ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کی اصفہان نیوکلئیر تنصیبات پر بھی اسرائیل کا ہوائی حملہ

 Israel Iran war, City42 Isfahan Uranium Conversion Facilities, City42 , IDF Spokesman
کیپشن: آج شام اسرائیل کی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اصفہان کی نیوکلئیر سائیٹ پر بھی ائیر فورس نے حملے کئے ہیں۔ ایک ایرانی ٹیکنیشن اصفہان یورینیم کی تبدیلی کی سہولیات میں کام کر رہا ہے، 3 فروری 2007۔ (اے ایف پی/بہروز مہری)

سٹی42:  اسرائیل کی ائیر فورس نے آج ایران کے شہر اصفہان مین بھی نیوکلئیر تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔

 اسرائیلی فوج IDF کی  ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے  ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے آج کے اوائل میں اصفہان کے قریب ایک ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا۔

اصفہان پر حملے کے انکشاف سے پہلے آج یہ ہی کہا جاتا رہا کہ  نتنز  کی نیوکلئیر تنصیبات کو  اسرائیل کی ائیر سٹرائیکس میں نشانہ بنایا گیا۔  اسرائیل نے بھی انہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی  تصدیق کی تھی۔  اس کے ساتھ فردو  نیوکلیئر سائٹ پر حملے کی اطلاعات اور فوٹیج بھی سامنے آئی ہیں۔

"ہم ایران کو جوہری [بم] کی طرف بڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایسے میزائلوں کی ترقی کی اجازت نہیں دیں گے جن کا مقصد ہمیں نقصان پہنچانا ہے،" وہ کہتے ہیں۔

Caption  سرائیلی فوج IDF کی  ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے  ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے آج کے اوائل میں اصفہان کے قریب ایک ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA)  نے جمعہ کی صبح بتایا تھا  کہ اس نے ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پتہ چلایا ہے کہ اصفہان میں جوہری تنصیبات اسرائیلی حملوں سے متاثر نہیں ہوئیں۔

آئی اے ای اے نے  کہا تھا  کہ فردو میں ایٹمی ایندھن کی افزودگی کا پلانٹ بھی ابھی تک متاثر نہیں ہوا ہے۔

ایجنسی نے کہا تھا  کہ بوشہر میں جوہری پلانٹ بھی متاثر نہیں ہوا۔

اسرائیل نے جمعہ کے روز اپنی ائیر سٹرائیکس کے آغاز میں اس نے خبردار کیا تھا کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایک طویل کارروائی ہوگی۔

 جمعہ کی صبح اسرائیل کی ائیرفورس نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا جس کا نام آپریشن رائزنگ لائن بتایا گیا، جو کہ اسرائیل  کے مطابق اس کی بقا کو درپیش ایرانی خطرے کو واپس کرنے کے لیے ایک ٹارگٹڈ فوجی آپریشن ہے۔

ابتدا مین بتایا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری بم، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی ناتنز  یورینیم افزودگی کی سہولت پر کام کرنے والے ایرانی سائنسدانوں کو ایک آپریشن میں نشانہ بنایا ،  ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا یہ سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہے گا۔

ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ اسرائیل وسطی ایران میں نتنز کی تنصیب سمیت "درجنوں" جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ ایران کے پاس اتنا مواد موجود ہے کہ وہ دنوں میں کئی ایٹم بم بنا سکتا ہے۔

Axios نے ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ وسیع فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ، اسرائیل کی موساد جاسوسی ایجنسی نے ایران کے اندر تخریب کاری کی کئی خفیہ کارروائیوں کی قیادت کی۔ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی سٹریٹجک میزائل سائٹس اور اس کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا۔