ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل کا ایران پر حملہ بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے، ٹرمپ

 اسرائیل کا ایران پر حملہ بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے، ٹرمپ

سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے صحافیوں کو ایک بار پھر بتایا کہ  اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے خبردار کیا  ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اسی خدشے کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارت کاروں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم (امریکہ اور ایران)  ایک اچھے معاہدے کے کافی قریب ہیں،میں نہیں چاہتا کہ وہ حملہ کریں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس سے سب کچھ برباد ہو سکتا ہے۔شاید اس سے فائدہ بھی ہو، لیکن یہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے خود کو امن پسند شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ معاہدے کے لیے ایران کو مزید لچک دکھانا ہوگی۔میں تصادم سے بچنا چاہتا ہوں، لیکن ایران کو کچھ ایسی چیزیں دینا ہوں گی جو وہ اس وقت دینے کو تیار نہیں۔

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے چھٹے دور میں شریک ہوں گے۔ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کی مقدار میں اضافے کا اعلان ان  مذاکرات میں سب سے بڑا تنازعہ بنا ہوا ہے۔ مذاکرات سے واقف ذرائع اس عمل کو اب تک بے ثمر قرار دے رہے ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب بھی میڈیا سے اس موضوع پر بات کرتے ہیں وہ غیر معمولی رجائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ 

صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ یہ بتا چکے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کو ایران پر حملہ کرنے سے باز رکھے ہوئے ہیں لیکن اسرائیل میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس معاملہ پر صدر ٹرمپ کے  روکنے سے کچھ نہیں رکا۔