’’تھپڑ تھا کس نے مارا، دکھائی نہیں دیا
پر اس کے بعد کچھ بھی سنائی نہیں دیا‘‘
لیکن یہاں تو تھپڑ دکھائی بھی دیا اور اس کی گونج سنائی بھی دی اور یہ تھپڑ مارا ہے ملائیشین وزیر اعظم نے گودی میڈیا کو۔۔۔۔۔
ایک ایسا سوال ،،، جو بظاہر پاکستان کو گھیرنے کے لیے کیا گیا تھا ،،، لیکن جواب ایسا آیا کہ سوال کرنے والا ہی دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ،،، بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے صحافی وشنو نے ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم سے پاکستان کے حوالے سے سخت سوالات کیے اور پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ لیکن انور ابراہیم نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا ،،، "اگر پاکستان کے خلاف الزام ہے، تو ثبوت کہاں ہیں؟"
انور ابراہیم نے کہا کہ "میں مودی کا دوست ہوں، لیکن پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔" اور بات صرف ذاتی رائے تک محدود نہیں رکھی گئی، انور ابراہیم نے کہا کہ بطور وزیراعظم وہ اُن حقائق کی بنیاد پر بات کر سکتے ہیں جو اُن کے ریاستی اداروں نے انہیں فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق ملائیشیا کے متعلقہ اداروں نے پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی کوئی رپورٹ نہیں دی۔
بھارتی صحافی نے اسرائیل اور پاکستان کا موازنہ کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن ملائیشین وزیراعظم نے اس موازنے کو بھی قبول نہیں کیا۔ انور ابراہیم کا مؤقف تھا کہ اسرائیل کے حوالے سے ان کا موقف الگ ہے، جبکہ پاکستان کو وہ ایک دوست ملک سمجھتے ہیں ،،، یعنی سوال تھا پاکستان پر الزام لگانے کا مگر جواب آیا ’’ الزام نہیں ثبوت دیں‘‘۔
یہی وہ نکتہ تھا جس نے پوری گفتگو کا رخ بدل دیا اور گودی میڈیا کو منہ کی کھانا پڑی، انور ابراہیم کے اس جواب نے کم از کم ایک سوال ضرور چھوڑ دیا کہ اگر الزام ہے تو ثبوت کہاں ہے؟