سٹی42: بریکنگ نیوز یہ ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آئی اے ای اے نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں ناتنز نیوکلئیر سائیٹ پر حملے کے بعد اب تک فضا مین تابکاری کا لیول نہیں بڑھا۔
آئی اے ای اے کی اس اطلاع کا آسان زبان میں مطلب یہ ہے کہ جمعہ کو علی الصبح اور بعد میں جمعہ کی سہ پہر ناتنز نیوکلئیر لیب اور اس سے ملحق تنصیبات پر اسرائیل کے تباہ کن ہوائی حملوں کے بعد کسی تابکاری خارج کرنے والی تنصیب کو کوئی ایسا نقصان نہیں ہوا جس کے بعد تابکاری زیر زمین تنصیبات سے نکل کر زمین کی سطح تک آ جاتی۔
اسرائیل نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ کو علی الصبح حملوں کے نتیجہ مین ناتنز نیوکلئیر فسیلیٹی میں زمین کے نیچے کئی منزلوں مین نقصان ہوا ہے جن میں وہ نیوکلئیر لیب بھی شامل ہے جہاں سب سے زیادہ سینٹری فیوج کام کر رہے ہیں۔ سینٹری فیوج یورینیم کو انرِچ (افزودہ) کرنے کے کام آتے ہیں۔ ناتنز کے متعلق آئی اے ای اے کی ہی رپورٹ ہے کہ یہاں یونینیم انرچمنٹ کا کام گزشتہ کچھ مہینوں مین بہت زیادہ بڑھا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ کے مطابق، نتنز میں ایران کی اہم افزودگی کی سہولت میں تابکاری کی سطح "بغیر تبدیل شدہ" ہے۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے سوشل پلیٹ فارم X پر ایک بیان میں کہا، "Natanz فسیلیٹی کے باہر تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ فسیلیٹی کے اندر موجود تابکار آلودگی کی قسم، خاص طور پر الفا ذرات، کو مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے۔"
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر اسرائیل کے حملے کے دوران نتنز کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن کہا کہ اس نے علاقے میں تابکاری کی سطح میں اضافہ نہیں دیکھا تھا۔