کیپشن: آج شام اسرائیل کی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اصفہان کی نیوکلئیر سائیٹ پر بھی ائیر فورس نے حملے کئے ہیں۔ ایک ایرانی ٹیکنیشن اصفہان یورینیم کی تبدیلی کی سہولیات میں کام کر رہا ہے، 3 فروری 2007۔ (اے ایف پی/بہروز مہری)
سٹی42: اسرائیل کی ائیر فورس نے آج ایران کے شہر اصفہان مین بھی نیوکلئیر تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج IDF کی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے آج کے اوائل میں اصفہان کے قریب ایک ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا۔
اصفہان پر حملے کے انکشاف سے پہلے آج یہ ہی کہا جاتا رہا کہ نتنز کی نیوکلئیر تنصیبات کو اسرائیل کی ائیر سٹرائیکس میں نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے بھی انہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی تھی۔ اس کے ساتھ فردو نیوکلیئر سائٹ پر حملے کی اطلاعات اور فوٹیج بھی سامنے آئی ہیں۔
"ہم ایران کو جوہری [بم] کی طرف بڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایسے میزائلوں کی ترقی کی اجازت نہیں دیں گے جن کا مقصد ہمیں نقصان پہنچانا ہے،" وہ کہتے ہیں۔
Caption سرائیلی فوج IDF کی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے آج کے اوائل میں اصفہان کے قریب ایک ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے جمعہ کی صبح بتایا تھا کہ اس نے ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پتہ چلایا ہے کہ اصفہان میں جوہری تنصیبات اسرائیلی حملوں سے متاثر نہیں ہوئیں۔
آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ فردو میں ایٹمی ایندھن کی افزودگی کا پلانٹ بھی ابھی تک متاثر نہیں ہوا ہے۔
ایجنسی نے کہا تھا کہ بوشہر میں جوہری پلانٹ بھی متاثر نہیں ہوا۔
اسرائیل نے جمعہ کے روز اپنی ائیر سٹرائیکس کے آغاز میں اس نے خبردار کیا تھا کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایک طویل کارروائی ہوگی۔
جمعہ کی صبح اسرائیل کی ائیرفورس نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا جس کا نام آپریشن رائزنگ لائن بتایا گیا، جو کہ اسرائیل کے مطابق اس کی بقا کو درپیش ایرانی خطرے کو واپس کرنے کے لیے ایک ٹارگٹڈ فوجی آپریشن ہے۔
ابتدا مین بتایا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری بم، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی ناتنز یورینیم افزودگی کی سہولت پر کام کرنے والے ایرانی سائنسدانوں کو ایک آپریشن میں نشانہ بنایا ، ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا یہ سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہے گا۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ اسرائیل وسطی ایران میں نتنز کی تنصیب سمیت "درجنوں" جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ ایران کے پاس اتنا مواد موجود ہے کہ وہ دنوں میں کئی ایٹم بم بنا سکتا ہے۔
Axios نے ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ وسیع فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ، اسرائیل کی موساد جاسوسی ایجنسی نے ایران کے اندر تخریب کاری کی کئی خفیہ کارروائیوں کی قیادت کی۔ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی سٹریٹجک میزائل سائٹس اور اس کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا۔
سٹی42: ایران نے اسرائیل کے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد اپنے یورینیم افزودگی اور میزائل صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے عمل کو حق بجانب قرار دیا ہے۔
آج تہران میں ایک سرکاری بیان مین کہا گیا کہ اسرائیل کے اقدامات نے اسلامی جمہوریہ کو یورینیم کی افزودگی اور میزائل صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایرانی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ "کسی کو بھی ایسی شکاری حکومت سے طاقت کی زبان کے سوا بات نہیں کرنی چاہیے۔" "دنیا اب ایران کی افزودگی، جوہری ٹیکنالوجی اور میزائل پاور کے حق پر اصرار کو بہتر طور پر سمجھتی ہے۔"
سٹی42: ایران کی جانب سے اسرائیل پر سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کے حملے کے بعد تہران اور بعض دوسرے شہروں میں کچھ ایرانیوں نے سڑکوں پر جشن شروع کر دیا۔ ان میزائل حملوں میں ایک خاتون ماری گئی جب کہ ساٹھ دوسرے شہری زخمی ہوئے۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائلوں کے تین بیرج فائر کئے گئے، ان میزائلوں میں سے بیشتر انٹرسیپٹ ہو گئے تاہم تل ابیب شہر اور نواحی علاقوں میں سات سے زیادہ مقامات پر یا تو میزائل گرے یا ان کے فضا میں پھٹنے کے بعد ملبہ کے ٹکڑے گرنے سے نقصانات ہوئے۔
اسرائیل پر ایرانی میزائلوں کے حملوں کے دوران سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایران کے اندر سے کچھ تصویریں پوسٹ کی گئیں جن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ اسرائیل پر جوابی حملوں کا جشن منانے والے شہری ہیں۔
ایرانی میڈیا نے اسرائیل کے دو ایف 35 بمبار طیارے گرانے اور اسرائیل کی ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ نشر کیا جس کی اسرائیلی حکام نے تردید کی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر اپنے جوابی حملوں کا نام آپریشن وعدہ صادق 3 بتایا ہےْ
یاد رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں فوجی قیادت کی رہائش گاہوں اور فوجی و جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی حملوں میں 6 سائنسدانوں سمیت 78 افراد شہید ہوئے۔
سٹی42: ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں زخمی ہونے والی خاتون کے فوت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے حملوں میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات ساٹھ کے لگ بھگ اسرائیلی شہری زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک خاتون زیادہ زخمی تھیں۔ عبرانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق، آج رات کے اوائل میں ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے پہلے بیراج میں ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔ یہ خٓتون تل ابیب میں ایرانی میزائل کی زد مین آ جانے والی ایک رہائشی عمارت کے ملبہ میں دب گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق خاتون شدید زخمی ہوئی اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے جمعہ کی رات تل ابیب کے آس پاس کم از کم سات مقامات پر حملہ کیا، اسرائیلی حملوں کی لہروں نے تہران کی ملٹری چین آف کمانڈ کو تباہ کر دیا تھا اور اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے ہفتے کی صبح بھی جاری رہے، جس میں ایران نے درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی اور اسرائیل نے تقریباً 20 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جن میں سے کچھ کی حالت سنگین ہے۔
میزائل اور ڈرون دونوں سمتوں میں چل رہے ہیں کیونکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی فوجی مہم، اگر زیادہ نہیں تو دنوں تک جاری رہے گا۔ ایران نے کہا کہ اس کا ردعمل بھی ختم نہیں ہوا۔
ہفتے کے روز، تہران کے رہائشیوں نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، اور ایرانی فضائی دفاع نے پاستور کے پڑوس میں نان اسٹاپ گولیاں چلائیں۔ ایران میں ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار کی تصدیق کرنا مشکل تھا۔ لیکن اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایرانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایران میں اسرائیل کے حملوں میں 78 افراد ہلاک اور 329 زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل، یروشلم کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنائی دی تھیں جب میزائل سر کے اوپر سے گرے تھے، جب کہ تل ابیب میں، اسرائیلی ٹیلی ویژن نے ایک بری طرح سے تباہ شدہ عمارت کی تصاویر دکھائیں اور ایک جگہ سے کئی تباہ شدہ اور جلی ہوئی کاریں دکھائی دیں۔ علاقے کے تین ہسپتالوں نے بتایا کہ انہیں 20 کے قریب زخمی لوگ لائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ شدید زخمی ہیں۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی زد میں آنے والی عمارتوں سے متعدد افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
تل ابیب کے قریب ایک علاقے میں حکام نے بتایا کہ عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے بعد ایک 70 سالہ خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام نے بتایا کہ ایک شخص چہرے پر چھرے کے زخموں سے شدید طور پر زخمی ہوا تھا، اور دوسرے شخص کا سر پر چوٹوں، جلنے اور آگ سے دھواں اٹھنے کے باعث علاج کیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ چونتیس افراد کو علاقے کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔
اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کے سربراہ رافیل گروسی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ جمعہ کو نتنز کے قریب ایران کی جوہری سائٹ پر اسرائیل کے حملے سے اس کا افزودگی کا پلانٹ تباہ ہوگیا، جس سے کیمیائی اور ریڈیولاجیکل آلودگی پھیل رہی ہے۔
ایک امریکی اہلکار، جس نے ایک جاری آپریشن پر بات کرنے کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کہا کہ امریکی فوج اسرائیل کو کچھ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں مدد کر رہی ہے۔ اہلکار نے کہا کہ امریکی فوجی اثاثے، جو پہلے ہی مشرقی بحیرہ روم میں موجود ہیں، خطے میں امریکی فوجیوں کے دفاع میں مدد کے لیے، میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے درجنوں اہداف کو "زبردستی اور درستگی کے ساتھ" نشانہ بنایا ہے، جس میں فوجی اور دفاعی مقامات بھی شامل ہیں، اسرائیل کے ان حملوں کے جواب میں جن میں سینئر کمانڈر، جوہری سائنسدان اور عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔
Caption آج 14 جون 2025 کو دیر گئے تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک دھماکہ دیکھا جا رہا ہے
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے آبادی والے علاقوں پر میزائل داغ کر "سرخ لکیر عبور کر لی ہے" اور خبردار کیا ہے کہ "آیت اللہ حکومت کو اپنے اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔"
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے دن بھر کے حملے کے لیے "سخت سزا کا انتظار کرنا چاہیے"، جیسا کہ اسرائیل کے بعض یورپی اتحادیوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ اپنے فوجی تنازع کو بڑھا رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، جنہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مسلسل حملے کو ضروری قرار دیا ہے، جمعے کی رات ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایران کے عوام کو اپنے رہنماؤں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
اعلیٰ ایرانی فوجی قیادت کا نقصان:
دو اعلیٰ فوجی کمانڈر، محمد باقری اور جنرل حسین سلامی، مارے گئے، ایران نے کہا، جیسا کہ علی شمخانی، جو ایک سیاست دان تھا جو امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی نگرانی کر رہا تھا، حکام نے بتایا۔ ایرانی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ جنرل اسماعیل قآنی، قدس فورس کے کمانڈر جو خطے میں پراکسیز کے انچارج تھے، ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔
نتنز کے زیر زمین ہالوں نقصان نہیں پہنچا حالانکہ ہالوں کو بجلی کی فراہمی کو پہنچنے والے نقصان سے وہاں رکھے سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی نے بتایا کہ ایرانی حکام نے فردو اور اصفہان میں بھی جوہری تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔
ٹرمپ کا رد عمل: صدر ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات کو لے کر جا رہے ہیں کہ آیا امریکہ کو کسی اور غیر ملکی تنازع میں الجھ جانا چاہیے۔ ان کی انتظامیہ ایرانی حکام کے ساتھ جوہری مذاکرات کر رہی تھی، اور اس نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ایک معاہدہ کرے یا اس سے بھی زیادہ وحشیانہ حملوں کا خطرہ مول لے۔ ایران نے کہا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں عمان میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔
تہران کے جس مضافاتی علاقہ میں آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کے صفر کی رہائش گاہیں ہیں، وہاں سے ایرانی ائیر ڈیفینس کے مسلسل فائرنگ کرنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے ہفتے کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق تین بجے بتایا کہ ایران کے فضائی دفاع نے تہران کے پڑوس میں جہاں سپریم لیڈر، صدر رہتے ہیں مسلسل فائرنگ کی ہے۔ تہران کے ایک علاقہ میں ائیر ڈیفینس سسٹم کی زمین سے فضا میں فائرنگ کی ویڈیو سے لئے گئے سکرین شوٹس۔ رہائشیوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ایران کے فضائی دفاعی ادارے تہران کے پاستور محلے میں بار بار فائرنگ کر رہے ہیں، جہاں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان رہتے ہیں۔
מערך הנ"מ האיראני עובד הלילה שעות נוספות בטהראן כולל בשכונה שבה הנשיא והמנהיג העליון גרים כביכול. במקביל דיווח על פיצוץ בקרבת המטה הכללי של הכוחות המזוינים בבירה pic.twitter.com/LYe6bzNdUR
— roi kais • روعي كايس • רועי קייס (@kaisos1987) June 13, 2025
سٹی42: ایران نے آج رات چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کا تیسرا بیرج لانچ کر دیا۔
اسرائیل کی طرف میزائلوں کے بڑھنے کی تصدیق کے ساتھ آئی ڈی ایف نے اسرائیل بھر مین الارم بجوا دیئے۔
آئی ڈی ایف نے کچھ دیر پہلے بتایا ہے کہ اس نے ایران سے اسرائیل پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے ایک نئے بیراج کا پتہ لگا لیا ہے۔
ملک کے بڑے حصوں میں سائرن بج رہے ہیں۔ جب کہ اس دوران ائیر ڈیفینس سسٹم نے بڑھتے ہوئے میزائلوں کا پتہ لگا کر انہیں راستے میں انٹرسیپٹ کرنے کے لےئ سرگرمی شروع کر دی ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے اطلاع تک بم پناہ گاہوں میں رہیں۔
اس سے پہلے
جمعہ کی صبح اسرائیل نے ایران کی کم از ک تین نیوکلئیر تنصیبات پر حملے کئے اور نصف درجن ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ تقریباِ اتنے ہی اہم ترین فوجی لیڈر مار دیئے تھے، ان حملوں کے جواب میں ایران نے ہفتے کی رات اسرائیل پر مختصر دورانیہ میں ڈیڑھ سو میزائلوں کے دو بیرج فائر کئے جن کی وجہ سے اسرائیل میں لاکھوں افراد کئی گھنٹے بم شیلٹرز میں محصور رہے۔ آج رات اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں میں درجنوں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
جسٹ اِن
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران کے تیسرے میزائل بیرج میں درجنوں میزائل موجود ہیں۔ ان کا رخ اسرائیل کے وسطی علاقوں کے ساتھ وسیع علاقوں کی طرف ہے۔
سٹی42: فرانس نے ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ایران کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بھاری ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ اس نے بلاجواز جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا ہے تاہم صدر میکرون نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد تحمل سے کام لینے پر بھی زور دیا۔
ایرانی فوجی اہداف، خاص طور پر اس کے جوہری مقامات پر اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد، صدر میکرون نے کہا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں ایک "نازک موڑ" کے قریب تھا۔
ایران مسلسل اس بات سے انکار کرتا رہا ہے۔
صدر میکرون نے کہا کہ "خطے کے عدم استحکام کی بہت بھاری ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔" "ایران بغیر کسی جواز کے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سطح تک پہنچ رہی ہے جو نیوکلئیر ڈیوائس میں استعمال کے لیے ضروری ہے۔"
صدر میکرون نے تسلیم کیا کہ سفارتی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنا، خاص طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر امریکی مذاکرات جو دو ماہ قبل شروع ہوئے تھے، مشکل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ "موجودہ صورت حال میں بے قابو ایسکلیشن کا خطرہ ہے،" میکرون نے مزید کہا کہ ایران کی سرگرمیوں سے یورپ کو خطرہ ہے۔
عالمی معیشت پر اسرائیل ایران کونفلکٹ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ اگر ایران نے ماضی کی طرح اسرائیل پر حملہ کیا تو فرانس اس کا دفاع کرے گا تاہم انہوں نے تہران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا۔
فرانس اور اسرائیل، جو روایتی طور پر قریبی اتحادی ہیں، ان کے حالیہ مہینوں میں کشیدہ تعلقات رہے ہیں، اس دوران میں میکرون غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ البتہ آج عرصہ کے بعد فرانس کے صدر نے ایران کے ساتھ تنازعہ میں اسرائیل کی طرف داری کی ہے حالانکہ اسرائیل حماس کے حملے سے لے کر حزب اللہ اور حوثیوں کے حملوں تک ساری کونفلکٹس کو ایران کی پراکسی جنگ قرار دیتا رہا ہے لیکن میکرون غزہ کی جنگ کو الگ سے ایک سنگین انسانی ایشو مانتے ہیں جس مین اسرائیل کی حالیہ خوراک کی ناکہ بندی نے ان کی سرائیل پر تنقید کو مزید بڑھاوا دیا۔
میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس کی اسرائیل کے لیے حمایت غیر مشروط نہیں تھی اور یہ کہ پیرس کو اسرائیلی حکومت کے بعض فیصلوں سے اختلاف ہے کیونکہ "وہ بعض اوقات اسرائیل کے سلامتی کے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔"
جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں اسرائیل اور ایران کی جانب سے فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوش اڑا دینے والا اضافہ ہو گیا ہے۔
جمعہ کو علی الصبح اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایران کے اسرائیل پر ڈیڑھ سو میزائل حملوں کے بعد سے سرمایہ کاروں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ لڑائی مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتی ہے۔ اس خوف نے انٹرنیشنل آئل مارکیٹ میں تیل کی قیمت کو بڑھانا شروع کیا جو پاکستان میں ہفتے کی صبح دو بجے تک مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
نیویارک میں جمعہ کے روز (پاکستان میں ہفتہ کی صبح) برینٹ کروڈ فیوچر سودے 4.87 ڈالر یا 7.02 فیصد اضافے کے بعد 74.23 ڈالر فی بیرل پر طے ہوئے۔
اس سے پہلے برینٹ کے فیوچر سودے کہ 13 فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد 78.50 ڈالر کی انٹرا ڈے اونچائی پر پہنچ گئے تھے، یہ 27 جنوری کے بعد انٹرنیشنل مارکیت مین تیل کی قیمت کی مضبوط ترین سطح ہے۔
یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 4.94 ڈالر یا 7.62 فیصد اضافے کے ساتھ 72.98 ڈالر فی بیرل پر طے ہوا۔ سیشن کے دوران، WTI ایک وقت میں تو 14 فیصد سے زیادہ چھلانگ لگا کر 21 جنوری کے بعد سے 77.62 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
دونوں بینچ مارکس میں 2022 کے بعد سے آج سب سے بڑے انٹرا ڈے اقدام تھے۔ 2022 میں تیل کی قیمت بے تحاشا بڑھی تھی جب یوکرین پر روس کے حملے نے ایندھن کی سپلائی کے متعلق خوف پھیلایا تھا۔
پاکستانیوں اور دوسری کمزور معیشتوں کے لئے روح فرسا بات یہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کی جمعہ کے روز شروع ہونے والی جنگ کے فوراً رکنے کا کوئی امکان سامنے نہیں آ رہا۔ اسرائیل کی طرف سے ایران کی نیوکلئیر تنصیبات پر حملوں کے جواب مین ایران نے ایک سو پچاس سے زیادہ بیلسٹک میزائل اسرائیل پر فائر کئے جن میں سے کچھ کا نشانہ سویلین بنے۔ ان حملوں کے جواب میں اسرائیل کے ایک سرکاری عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسرائیل ایران پر مزید حملے کر گا، قیاس ہے کہ یہ مزید حملے ایران کی تیل کی تنصیبات پر بھی ہو سکتے ہیں جو اب تک ایران پر اسرائیل کے تین حملوں میں نشانہ نہیں بنیں۔
ایران کی طرف سے اسرائیل کے حملے کے بعد جمعہ کے روز ایرانی بحریہ اور دیگر فورسز کی طرف سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی، ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے کئی سال سے یہ خوف موجود رہا ہے کہ اس جنگ کے دوران ایران آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت کے لئے عملاً بند کر دے گا تو دنیا کی معیشت کا کیا بنے گا۔ یہ خوف آج ہفتے کی صبح بھی موجود ہے۔
سٹی42: ایران پر جمعہ کو علی الصبح اسرائیل کے سینکڑوں فضائی حملوں میں ملٹری ٹاپ براس اور بہت سی سٹریٹیجک تنصیبات کے بھاری نقصان کے بعد جمعہ کو ایران کے طول و عرض میں اسرائیل کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم ان مظاہروں میں پبلک کی تعداد اس نوعیت کے پہلے ہوتے رہے مظاہروں کی نسبت بہت کم تھی۔
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی اے ایف پی اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق بکھرے ہوئے مظاہروں میں، ایرانیوں نے اسرائیل سے بدلہ لینے، نیتن یاہو کو مارنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تہران کی سڑکیں IDF کے ھملوں کے دوران کافی حد تک خالی رہیں، پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کا ہجوم دکھائی دیا اور ائیرپورٹ پر ہوائی ٹریفک معطل رہی۔
تہران میں ایک کار میں سوار شہری نے کہا کہ نیتن یاہو کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی یا ہم غزہ کی طرح ختم ہو جائیں گے۔
Captionایرانی مظاہرین اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے تہران، ایران میں جمعہ، 13 جون 2025 کو اسرائیل مخالف اجتماع میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا پوسٹر اٹھا رکھا ہے۔
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ جمعہ کے روز ایران میں چھوٹی تعداد میں لوگ بکھرے ہوئے احتجاج میں سڑکوں پر نکل آئے، جب کہ دوسروں نے گھروں کے اندر پناہ لی، لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ آگے کیا ہوگا۔
فضائی حملے میں فوج کے کئی اعلیٰ افسر مارے گئے، سرکردہ سائنسدانوں کی ایک صف کو نشانہ بنایا گیا اور ایران بھر میں فوجی اور جوہری مقامات کو ایک بغیر معمولی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اے ایف پی کے صحافیوں نے بتایا کہ سڑکوں پر آنے والے لوگوں کا غصہ آیت اللہ کی حکومت کے بجائے اسرائیل پر ہے۔
"ہم کب تک خوف میں جیتے رہیں گے؟" ایک 62 سالہ ریٹائرڈ اہلکار احمد مودی نے حکومت کے نیریٹیو کو دہراتے ہوئے پوچھا۔ "ایک ایرانی کے طور پر، میں سمجھتا ہوں کہ ایک زبردست ردعمل ہونا چاہیے، ایک سخت ردعمل۔"
اے ایف پی نے اپنی رپورٹ مین لکھا، جمعہ کے روز ہونے والی ائیر سٹرائیکس دیرینہ دشمنوں کو برسوں سے زیادہ تر پراکسیوں کے ذریعے لڑی جانے والی شیڈو جنگ لڑنے کے بعد مکمل طور پر تصادم کی طرف دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایران مین حکومت کے حق مین تو احتجاج سڑکوں پر نظر آ جاتے ہین لیکن حکومت کے خلاف خاص طور سے پالیسیوں سے اختلاف کو لے کر احتجاج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ باقاعدگی سے ایسے افراد کو گرفتار کرتا ہے جن پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام لگایا جاتا ہے اور حالیہ برسوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
جمعہ کو ہونے والے حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ کم از کم چھ سائنس دان مارے گئے۔
Captionایک شخص 13 جون 2025 کو تہران پر اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کی تصویر لے رہا ہے۔ (تصویر از میغداد مدادی / تسنیم نیوز / اے ایف پی)
"انہوں نے یونیورسٹی کے بہت سے پروفیسرز اور محققین کو مار ڈالا ہے، اور اب وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں؟" ایک شہری موادی نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے ایران کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔
اے ایف پی نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ابھی ایران نقصان کا اندازہ لگا رہا تھا کہ کچھ رہائشیوں نے تہران کی سڑکوں پر ریلی نکالی: ایرانی پرچم اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویریں لہراتے ہوئے، "مرگ بر اسرائیل، مردہ باد امریکہ" جیسے نعرے لگاتے ہوئے یہ لوگ کچھ دیر سڑکوں پر موجود رہے۔
تہران میں سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ اسی طرح کے مظاہرے ملک بھر کے شہروں میں کیے گئے۔
اے ایف پی نے لکھا، اسرائیلی حملے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی بار بار دھمکیوں کے بعد ہوئے، جو بالآخر ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرنے کی برسوں کی دھمکی کا اختتام دکھائی دیتے ہیں۔
ایران، جو واضح طور پر اسرائیل کی تباہی کا خواہاں ہے، جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم، ایران یورینیم کو اس سطح تک افزودہ کر رہا ہے جس کا کوئی پرامن استعمال بظاہر نہیں ہے، اس نے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اس کی جوہری تنصیبات کی آزادانہ جانچ کرنے سے روکا ہے اور اس دوران اپنی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے، اور اس کے حکام نے تیزی سے خبردار کیا ہے کہ وہ (نیوکلئیر) بم بنانے تک جا سکتے ہیں۔
تہران کے ایک 52 سالہ رہائشی عباس احمدی نے اپنی کار کے پیچھے سے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم اس کمینے (نیتن یاہو)کو جاری نہیں رہنے دے سکتے، ورنہ ہم غزہ کی طرح ختم ہو جائیں گے۔‘‘ "ایران کو اسے تباہ کرنا چاہیے، اسے کچھ کرنا چاہیے۔"
جمعہ کے حملے ایک سال سے زیادہ بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد ہوئے جب اسرائیل نے ایران کے پراکسیز - غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ اس دوران اسرائیل پر دو مرتبہ ایران کے براہ راست میزائل حملے ہوئے اور ایک مرتبہ اسرائیل نے درجنوں ہوائی حملے کر کے میزائل بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایران اسرائیل کشیدگی اس وقت غیر معمولی بڑھی تھی جب حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حملہ شروع کیا تھا، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور حملہ کرنے والے حماس کے جنگجو واپس جاتے ہوئے 251 افراد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ غزہ لے گئے جہاں ان مین کچھ اب تک یرغمال ہیں۔ اسی روز اسرائیل نے غزہ میں ائیر سٹرائیکس شروع کیں اور اگلے دن رسمی جنگ کا آغاز کر دیا، لبنان میں حزب اللہ نے بھی اگلے دن 8 اکتوبر کو اسرائیل پر روزانہ درجنوں راکٹوں کی فائرنگ شروع کر دی اور حوثیوں نے اسرائیل سے منسلک جہاز رانی پر حملہ کرنا شروع کر دیا اور اسرائیل پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے۔ بعد میں حوثیوں نے اسرائیل کی مین لینڈ پر بیلسٹک میزائل مارنے کا آغاز کر دیا، آج جمعہ کے روز بھی اسرائیل پر حوثیوں نے میزائل فائر کیا جسے اسرائیلی ائیر ڈیفینس نے راستے میں انٹرسیپٹ کیا۔
Caption جمعہ 13 جون 2025 کو پاکستان کے پہاڑی شہر اسکردو میں، اسرائیل کے ہاتھوں حماس اور حزب اللہ کے مارے جانے والے رہنماؤں کے بینرز اٹھائے ہوئے شیعہ مسلمان ایران پر اسرائیل کے حملوں کی لہر کے خلاف ایک احتجاج کے دوران جمع ہیں۔ جمعہ کا دن سکردو مین ہفتہ وار چھٹی کا دن ہوتا ہے اس لئے پس منظر میں بند دوکانوں کے شٹر دکھائی دے رہے ہیں۔ (تصویر منظور بلتی / اے ایف پی)
آج جمعہ کے حملے کے بعد، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کی تمام امیدیں بظاہر ختم ہو گئیں، اب کسی کو نہین معلوم کہ آگے کیا ہوگا۔
ایران میں حکومت پر مکمل اثر و رسوخ رکھنے والے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے آج کے حملوں کے بعد خبردار کیا کہ اسرائیل کو "تلخ اور تکلیف دہ" قسمت کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ایرانی فوج نے کہا کہ اس کے ردعمل کی "کوئی حد نہیں" ہوگی۔ اس کے بعد ایران نے آج جمعہ کے روز تقریباً سو ڈرونز کے ساتھ اسرائیل پر حملہ کیا جن کے بارے میں اسرائیلی فوج کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان تمام کو انٹرسیپٹ کر لیا گیا۔
کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا
آج مظاہروں میں شامل افراد نے اسرائیل پر غصہ اور حکومت کی حمایت کا اظہار کیا، لیکن کوئی بڑے پیمانے پر احتجاج نہیں ہوا۔
بکھرے ہوئے مظاہروں کے علاوہ، تہران کی سڑکیں زیادہ تر سنسان تھیں، سوائے پیٹرول سٹیشنوں پر قطاروں کے، جو بحران کے وقت دنیا مین کہین بھی ایک مانوس منظر ہے۔
تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پورے خطے میں خلل کے باعث فضائی ٹریفک کو روک دیا گیا۔
شمالی تہران میں نو بنیاد ضلع میں، امدادی کارکن اپارٹمنٹ کے دو بلاکس کے ملبے سے زندہ انسانوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اپارٹمنٹس کے یہ بلاک بظاہر اسرائیلی حملوں میں بالکل ٹھیک نشانہ بنائے گئے تھے۔
Caption جمعہ 13 جون 2025 کو وسطی تہران میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی لہر کے خلاف احتجاج کے دوران ایک شخص اسرائیل مخالف نعرے کے ساتھ پرچم کے ساتھ مارچ کر رہا ہے۔ (تصویر بذریعہ ATTA KANARE/AFP)
ایران کی نور نیوز نے بتایا کہ تہران میں رہائشی علاقوں پر حملوں میں 78 افراد ہلاک اور 329 زخمی ہوئے۔
آنسوؤں سے تر چہروں والے خاندان پارٹمنٹس کی منہدم عمارتوں کے ملبہ کے آس پاس جمع تھے۔
"وہ ہمیں ہماری جوہری صلاحیت سے محروم کرنا چاہتے ہیں - یہ ناقابل قبول ہے،" 56 سالہ احمد رضاغی نے خاموشی سے سرکاری نیریٹیو کی بازگشت کرتے ہوئے کہا۔
رنگین حجاب پہنے ہوئے 45 سالہ نرس فرنوش رضائی کے لیے، جمعہ کے حملے اسرائیل کی طرف سے ایک حتمی کارروائی کی نمائندگی کرتے ہیں - ایک ملک "اپنی آخری سانسوں پر"۔
ایرانی رہنما کئی دہائیوں سے اصرار کرتے رہے ہیں کہ اسرائیل "جلد" غائب ہو جائے گا۔ فرنوش رضائی نے کہا، "اگر خدا نے چاہا تو اس سے کم از کم تھوڑا سا سکون ضرور ملے گا۔"
Caption ایران میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہروں کے متعلق سرکاری ٹی وی چینل نے بتایا کہ یہ ملک کے بیشتر شہروں میں ہوئے لیکن ان کے ویژیول سوشل میڈیا پر بہت کم پوسٹ ہوئے۔
سٹی42: ایران نے ناتنز ایٹمی تنصیبات کے ساتھ فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں کی بھی تصدیق کر دی۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے سلامتی کونسل کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر بھی اسرائیل کے حملوں سے نقصان ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے جمعہ کے روز سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایران کے نتنز نیوکلئیر سائٹ پر زمین سے اوپر کا پائلٹ افزودگی کا پلانٹ تباہ ہو گیا ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ گروسی نے 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ "اس وقت ایرانی حکام ہمیں دو دیگر تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دے رہے ہیں، یعنی فردو فیول افزودگی پلانٹ اور اصفہان میں،"
"اس وقت ہمارے پاس اتنی معلومات نہیں ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان تنصیبات کے ارد گرد بھی فوجی سرگرمیاں ہوئی ہیں۔"
اس سے پہلے
اسرائیل نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ ائیر سٹرائیکس میں فردو اور اصفہان کی نیوکلئیر تنْصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اب آئی اے ای اے کی سکیورٹی کونسل کو رپورٹ سے ان حملوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔
اس سے پہلے اسرائیل نے ناتنز نیوکلئیر کمپلیکس میں زیر زمین کئی منزلوں پر واقع تنصیبات اور ایک بڑے زیر زمین ہال کو بھی نشانہ بنانے میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ تھا کہ ناتنز نیوکلئیر کمپلیکس میں جس ہال میں سب سے زیادہ سینٹری فیوج نصب ہین، وہ تباہ کر دیا ہے، بعد مین آئی اے ای اے نے بتایا کہ ناتنز کی فضا میں ریڈی ایشن کی مقدار میں کوئی فرق نوٹ نہیں کیا گیا۔ اسکا مطلب یہ تھا کہ ناتنز نیوکلئیر سائیٹ پر غیر معمولی ریڈی ایشن کا اخراج نہیں ہوا۔
سٹی42: اسرائیل میں 9 مقامات پر ایران کے میزائل گرے جن مین کم از کم 15 افراد کے زخمی ہونے کی کنفرمڈ اطلاعات ملی ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا ہے کہ IDF کا اندازہ ہے کہ ایران نے دو بیراجوں میں اسرائیل پر 150 میزائل فائر کیے ہیں۔ آئی ڈی ایف کے نئے اندازوں کے مطابق، اب تک ایران نے اسرائیل پر دو بیراجوں میں تقریباً 150 بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق، نو مقامات پر ایران کے میزائلوں کا امپیکٹ رپورٹ ہوا ہے۔ ان میزائلوں یا ان کی فضا مین پھٹنے والی باقیات کی زد میں آ کر تقریباً 15 افراد زخمی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کی حالت بہتر ہے۔
سٹی42: ایران کے اسرائیلی شہروں پر میزائلوں کے دوسرے بیرج کو انٹرسیپٹ کرنے کے بعد اسرائیل کی فوج نے شہریوں کو بم شیلٹرز سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ شہری بم پناہ گاہوں کو چھوڑ سکتے ہیں، لیکن انہیں اگلے اطلاع تک ان کے قریب رہنا چاہیے۔ IDF ہوم فرنٹ کمانڈ کا کہنا ہے کہ شہری ایران کے بیلسٹک میزائل بیراجوں کے بعد بم پناہ گاہوں کو چھوڑ سکتے ہیں، لیکن انہیں اگلے اطلاع تک ان کے قریب رہنا چاہیے۔
Caption تل ابیب کے بن گوریاں ائیر پورٹ پر آج فلائٹ آپریشنز بند ہیں اور ائیرپورٹ کی انتظارگاہیں خالی پڑی ہیں۔ اسرائیل نے جمعہ کو علی الصبح ایران پر حملوں کے ساتھ ہی اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں جس سے تمام سویلین فلائٹ آپریشن رک گئے تھے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کے دو بیرج فائر کئے جانے کے بعد اسرائیل نے ان حملوں کو سویلینز کے خلاف حملے قرار دیتے ہوئے ایران کو ناقابلِ برداشت نتائج کی وارننگ دی ہے۔
جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا، ایران شہری علاقوں پر اپنے میزائل حملوں کی 'ناقابل برداشت قیمت' ادا کرے گا۔ آج رات پورے اسرائیل میں ایران کے میزائل حملوں سے بچنے کی وارننگ کے لئے سائرن بج رہے ہیں۔ ان گرتے ہوئےیا زیادہ صورتوں میں فضا میں شہری علاقوں کے اوپر انٹرسیپٹ کئے جا رہے میزائلوں کے درمیان، چینل 12 نے ایک نامعلوم اسرائیلی سیاسی ذریعہ کا حوالہ دیا ہے جس نے ایران کو دوبارہ مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "ایران شہری علاقوں میں اپنے میزائل فائر کرنے کی ناقابل برداشت بھاری قیمت ادا کرے گا۔"
"ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل نے کیا مارا [آج ایرانی اہداف پر اپنے حملوں میں]،" اور ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل نے کیا نشانہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور یہ اگلا مرحلہ ہے۔"
ایسا لگتا ہے کہ یہ تبصرہ ایرانی توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر ممکنہ اسرائیلی حملوں کا حوالہ ہے۔
سٹی42: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کے 'ہٹ اینڈ رن' حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے تہران میں جاری ہونے والے خامنہ ای کے بیان کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے جنگ شروع کی ہے اور کہا ہے کہ اسے سنگین نتائج کے بغیر ’’ہٹ اینڈ رن‘‘ حملے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ "صیہونی حکومت (اسرائیل) اپنے جرم کے نتائج سے محفوظ نہیں رہے گی۔ ایرانی قوم کو اس بات کی ضمانت دی جانی چاہیے کہ ہمارا ردعمل آدھا نہیں ہو گا"۔
خامنہ ای کا آج غالباً یہ دوسرا بیان ہے جو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسرائیل پر ایران کے برے میزائل حملوں کے ہنگام میں سامنے آیا ہے۔
سٹی42: شمالی اور جنوبی اسرائیل میں سائرن مسلسل بج رہے ہیں کیونکہ ایران سے دوسری لہر میں درجنوں میزائل داغے گئے ہیں۔
ایران سے داغے گئے درجنوں بیلسٹک میزائلوں کے دوسرے بیراج کے بعد پورے شمالی اور جنوبی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف آ رہے پروجیکٹائلز کو مار گرانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
IDF کے مطابق، اس دوسری لہر میں درجنوں بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔ اسرائیل کے بیشتر علاقوں مین اس وقت لوگ بم شیلٹرز مین ہین یا اپنے گھروں کے تہہ خانوں مین یا گھروں کی بغل میں بنائی خندقوں میں دبکے ہوئے ہیں۔
اب تک اسرائیل کے اندر کسی طرح کا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل پر ایران کا بڑا میزائل حملہ ہو رہا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق ایران نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں کا دوسرا بیراج اسرائیل کی طرف لانچ کیا ہے۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں کا ایک اور بیراج داغا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے اسرائیل کے میڈیا کے ذریعہ اسرائیل کے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ شہریوں کو بموں کی پناہ گاہوں میں رہنا جاری رکھنا چاہیے کیونکہ فضائی دفاع خطرات کو کم کرنے کے لیے کام کرت رہا ہے۔
ایران نے چند ماہ پہلے جب اسرائیل پر بیک وقت سینکڑوں بیلسٹک میزائل فائر کئے تھے تو ان مین سے بیشتر کو اسرائیل کے ائیر ڈیفینس سسٹم نے راستے مین انٹرسیپٹ کر لیا تھا۔ اس ایرانی ھملے کے بعد اسرائیل نے امریکہ سے تھیڈ THAD ائیر ڈیفینس سسٹم، اس کو آپریت کرنے والے امریکی ماہرین سمیت منگوا کر اسرائیل میں انسٹال کیا تھا اور پھر اسرائیل پر جوابی حملے مین درجنوں تنصیبات پر ائیر سٹرائیکس کی تھیں۔ تب سے آج شب اسرائیل میں اسرائیلی آئرن ڈوم ائیر ڈیفینس سسٹم کے ساتھ نصب تھیڈ ائیر ڈیفینس سسٹم کی آزمائش کا پہلا موقع آیا ہے۔
Caption ایران کے اسرائیل پر ایک گزشتہ حملے مین فائر کئے جا رہے بیلسٹک میزائلوں کی یہ تصویر ایران کی ایک سرکاری نیوز ایجنسی نے جاری کی تھی۔ ان مین سے بیشتر میزائل اسرائیل کے ائیر ڈیفینس سسٹم نے انٹرسیپٹ کر لئے تھے، آج سب ایک بار پھر ایران نے میزائلوں کے دو بڑے بیرج اسرائیل کی طرف بھیجے ہیں جو جمعہ کی صبح ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا دوسرا جواب ہے۔
مرکزی تل ابیب میں دھماکے، دھوئیں کے بادل نظر آئے ہیں، اس سے پہلے تل ابیب اور کئی دوسرے علاقوں میں میزائل حملے کے سائرن بجے، بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر سو کے لگ بھگ میزائل حملے کئے ہیں۔ الجزیرہ نیوز نے بریکنگ نیوز مین بتایا کہ تل ابیب سے لائیو فوٹیج میں، چند لمحے پہلے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ہوا میں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے۔
ایران کا اسرائیل پر حملہ بریکنگ نیوز ہے، جونہی ہمیں مزید کنفرمڈ اطلاعات حاصل ہوں گی ہم آپ کو مزید معلومات فراہم کریں گے۔
سٹی42: تہران میں ایرانی سرکاری حکام نے آج اسرائیل کے ہوائی حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کچھ تفصیل سرکاری میڈیا کو بتائی ہے۔
اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئیر موسٹ کمانڈرز، ایران کی ریگولر آرمی کے چیف ار القدس فورس کے سربراہ شامل ہیں۔
ایرانی کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطاب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں 78 افراد جاں بحق جبکہ 329 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی حملوں میں نشانہ بننے والے فوجی عہدیداروں اور ایٹمی سائنسدانوں کے نام بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔
اسرائیلی حملوں مین نشانہ بننے والے فوجی عہدیدار آیت اللہ خامنہ ای کی تیار کردہ فوجی ہرارکی میں ٹاپ براس شمار ہوتے تھے۔ ان میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محمد حسین افشردی عُرف محمد باقری، پاسداران انقلاب فضائی فورس کے سربراہ امیر علی حاجی زادے اور پاسداران انقلاب خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے سربراہ غلام علی رشید شامل ہیں۔ امریکی میڈیا نے بتایا کہ ان حملوں میں ایران کی ایران سے باہر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف کام کرنے والی القدس فورس کے سربراہ اسمعیل قاآنی بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں نشانہ بننے والے ایرانی جوہری توانائی پروگرام میں کام کرنے والے سائنسدانوں میں احمد رضا ذوالفقاری دریانی، فریدون عباسی، محمدمہدی تہرانچی، عبدالحمیدمنوچہر اور امیر حسین فقہی شامل ہیں۔
Caption ایرانی حکام نے آج اسرائیل کے تباہ کن حملوں میں ایرانی فوجی ہرارکی کے کئی اہم لیڈرز کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ ان شخصیات کو ایران مین آیت اللہ خامنہ ای کی تشکیل دی ہوئی فوجی ہرارکی مین اہم ترین افراد تصور کیا جاتا ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاسداران انقلاب کی ایلیٹ قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاانی ایران کے خلاف اسرائیل کے جاری حملے میں مارے گئے۔
قاانی کو مشرق وسطیٰ خطے میں ایران کی پراکسیوں کا انچارج مانا جاتا تھا۔
سٹی42: بریکنگ نیوز یہ ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آئی اے ای اے نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں ناتنز نیوکلئیر سائیٹ پر حملے کے بعد اب تک فضا مین تابکاری کا لیول نہیں بڑھا۔
آئی اے ای اے کی اس اطلاع کا آسان زبان میں مطلب یہ ہے کہ جمعہ کو علی الصبح اور بعد میں جمعہ کی سہ پہر ناتنز نیوکلئیر لیب اور اس سے ملحق تنصیبات پر اسرائیل کے تباہ کن ہوائی حملوں کے بعد کسی تابکاری خارج کرنے والی تنصیب کو کوئی ایسا نقصان نہیں ہوا جس کے بعد تابکاری زیر زمین تنصیبات سے نکل کر زمین کی سطح تک آ جاتی۔
اسرائیل نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ کو علی الصبح حملوں کے نتیجہ مین ناتنز نیوکلئیر فسیلیٹی میں زمین کے نیچے کئی منزلوں مین نقصان ہوا ہے جن میں وہ نیوکلئیر لیب بھی شامل ہے جہاں سب سے زیادہ سینٹری فیوج کام کر رہے ہیں۔ سینٹری فیوج یورینیم کو انرِچ (افزودہ) کرنے کے کام آتے ہیں۔ ناتنز کے متعلق آئی اے ای اے کی ہی رپورٹ ہے کہ یہاں یونینیم انرچمنٹ کا کام گزشتہ کچھ مہینوں مین بہت زیادہ بڑھا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ کے مطابق، نتنز میں ایران کی اہم افزودگی کی سہولت میں تابکاری کی سطح "بغیر تبدیل شدہ" ہے۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے سوشل پلیٹ فارم X پر ایک بیان میں کہا، "Natanz فسیلیٹی کے باہر تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ فسیلیٹی کے اندر موجود تابکار آلودگی کی قسم، خاص طور پر الفا ذرات، کو مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے۔"
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر اسرائیل کے حملے کے دوران نتنز کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن کہا کہ اس نے علاقے میں تابکاری کی سطح میں اضافہ نہیں دیکھا تھا۔
سٹی42: اسرائیل نےایران پر حملے کے بعد 'ملک بھر کے تمام جنگی میدانوں میں' ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے مختلف یونٹوں سے ریزرو فوجیوں کو بلایا ہے اور انہیں "ملک بھر کے تمام جنگی میدانوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔"
فوج کا کہنا ہے کہ ریزروسٹ کال اپ "تمام میدانوں میں اور آپریشن کے آغاز کے ساتھ آئی ڈی ایف کی دفاعی اور حملوں کی تیاریوں کا ایک حصہ ہے۔"
اسرائیل میں فوج کو ریزرو فوجیوں کی گزشتہ کئی ماہ سے شدید ضرورت رہی ہے، اس دوران آئی ڈی ایف نے ہریدی فرقہ کے لئے بھی فوج کی لازمی سروس کا قانون نافذ ہونے کے بعد ہریدی فرقہ کے 16000 سے زیادہ افراد کو ریزرو کی حیثیت سے رجسٹریشن کے لئے طلب کیا تو ان مین سے صرف چند ہزار نے مثبت جواب دیا تھا۔ اب ایران پر حملہ کے بعد فوج نے ان لوگوں کو طلب کیا ہے جو پہلے ہی ریزرو فوجی کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہیں۔
سٹی42: اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے نومبر 2024 میں ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرنے کی ہدایت نومبر 2024 میں دی گئی تھی، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج جمعہ کو ایک ویڈیو بیان میں یہ انکشاف کیا ہے۔
نیتن یاہو کو اس ویڈیو سٹیٹمنٹ میں کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر حملے کی ۰دایت لبنان مین حسن نصراللہ کے قتل کے فوراً بعد جاری کی تھی۔
"یہ ہدایت [حزب اللہ کے رہنما حسن] نصر اللہ کے قتل کے فوراً بعد آئی،" نیتن یاہو کہتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کے لیے واضح تھا کہ ایک بار جب اس کا پراکسی محور اسرائیل نے توڑ دیا تو ایران بم کی طرف بڑھے گا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے یورینیم کی افزودگی کے علاوہ ایران کے ہتھیار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔
نیتن یاہو نے ( نومبر 2024 میں حملوں کی ہدایت دیتے وقت) اپریل 2025 کے اختتام کی تاریخ مقرر کی تھی۔ انہوں نے"مختلف وجوہات" کی طرف اشارہ کیا کہ اس وقت تفصیل میں جانے کے بغیر (اپریل کے آخر میں) ایسا نہیں کیا جا سکا تھا۔
ایک بہت ہی پریشان کن وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپریل میں یہ اعلان ہو سکتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر براہ راست بات چیت کریں گے۔ اس کے بجائے، یہ حملہ آج صبح کے لیے مقرر کیا گیا تھا، نیتن یاہو نے اس مختصر بیان میں یہ نہیں بتایا کہ اس دن کاہی انتخاب کیوں کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اسرائیلی حملوں کے بعد تہران نے ایک ماہ میں 300 بیلسٹک میزائل بنانے کا پروگرام شروع کیا۔
"ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ ہم آدھی رات میں(پھنسے ہوئے) ہیں۔"
نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ وہ 2011-2012 میں ہی ایران پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن اس وقت وہ خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں کر سکے۔ اگرچ، ٹائمز آف ااسرائیل کے مطابق، اس وقت کے دیگر سیکورٹی حکام نے اس اکاؤنٹ کی تردید کی ہے۔
اس سے پہلے نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کے بعد اپنے ویدیو بیان مین کہا تھا کہ ایران 9 نیوکلئیر بم بنانے کے لئے کافی یورینیم انرچ کر چکا تھا۔ انہوں نے اس حملے کو اپنے دفاع کا اقدام قرار دیا۔
سٹی42: ایران کی فوجی ہرارکی اور سٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیل کی ایجنسی موساد نے تہران کے اندر ڈرونز کو مقامی طور پر کنٹرول کرنے کے لئے بیس قائم کیا۔ حملوں سے کچھ پہلے موساد نے وسیع پیمانے پر سرگرمیاں کیں جن میں زمین سے فضا میں چلائے جانے والے (ائیر ڈیفینس) میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے لئے سبوتاژ کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
ایران پر حملے جمعہ کی صبح علی الصبح ہوئے، دوسری مرتبہ حملے جمعہ کی سہ پہر کئے گئے۔
اب یہ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کی نیوکلئیر تنصیبات، فوجی ہرارکی ک پناہ گاہوں اور سٹریٹیجک تنصیبات پر دو سو طیاروں کے ساتھ حملوں میں اسرائیل کی بیرونی انٹیلیجنس ایجنسی موساد نے بنیادی کردار ادا کیا۔
موساد طویل عرصہ سے ایران کے اندر ممکنہ حملوں کی پلاننگ کر رہی تھی، کل صبح علی الصبح جو ہوائی حملے ہوئے ان کے لئے موساد نے ایران کے اندر وسیع پیمانے پر تیاریاں کیں اور عین حملوں سے پہلے اہم ٹاسک انجام دیئے جن میں تہران میں ڈرونز کو کنٹرول کرنے والے مقامی بیس کا قیام اہم ترین تھا ان ڈرونز نے بعض شخصیات کو ان کی پناہ گاہوں میں ختم کرنے اور لینڈ ٹو ائیر (ائیر ڈیفینس) میزائلوں کے سسٹمز کو ناکارہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
سرائیلی حملے سے کچھ دیر قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیوں کی ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ہیں۔
Caption ریسکیو ٹیمیں 13 جون 2025 کو ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی بھاری تباہ شدہ عمارت کے باہر کام کر رہی ہیں۔ (اے ایف پی)
موساد کے کمانڈوز نے جمعہ کی رات ہوائی حملوں سے پہلے ایران کے اندر مختلف اہم مقامات پر خفیہ کارروائیاں انجام دیں جن میں کھلے علاقوں میں موجود زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایرانی میزائل سسٹمز کو گائیڈڈ ہتھیاروں سے نشانہ بنانا شامل تھا۔
موساد کی خفیہ کارروائیوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا اور ایرانی دار الحکومت تہران کے قریب خفیہ ڈرون بیس قائم کر کے وہاں سے ڈرونز کے حملوں کو آپریٹ کرنا بھی شامل تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب موساد کی خفیہ کارروائیوں کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہیں۔ ایک ویڈیو کلپ میں دو ایجنٹوں کو کل رات کے وقت کوئی کارروائی کرتے دکھایا گیا ہے، دوسری ویڈیو میں ڈرون سے ایک میزائل بیٹری کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے۔ تیسری ویڈیو مین لانگ رینج میزائل کی ایک بییٹری کو تباہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ذرائع نے آج صبح بتایا کہ ایران پر ہونے والا اسرائیلی حملہ اسرائیلی فوج اور موساد کی مربوط پلاننگ کا نتیجہ تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موساد کے ایجنٹس نے تہران کے قریب ایک خفیہ ڈرون بیس قائم کی جسے حملے سے کچھ دیر قبل فعال کیا گیا۔
اسرائیل نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خلاف آپریشن کی تیاری میں برسوں گزارے، ایک سیکیورٹی اہلکار نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا، جس میں ایران کے اندر ڈرون اڈہ بنانا اور ملک میں درست ہتھیاروں کے نظام اور کمانڈوز کی سمگلنگ شامل تھا۔
اس کوشش کا انحصار IDF اور موساد کی خفیہ ایجنسی کے درمیان سخت مشترکہ منصوبہ بندی پر تھا۔
اہلکار کے مطابق موساد کے ایجنٹوں نے تہران کے قریب ایرانی سرزمین پر ڈرون اڈہ قائم کیا۔ ڈرونز کو راتوں رات متحرک کیا گیا، جس نے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ ہتھیاروں کے نظام کو لے جانے والی گاڑیاں ایران میں سمگل کی گئیں۔
ان سسٹمز نے ایران کے فضائی دفاع کو ختم کیا اور اسرائیلی طیاروں کو ایران پر فضائی بالادستی اور کارروائی کی آزادی دی۔
تیسری خفیہ کوشش موساد کے کمانڈوز نے وسطی ایران میں طیارہ شکن مقامات کے قریب عین مطابق میزائلوں کی تعیناتی تھی۔
اسرائیلی فوج کےاہلکار کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی کارروائیوں کا انحصار "زبردست سوچ، جرات مندانہ منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سرجیکل آپریشن، خصوصی فورسز اور مقامی انٹیلی جنس کی نظروں سے مکمل طور پر بچتے ہوئے ایران کے دل میں پہنچ کر کام کرنے والے ایجنٹوں پر تھا "۔
اس بیس سے اڑنے والے ڈرونز سے اسرائیل پر حملے کے لیے تیار ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ موساد کے اس خفیہ آپریشن کے لیے الیکٹرونِک ہتھیاروں سے لیس گاڑیوں کو ایران سمگل کیا گیا تھا، ان ہتھیاروں کے ذریعے موساد نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر کردیا جس کے بعد اسرائیلی طیارے بغیر کسی مزاحمت کے ایرانی فضائی حدود میں پرواز کرتے رہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق موساد کے ایجنٹس نے وسطی ایران میں اینٹی ائیرکرافٹ تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
ویب ڈیسک: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے نطنز میں واقع جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا: "ایران میں تشویشناک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔"
IAEA کے مطابق، ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہ کر تابکاری (ریڈی ایشن) کی سطح اور نطنز میں موجود ایجنسی کے معائنہ کاروں (انسپیکٹرز) کی سلامتی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
نطنز ایران کی سب سے اہم اور حساس یورینیم افزودگی کی تنصیب سمجھی جاتی ہے، جہاں ماضی میں بھی متعدد سائبر حملے ہو چکے ہیں۔
ویب ڈیسک:اسرائیل کے حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی حملہ کردیا گیا۔
خبرایجنسی کے مطابق ایران نے اسرائیل پر 100سے زائد ڈرونز سے داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج کاکہنا ہے کہ چند گھنٹوں میں ایران نے 100سے زائد ڈرونز سے حملہ کیا ہے،اگلے چند گھنٹے ہمارے لئے مشکل ہیں.
قبل ازیں اسرائیل کے حملے میں ایران کے دو نیوکلیئر سائنسدان مارے گئے ہیں جبکہ پاسداران انقلاب کے سربراہ کمانڈر حسین سلامی کے بھی مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی نے دو نیوکلیئرسائنسدانوں کے مارے جانے کی خبر کیساتھ ان کے نام بھی شیئرکیے ہیں۔
ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سابق سربراہ فریدون عباسی اور دوسرے اسلامک آزاد یونیورسٹی کے صدر محمد مہدی تہرانچی ہیں۔
ویب ڈیسک:ایرانی آرمی چیف محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔
اسرائیل کے ایران پر حملوں میں اہم ایرانی فوجی کمانڈر اور سینئر سائنسدان مارے گئے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں "پاسدران انقلاب" کے ہیڈ کوارٹرز سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تہران، قم ، تبریز،اصفہان ،ارمیا، مراغہ اور اہواز پر بھی حملے کیے گئے۔
ویب ڈیسک:ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا ردعمل سامنے آگیا، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل سخت سزا کا انتظار کرے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای نے ایرانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست نے ہماری سرزمین کیخلاف گھناونا جرم کیا ہے، رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا کر اپنی بدنما فطرت کااظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، اللّٰہ نے چاہا تو ایران کی مسلح افواج کے مضبوط بازو اسرائیل کو سزا دیے بغیر نہیں رکیں گے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای نے تصدیق کی کہ اسرائیل کے حملے میں کئی کمانڈر اور سائنسدان شہید ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کمانڈرز اور سائنس دانوں کے جانشین اپنے فرائج انجام دے کر مشن جاری رکھیں گے۔
اسرائیل نے اپنے لیے تلخ اور تکلیف دہ قمست کا انتخاب کیا ہے اور اس میں شک ہی نہیں کہ اسے یہ سزا ضرور ملے گی۔
ویب ڈیسک:اسرائیل نے آج علی الصبح ایران پر سو مقامات پر دو سو طیاروں کے ساتھ بمباری کی ہے۔ فوج اورپاسدران انقلاب کے سربراہان سمیت کئی جوہری سائنسدان اور کمانڈرز مارے گئے۔
اسرائیل کے ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے میں فوج اورپاسدران انقلاب کے سربراہان سمیت کئی جوہری سائنسدان اور کمانڈرز مارے گئے ۔ دارالحکومت تہران کے شمال مشرقی علاقے میں بھی دھماکوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے۔
مختلف علاقوں میں تباہ شدہ رہائشی عمارتیں دکھائی گئیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
یہ حملے رات گئے کیے گئے، ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق سوشل میڈیا پر تہران کے افق پر دھوئیں کے بادلوں کی تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں۔
ایرانی میڈیا نے دارالحکومت تہران کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں پر حملےکی تصدیق کر دی، دوسری طرف اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے ایران پر پری ایمپٹِو حملہ کر دیا ہے، ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا گیا، اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے حملے میں حصہ لیا۔
امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی فوجی قیادت کی رہائش گاہوں سمیت 6 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو ایک بار پھر بتایا کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اسی خدشے کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارت کاروں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم (امریکہ اور ایران) ایک اچھے معاہدے کے کافی قریب ہیں،میں نہیں چاہتا کہ وہ حملہ کریں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس سے سب کچھ برباد ہو سکتا ہے۔شاید اس سے فائدہ بھی ہو، لیکن یہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے خود کو امن پسند شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ معاہدے کے لیے ایران کو مزید لچک دکھانا ہوگی۔میں تصادم سے بچنا چاہتا ہوں، لیکن ایران کو کچھ ایسی چیزیں دینا ہوں گی جو وہ اس وقت دینے کو تیار نہیں۔
امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے چھٹے دور میں شریک ہوں گے۔ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کی مقدار میں اضافے کا اعلان ان مذاکرات میں سب سے بڑا تنازعہ بنا ہوا ہے۔ مذاکرات سے واقف ذرائع اس عمل کو اب تک بے ثمر قرار دے رہے ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب بھی میڈیا سے اس موضوع پر بات کرتے ہیں وہ غیر معمولی رجائیت کا اظہار کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ یہ بتا چکے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کو ایران پر حملہ کرنے سے باز رکھے ہوئے ہیں لیکن اسرائیل میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس معاملہ پر صدر ٹرمپ کے روکنے سے کچھ نہیں رکا۔
ایرانی میڈیا نے اسرائیل کے دو ایف 35 بمبار طیارے گرانے اور اسرائیل کی ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ نشر کیا جس کی اسرائیلی حکام نے تردید کی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر اپنے جوابی حملوں کا نام آپریشن وعدہ صادق 3 بتایا ہےْ
یاد رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں فوجی قیادت کی رہائش گاہوں اور فوجی و جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی حملوں میں 6 سائنسدانوں سمیت 78 افراد شہید ہوئے۔