک بچہ شامل ہیں۔
ہنگامی امداد کے کارکنوں کے مطابق، بیت یام اور ریہووت دونوں میں دو مقامات پر آج صبح میزائل گرنے سے مجموعی طور پر 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد شدید زخمی ہوئے۔
پہلے جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ بیت یام میں ایرانی میزائل کا نشانہ بننے والی عمارت گرنے کے خطرے میں ہے۔
سٹی42: اسرائیل کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا 'کوئی اعلان کردہ ہدف نہیں'، لیکن اگر ایران اسرائیلی شہروں پر حملے جاری رکھے گا تو سب سب امکانات موجود ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے کچھ عہدیداروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ریجیم چینج اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں کا اوبجیکٹو نہیں ہے لیکن یہ تہران کے اقدامات کی بنیاد پر تبدیل ہوسکتا ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے ہفتے کے روز چینل 12 کو بتایا کہ "حکومت کو گرانے کے لیے کوئی اعلانیہ پالیسی نہیں ہے۔ لیکن اگر ایران شہری آبادی کو نقصان پہنچانا اور سرخ لکیروں کو عبور کرنا جاری رکھتا ہے تو تمام آپشنز میز پر ہوں گے"۔
نائب وزیر الموگ کوہن - ایک معمولی کھلاڑی جو اسرائیل میں جنگ کی رہنمائی کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں میں شامل نہیں ہے - اس بے بھی X کو پوسٹ کیا کہ ایرانیوں سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
Caption ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد دو دن کے دوران ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کے حامیوں نے سڑکوں پر آ کر اسرائیل کے خلاف روایتی احتجاج کئے تو ان احتجاجوں مین شریک افراد کی تعداد انتہائی تھوڑی ہے۔ لیکن خامنہ ای کے حامیوں کی تعداد کم بہرحال نہیں ہوئی۔
بی بی سی فارسی سروس کے ایڈیٹر نے ایران میں ریجیم چینج کی قیاس آرائیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ لوگ حکومت کی تبدیلی کے لئے سڑکوں پر آ جائیں۔
انترنیشنل میڈیا میں بہرحال نیتن یاہوکی ایک گفتگو مسلسل ڈسکس ہو رہی ہے جس میں انہوں نے ایران کے عوام سے مخاطب ہو کر ان سے آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کی حمایت نہ کرنے کے متعلق باتیں کیں۔
Caption ایرانی مجاہدینِ خلق کی لیڈر مریم رجوی ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت اور پورا نظام بدلنے کی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان سے متفق ہونے والے لوگ ایران چھوڑ جاتے ہیں اور جو ایران کے اندر رہتے ہیں وہ خواہ متفق ہوں، سڑکوں پر احتجاج کے لئے کبھی نہیں آتے کوینکہ سڑک پر احتجاج عموماً جیل لے جاتا ہے۔
ایران مین ریجیم چینج درحقیقت ایران کے کئی اپوزیشن گروپوں کی دیرینہ خواہش پر مبنی نعرہ ہے جو سب کے سب ایران سے باہر رہ رہے ہیں۔ وہ سب لوگ ایران مین ریجیم کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن ایران کے اندر رہنے والے عوام اس مقصد کے لئے سڑک پر کبھی نہیں آئے، حتیٰ کہ اکتوبر 2022 میں مہسا امینی کے حراست مین قتل کے بعد ہونے والے سخت احتجاجوں میں بھی عوام کو ریجیم چینج کی طرف لے جانا بیرون ملک مقیم سیاسی گروپوں کے لئے محض خواب ہی رہا۔۔
Caption مہسا امینی کے حراستی قتل کے بعد یورپ اور ایران کے اندر یکساں شدت کے ساتھ احتجاج ہوئے لیکن ایران میں یہ احتجاج کسی منظم تحریک کو جنم نہیں دے سکے۔
سٹی42: اسرائیلی جیٹ طیاروں نے تہران اور آئل فیلڈز پر حملے مکمل کر لئے۔ اسرائیل نے ایران کی تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملے ہفتے کے روز شروع کئے جو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات جاری ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت سمیت اسلامی جمہوریہ کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کے خلاف جاری حملوں کے درمیان "تہران کی راہ ہموار کر دی ہے، نیتن یاہو نے ساتھ ہی ساتھ تیل کے ذخائر پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔
Oil depots in the Shahran region west of Tehran are burning following an attack by Israeli warplanes. pic.twitter.com/a4LaddjMwl
نیتن یاہو نے ایک عبرانی ویڈیو بیان میں کہا، "ہم آیت اللہ کی حکومت سے تعلق رکھنے والی ہر سائٹ، ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے - ہر وہ چیز (حملہ) جس کا انہوں نے اب تک تجربہ کیا ہے، آنے والے دنوں میں اس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگا"۔
انہوں نے اپنے جاری آپریشن میں اسرائیل کے ہدف کی وضاحت کی جو ان کے مطابق "ریاست اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے ایران سے دوہرے خطرے کو ختم کرنا" - اس کا جوہری پروگرام اور اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام ختم کرنا ہے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "بہت جلد، آپ کو تہران کے آسمانوں پر IAF کے طیارے نظر آئیں گے۔ ہم آیت اللہ کی حکومت سے تعلق رکھنے والے ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے۔"
ہفتے کی رات کو اسرائیل نے ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے فوراً بعد تہران میں ایندھن کے دو ڈپووں کو نشانہ بنایا، ایرانی وزارت تیل نے اتوار کی صبح ان حملوں کی دوبارہ تصدیق کی۔
IDF کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اتوار کی آدھی رات کے فوراً بعد X پر ایک مختصر پوسٹ میں، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے آئل ڈپوؤں پر حملے کے متعلق لکھا: "تہران جل رہا ہے۔"
کاٹز نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ "اگر [ایران کے رہنما علی] خامنہ ای نے اسرائیلی ہوم فرنٹ پر میزائل فائر کرنا جاری رکھا تو تہران جل جائے گا۔"
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی ڈرون حملے کے بعد ایک "زبردست دھماکے" کی اطلاع دی تھی۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کا کہنا ہے کہ جنوبی پارس حملے کے بعد 12 ملین کیوبک میٹر گیس کی پیداوار روک دی گئی تھی، اس حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی تھی جسے ایرانی وزارت تیل کے مطابق بعد میں بجھا دیا گیا تھا۔
ایران کی معیشت کے لیے اہم تیل کے شعبوں کو حملوں کے پہلے دور میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، لیکن ایک سینئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران بیلسٹک میزائلوں سے اسرائیلی آبادی کے مراکز کو نشانہ بناتا ہے - جو اس نے کیا تھا - تو اسرائیل ایرانی حکومت کے رہنماؤں اور ریاستی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا جیسے آئل ریفائنریز۔
بعد ازاں ہفتے کی شام، IDF نے تصدیق کی کہ وہ تہران میں فوجی اہداف پر فضائی حملے کر رہی ہے،
Captionایرانی ہلال احمر کے رضاکار 14 جون 2025 کو تہران میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے سامنے جمع ہیں۔ (ایرانی ہلال احمر / اے ایف پی)
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اتوار کی صبح اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں ملک کی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔
ایجنسی نے کہا کہ "آج شام کو تہران پر صیہونی حکومت کی فضائیہ کے حملے میں، وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ ہیڈ کوارٹر کی عمارتوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا،" ایجنسی نے کہا۔ ایرانی وزارت دفاع نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مسلسل ہوائی حملوں کے 40 گھنٹے
اسرائیل کی دفاعی افواج کے ایک ترجمان نے ہفتے کی شام کہا کہ "فضائیہ کے پائلٹ ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل حملے کر رہے ہیں اور اہم دھچکے لگا رہے ہیں - حملوں کا ایک ایسا سلسلہ جو 40 گھنٹوں سے نہیں رکا، جس میں 150 سے زیادہ اہداف بھی شامل ہیں۔"
ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایرانی دارالحکومت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تہران سے، "قاتل دہشت گرد حکومت کا انتظام کیا گیا ہے، جو پوری مغربی دنیا کے لیے خطرہ ہے، اور یہ کہ "تہران اب اس سے محفوظ نہیں رہا۔"
ایرانی فضائی دفاع پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کے حملوں کے بعد، ڈیفرین نے کہا کہ "اس وقت سینکڑوں اسرائیلی جیٹ طیارے اور طیارے مغربی ایران اور تہران پر فضائی برتری حاصل کر رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "ہوائی جہاز سٹریٹجک ملٹری انڈسٹری کے اہداف، جوہری پروگرام کے اہداف اور ایرانی دہشت گرد قیادت میں اعلیٰ حکام پر حملوں کی ایک لہر کو مکمل کر رہے ہیں۔"
Caption ہفتہ 14 جون 2025 کو یروشلم میں سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس۔ (Avi Ohayon/GPO)
اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ کی میٹنگ ہفتے کی رات ایک زیر زمین بنکر میں ہوئی، میٹنگ آدھی رات تک جاری رہی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کی گئی فوٹیج میں، نیتن یاہو کے ساتھ، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، وزیر خارجہ گیڈون ساعار، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ، وزیر انصاف یاریو لیون، اور وزیر توانائی ایلی کوہن بھی شامل تھے۔
ہفتے کے روز ملک بھر کے اسرائیلیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ محفوظ جگہوں کے قریب رہیں - بشمول اپارٹمنٹس کے محفوظ کمرے یا بموں کی پناہ گاہیں، لیکن زیر زمین جگہیں نہیں جنہیں خاص طور پر محفوظ کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے - کیونکہ ایران سے مزید میزائل بیراجوں کا کسی بھی وقت امکان تھا۔
اسرائیلی حکام نے - عوامی اور نجی طور پر - اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک نے ایک وجودی خطرے کو ٹالنے کے لیے جمعہ کو اپنی مہم کا آغاز کیا ہے جو کئی روز جاری رہے گی۔
چینل 12 نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ IDF کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اسرائیل کے سیاسی رہنماؤں سے کہا: "ایران میں آپریشن یہودیوں کے وجود کے دفاع کے لیے ایک آپریشن ہے۔ اگر ہم نے ابھی کارروائی نہیں کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔" انہوں نے مبینہ طور پر مزید کہا: "یہ تبدیلی کو معمل میں لانے کا آخری موقع ہے۔"
Captionآئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے 14 جون 2025 کو ٹیل نوف ایئربیس پر ہوائی عملے اور تکنیکی ماہرین سے ملاقات کی۔ (اسرائیل کی دفاعی افواج)
صدر اسحاق ہرزوگ نے ہفتے کے روز ایک عوامی خطاب میں عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف لڑتے ہوئے اسرائیل کی مکمل حمایت کریں۔
انہوں نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا، "ہم پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی دوراہے پر ہیں - ایک "دہشت گرد جہاد" کے درمیان جو خطے پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور شراکت داری اور امن کے افق کے درمیان۔" "یہ صرف ہماری جنگ نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں کی جنگ ہے جو ہمارے خطے میں مشترکہ مستقبل چاہتے ہیں۔"
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی حکومت نے "ہمارے خلاف نسل در نسل کام کیا ہے، ہمیں قتل کیا ہے۔ اس نے عالمی اور علاقائی دہشت گردی پیدا کرنے، اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے اور سب سے بڑھ کر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کام کیا ہے تاکہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے عزائم کو پورا کیا جا سکے۔"
ہرزوگ نے ملکی سطح پر قومی اتحاد پر زور دیا۔
ایران نے اپنے پراکسیز کو جوہری بم دینے کا منصوبہ بنایا نیتن یاہو نے ہفتے کے روز انگریزی زبان میں ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ تہران صرف اپنے لیے جوہری بم نہیں بنانا چاہتا بلکہ "جوہری ہتھیاروں کو بانٹنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔وہ نیوکلئیر بم اپنے دہشت گرد پراکسیوں کو تیار کر کے دیں گے۔"
"یہ سٹیرائڈز پر جوہری دہشت گردی ہے۔ اس سے پوری دنیا کو خطرہ ہو گا،" انہوں نے کہا۔
لیکن اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے، نیتن یاہو نے کہا، "سینئر ایرانی رہنما پہلے ہی اپنے بیگ پیک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "واضح حمایت" حاصل ہے، انہوں نے امریکی رہنما اور امریکی فوج کو بھی سالگرہ کی مبارکباد دی۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام کو روکنا امن کے لیے شرط اور اہم امریکی مفاد ہے۔
Caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں ایلپس سے آرمی کی 250 ویں سالگرہ کی پریڈ میں کھڑے ہو کر سلامی دے رہے ہیں۔ (مینڈیل این جی اے این / اے ایف پی)
امریکی صدر نے بحر اوقیانوس کو بتایا کہ "ان لوگوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ وہ امن چاہتے ہیں - اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہے تو آپ امن نہیں رکھ سکتے۔" "اسرائیل یا "اسرائیل کا خاتمہ" - ایران کے پاس جوہری بم نہیں ہو سکتا۔" تاہم انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام پر "اب بھی معاہدہ کرنا چاہتا ہے"۔
ایران، جس کے لیڈروں نے اسرائیل کو تباہ کرنے کی قسم کھائی ہے، عوامی طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تردید کرتا رہا ہے۔ تاہم، اسلامی جمہوریہ نے افزودہ یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے - جو ہتھیاروں کے درجے سے ایک چھوٹا قدم دور ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اگر تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایسا اقدام ضروری ہو گیا تو امریکہ ایران کی زیر زمین فردو جوہری تنصیب پر حملہ کرنے پر غور کرے گا۔
اسرائیلی صحافی بارک راویڈ نے ہفتے کے روز چینل 12 پر کہا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ مسئلہ ایک نازک مسئلہ ہو گا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اگر فردو اسرائیلی فضائی حملوں سے بچ جاتا ہے، تو ایران کا جوہری ڈھانچہ برقرار رہے گا اور تہران اپنے باقی جوہری پروگرام کو بھی اس تنصیب میں منتقل کر سکتا ہے، اسے اسرائیل کی پہنچ سے باہر رکھ کر اور جوہری ہتھیار بنانے کے راستے پر اپنی پیش رفت تیز کر سکتا ہے۔
نیوکلیئر پروگرام کو پہلے ہی 'زبردست دھچکا' لگ چکا ہے نیتن یاہو نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل نے اب تک ایران کی جوہری تنصیبات کو "سنگین نقصان" پہنچایا ہے، جس میں فزیکل سائٹس پر حملوں کے ساتھ ساتھ سینئر سائنسدانوں نے تہران کے جوہری پروگرام کو کئی سالوں تک موخر کر دیا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی فوجی اہلکار نے اس جائزے کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کے جوہری منصوبے کو دو اہم شعبوں میں شدید دھچکا لگا ہے: نتنز اور اصفہان میں یورینیم کی افزودگی اور تبدیلی کے مقامات پر حملوں کے ذریعے ہتھیاروں کے مرکز کو پہنچنے والے نقصان [اور] حکومت کے ہتھیار سازی گروپ کو پہنچنے والے نقصان نمایاں ہیں"
Caption اتوار 15 جون 2025 کو تہران کے شمال مغرب میں شہران کے آئل ڈپو میں آگ لگنے سے گاڑیاں بڑی تعداد میں سڑک پر نکلیں جس سے شاہراہ پر ٹریفک جام ہو گیا۔ (عطا کنارے / اے ایف پی)
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے ہفتے کے روز کہا کہ اصفہان کے مقام پر گزشتہ روز ہونے والے حملے میں چار اہم عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جس میں یورینیم کی ٹرانسفارمیشن کی سہولت اور ایک ایندھن پلیٹ بنانے کا پلانٹ بھی شامل ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ - جیسا کہ Natanz کی سہولت میں - "آف سائٹ تابکاری میں کوئی اضافہ متوقع نہیں تھا۔"
New high-resolution satellite images published by @Maxar show multiple buildings were destroyed at the Natanz nuclear enrichment facility from recent airstrikes. See here before and after: pic.twitter.com/NNVZ4MhvEv
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے قبل ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ نتنز تنصیب کا اوپر والا حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی زیر زمین سینٹری فیوج کی سہولت متاثر نہیں ہوئی، لیکن بجلی کی کمی سے وہاں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے سرکاری طریقہ کار کے مطابق اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج کے ابتدائی جائزے کے مطابق ایران کو نتنز اور اصفہان جوہری مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کرنے میں "چند ہفتوں سے زیادہ وقت لگے گا"۔ اہلکار نے کہا کہ فوج کے پاس "ٹھوس انٹیلی جنس ہے کہ اصفہان میں پیداوار فوجی مقاصد کے لیے ہے۔"
IAEA نے کہا کہ ایران کے فردو فیول افزودگی پلانٹ یا زیر تعمیر خندب ہیوی واٹر ری ایکٹر میں کوئی نقصان نہیں دیکھا گیا ہے۔
میزائل لانچروں پر حملے
IDF نے کہا کہ اس نے ہفتے کے روز مغربی ایران میں زیر زمین ہتھیاروں کی ایک تنصیب پر بمباری کی، جس کے بارے میں اس کے بقول ایران درجنوں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
فوج نے اس جگہ اور دوسری جگہوں پر میزائل لانچروں پر حملہ کرنے والے فضائیہ کے پائلٹوں کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجیوں پر حملوں کی فوٹیج بھی جاری کی۔ فوج نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک درجنوں بیلسٹک میزائل لانچر تباہ ہو چکے ہیں۔
جمعے سے اب تک 20 اعلیٰ ایرانی کمانڈر مارے گئے آئی ڈی ایف نے ہفتے کی سہ پہر تصدیق کی کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور کے بیلسٹک میزائل صف کے سربراہ محمد باقری، حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ، غلام رضا مرحبی کی طرح مارے گئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک اعلیٰ مشیر علی شمخانی بھی جمعہ کی صبح اسرائیل کے فضائی حملوں کی ابتدائی لہر میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے، ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی۔
IDF نے کہا کہ اسرائیل نے اپنی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے تقریباً 20 اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز وسطی ایران میں زرندییہ بسیج فوجی اڈے پر حملے میں آئی آر جی سی کے ارکان کے مارے جانے کا بھی اعلان کیا۔
تہران سے 300 کلومیٹر (186 میل) مغرب میں ڈرون حملے میں ایک پولیس چیف اور ایک اور افسر بھی مارے گئے، ISNA پریس ایجنسی نے ان کی شناخت پولیس چیف میجر حبیب اللہ اکبریان اور سیکنڈ لیفٹیننٹ امیر حسین سیفی کے طور پر کی ہے۔
اس رپورتاژ خبر کا مواد ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ سے لیا گیا۔
سٹی42: اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کی قیادت پر الزام لگایا کہ ایران نے اپنے پراکسیز کو جوہری بم دینے کا منصوبہ بنایا۔
نیتن یاہو کا الزام ہفتے کے روز انگریزی زبان میں ایک ویڈیو بیان میں سامنے آیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ تہران صرف اپنے لیے جوہری بم نہیں بنانا چاہتا بلکہ "جوہری ہتھیاروں کو بانٹنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔وہ نیوکلئیر بم اپنے دہشت گرد پراکسیوں کو تیار کر کے دیں گے۔"
"یہ سٹیرائڈز پر جوہری دہشت گردی ہے۔ اس سے پوری دنیا کو خطرہ ہو گا،" انہوں نے کہا۔
لیکن اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے، نیتن یاہو نے کہا، "سینئر ایرانی رہنما پہلے ہی اپنے بیگ پیک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "واضح حمایت" حاصل ہے، انہوں نے امریکی رہنما اور امریکی فوج کو بھی سالگرہ کی مبارکباد دی۔
سٹی42: ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات شمالی اسرائیل میں تمرا پر میزائل حملے میں مرنے والوں کی تعداد 5 ہو گئی۔ ساحلی شہر حیفہ کے قریب واقع عرب اسرائیلیوں کی آبادی تمرا شہر کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل حملے میں مرنے والوں کی تعداد تین سے بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزال تمرا پر گرنے سے دو منزلہ گھر منہدم ہو گیا اور قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس حملے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد خطیب خاندان کے افراد ہیں۔
سٹی42: اتوار کی صبح ایران کے میزائلوں کے بیرج کے اسرائیل پہنچنے کے بعد ابتدائی رپورٹوں میں ایرانی میزائلوں سے بیت یام، ریہووت اور رمات گان میں امپیکٹ کی نشاندہی کی گئی ہے
اسرائیل کے عبرانی میڈیا کی ابتدائی رپورٹوں میں ایران کی جانب سے تازہ ترین بیراج کے بعد وسطی اسرائیل میں متعدد میزائل یا شارپنل زمین پر گرنے سے ہونے والے نقصانات/ اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ہنگامی امداد کرنے والے ادارہ میگن ڈیوڈ ایڈوم نے بتایا ہے کہ وہ بیت یام میں ایک عمارت کو ہونے والے بڑے نقصان سمیت متعدد مقامات پر اثرات کی رپورٹوں پر امدادی کارروائی کے لئے امدادی کارکنوں کو بھیج رہے ہیں۔
بیت یام میں متعدد معمولی اور ہلکے زخمی افراد ہیں، اور پہلے جواب دہندگان اب بھی اس عمارت کی تلاش کر رہے ہیں جہاں میزائل یا شارپنل گرا ہے۔
فائر اینڈ ریسکیو سروسز کی ابتدائی رپورٹوں میں ریہووت کی عمارت پر ممکنہ براہ راست اثر، تل ابیب اور کریات ایکرون کے مرکزی قصبے کے ایک مال پر اثر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
سٹی42: ایران کے میزائلوں کے نئے بیراج کی نشان دہی ہونے کے بعد تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔
ایران کی طرف سے فائر کیے گئے میزائلوں کے ایک بیراج کے بعد تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں سائرن بج رہے ہیں۔
قبل ازیں IDF نے کہا تھا کہ اس نے تہران سے فائر کیے گئے ایک بیراج کی نشاندہی کی ہے، جس میں لوگوں کو پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے کل دھمکی دی تھی کہ ایران کے میزائل اسرائیل کے رہائشیوں کی نیندیں حرام کر دیں گے۔ آج ایران سے بھیجے گئے میزائلوں نے اسرائیل مین ایک عرب گاؤں میں تین افراد کے جاں بحق ہونے کے سوا کچھ خٓص نقصان نہیں کئے تاہم ان میزائلوں نے اسرائیلیوں کی نیندین واقعی حرام کر دی ہیں، کیونکہ جب کوئی میزائل یا ڈرون ڈیٹیکٹ ہو جاتا ہے تو قانون کے مطابق سائرن بجانا اور فون پر الرٹ بھیجنا ضروری ہو جاتا ہے اور لوگ سوتے سے اٹھ کر بم شیلٹرز مین جا کر بیتھ جاتے ہیں۔
سٹی42: اتوار کو علی الصبح شمالی اسرائیل کے بیت شیان میں مشتبہ ڈرون ( UAV ) کی دراندازی کی وجہ سے سائرن بج رہے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر دس منٹ پر بتایا کہ ایک مشتبہ دشمن طیارے کی وجہ سے شمالی اسرائیل میں بیت شیان اور آس پاس کے علاقے میں انتباہی سائرن بج رہے ہیں۔
اس سے قبل ملک کے جنوب میں ایلات کے علاقے میں تین UAVs کو مار گرایا گیا تھا۔
اس سے پہلےIDF کا کہنا تھا کہ ایلات کے علاقے میں سائرن کے دوسرے دور کے بعد دو اضافی UAVs کو روکا گیا۔ آئی ڈی ایف نے بتایا کہ جنوبی اسرائیل میں ایلات کے علاقے میں سائرن بجنے کے بعد فضائی دفاع نے بغیر پائلٹ کے دو اضافی ہوائی وہلکلز کو روکا۔
تہران میں ہفتے اور اتوار کی شب میزائل حموں کے ساتھ ہائی برڈ ڈرون بھی بڑی تعداد میں اسرائیل پر حملوںں کے لئے بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایران کے بھیجے ہوئے تمام میزائلوں میں سے بیشتر فضا میں انٹر سیپٹ ہو گئے تھے، کچھ حیفہ اور قریبی عرب گاؤؓ تمیر میں گرے، میزائل کے خطرے کے الرٹ گھنٹوں پہلے ختم ہو چکے ہیں لیکن ڈرون اب تک سامنے آ رہے ہیں۔
سٹی42:ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو قتل کیا جانا ممکن ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ خامنہ ای کو قتل کرنا 'حد سے باہر نہیں۔' ایک اسرائیلی اہلکار نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کے لیے "حد سے باہر نہیں" ہے کیونکہ وہ ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات کے خلاف اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل کے چینل 12 کے امیت سیگل نے الگ سے رپورٹ کیا ہے کہ ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے انہیں بتایا، "اسرائیل علی خامنہ ای کو ختم کرنے کے امکان کو رد نہیں کر رہا ہے، لیکن یہ بہت سی چیزوں پر منحصر ہے۔"
وال سٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ "جنگ صرف اس صورت میں ختم ہو گی جب ایران رضاکارانہ طور پر اپنے جوہری پروگرام کو ختم کر دے یا پھر اسرائیل تہران کے لیے اس نیوکلئیر پروگرام کی تشکیل نو کو ناممکن بنا دے"۔
سٹی42: ایرانی میڈیا بتا رہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں ملک کی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں ملک کی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ "آج ہفتے کی شام کو تہران پر اسرائیل کی فضائیہ کے حملے میں، وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ ہیڈ کوارٹر کی ایک عمارت کو نقصان پہنچا،" ۔
سٹی42: اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران آج انٹرنل انٹیلیجنس ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کی مدت ختم ہو گئی، شن بیٹ کے ڈپٹی چیف نے عارضی طور پر عہدہ سنبھال لیا۔ ایران اور حماس کے خلاف جنگ چھیڑنے کے دوران، شن بیٹ کے ڈائریکٹر رونن بار کی مدت ختم ہو رہی ہے، اور ڈپٹی شن بیٹ چیف نے ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے قائم مقام سربراہ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔
حال ہی میں ریٹائر ہونے والے IDF میجر جنرل ڈیوڈ زینی سے بالآخر بار کی جگہ لینے کی توقع ہے، اگرچہ رسمی تقرری کے عمل میں مزید کئی ہفتے لگنے کی توقع ہے۔
رونن بار نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی پیشگی اطلاع حاصل کرنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، حماس کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اپنے عہدہ کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دینے کا اعلان کر دیا تھا، آج 15 جون ان کے سبکدوش ہونے کی خود اختیار کردہ تاریخ ہے۔
سٹی42: شمالی اسرائیل کے علاقے تمرا میں ایرانی میزائل حملے میں مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی۔
امدادی کارکنوں کے مطابق، شمالی اسرائیل میں تمرا میں ایرانی بیلسٹک میزائل کے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
میگن ڈیوڈ ایڈوم نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے حیفا کے مشرق میں واقع قصبے میں ایک دو منزلہ گھر پر میزائل گرنے کے بعد سات افراد کو مستحکم حالت میں ہسپتال منتقل کیا ہے۔
میزائل حیفہ بھیجا، تمرا جا پہنچا
ایران نے آج مسلسل دوسری رات اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی تو تہران میں سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ان میزائلوں کا نشانہ حیفہ شہر کے معاشی مراکز ہیں۔ لیکن بعد میں خبریں آئیں کہ ایک ایرانی میزائل شمالی اسرائیل کے عرب آبادی والے شہر تما میں جا گرا ہے جہاں ایک گھر مکمل تباہ ہونے سے کافی جانی نقصان ہوا ہے۔
تمرا اسرائیل کے شمالی ضلع کا ایک عرب شہر ہے جو شیفا امر شہر سے 5 کلومیٹر شمال میں اور ایکڑ سے تقریباً 20 کلومیٹر مشرق میں زیریں گلیلی میں واقع ہے۔ 2022 میں اس کی آبادی 35,834 تھی۔
حیفہ کہا ں ہے
حائفہ شمالی اسرائیل کا بندرگاہی شہر ہے جو بحیرہ روم سے لے کر کوہ کارمل کی شمالی ڈھلوان تک پھیلا ہوا ہے۔ شہر کی سب سے مشہور جگہیں بہائی باغات کے بے عیب مناظر والے چھتیں ہیں اور ان کے دل میں باب کا سونے کا گنبد والا مزار ہے۔ باغات کے دامن میں جرمن کالونی واقع ہے، جس میں 19ویں صدی کی عمارتوں میں دکانیں، گیلریاں اور ریستوراں ہیں۔ حیفہ کو بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی معاشی سرگرمیوں میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
سٹی42: یمن پر اسرائیلی ائیرفورس کے حملے میں مبینہ طور پر حوثی ملیشیا کے لیڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے دفاعی ذرائع کے مطابق، کچھ دیر قبل یمن میں ایک اسرائیلی حملہ کیا گیا تھا۔
یہ حملہ مبینہ طور پر حوثی رہنما کے ٹارگٹ کلنگ کی کوشش تھی۔
آئی ڈی ایف نے ابھی تک اس واقعے پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
عرب میڈیا مین شائع ہونے والی رپورٹس مین بتایا جا رہا ہے کہ حملے کا ٹارگٹ حوثی ملیشیا کا سربراہ تھا، ابھی اس حملے کے نتیجے کے متعلق کچھ سامنے نہیں آیا۔
سرائیل نے یمن میں سینیئر حوثی رہنماؤں پر قاتلانہ حملہ کیا ہے جس میں حوثی ملٹری چیف محمد عبدالکریم بھی شامل ہیں۔
یمن میں حوثی ملیشیا ایران کی مدد سے اسرائیل پر مسلسل حملے کرتی رہی ہے۔
حوثی ملیشیا کا آئی ایس آئی ایس اور الشہاب سے اتحاد؟
آج ہی یہ اطلاع آئی تھی کہ حوثی ملیشا آئی یس آئی ایس اور الشہاب جہادی تنظیموں کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے۔ اس غیر مصدقہ اطلاع میں یہ واضح نہیں تھا کہ یہ تین بظاہر بہت مختلف مقاصد کے لئے لڑنے والے گروپ آپس میں اتحاد کس مقصد کے لئے کریں گے۔
اردن کے دارالحکومت عمان میں بھی سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اردن نے اب اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔
اردن نے مزید اطلاع تک اپنی فضائی حدود دوبارہ بند کردی ہیں۔ اے ایف پی نے بتایا کہجب سے اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر اچانک حملہ کیا اور اسلامی جمہوریہ نے جوابی کارروائی شروع کی تب سے آج شب، اردن نے دوسری بار اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا
اردن اسرائیل کی سرحد سے متصل ہے، اردن کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں ملک کی فضائی حدود کی مزید اطلاع تک بندش کے ساتھ ساتھ تمام ٹیک آف، لینڈنگ اور ٹرانزٹ کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔
سٹی42: ایران کے شاہران آئل ڈپو پر حملے کے بعد اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے کہا ہے، "تہران جل رہا ہے۔" ایکس پر ایک مختصر پوسٹ میں، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے لکھا: "تہران جل رہا ہے۔"
یہ بات اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے آج شام تہران کے قریب شاہران آئل ڈپو پر بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔
کاٹز نے دراصل آج دن کے اوائل میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ "اگر [ایران کے رہنما علی] خامنہ ای نے اسرائیلی شہری آبادیوں پر میزائل فائر کرنا جاری رکھا تو تہران جلے گا۔
آج تہران کے قریب واقع ایک آئل ڈپو پر اسرائیلی فضائیہ کے حملے کی اسرائیلی فوج نے اب تک تصدیق نہیں کی البتہ ایرانی میڈیا نے اس حملے کو رپورٹ کیا اور سوشل میڈیا پر آگ لگنے کی فوٹیج آئی جس جے بعد اسرائیلی وزیر دفاع کی یہ پوسٹ آئی۔
טהרן בוערת
— ישראל כ”ץ Israel Katz (@Israel_katz) June 14, 2025
یروشلم میں اسرائیل کی جنگی کابینہ کا اجلاس غالباً کچھ ہی دیر پہلے تک جاری تھا۔
سٹی42: ایران نے تہران کے قریب ایک آئل ڈپو پر اسرائیلی حملے کی اطلاع دی ہے۔ IDF کی طرف سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تھوڑی دیر پہلے تہران کے قریب شاہران آئل ڈپو پر بمباری کی۔
ایران کی وزارت تیل نے اسرائیلی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صورتحال قابو میں ہے۔"
وزارت تیل کی شنا نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ "ہدف بنائے گئے ٹینک میں ایندھن کا حجم زیادہ نہیں تھا، اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔"
IDF کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے جنوبی صوبہ بوشہر میں جنوبی پارس کے میدان پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آئیل ڈپو پر آگ لگی ہوئی ہے جو وسیع علاقہ پر پھیلی ہوئی ہے۔
سٹی42: ایران نے اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں سے جو حملہ کیا تھا اس کے نتیجے میں ایک شخص کے ہلاک اور 13 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایرانی میزائل حیفہ کے نواحی گاؤں تمرا میں ایک گھر پر گرنے سے ایک خاتون فوت ہو گئی اور 13 زخمی ہو گئے۔ ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے حیفہ کے مشرق میں واقع شمالی شہر تمرا میں ایک دو منزلہ گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہو گئے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ آج شب ایران نے اپنے سپر سانِک اور ہائیپر سانِک میزائلوں سے ساحلی شہر حیفہ کے "معاشی مراکز " کو نشانہ بنایا ہے۔ اب تک حیفہ شہر مین کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تاہم قریبی گاؤں میں ایک گھر تباہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مرنے والی خاتون اور زخمی ہونے والے تمام افراد اس دو منزلہ گھر میں مقیم تھے۔
سٹی42: ایران کے سرکاری ٹی وی نے ابھی اعلان کیا ہے کہ ایران نے آج رات اسرائیل پر میزائلوں کا دوسرا بیرج لانچ کیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے کہا کہ اس بار حملہ ڈرونز اور "100 سے زیادہ" میزائلوں کا مجموعہ ہے، جس میں حیفہ اور تل ابیب شہر آج رات ایران کے میزائلوں کا اہم ہدف ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے کہا، "یہ حملہ رہائشیوں کی نیندیں اڑا دے گا۔"
اسرائیل سے آنے والی رپورٹس کے مطابق شمالی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ شمالی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حیفہ اور کریات کے علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ میزائل زمین سے ٹکرائے ہیں یا اسے روک لیا گیا ہے۔
ہم ایران کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹس سن رہے ہیں کہ ان کے آپریشن "وعدہ صادق تھری" کی دوسری لہر میں 100 میزائل داغے گئے اسرائیل کی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ اس وقت تہران میں فوجی اہداف پر حملہ کر رہی ہے، جو کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی سرگرمی کے متوازی ہے۔
سٹی42: اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ پر اسرائیلی میزائل آئے ہیں۔ فوٹیج میں حیفا پر ایرانی میزائل حملہ دکھایا گیا ہے۔ زخمیوں کی فوری اطلاع نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں حیفا کے علاقے پر ایران کا بیلسٹک میزائل حملہ دکھایا گیا ہے۔
حیفا اور پورے شمالی اسرائیل میں سائرن بج گئے۔
حملے میں زخمی ہونے کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
سٹی42: ایرانی میڈیا نے ایران کے کئی شہروں پر اسرائیل کے کروز میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے اور بتایا ہے کہ تہران اور کئی شہروں پر کروز میزائلوں سے نیا حملہ ہوا ہے جس سے جانی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے کئی گھنٹوں سے کئے جا رہے اس ایرانی دعوے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ایرانی میڈیا نے ہفتے کی شام ڈھلنے کے بعد بتایا تھا کہ اسرائیل نے تہران اور بندر عباس سمیت کئی ایرانی شہروں کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ جس کے بعد ایرانی دفاعی نظام حرکت میں آگیا۔
اس رپورٹ کے مطابق ہفتے کو اسرائیل نے تہران کی 14 منزلہ رہائشی عمارت پر حملہ کیا۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صوبے مشرقی آذربائیجان میں 31 افراد اسرائیلی حملوں میں مارے گئے اور 55 زخمی ہوئے جب کہ اسرائیلی حملوں میں مزید 3 ایرانی جوہری سائنس دان بھی مارے گئے۔
سٹی42: ایرانی فوج نے برطانوی بحریہ کے ڈسٹرائیر شپ کو خلیج فارس میں داخلے سے روک دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا دعویٰ ہے کہ انگلینڈ کا یہ شپ اسرائیل کے میزائلوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے لئے خلیجِ فارس میں آ رہا ہے۔
ایرانی بحریہ کے ڈرونز برطانوی جنگی بحری جہاز کے قریب پروازیں کر رہے ہیں اور برطانوی شپ کو خلیج فارس میں داخلے سے روکنے کے لیے وارننگ دی گئی۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ وہ برٹش نیوی کے جہاز کو بحر ہند میں داخلے کے وقت سے مانیٹر کر رہی تھی۔
ایرانی میڈیا میؓ شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے الزام لگایا ہے کہ برطانیہ دراصل اسرائیلی میزائلوں کی رہ نمائی کے لیے اپنا جنگی بحری جہاز خلیج فارس لانا چاہتا ہے۔
ایران کے خلاف انگلینڈ نے کوئی جنگی کارروائی نہین کی لیکن ایران کی قیادت کو شبہ ہے کہ انگلینڈ بھی اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ مین اسرائیل کی مدد کرے گا۔ ایران نے ایسا ہی الزام پہلے امریکہ پر بھی لگایا جو اس کی تردید کر چکا ہے۔
سٹی42: اسرائیلیوں سے کہا گیا کہ وہ بم حملے سے بچنے کے لئے پناہ گاہوں میں داخل ہو جائیں۔ ایران سے داغے گئے میزائل اسرائیل کی طرف آ رہے ہیں؛ سائرن جلد ہی متوقع ہیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے ایران سے اسرائیل پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے ایک بیراج کا پتہ لگا لیا ہے۔
آنے والے منٹوں میں سائرن بجنے کی توقع ہے، کیونکہ فضائی دفاع خطرات کو کم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے اطلاع تک بم پناہ گاہوں میں رہیں۔
ایک نیوز ایجنسی بتا رہی ہے کہ ایران نے آج شب ایک بار پھر میزائلوں کے حملے مین کم و بیش 40 بیلسٹک میزائل فائر کئے ہیں۔
سٹی42: اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے سویلین علاقوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش کے بعد ایران پرزیادہ سنگین حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اسرائیل کا نیا حملہ آج رات ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم ن بنجمن نیتن یاہو نے آج اپنے ویڈیو بیان میں دھمکی دی کہ جلد اسرائیلی طیارے (ایک بار پھر) تہران کی فضاؤں میں ہوں گے۔
نیتن یاہو نے اسرائیل کے شہری علاقوں پر ایران کے میزائلوں کی بارش کے ردعمل میں کہا، ایران کو ایسا جواب دیں گے جس کا ان کی قیادت نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا اور آیت اللہ حکومت ہر جگہ نشانہ ہوگی۔
اسرائیل کی جانب سے کل سے ہی بتایا جا رہا تھا کہ ایران پر حملے کئی روز جاری رہیں گے۔ آج نیتن یاہو نے دو باتیہن تفصیل سے بیان کین، ایک ان کا کہنا ہے کہ اریان کی نیوکلئیر فسیلیٹیز پر حملوں سے ایران کی نیوکلئیر صلاحیت کو نمایاں دھچکا لگا ہے، دوسرے انہوں نے ایران کا ائیر ڈیفینس برباد ہو جانے اور تہران کی فضا پر اسرائیلی ائیر فورس کے کنٹرول کی بات کی۔
اسرائیلی وزیردفاع نے بھی شہری علاقوں پر ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کو ریڈ لائن عبور کئے جانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے تہران کو جلا کر راکھ کرنے کی دھمکی دی۔
اسرائیل کی آئی ڈی ایف کے میجر جنرل ٹومر بار نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ کی مکمل منصوبہ بندی کے تحت تہران پر حملے جاری رہیں گے۔
گزشتہ روز اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں کم از کم تین اہم نیوکلئیر تنصیبات پر حملے کئے اور خامنہ ای کی قریبی فوجی قیادت کے اہم ترین افراد اور نیوکلئیر سائنسدانوں کو ٹارگٹ کر کے حملے کئے جن میں اعلیٰ عسکری قیادت اور سائنسدانوں سمیت 70 سے زائد افراد مارے گئے۔
ایران نے گزشتہ شب جوابی حملہ براہ راست اسرائیلی شہری علاقوں پر کیا۔ جس کے نتیحے میں متعدد عمارتیں تباہ، 4 اسرائیلی سویلین مارے گئے اور 91 زخمی ہوگئے۔
تل ابیب، حیفہ اور یروشلیم سمیت اسرائیل کے بہت سے شہروں میں رات بھر سائرن بجتے رہے ۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے فون پر بات کی اور رجب طیب اردوان نے فون پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کی۔
ترک صدر طیب اردگان نے ہفتے کے روز اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایرا پر حملوں کے ذریعے خطے کو آگ لگانے اور جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی ایران پر جارحیت اور فلسطینی عوام کے خلاف مظالم کی شدید مذمت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی،وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کو ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران کہا کہ اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری اور سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو عالمی امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں،دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی اور اقوام متحدہ و عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کا فوری نوٹس لے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر قیامِ امن کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کو اسلامی تعاون یوتھ فورم کی جانب سے ملنے والے اعزاز پر مبارکباد بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی رابطے میں رہیں گے،ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی ولی عہد سے رابطہ کیا،انھوں نے کہا کہ ایران اسرائیل مسئلہ صرف مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے، اسرائیل کو روکنا ناگزیر ہے، صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت خطے کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، ایران پر حملے نے اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کر دیا، علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے اسرائیل کو روکا جانا ضروری ہے۔
سٹی42: امریکہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی کارروائی میں ملوث نہیں ہے اور تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کے اہلکاروں یا مفادات پر حملہ نہ کرے۔
لیکن تہران نے اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے الگ ہونے کے امریکی بیان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ امریکہ "نتائج کا ذمہ دار ہو گا" اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کا آپریشن "امریکہ کے تعاون اور اجازت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔"
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکرچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ ان حملوں کی "بھاری قیمت" ادا کریں گے۔
امریکہ نے اسرائیل کے جمعہ کے روز ایرانی نیوکلئیر تنصیبات اور فوجی قیادت پر حملوں میں کوئی دخل نہیں دیا تھا، اس کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے تاہم جب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات ایران نے اسرائیل پر دو سو میزائل برسائے تو امریکی اہلکار بھی ایرانی میزائلوں کو روکنے میں کرادار ادا کر رہے تھے۔ امریکہ کی اسرائیل سے باہر فوجی تنصیبات سے میزائل ڈیفینس سسٹم نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
ایران پر اسرائیل کے حملے سے پہلے ایران اور امریکہ نیوکلئیر پروگرام پر مذاکرات کر رہے تھے جو جنگ کے بعد معطل ہو گئے ہیں۔
اسرائیل نے جمعے کے اوائل میں کہا تھا کہ اس کے پاس ایران پر حملہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اس نے مزید کہا کہ اس نے انٹیلی جنس جمع کر لی ہے کہ تہران اپنے جوہری ہتھیار کے حصول میں "مقام واپسی" کے قریب پہنچ رہا ہے۔
ایران کی طرف سے صرف امریکہ نہیں بلکہ جنگ میں اسرائیل کی مدد کرنے والے ہر ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس دھمکی کی زد میں اردن بھی آ رہا ہے جس نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون کے اسرائیل پہنچنے سے پہلے اسے گرا دیا تھا۔
سٹی42: اسرائیل نے ایران کی جانب سے اسرائیلی شہروں کے سویلین علاقوں پر میزائلوں کی بارش کے بعد ایرانی قیادت کو جمعہ کی رات سے بہت زیادہ سنگین حملوں کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران نے "اسرائیل میں شہری آبادی کے ارتکاز پر میزائل فائر کرنے کی جرات کے بعد سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔"
وزیر دفاع کاٹز نے مزید کہا کہ "ہم اسرائیل کے شہریوں کا دفاع جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آیت اللہ حکومت کو اپنے گھناؤنے اقدامات کی بھاری قیمت چکانی پڑے"۔
چینل 12 نے ایک نامعلوم اسرائیلی سیاسی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ وہ ایران کو مزید حملوں کی دھمکی دے رہا ہے۔
"ایران شہری علاقوں پر فائرنگ کی ناقابل برداشت بھاری قیمت ادا کرے گا،" ذریعہ کے حوالے سے بتایا گیا. "ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل نے [آج ایرانی اہداف پر اپنے حملوں میں] کیا مارا،" اور ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل نے کیا نشانہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور یہ اگلا مرحلہ ہے۔"
یہ تبصرہ ایرانی توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر ممکنہ اسرائیلی حملوں کا حوالہ تھا۔
قبل ازیں، خامنہ ای نے خبردار کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کے جوہری پروگرام کے خلاف راتوں رات شروع کیے گئے حملے کے جواب میں اسرائیل کو "تلخ اور دردناک" انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آج ہفتے کی شام اسرائیل نے ایران کے ایک گیس فیلڈ پر بمباری کی تاہم اس کے بعد مزید کسی انرجی انسٹالیشن کو نشانہ بنانے کی کوئی اطلاع نہیں آئی۔
سٹی42: چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نےعباس عراقچی اور گدیون ساعار کے ساتھ الگ الگ کالوں میں تہران کی حمایت، اسرائیلی حملوں کی مخالفت کا اظہار کیا اور تنازعہ کے بات چیت کے ذریعہ حل پر زور دیا۔ اے ایف پی نے بتایا ہے کہ بیجنگ میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے آج اپنے اسرائیلی اور ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے الگ الگ بیانات میں ایران اور اسرائیل کے وزرا خارجہ کے ساتھ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی گفتگو کے متعلق بتایا۔
چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وانگ نے ایران کے عباس اراغچی کو بتایا کہ چین "اپنے جائز حقوق اور مفادات کے دفاع میں" تہران کی حمایت کرے گا۔
چین کے وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعار کو بتایا کہ بیجنگ نے "ایران پر طاقت کے ساتھ حملہ" کے اسرائیل کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں۔ وانگ یی نے ہفتے کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے موجودہ صورتحال اور اس کے بارے میں اسرائیل کے خیالات کے بارے میں سار کی بریفنگ لی۔
ساعار کے نکتہ نظر کو سننے کے بعد، وانگ یی نے کہا کہ چین نے ہمیشہ اس بات کی وکالت کی ہے کہ بین الاقوامی تنازعات کو بات چیت اور مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔ چین طاقت یا پابندیوں کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔
اس سلسلے میں چین اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ایسے اقدامات خاص طور پر ناقابل قبول ہیں جب کہ عالمی برادری اب بھی ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کام کر رہی ہے۔
وانگ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اور ایران دونوں مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک ہیں اور ان کے تعلقات کی حالت خطے کے مجموعی امن و استحکام کو متاثر کرتی ہے۔
وانگ یی نے کہا، فوری ترجیح یہ ہے کہ تنازعہ کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور خطے کو مزید افراتفری میں ڈالنے سے بچایا جائے۔ مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کی طرف واپسی بین الاقوامی برادری کے وسیع اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہے۔
وانگ نے ساعار کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ اپنی فون پر بات چیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشرق وسطیٰ ہمیشہ تنازعات کے سائے میں ڈوبا نہیں رہ سکتا اور اسرائیل کو جنگ کے اضطراب میں زندگی بسر نہیں کرنی چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا، ایرانی نیوکلئیر مسئلے کے حل کے لیے سفارتی راستے ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں اور پرامن حل ممکن ہے۔ طاقت پائیدار امن نہیں لا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ سلامتی کے تصور کو اپنانے سے ہی تمام فریقین کے جائز خدشات کو مکمل طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔
چین علاقائی ہاٹ سپاٹ مسائل کو ان کی خوبیوں اور صحیح و غلط کی بنیاد پر حل کرتا ہے اور اسرائیل اور ایران دونوں پر مسلسل زور دیتا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور پرامن بقائے باہمی کا راستہ تلاش کریں۔ چین اس عمل میں تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
وانگ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اسرائیل چینی اداروں اور اہلکاروں کے تحفظ کا پوری دلجمعی سے تحفظ کرے گا۔ سار نے جواب دیا کہ اسرائیل نے ہمیشہ چینی اداروں اور اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی قدر کی ہے اور جاری رکھے گا۔
سٹی42: خدشات کے مطابق اسرائیل کی سویلین آبادیوں پر ایران کے سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کی بارش کے بعد اسرائیل ایران جنگ کا تھیٹر مزید پھیل گیا ہے۔ آج اسرائیل نے ایران کے گیس فیلڈ پر حملہ کیا۔ اس حملے سے ایران کی تیل کی تنصیبات پر بھی اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بننے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے گیس فیلڈ پر حملہ کیا ہے۔ رائٹرز کے ذریعے ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنوبی صوبہ بوشہر میں جنوبی پارس گیس فیلڈ میں انفراسٹرکچر پر بمباری کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
سٹی42: ایران نے ہفتے کی رات اسرائیل کے شہروں پر میزائلوں کی جو بارش شروع کی تھی وہ ہفتہ کے روز دن میں بھی جاری رہی۔
اسرائیل کے شمال میں صبح ساڑھے چار بجے میزائل سائرن بج رہے تھے، کیونکہ ایران سے ایک نیا بیراج شروع کیا گیا تھا۔ درجنوں شمالی کمیونٹیز میں آنے والے راکٹوں کی وارننگ کیلئے سائرن بجائے گئے.
تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے میں کروشیا کے قونصلر اور ان کی اہلیہ قدرے زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق، آج رات 10 بجے اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ زیر زمین بنکر میں اجلاس کرے گی۔ اس دوران شن بیٹ نے کہا ہے کہ کہ ایران کی جانب سے انتقامی حملوں کے خدشے کے پیش نظر سینیئر اہلکاروں کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا۔
سٹی42: اسرائیل نے ایران کے وسیع علاقہ پر فضائی بالادستی قائم کرنے کے بعد سڑکوں پر بیلسٹک میزائل لانچروں کا شکار شروع کر رکھا ہے۔ آئی ڈی ایف نے مغربی ایران میں فائر کرنے کے لیے تیار بیلسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا ہے۔
آئی ڈی ایف نےحملے کی ویڈیو منسلک کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اسرائیلی فضائیہ نے مغربی ایران میں ایک پرائمڈ بیلسٹک میزائل لانچر کو نشانہ بنایا۔
آئی ڈی ایف کے مطابق، میزائل لانچر کو آئی اے ایف کے ایک طیارے نے ایران کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھا، اور اسے تھوڑی دیر بعد مار گرایا گیا۔
فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک درجنوں بیلسٹک میزائل لانچر تباہ ہو چکے ہیں۔
فوج نے کہا کہ اس نے گزشتہ رات آئی اے ایف کے آپریشن کے بعد، جس کے دوران درجنوں فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا،"مغربی ایران سے تہران تک فضائی کنٹرول قائم کر لیاہے"،
ان ویڈیو کلپس میں تہران کی سڑکوں پر ہر وقت حرکت میں رکھے جا رہے بیلسٹک میزائل لانچروں کی ڈیٹیکشن کے عمل کو ریکارڈ کیا گیا ہے، اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے درجنوں بیلسٹک میزائل لانچر تلاش کر کے تباہ کر دیئے ہیں۔
تہران کے قلب میں حملے سے پہلے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل لانچروں کی شناخت سے متعلق دستاویزات منسلک ہیں۔
ویب ڈیسک: ایران نے بریگیڈیئر جنرل ماجد موسوی کو پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کا نیا کمانڈر مقرر کردیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ نے آج ایک حکم نامے کے ذریعے جنرل ماجد موسوی کو ایرو اسپیس فورس کا نیا کمانڈر مقرر کیا۔
پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے نئے کمانڈر کے لیے بریگیڈیئر جنرل ماجد موسوی کی تعیناتی جنرل حاجی زادے کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کے بعد کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز ایران پر شدید حملے کرکے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر جنرل حاجی زادے سمیت ایران کی ملٹری ٹاپ براس کے کئی سینئیر موسٹ افسران کو مار دیا تھا۔
ویب ڈیسک:اسرائیل کے تہران میں رہائشی کمپلیکس پر حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
اسرائیل نے جمعرات اور جمعہ کی شب ایران کے مختلف شہروں پر طیاروں میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اعلیٰ فوجی قیادت سمیت درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
ایران نے اسرائیل کے جارحانہ حملوں کا جواب دیتے ہوئے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب آپریشن ’’وعدہ صادق سوم‘‘ کا آغاز کیا اور ہائپر سونک سمیت سیکڑوں میزائل تل ابیب پر داغ دیئے ان سینکڑوں میزائلوں سے تل ابیب میں ایک خاتون جاں بحق ہوئی اور اسرائیل بھر میں 63 افراد زخمی ہوئے، یہ سب سویلین تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں رہائشی کمپلیکس پر اسرائیل کے گزشتہ روز کے حملے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 60 تک پہنچ گئی، جن میں 20 بچے بھی شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ملبے سے 38 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔
ویب ڈیسک:پاکستانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کشمیر سمیت تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔
برسلز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے۔ پاک ،بھارت کشیدگی کے بعد وزیراعظم نے وفد تشکیل دیا۔ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ امن کی بات کرنے کے لیے آیا ہوں، ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود پاک ،بھارت کشیدگی تیزی سے بڑھی، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی بند کرنے کی دھمکی پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش ہے، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، پا کستان جامع مذاکرات پر یقین رکھتا ہے ، بھارت ہر بار مذاکرات اور بات چیت سے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تنازع سے پہلے خطہ جتنا محفوظ تھا اب نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے پر بھارت کو غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی۔ بھارت کے ساتھ جنگ بندی تو ہو گئی لیکن امن حاصل نہیں ہوا۔ مذاکرات نہیں ہوں گے تو دن بدن کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم اسرائیل اور ایران کی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ عالمی برادری اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرے۔ پاکستان ہمیشہ پائیدار امن کی بات کرتا رہے گا۔
ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کریں کیونکہ اگر آج مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آجائے گی۔
آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت ایران اور اسرائیل میں جنگ جاری ہے، گزشتہ رات اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، ایران کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ملٹری قیادت کو شہید کیا، اس ساری صورتحال میں اسرائیل اکیلا نہیں۔
ایران کے ساتھ صدیوں سے تعلقات ہیں، تاریخی رشتہ ہے۔ آزمائش کی گھڑی میں ہر طریقے سے ایران کے ساتھ ہیں۔ ہم ایرانی مفادات کی حفاظت کریں گے۔ ایرانی ہمارے بھائی ہیں، ہمارا کا دکھ درد، غم مشترک ہے، اسرائیل نے یمن، ایران اور فلسطین کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ عالم اسلام کا اتحاد ضروری ہے، اگر آج مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور ہم خاموش رہے تو سب کی باری آجائے گی۔
خواجہ آصف نے تجویز دی کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے۔ تمام مسلم ممالک متحد ہوکر اسرائیل کا مقابلہ کریں۔
خواجہ آصف نے کہا، اسرائیل کے خلاف دنیا میں مضبوط آواز اٹھ رہی ہے، مغربی دنیا کے غیر مسلم عوام اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ غیر مسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اپنے مؤقف پر روز اول سے مضبوطی سے کھڑا ہے۔ پاکستان نےاسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی تعلقات بنائے، پچھلے چند سالوں میں کچھ پاکستانی نژاد اسرائیل گئے لیکن کس طرح گئے، کس نے معاونت دی؛ میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاتا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عالم اسلام کا اتحاد اس وقت نظر آنا چاہے، اسلامی دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع ہونے چاہئیں، اسرائیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اس ہاتھ کو جھٹک دینا چاہئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے ہم پر حملہ کیا جس کی اسے بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ بھارت کے اندر حکمران تذلیل کا شکار ہوئے۔ بھارت کا دنیا کے سامنے طلسم بھی مسمار ہوا۔ ہماری افواج کی مضبوطی اور عوام کے عزم نے یہ ممکن بنایا۔ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیا۔
سٹی42: مشرق وسطیٰ نئی اور خطرناک کشیدگی کا شکار ہوسکتا ہے، عالمی رہنماؤں نے خبردار کردیا۔ایران اسرائیل صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور سفیر عاصم افتخار احمد نے اسرائیلی حملوں کو ’غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت‘ قرار دیا۔کہا کہ پاکستان ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں ۔اور عالمی برادری کو ان جرائم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
امریکی مندوب نے متنبہ کیا کہ امریکی شہریوں اور اڈوں کو نشانہ بنانے کے نتائج سنگین ہوں گے۔اسرائیل کا ایران پر حملہ اپنے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے اس کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ایرانی قیادت کا اس وقت مذاکرات کرنا دانشمندانہ ہوگا۔
آئی اے ای اے نے اسرائیل کے ایران پر جوہری تنصیبات پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا، ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا جوہری تنصیبات پر حملوں کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
نطانز کے باہر ریڈیائی سطح معمول کے مطابق ہے۔آئی اے ای اے ایران کے جوہری ریگولیٹری ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
چین نے اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کی ۔
اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نے کہا کہ بیجنگ کو اس وقت ایران کے جوہری مذاکرات پر ہونے والے منفی اثرات پر شدید تشویش ہے۔
چین نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فوراً اپنی تمام فوجی کارروائیاں بند کرے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکا جا سکے۔
سٹی42:امریکی شہریوں اور اڈوں کو نشانہ بنانے کے نتائج سنگین ہوں گے۔امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی مندوب نے کہا اسرائیل کا ایران پر حملہ اپنے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے اس کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔
ایرانی قیادت کا اس وقت مذاکرات کرنا دانشمندانہ ہوگا۔اسرائیلی حملوں کی اطلاع پہلے دے دی گئی تھی، لیکن امریکا حملوں میں ملوث نہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بڑا بیان داغا گیا ہے،ایران نے اسرائیل کا دفاع کرنے والے ممالک کو دھمکی دی، ایران کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا دفاع یا اس کی حمایت کرنے والے ممالک پر بڑا حملہ کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہناہے اسرائیل پر اپنے حملوں میں تیزی لائیں گے۔اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والا ملک اپنے فوجی اڈوں کو ایران کے جوابی حملوں کا ہدف بنتا دیکھے گا۔
نیتن یاہو نے ایک عبرانی ویڈیو بیان میں کہا، "ہم آیت اللہ کی حکومت سے تعلق رکھنے والی ہر سائٹ، ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے - ہر وہ چیز (حملہ) جس کا انہوں نے اب تک تجربہ کیا ہے، آنے والے دنوں میں اس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگا"۔
انہوں نے اپنے جاری آپریشن میں اسرائیل کے ہدف کی وضاحت کی جو ان کے مطابق "ریاست اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے ایران سے دوہرے خطرے کو ختم کرنا" - اس کا جوہری پروگرام اور اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام ختم کرنا ہے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "بہت جلد، آپ کو تہران کے آسمانوں پر IAF کے طیارے نظر آئیں گے۔ ہم آیت اللہ کی حکومت سے تعلق رکھنے والے ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے۔"
ہفتے کی رات کو اسرائیل نے ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے فوراً بعد تہران میں ایندھن کے دو ڈپووں کو نشانہ بنایا، ایرانی وزارت تیل نے اتوار کی صبح ان حملوں کی دوبارہ تصدیق کی۔
IDF کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اتوار کی آدھی رات کے فوراً بعد X پر ایک مختصر پوسٹ میں، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے آئل ڈپوؤں پر حملے کے متعلق لکھا: "تہران جل رہا ہے۔"
کاٹز نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ "اگر [ایران کے رہنما علی] خامنہ ای نے اسرائیلی ہوم فرنٹ پر میزائل فائر کرنا جاری رکھا تو تہران جل جائے گا۔"
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی ڈرون حملے کے بعد ایک "زبردست دھماکے" کی اطلاع دی تھی۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کا کہنا ہے کہ جنوبی پارس حملے کے بعد 12 ملین کیوبک میٹر گیس کی پیداوار روک دی گئی تھی، اس حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی تھی جسے ایرانی وزارت تیل کے مطابق بعد میں بجھا دیا گیا تھا۔
ایران کی معیشت کے لیے اہم تیل کے شعبوں کو حملوں کے پہلے دور میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، لیکن ایک سینئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران بیلسٹک میزائلوں سے اسرائیلی آبادی کے مراکز کو نشانہ بناتا ہے - جو اس نے کیا تھا - تو اسرائیل ایرانی حکومت کے رہنماؤں اور ریاستی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا جیسے آئل ریفائنریز۔
بعد ازاں ہفتے کی شام، IDF نے تصدیق کی کہ وہ تہران میں فوجی اہداف پر فضائی حملے کر رہی ہے،
Captionایرانی ہلال احمر کے رضاکار 14 جون 2025 کو تہران میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے سامنے جمع ہیں۔ (ایرانی ہلال احمر / اے ایف پی)
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اتوار کی صبح اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں ملک کی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔
ایجنسی نے کہا کہ "آج شام کو تہران پر صیہونی حکومت کی فضائیہ کے حملے میں، وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ ہیڈ کوارٹر کی عمارتوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا،" ایجنسی نے کہا۔ ایرانی وزارت دفاع نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مسلسل ہوائی حملوں کے 40 گھنٹے
اسرائیل کی دفاعی افواج کے ایک ترجمان نے ہفتے کی شام کہا کہ "فضائیہ کے پائلٹ ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل حملے کر رہے ہیں اور اہم دھچکے لگا رہے ہیں - حملوں کا ایک ایسا سلسلہ جو 40 گھنٹوں سے نہیں رکا، جس میں 150 سے زیادہ اہداف بھی شامل ہیں۔"
ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایرانی دارالحکومت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تہران سے، "قاتل دہشت گرد حکومت کا انتظام کیا گیا ہے، جو پوری مغربی دنیا کے لیے خطرہ ہے، اور یہ کہ "تہران اب اس سے محفوظ نہیں رہا۔"
ایرانی فضائی دفاع پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کے حملوں کے بعد، ڈیفرین نے کہا کہ "اس وقت سینکڑوں اسرائیلی جیٹ طیارے اور طیارے مغربی ایران اور تہران پر فضائی برتری حاصل کر رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "ہوائی جہاز سٹریٹجک ملٹری انڈسٹری کے اہداف، جوہری پروگرام کے اہداف اور ایرانی دہشت گرد قیادت میں اعلیٰ حکام پر حملوں کی ایک لہر کو مکمل کر رہے ہیں۔"
Caption ہفتہ 14 جون 2025 کو یروشلم میں سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس۔ (Avi Ohayon/GPO)
اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ کی میٹنگ ہفتے کی رات ایک زیر زمین بنکر میں ہوئی، میٹنگ آدھی رات تک جاری رہی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کی گئی فوٹیج میں، نیتن یاہو کے ساتھ، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، وزیر خارجہ گیڈون ساعار، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ، وزیر انصاف یاریو لیون، اور وزیر توانائی ایلی کوہن بھی شامل تھے۔
ہفتے کے روز ملک بھر کے اسرائیلیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ محفوظ جگہوں کے قریب رہیں - بشمول اپارٹمنٹس کے محفوظ کمرے یا بموں کی پناہ گاہیں، لیکن زیر زمین جگہیں نہیں جنہیں خاص طور پر محفوظ کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے - کیونکہ ایران سے مزید میزائل بیراجوں کا کسی بھی وقت امکان تھا۔
اسرائیلی حکام نے - عوامی اور نجی طور پر - اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک نے ایک وجودی خطرے کو ٹالنے کے لیے جمعہ کو اپنی مہم کا آغاز کیا ہے جو کئی روز جاری رہے گی۔
چینل 12 نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ IDF کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اسرائیل کے سیاسی رہنماؤں سے کہا: "ایران میں آپریشن یہودیوں کے وجود کے دفاع کے لیے ایک آپریشن ہے۔ اگر ہم نے ابھی کارروائی نہیں کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔" انہوں نے مبینہ طور پر مزید کہا: "یہ تبدیلی کو معمل میں لانے کا آخری موقع ہے۔"
Captionآئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے 14 جون 2025 کو ٹیل نوف ایئربیس پر ہوائی عملے اور تکنیکی ماہرین سے ملاقات کی۔ (اسرائیل کی دفاعی افواج)
صدر اسحاق ہرزوگ نے ہفتے کے روز ایک عوامی خطاب میں عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف لڑتے ہوئے اسرائیل کی مکمل حمایت کریں۔
انہوں نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا، "ہم پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی دوراہے پر ہیں - ایک "دہشت گرد جہاد" کے درمیان جو خطے پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور شراکت داری اور امن کے افق کے درمیان۔" "یہ صرف ہماری جنگ نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں کی جنگ ہے جو ہمارے خطے میں مشترکہ مستقبل چاہتے ہیں۔"
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی حکومت نے "ہمارے خلاف نسل در نسل کام کیا ہے، ہمیں قتل کیا ہے۔ اس نے عالمی اور علاقائی دہشت گردی پیدا کرنے، اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے اور سب سے بڑھ کر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کام کیا ہے تاکہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے عزائم کو پورا کیا جا سکے۔"
ہرزوگ نے ملکی سطح پر قومی اتحاد پر زور دیا۔
ایران نے اپنے پراکسیز کو جوہری بم دینے کا منصوبہ بنایا نیتن یاہو نے ہفتے کے روز انگریزی زبان میں ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ تہران صرف اپنے لیے جوہری بم نہیں بنانا چاہتا بلکہ "جوہری ہتھیاروں کو بانٹنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔وہ نیوکلئیر بم اپنے دہشت گرد پراکسیوں کو تیار کر کے دیں گے۔"
"یہ سٹیرائڈز پر جوہری دہشت گردی ہے۔ اس سے پوری دنیا کو خطرہ ہو گا،" انہوں نے کہا۔
لیکن اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے، نیتن یاہو نے کہا، "سینئر ایرانی رہنما پہلے ہی اپنے بیگ پیک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "واضح حمایت" حاصل ہے، انہوں نے امریکی رہنما اور امریکی فوج کو بھی سالگرہ کی مبارکباد دی۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام کو روکنا امن کے لیے شرط اور اہم امریکی مفاد ہے۔
Caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں ایلپس سے آرمی کی 250 ویں سالگرہ کی پریڈ میں کھڑے ہو کر سلامی دے رہے ہیں۔ (مینڈیل این جی اے این / اے ایف پی)
امریکی صدر نے بحر اوقیانوس کو بتایا کہ "ان لوگوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ وہ امن چاہتے ہیں - اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہے تو آپ امن نہیں رکھ سکتے۔" "اسرائیل یا "اسرائیل کا خاتمہ" - ایران کے پاس جوہری بم نہیں ہو سکتا۔" تاہم انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام پر "اب بھی معاہدہ کرنا چاہتا ہے"۔
ایران، جس کے لیڈروں نے اسرائیل کو تباہ کرنے کی قسم کھائی ہے، عوامی طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تردید کرتا رہا ہے۔ تاہم، اسلامی جمہوریہ نے افزودہ یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے - جو ہتھیاروں کے درجے سے ایک چھوٹا قدم دور ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اگر تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایسا اقدام ضروری ہو گیا تو امریکہ ایران کی زیر زمین فردو جوہری تنصیب پر حملہ کرنے پر غور کرے گا۔
اسرائیلی صحافی بارک راویڈ نے ہفتے کے روز چینل 12 پر کہا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ مسئلہ ایک نازک مسئلہ ہو گا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اگر فردو اسرائیلی فضائی حملوں سے بچ جاتا ہے، تو ایران کا جوہری ڈھانچہ برقرار رہے گا اور تہران اپنے باقی جوہری پروگرام کو بھی اس تنصیب میں منتقل کر سکتا ہے، اسے اسرائیل کی پہنچ سے باہر رکھ کر اور جوہری ہتھیار بنانے کے راستے پر اپنی پیش رفت تیز کر سکتا ہے۔
نیوکلیئر پروگرام کو پہلے ہی 'زبردست دھچکا' لگ چکا ہے نیتن یاہو نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل نے اب تک ایران کی جوہری تنصیبات کو "سنگین نقصان" پہنچایا ہے، جس میں فزیکل سائٹس پر حملوں کے ساتھ ساتھ سینئر سائنسدانوں نے تہران کے جوہری پروگرام کو کئی سالوں تک موخر کر دیا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی فوجی اہلکار نے اس جائزے کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کے جوہری منصوبے کو دو اہم شعبوں میں شدید دھچکا لگا ہے: نتنز اور اصفہان میں یورینیم کی افزودگی اور تبدیلی کے مقامات پر حملوں کے ذریعے ہتھیاروں کے مرکز کو پہنچنے والے نقصان [اور] حکومت کے ہتھیار سازی گروپ کو پہنچنے والے نقصان نمایاں ہیں"
Caption اتوار 15 جون 2025 کو تہران کے شمال مغرب میں شہران کے آئل ڈپو میں آگ لگنے سے گاڑیاں بڑی تعداد میں سڑک پر نکلیں جس سے شاہراہ پر ٹریفک جام ہو گیا۔ (عطا کنارے / اے ایف پی)
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے ہفتے کے روز کہا کہ اصفہان کے مقام پر گزشتہ روز ہونے والے حملے میں چار اہم عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جس میں یورینیم کی ٹرانسفارمیشن کی سہولت اور ایک ایندھن پلیٹ بنانے کا پلانٹ بھی شامل ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ - جیسا کہ Natanz کی سہولت میں - "آف سائٹ تابکاری میں کوئی اضافہ متوقع نہیں تھا۔"
New high-resolution satellite images published by @Maxar show multiple buildings were destroyed at the Natanz nuclear enrichment facility from recent airstrikes. See here before and after: pic.twitter.com/NNVZ4MhvEv
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے قبل ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ نتنز تنصیب کا اوپر والا حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی زیر زمین سینٹری فیوج کی سہولت متاثر نہیں ہوئی، لیکن بجلی کی کمی سے وہاں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے سرکاری طریقہ کار کے مطابق اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج کے ابتدائی جائزے کے مطابق ایران کو نتنز اور اصفہان جوہری مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کرنے میں "چند ہفتوں سے زیادہ وقت لگے گا"۔ اہلکار نے کہا کہ فوج کے پاس "ٹھوس انٹیلی جنس ہے کہ اصفہان میں پیداوار فوجی مقاصد کے لیے ہے۔"
IAEA نے کہا کہ ایران کے فردو فیول افزودگی پلانٹ یا زیر تعمیر خندب ہیوی واٹر ری ایکٹر میں کوئی نقصان نہیں دیکھا گیا ہے۔
میزائل لانچروں پر حملے
IDF نے کہا کہ اس نے ہفتے کے روز مغربی ایران میں زیر زمین ہتھیاروں کی ایک تنصیب پر بمباری کی، جس کے بارے میں اس کے بقول ایران درجنوں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
فوج نے اس جگہ اور دوسری جگہوں پر میزائل لانچروں پر حملہ کرنے والے فضائیہ کے پائلٹوں کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجیوں پر حملوں کی فوٹیج بھی جاری کی۔ فوج نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک درجنوں بیلسٹک میزائل لانچر تباہ ہو چکے ہیں۔
جمعے سے اب تک 20 اعلیٰ ایرانی کمانڈر مارے گئے آئی ڈی ایف نے ہفتے کی سہ پہر تصدیق کی کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور کے بیلسٹک میزائل صف کے سربراہ محمد باقری، حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ، غلام رضا مرحبی کی طرح مارے گئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک اعلیٰ مشیر علی شمخانی بھی جمعہ کی صبح اسرائیل کے فضائی حملوں کی ابتدائی لہر میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے، ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی۔
IDF نے کہا کہ اسرائیل نے اپنی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے تقریباً 20 اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز وسطی ایران میں زرندییہ بسیج فوجی اڈے پر حملے میں آئی آر جی سی کے ارکان کے مارے جانے کا بھی اعلان کیا۔
تہران سے 300 کلومیٹر (186 میل) مغرب میں ڈرون حملے میں ایک پولیس چیف اور ایک اور افسر بھی مارے گئے، ISNA پریس ایجنسی نے ان کی شناخت پولیس چیف میجر حبیب اللہ اکبریان اور سیکنڈ لیفٹیننٹ امیر حسین سیفی کے طور پر کی ہے۔
اس رپورتاژ خبر کا مواد ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ سے لیا گیا۔