ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حملہ کب پلان کیا، کب کرنا تھا، تاخیر کیوں کی، نیتن یاہو بول پڑے

حملہ کب پلان کیا، کب کرنا تھا، تاخیر کیوں کی، نیتن یاہو بول پڑے

سٹی42:  اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے نومبر 2024 میں ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرنے کی ہدایت نومبر 2024 میں دی گئی تھی، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج جمعہ کو ایک ویڈیو بیان میں یہ انکشاف کیا ہے۔ 

نیتن یاہو کو اس ویڈیو سٹیٹمنٹ میں کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر حملے کی ۰دایت لبنان مین حسن نصراللہ کے قتل کے فوراً بعد جاری کی تھی۔

"یہ ہدایت [حزب اللہ کے رہنما حسن] نصر اللہ کے قتل کے فوراً بعد آئی،"  نیتن یاہو کہتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کے لیے واضح تھا کہ ایک بار جب اس کا پراکسی محور اسرائیل نے توڑ دیا تو ایران بم کی طرف بڑھے گا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے یورینیم کی افزودگی کے علاوہ ایران کے ہتھیار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔

 نیتن یاہو نے ( نومبر  2024 میں حملوں کی ہدایت دیتے وقت) اپریل 2025 کے اختتام کی تاریخ مقرر کی تھی۔ انہوں نے"مختلف وجوہات" کی طرف اشارہ کیا کہ اس وقت تفصیل میں جانے کے بغیر (اپریل کے آخر میں) ایسا نہیں کیا جا سکا تھا۔

ایک بہت ہی پریشان کن وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپریل میں یہ اعلان ہو سکتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر براہ راست بات چیت کریں گے۔
اس کے بجائے، یہ حملہ آج صبح کے لیے مقرر کیا گیا تھا،  نیتن یاہو نے اس مختصر بیان میں یہ نہیں بتایا  کہ اس دن کاہی انتخاب کیوں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اسرائیلی حملوں کے بعد تہران نے ایک ماہ میں 300 بیلسٹک میزائل بنانے کا پروگرام شروع کیا۔

"ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ ہم آدھی رات میں(پھنسے ہوئے) ہیں۔"

نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ وہ 2011-2012 میں ہی ایران پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن  اس وقت وہ خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں کر سکے۔ اگرچ،  ٹائمز آف ااسرائیل کے مطابق،  اس وقت کے دیگر سیکورٹی حکام نے اس اکاؤنٹ کی تردید کی ہے۔

اس سے پہلے نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کے بعد اپنے ویدیو بیان مین کہا تھا کہ ایران 9 نیوکلئیر بم بنانے کے لئے کافی یورینیم انرچ کر چکا تھا۔ انہوں نے اس حملے کو اپنے دفاع کا اقدام قرار دیا۔