ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پوٹن نے  ثالثی کی پیشکش کردی

Iran Israel war, Russian President, PResident Putin, Diplomacy on Iran Israel war

سٹی42:  روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لئے سرگرم ہو گئے۔ پوٹن نے  ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

پیسکوف نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر پوتن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو روس ثالثی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی صدر کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت ہم کم از کم اسرائیل کی طرف سے کسی ثالثی کا سہارا لینے یا تصفیہ کی طرف پرامن راستہ اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ دیکھ رہے ہیں۔


روس کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں لیکن ایران اس کا سٹریٹیجک اتحادی ہمسایہ ہے۔   روس ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کر چکا ہے لیکن وہ اسرائیل کو الگ نہ کرنے کا بھی خواہش مند رہا ہے، جس کے ساتھ اس نے برسوں سے اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

گزشتہ روز ترکی کے صدر اردوان نے صدر پوٹن سے ایران اسرائیل جنگ بند کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا تھا، دونوں کی فون پر بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران اسرائیل تنازعہ کا بات چیت کے ذریعہ حل تلاش کیا جانا چاہئے۔

 امریکہ کے  صدر ٹرمپ نے  صدر پیوٹن سے ٹیلیفون پرگفتگو کی تھی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پربات کی گئی تھی۔

روسی صدارتی دفترکریملن کے حکام کے مطابق دونوں صدور کی گفتگو 50 منٹ تک جاری رہی،گفتگو بہت مفید اور بامعنی تھی۔ صدرپیوٹن نےکہا تھا کہ روس ایران کےخلاف اسرائیلی فوجی آپریشن کی مذمت کرتا ہے۔