ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان تہران میں اپنے سفارتی عملہ کے متعلق فکرمند

Iran Israel war, Pakistani embassy in Tehran, escalation, security situation, Tehran, Mashhad, Zahedan

سٹی42:  پاکستان میں تہران میں اپنے سفارتی عملہ کی حفاظت کے لئے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اس تشویش کو لے کر یہ غور کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگی کارروائیاں زیادہ برھ گئیں تو پاکستان اپنے سفارتی عملہ کی حفاظت کے لئے کیا کرے گا۔

  پاکستان کے تہران، مشہد اور زاہدان میں  ایک سو سے زیادہ سفارتی اہلکار اور ان کے ساتھ ان سب کے قریبی فیملی ارکان موجود ہیں۔

اسلام آباد میں باخبر ذرائع نے بتایا کہ اس وقت وفاقی حکومت اہم ترین سطح پر کئی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان میں سے ایک تہران مین سفارتی عملہ کی تعداد کم سے کم کرنے کا آپشن ہے۔ سفارتی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ مطابق ایران اسرائیل جنگ پھیلنے  کی صورت میں وہاں پاکستانی سفارتی عملے کا رہنا غیر محفوظ اور مشکل ہو جائے گا۔ ایک رائے یہ آ رہی ہے کہ ایران میں موجود بیشتر  پاکستانی سفارت کاروں کو کچھ دن کے لئے اسلام آباد بلا لیا جائے اور سفارتخٓنہ انتہائی کم عملہ کے ساتھ  کام کرے۔  

پہلے سفارت خانہ اور قونصلیٹس کے اہلکاروں کی فیملیز واپس آئیں گی

سفارتی عملہ کی فیملیز کے ارکان کو  پہلے مرحلہ میں پاکستان واپس لانے کا امکان ہے۔  سفارتی ذرائع کے مطابق صورتحال زیادہ خراب ہونے پر پاکستانی سفارتی عملے کو واپس بلایا جا سکتا ہے۔

ایرانی دارلحکومت تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے 70 کے قریب سفارتی اہلکار  اپنی فیملیز  کے ہمراہ موجود ہیں۔

 مشہد اور زاہدان کے قونصل خانوں میں 25 کے قریب پاکستانی سفارتی اہلکار موجود ہیں, ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو پہلے ہی ضروری مشاورت کے لئے اسلام آباد  پہنچ چکے ہیں۔

 مدثر ٹیپو کو خطے کی صورتحال, ایران اسرائیل کشیدگی پرمشاورت کے لیے اسلام آباد طلب کیا گیا تھا۔