ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنگلہ دیشی شہری ہونے کا شبہ ،61 سالہ بھارتی مسلمان کو سرحد پار دھکیل دیا

 بنگلہ دیشی شہری ہونے کا شبہ ،61 سالہ بھارتی مسلمان کو سرحد پار دھکیل دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: GOOGLE
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر مرشد آباد کے سوتی علاقے کے رہائشی 61 سالہ مسلمان بزرگ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہہ میں دیر رات ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور بعد میں سرحد پار بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بزرگ مسلم شہری ابراہیم کےاہل خانہ کا کہنا ہے کہ جس وقت سے انہیں لے جایا گیا ہے تب سے وہ ان کے پتے یا حالت کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں اور انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔سوتی پولیس اسٹیشن کے تحت رماکانتا پور گاؤں کے رہائشی ابراہیم شیخ کو 28جولائی  کی رات تقریباً2بجے ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں لے جانے سے پہلے ان کے شہریت کے دستاویزات کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی۔ بعد میں مقامی ذرائع سے خاندان کو معلوم ہوا کہ ابراہیم کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیل دیا گیا ہے لیکن انہیں اس بات کی کوئی رسمی اطلاع نہیں دی گئی کہ انہیں کہاں رکھا گیا ، ان کی حراست کی قانونی بنیاد کیا ہے یا اس دوران کس قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

ابراہیم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے نہیں آئے بلکہ ان کے آباؤ اجداد نسلوں سے اسی علاقے میں رہتے آئے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس آدھا ر کارڈ، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کارڈ کے علاوہ 1946 کاایک قدیم خاندانی دستاویز بھی موجود ہے۔ اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ ابراہیم کا نام 2026 کی ووٹر لسٹ میں شامل تھا، لیکن بعد میں ایس آئی آر کے دوران اسے ہٹا دیا گیا۔ ان کی بیوہ والدہ حنیفہ کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان کئی نسلوں سے بھارت میں رہ رہا ہے ،اگرچہ 2002 کی ووٹر لسٹ میں ان کے والدین کے نام شامل تھےلیکن اس وقت ابراہیم کا نام اس مخصوص فہرست میں نہیں تھا۔

ابراہیم کے بیٹے سوون شیخ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے نہ تو کوئی ایف آئی آر دکھائی، نہ ہی کوئی تحریری نوٹس یا حراستی حکم فراہم کیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے والد کا آدھار کارڈ، پین کارڈ، ووٹر کارڈ اور ۱۹۴۶؍ کا خاندانی دستاویز مانگا اور وہ تمام کاغذات اپنے ساتھ لے کر ان کے والد کو زبردستی ساتھ لے گئے۔ مقامی رہائشی امین الشیخ کے مطابق اہل خانہ نے سوتی پولیس اسٹیشن اور جانگی پور کے ایس پی دفتر کے متعدد چکر لگائے لیکن کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ اس معاملے پر مقامی پنچایت ممبر مجکیرا بی بی نے بغیر کسی نوٹس کے شہری کو اٹھائے جانے اور قانونی عمل کے بغیر سرحد پار دھکیلنے پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ابراہیم کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بازیابی اور عدالت میں پیشی کیلئے کلکتہ ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس رِٹ کے تحت درخواست دائر کی ہے۔

اسی نوعیت کے ایک اور معاملے میں، سوتی پولیس اسٹیشن کے ہی کالوپارہ گاؤں کے تین اور رہائشیوں کو بنگلہ دیشی ہونے کے شبہے میں ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، 8اگست کی آدھی رات کو عبدالجبار اور ان کے دو بیٹوں، عبدالاحد اور عبدالجہاد کو حراست میں لیا گیا۔ خاندان نے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں افراد کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہیں۔ وہ باقاعدگی سے انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں اور ان کے پاس پاسپورٹ سمیت تمام درست دستاویزات موجود ہیں، اس لئے انہیں بغیر کسی نوٹس یا قانونی کارروائی کے سرحد پار بھیجنا سراسر غیر قانونی ہے۔

حقوقِ انسانی کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس (APDR) نے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے چاروں شہریوں کی حراست اور مبینہ طور پر انہیں بنگلہ دیش بھیجے جانے ک خدشات پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے حراست کی قانونی وجوہات، شہریت کے ثبوت، اور انہیں عدالت میں پیش نہ کئے جانے کی تفصیلات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 

ایس ایم عتیق شاہ بخاری سٹی نیوز نیٹ ورک سے وابستہ سینئر صحافی ہیں جو صحافت کی دنیا میں 25 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔