ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار 

 ایران خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار 

سٹی42:  فرانس نے ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ایران کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار  قرار دے دیا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بھاری ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ اس نے بلاجواز جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا ہے تاہم  صدر میکرون نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد تحمل سے کام لینے پر بھی زور دیا۔

ایرانی فوجی اہداف، خاص طور پر اس کے جوہری مقامات پر اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ  بات چیت کے بعد، صدر میکرون نے کہا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں ایک "نازک موڑ" کے قریب تھا۔

ایران مسلسل اس بات  سے انکار کرتا رہا ہے۔

صدر میکرون نے کہا کہ "خطے کے عدم استحکام کی بہت بھاری ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔" "ایران بغیر کسی جواز کے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سطح تک پہنچ رہی ہے جو نیوکلئیر ڈیوائس میں استعمال کے لیے ضروری ہے۔"

صدر  میکرون نے تسلیم کیا کہ سفارتی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنا، خاص طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر امریکی مذاکرات جو دو ماہ قبل شروع ہوئے تھے، مشکل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ "موجودہ صورت حال میں بے قابو  ایسکلیشن کا خطرہ ہے،"  میکرون نے مزید کہا کہ ایران کی سرگرمیوں سے یورپ کو خطرہ ہے۔

عالمی معیشت پر اسرائیل ایران کونفلکٹ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ اگر ایران نے ماضی کی طرح اسرائیل پر حملہ کیا تو فرانس اس کا دفاع کرے گا تاہم انہوں نے تہران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا۔

فرانس اور اسرائیل، جو روایتی طور پر قریبی اتحادی ہیں،  ان کے حالیہ مہینوں میں کشیدہ تعلقات رہے ہیں، اس دوران میں میکرون غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ البتہ آج عرصہ کے بعد  فرانس کے صدر نے ایران کے ساتھ تنازعہ میں اسرائیل کی طرف داری کی ہے حالانکہ اسرائیل حماس کے حملے سے لے کر حزب اللہ اور حوثیوں کے حملوں تک ساری کونفلکٹس کو ایران کی پراکسی جنگ قرار دیتا رہا ہے لیکن میکرون غزہ کی جنگ کو الگ سے ایک سنگین انسانی ایشو مانتے ہیں جس مین اسرائیل کی حالیہ خوراک کی ناکہ بندی نے ان کی سرائیل پر تنقید کو مزید بڑھاوا دیا۔

میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس کی اسرائیل کے لیے حمایت غیر مشروط نہیں تھی اور یہ کہ پیرس کو اسرائیلی حکومت کے بعض فیصلوں سے اختلاف ہے کیونکہ "وہ بعض اوقات اسرائیل کے سلامتی کے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔"