ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر کتنی مرتبہ کب کب بات کی، تفصیل خود پیش کر دی

 Iran USA Nuclear talks, City42, Trump's presidential campaign, Trump on Iran's nuclear program, Israel Iran War
کیپشن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 16 جون 2025 کو کناناسکس، البرٹا میں G7 سربراہی اجلاس کے دوران ایک گروپ فوٹو سیشن میں شرکت کرتے ہوئے اشارہ کر رہے ہیں۔ آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنی ایران کو نیوکلئیر پروگرام سے روکنے کی کوششوں کی کرونولوجی صحافیوں کو بھیجی گئی ہے لیکن اس کا تناظر ابھی معلوم نہیں ہو سکا۔  کل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے دھانسو بیان میں اچانک تہران کے شہریوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تہران چھوڑ جائیں۔ اس بیان کے بعد چین کے صدر ژی کی طرف سے امریکہ کے دنیا کے ساتھ رویہ پر سخت تنقید سامنے آئی تو صدر ٹرمپ کو اپنے گزشتہ روز کے بیان کو نئے معنی کے ساتھ ایکسپلین کرنا پڑا۔

سٹی42:  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو دوسری مرتبہ سدر بننے کے بعد  15 مرتبہ  نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے منع کیا۔ 

 اسرائیل ایران تنازعہ کے درمیان، آج منگل کے روز واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے صدر کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو  ایک ای میل بھیجی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے منع کرنے کی کرونولوجی درج ہے۔

اس ای میل میں  15 سے زائد موقعوں کا حوالہ دیا گیا ہےجب  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس ای میل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کے الیکشن کے لئے اپنی کیمپین کے دوران 40 سے زائد مرتبہ اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایران کو ایتمی ہتھیار بنانے سے روکیں گے۔

اتفاق سے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی صدارتی مہم کے دوران ریپبلکن  پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلد وِیو یہ تھا کہ وہ صدر بن کر چین پر سب سے زیادہ توجہ دیں گے، ان کی چائنہ سنٹرڈ پالیسی کے برعکس ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر کے عہدہ کے لئے امیدوار خاتون کمیلا ہیریس نے بہت واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ  صدر بننے کے بعد ایران کو امریکہ  کی توجہ کا مرکز سمجھتی ہیں، چین کو نہیں۔

کمیلا ہیرس کو ہرا کر صدر بن جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے متعلق دو رخا رویہ رکھا جو اب تک برقرار ہے، وہ ایک طرف ایران کو نیوکلئیر مذاکرات  کے لئے انگیج کر رہے تھے اور دوسری طرف نیوکلئیر پروگرام بند کرنے کے لئے دھمکی بھی دے رہے تھے، انہوں نے اپنے لئے جو راستہ چنا وہ بہرحال نیوکلئیر مذاکرات کرنے کا تھا جس میں انہیں ایران پر حملے تک سرف اتنی کامیابی ملی کی  تیسرے فریق کی پیغام بری سے ایران کے ساتھ مذاکرات  کا آغاز ہوا اور بہت ابتدائی نوعیت کا فریمورک ڈسکس ہوا۔ جب بھی امریکہ نے یورینیم ان رچمنٹ کو محدود کرنے کی بات کی، ایران کی قیادت نے واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ ایسی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔