سٹی42: ایران کی فوجی ہرارکی اور سٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیل کی ایجنسی موساد نے تہران کے اندر ڈرونز کو مقامی طور پر کنٹرول کرنے کے لئے بیس قائم کیا۔ حملوں سے کچھ پہلے موساد نے وسیع پیمانے پر سرگرمیاں کیں جن میں زمین سے فضا میں چلائے جانے والے (ائیر ڈیفینس) میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے لئے سبوتاژ کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
ایران پر حملے جمعہ کی صبح علی الصبح ہوئے، دوسری مرتبہ حملے جمعہ کی سہ پہر کئے گئے۔
اب یہ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کی نیوکلئیر تنصیبات، فوجی ہرارکی ک پناہ گاہوں اور سٹریٹیجک تنصیبات پر دو سو طیاروں کے ساتھ حملوں میں اسرائیل کی بیرونی انٹیلیجنس ایجنسی موساد نے بنیادی کردار ادا کیا۔
موساد طویل عرصہ سے ایران کے اندر ممکنہ حملوں کی پلاننگ کر رہی تھی، کل صبح علی الصبح جو ہوائی حملے ہوئے ان کے لئے موساد نے ایران کے اندر وسیع پیمانے پر تیاریاں کیں اور عین حملوں سے پہلے اہم ٹاسک انجام دیئے جن میں تہران میں ڈرونز کو کنٹرول کرنے والے مقامی بیس کا قیام اہم ترین تھا ان ڈرونز نے بعض شخصیات کو ان کی پناہ گاہوں میں ختم کرنے اور لینڈ ٹو ائیر (ائیر ڈیفینس) میزائلوں کے سسٹمز کو ناکارہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
سرائیلی حملے سے کچھ دیر قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیوں کی ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ہیں۔
موساد کے کمانڈوز نے جمعہ کی رات ہوائی حملوں سے پہلے ایران کے اندر مختلف اہم مقامات پر خفیہ کارروائیاں انجام دیں جن میں کھلے علاقوں میں موجود زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایرانی میزائل سسٹمز کو گائیڈڈ ہتھیاروں سے نشانہ بنانا شامل تھا۔
موساد کی خفیہ کارروائیوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا اور ایرانی دار الحکومت تہران کے قریب خفیہ ڈرون بیس قائم کر کے وہاں سے ڈرونز کے حملوں کو آپریٹ کرنا بھی شامل تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب موساد کی خفیہ کارروائیوں کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہیں۔ ایک ویڈیو کلپ میں دو ایجنٹوں کو کل رات کے وقت کوئی کارروائی کرتے دکھایا گیا ہے، دوسری ویڈیو میں ڈرون سے ایک میزائل بیٹری کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے۔ تیسری ویڈیو مین لانگ رینج میزائل کی ایک بییٹری کو تباہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ذرائع نے آج صبح بتایا کہ ایران پر ہونے والا اسرائیلی حملہ اسرائیلی فوج اور موساد کی مربوط پلاننگ کا نتیجہ تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موساد کے ایجنٹس نے تہران کے قریب ایک خفیہ ڈرون بیس قائم کی جسے حملے سے کچھ دیر قبل فعال کیا گیا۔
اسرائیل نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خلاف آپریشن کی تیاری میں برسوں گزارے، ایک سیکیورٹی اہلکار نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا، جس میں ایران کے اندر ڈرون اڈہ بنانا اور ملک میں درست ہتھیاروں کے نظام اور کمانڈوز کی سمگلنگ شامل تھا۔
اس کوشش کا انحصار IDF اور موساد کی خفیہ ایجنسی کے درمیان سخت مشترکہ منصوبہ بندی پر تھا۔
اہلکار کے مطابق موساد کے ایجنٹوں نے تہران کے قریب ایرانی سرزمین پر ڈرون اڈہ قائم کیا۔ ڈرونز کو راتوں رات متحرک کیا گیا، جس نے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ ہتھیاروں کے نظام کو لے جانے والی گاڑیاں ایران میں سمگل کی گئیں۔
ان سسٹمز نے ایران کے فضائی دفاع کو ختم کیا اور اسرائیلی طیاروں کو ایران پر فضائی بالادستی اور کارروائی کی آزادی دی۔
تیسری خفیہ کوشش موساد کے کمانڈوز نے وسطی ایران میں طیارہ شکن مقامات کے قریب عین مطابق میزائلوں کی تعیناتی تھی۔
اسرائیلی فوج کےاہلکار کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی کارروائیوں کا انحصار "زبردست سوچ، جرات مندانہ منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سرجیکل آپریشن، خصوصی فورسز اور مقامی انٹیلی جنس کی نظروں سے مکمل طور پر بچتے ہوئے ایران کے دل میں پہنچ کر کام کرنے والے ایجنٹوں پر تھا "۔
اس بیس سے اڑنے والے ڈرونز سے اسرائیل پر حملے کے لیے تیار ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ موساد کے اس خفیہ آپریشن کے لیے الیکٹرونِک ہتھیاروں سے لیس گاڑیوں کو ایران سمگل کیا گیا تھا، ان ہتھیاروں کے ذریعے موساد نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر کردیا جس کے بعد اسرائیلی طیارے بغیر کسی مزاحمت کے ایرانی فضائی حدود میں پرواز کرتے رہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق موساد کے ایجنٹس نے وسطی ایران میں اینٹی ائیرکرافٹ تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
