ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کی "سچویشن روم" میں غیر معمولی میٹنگ

President Trump, Airforce One, Situation Room, National Security Committee , Iran Israel War

سٹی42:  وائٹ ہاؤس میں امریکہ کی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ غیر معمولی طور پر سچویشن روم میں ہوئی جو اب ختم ہو چکی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو  بتایا کہ اسرائیل اور ایران جنگ پر وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم کی میٹنگ ایک گھنٹہ 20 منٹ کے بعد ختم ہو گئی۔  

وائٹ ہاؤس میں سچویشن روم کو اجلاس کے لئے جنگ یا جنگی مشن جیسی صورتحال میں استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام نے کہا کہ ٹرمپ تمام آپشنز سامنےرکھے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ہی امریکی حکام نے  اصرار کے ساتھ کہا کہ اب تک اسرائیل کی اس مہم میں واشنگٹن کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

ٹرمپ کے زیر غور سب سے زیادہ ممکنہ آپشن ایران کے پہاڑی علاقہ میں زیر زمین  فردو نیوکلئیر تنصیبات کے خلاف "بنکر بسٹر" بموں کا استعمال ہوگا۔ جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کی جن نیوکلئیر تنصیبات پر ائیر سٹرائیکس کی تھیں ان میں فردو کی تنصیبات بھی تھیں لیکن یہ اسرائیلی طیاروں کے بموں اور میزائلوں کی پہنچ سے محفوظ رہیں۔  

نیویارک ٹائمز نے وائت ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے متعلق  کہا کہ ٹرمپ امریکی ٹینکر طیاروں کو اسرائیلی جنگی طیاروں کے جنگی آپریشنز کے دوران ان میں ایندھن بھرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ وہ طویل فاصلے تک مشن انجام دے سکیں۔

امریکی حکام نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا - جسے مغربی ممالک کہتے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، حالانکہ ایرانی حکومت اس کی تردید کرتی ہے - ٹرمپ کی ترجیح بنا ہوا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلئیر پروگرام کے متعلق مؤقف مین  گزشتہ دو دن میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے جس کا اظہار ان کے حالیہ بیانات سے ہوا ہے۔ پہلے وہ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے اپنی تجویز کردہ نیوکلئیر ڈیل کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، آج وہ ایران سے مکمل سرنڈر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو ایران نے پبلک سطح پر آج ہی مسترد کر دیا ہے اور آج شب اسرائیل کے شہروں پر زیادہ تیز رفتار میزائلوں سے حملے کئے ہیں جن کے بارے میں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل اس سے پہلے استعمال نہیں کئے تھے، ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان میزائلوں کو روکنا میزائل ڈیفینس سسٹم کے لئے ممکن نہیں۔ اسرائیل کے شہروں(شہریوں) پر حملے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کے بیان کے مطابق  وہ اقدام ہے جو انہیں فیصلہ کن کارروائی کی طرف جانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

 ایران کے پاکستان میں متعین سفیر نے ایک پاکستانی نیوز آؤٹ لیٹ سے نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ جب کہ ایران پر حملے ہو رہے ہیں تو وہ مذاکرات نہیں کر سکتا۔