سٹی42: ترک اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر ابتدائی حملے میں شامل اسرائیلی طیارے مختصر وقت کے لیے ترک فضائی حدود میں بھی داخل ہوئے لیکن ترکی نے ان طیاروں کو اپنی حدود استعمال کرنے سے روک دیا۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی نشاندہی ہوتے ہی ترک فضائیہ کے ایف 16 طیاروں نے ان طیاروں کو خبردار کیا اور واپس جانے کا کہا گیا جس کے بعد اسرائیلی طیارے فوری طور پر ترک فضائی حدود سے نکل گئے۔
سٹی42: ایران میں اچانک جمعہ کے روزاسرائیل کے حملوں کے بعد سے پھنسے ہوئے 150 پاکستانی شہری خصوصی پرواز میں ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد س کے راستے سے اسلام آباد پہنچ گئے۔
ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے ایران میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں میں سے بیشتر زائرین ہیں جو مقاماتِ مقدسہ کی زیارتوں کے لئے گئے ہوئےتھے کہ اس دوران جنگ شروع ہو گئی۔ ان میں سے 150 پی آئی اے کی خصوصی پرواز میں اسلام اباد پہنچے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پاکستانی وزارتِ خارجہ کی درخواست پر قومی ائیر لائن نے ایک ائیر بس طیارہ فوری طور پر پشاور سے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد بھیجا تھا۔
ایرانی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے زائرین کو ایران سے سڑک کے ذریعے دارالحکومت اشک آباد لایا گیا جہاں پی آئی اے کا طیارہ پہلے سے موجود تھا۔
قومی ائیر کی پرواز پی کے 9552 میں رات گئے 150 سے زائد زائرین اسلام آباد پہنچے۔ پاکستانی سفارتی عملے کے اہل خانہ کو بھی اس پرواز میں اسلام آباد لایا گیا۔
سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے ہتھیار ڈال دینے کے مطالبہ کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے اس کا جواب "جنگ کا آغاز" کرنے کے اعلان سے دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر واضح دھمکی پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’جنگ شروع کر رہا ہوں۔‘‘
خامنہ ای نے ایکس پر اکاؤنٹ سے یہ شعر ایک پینٹنگ کے ساتھ پوسٹ کیا گیا:
بہ نام نامی حیدر، نبرد آغاز میگردد
علی با ذوالفقار خود، بہ خیبر باز میگردد
اس فارسی رجزیہ شعر کا لفظی معنی یہ ہے کہ علی کے بڑے نام سے میں نے لڑنا شروع کیا، علی اپنی (تلوار) ذوالفقار کے ساتھ خیبر واپس آگیا۔
ایران انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹ کے ترجمے کے مطابق، پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ "علی خیبر واپس آ گئے ہیں۔" یہ بیان شیعہ اسلام کے پہلے امام اور ساتویں صدی میں یہودی شہر خیبر پر ان کی فتح کا حوالہ ہے۔
پوسٹ میں ایک شخص کی ایک پینٹنگ شامل ہے جو ہاتھ میں تلوار پکڑے ہوئے ایک قلعہ نما دروازے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے اوپر آسمان پر آگ کی لکیریں ہیں۔
اس شعر میں لفظ خیبر دو معنی رکھتا ہے؛ ایران کی طرف سے اسرائیل کے جمعہ کے حملے کے بعد یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ایران اسرائیل پر خبر میزائل سے حملہ کرے گا۔ اس کا دوسرا معنی اسرائیل کے لئے خیبر کا استعارہ استعمال کرنا ہے، اس استعارےسے یہ پوسٹ لکھنےوالا یہ بتا رہا ہے کہ انجام "خیبر" جیسا ہی ہو گا۔
یہ بیان خامنہ ای کی پہلی عوامی پوسٹ ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ خامنہ ای کے قتل کو "ابھی کے لیے" روک رہا ہے۔
قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایران کی طرف سے ٹرمپ کے انتہائی سخت الٹی میٹم کا ڈپلومیٹک ذرائع سے مثبت جواب نہ آنے کی صورت میں امریکہ کا ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں شامل ہونا ناگزیر ہو جائے گا۔
سٹی42: عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں راتوں رات ہوش اڑا دینے والا اضافہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ مین سٹاک مارکیٹ میں شئیرز کی قیمتیں گر گئیں۔
ایران اسرائیل جنگ کے پانچویں دن اچانک آئل مارکیٹ اور سٹاک مارکیٹ میں سنگین صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا قوی امکان ہے۔ خام تیل کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تحت سٹاک ڈوب رہے ہیں۔
منگل کے روز پٹرولم کی عالمی منڈی میں بینچ مارک یو ایس کروڈ کا ایک بیرل 4.3 فیصد اضافے سے 74.84 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ برینٹ کروڈ، بین الاقوامی معیار کی قیمت، 4.4 فیصد اضافے سے $76.45 فی بیرل ہو گئی ہے۔
خام تیل کی قیمت میں اچانک بے تحاشا اضافہ ایران اسرائیل جنگ کے پانچویں روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےایران سے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" کا مطالبہ کرنے کے بعد ہوا ہے۔
ایران کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی کا درجہ حرارت بڑھنے کے بعد یہ خوف بڑھ گیا ہے کہ ایران اور ایران کے پراکسی حوثی مل کر عرب ممالک سے پٹرولیم مصنوعات کی دنیا کو ترسیل کا سب سے بڑا روٹ آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور ایران کے پراکسی حوثی بحیرہ احمر میں امریکہ کے بحری جہازوں کو نقصان پہنچائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے ملکیتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ بیان دیا تھا کہ "ہم ایران کے رہنما کو" کم از کم فی الحال تو " قتل نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے ایران سے فوری طور پر سرنڈر کر دینے اور اپنے نیوکلئیر پروگرام کو بس بند کر دینے کا مطالبہ کیا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس مطالبے کی بعد ایران کی طرف سے یہ واضح اشارے دیئے گئے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کو روکنے کی طرف جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے منگل کے روز اس قیاس آرائی نے بھی آئل مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو ابھارا کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ مین شریک ہو کر فردو کی نیوکلئیر تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ایران کی یہ زیر زمین نیوکلئیر تنصیبات اسرائیل کے حملوں میں محفوظ رہی ہیں۔ ان تنصیبات کو ایران اپنی ریڈ لائن تصور کر رہا ہے اور پہلے دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے جنگ میں کود کر ان تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔
Caption ایران کی فردو نیوکلئیر تنصیبات پہاڑی علاقہ میں زیر زمین واقع ہیں، انہیں صرف بنکر بسٹر بموں سے نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔Caption خلیج فارج کا انتہائی تنک علاقہ آبنائے ہرمز کہلاتا ہے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات سے تیل لے کے آنے والے جہازوں کو اس تنگ گزر گاہ سے گزر کر بحیرہ عرب، بحر ہند اور باقی دنیا تک جانا ہوتا ہے۔
اس سے پہلے
پیر کے روز صدر ٹرمپ نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کو جلد چھوڑ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ایران کے دارالحکومت سے لوگ فوری طور پر نکل جائیں۔
ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی تجویز سے اپنی پوزیشن کو سخت تر کر کے ایران کو سرندر کا مطالبہ کرنےمیں صرف آٹھ گھنٹے لگے اور اس وقت نے تیل کی عالمی مارکیٹ کو شدید خوف اور اس کے نتیجہ مین قیمتوں مین غیر معمولی اضافہ کی طرف دھکیل دیا۔
ایران اسرائیل جنگ خام تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ ایران تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے، اور یہ تنگ آبنائے ہرمز پر بیٹھا ہے، جہاں سے دنیا کا زیادہ تر خام تیل گزرتا ہے۔ خلیج فارس کے صرف 33 کلومیٹر چوڑے علاقہ آبنائے ہرمز کے ایک طرف ایران کا ساحلی علاقہ ہے۔ اس تنگ سمندری راستے پر سمندری بارودی سنگیں پھینک کر اسے کسی بھی وقت بحری جہازوں کے لئے عملاً ناقابلِ عبور بنایا جا سکتا ہے۔
Caption ایران کی بندرگاہ بندر عباس میں ستارہ خلیج فارس (خلیج فارس کا ستارہ) آئل ریفائنری کا عمومی منظر دکھاتی ہیہ تصویر 30 اپریل 2017 کو ایران کے ایوان صدر نے ریلیز کی۔ ایران اسرائیل جنگ پھیلنے کی صورت میں یہ بندرگاہ بھی حملوں کا نشانہ بن سکتی ہے جس سے ایران کے تیل کی ترسیل کو سخت دھچکا لگ سکتا ہے۔ یہ بھی پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے کا ایک فیکٹر ہے۔ ا(ہینڈ آؤٹ/ایرانی ایوان صدر/اے ایف پی)
خلیج فارس کے اس مخصوص علاقے میں ماضی کے تنازعات نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، حالانکہ ماضی کے تنازعات ایران اسرائیل موجودہ جنگ کی نسبت کہیں کم خطرناک تھے اور انہوں نے آبنائے ہرمز مین بحری ٹریفک مین زیادہ دیر کے لئے خلل نہیں ڈالا تھا۔
امریکی سٹاک مارکیٹ میں بحران کا آغاز
امریکی سٹاک مارکیٹ خام تیل کی قیمت میں ایک اور چھلانگ کے وزن کے نیچے گر گئی۔
صرف ایک دن پہلے اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ میں مذاکرات اور جنگ بندی کی خوش کن قیاس آرائیوں کے زیر اثر نہ صرف خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کچھ کم ہوئی تھی بلکہ مالیاتی منڈیوں میں استحکام کی واپسی کے امکان کے بعد وال سٹریٹ بہتری کی طرف جاتی دکھائی دے رہی تھی۔
آج منگل کے روز نیویارک میں سٹاک مارکیٹ کا ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.8% گرا ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹ میغ شئیرز کی قیمتین گرنے کا سلسلہ اس اشارے کے بعد شروع ہوا کہ اسرائیل اور ایران تنازعہ مزید خراب ہو سکتا ہے اور یہ کہ امریکی معیشت کا ایک اہم انجن کمزور ہو رہا ہے۔ اس سوئنگ نے وال سٹریٹ کو تقریباً اسی جگہ پہنچا دیا جہاں سے اس نے ہفتہ شروع کیا تھا۔
منگل کے روز ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 299 پوائنٹس یا 0.7 فیصد کمی ہوئی اور نیس ڈیک کمپوزٹ 0.9 فیصد گر گیا۔
سٹی42: ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کا ایک اور حملہ کر دیا ہے۔
گزشتہ حملے میں 15 میزائل شامل تھے جنہیں اسرائیل کے ائیر ڈیفینس سسٹم نے انٹرسیپٹ کر لیا تھا۔
اب ایک بار اسرائیل کے شمالی اور وسطی علاقوں میں سائرن بج رہے ہیں اور فضا مین مقامی ائیر ڈیفینس سسٹم سے فائر کئے گئے میزائل ایرانی میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ آج رات ایک گھنٹے سے کم وقت میں ایران کی طرف سے اسرائیل کے شمالی اور وسطی علاقوں پر دوسرا میزائل حملہ ہے۔
IDF کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے منگل کو دیر گئے اطلاع دی کہ ایران سے ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں کی طرف شروع ہونے والے بیراج کے بعد اسرائیلی پناہ گاہیں چھوڑ سکتے ہیں۔
Caption ایران کے میزائلوں کے حملے کی اطلاع پر اسرائیل میں لال نشان والے ان تمام علاقوں کو ریڈ الرٹ کیا گیاْ
سٹی42: منگل کی رات یہ خبر آئی ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فون پر بات کی ہے۔ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کر رہے ہیں۔ یہ رابطہ صدر کی ایران کے حوالے سے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے میٹنگ کے بعد ہواہے۔
دریں اثنا، بنکر میں نیتن یاہو کی محدود سیکورٹی مشاورت بھی ختم ہو گئی ہے۔
اس سے پہلے امریکہ میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ امریکہ کے صدر نے ایران کے ساتھاسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
سٹی42: اسرائیل کے شہر شیرون کے علاقے میں ایران سے فائر کئے گئے ایک میزائل کے گر کر پھٹنے سے نقصان کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے اور یروشلم کے علاقے میں بھی ایرانی میزائل گرنے کی اطلاع ملی ہے۔ دونوں علاقوں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہین ملی۔
اب شہریوں کو بم شیلٹرز سے باہر آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ایم ڈی اے نے بتایا ہے کہ تا حال جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔ اس سے پہلے بتایا جا رہا تھا کہ شمالی اور وسطی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں آنے کی اطلاعات ہیں۔ آج شب سامنے آنے والی اسرائیلی فوج کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے طویل مہم کی حکمت عملی کے طور پر اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کو کم کیا ہے۔ اس سے پہلے آئی ڈی ایف بتاتی رہی ہے کہ ایران کے میزائل لانچر تباہ کئے جانے کے بعد میزائلوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
سٹی42: آج صبح چند لمحے پہلے ایران سے آنے والے دو درجن میزائلوں نے وسطی اور شمالی اسرائیل میں سائرن بجوا دیئے۔ اس وقت اسرائیل کے وسطی اور شمالی علاقوں میں اسرائیل کے میزائل ڈیفینس سسٹم سے ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب تک کسی میزائل کے امپیکٹ کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے دوران وسطی اور شمالی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔
جن علاقوں میں سائرن بج رہے ہیں وہاں کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے اطلاع تک بم پناہ گاہوں میں رہیں۔
سٹی42: ایران سے اسرائیل کی طرف میزائلوں کا نیا حملہ کیا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے پاکستانی وقت کے مطابق صبح 2:30 بجے بتایا ہے کہ ایران سے فائر کی گئی نئی میزائل وولی کا پتہ لگا لیا ہے۔ اس وقت اسرائیل میں رات ساڑھے بارہ بجے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے نئے لانچ کا پتہ لگایا ہے۔
آنے والے منٹوں میں اسرائیل میں سائرن بجنے کی توقع ہے، کیونکہ فضائی دفاع خطرات کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
جن علاقوں میں سائرن کی آواز آتی ہے وہاں کے شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بم پناہ گاہوں میں داخل ہوں اور اگلے اطلاع تک ان میں رہیں۔
،زید پتہ چلا ہے کہ نئے میزائل حملے میں 25 میزائل ہیں۔
سٹی42: وائٹ ہاؤس میں امریکہ کی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ غیر معمولی طور پر سچویشن روم میں ہوئی جو اب ختم ہو چکی ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل اور ایران جنگ پر وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم کی میٹنگ ایک گھنٹہ 20 منٹ کے بعد ختم ہو گئی۔
وائٹ ہاؤس میں سچویشن روم کو اجلاس کے لئے جنگ یا جنگی مشن جیسی صورتحال میں استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی حکام نے کہا کہ ٹرمپ تمام آپشنز سامنےرکھے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ہی امریکی حکام نے اصرار کے ساتھ کہا کہ اب تک اسرائیل کی اس مہم میں واشنگٹن کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
ٹرمپ کے زیر غور سب سے زیادہ ممکنہ آپشن ایران کے پہاڑی علاقہ میں زیر زمین فردو نیوکلئیر تنصیبات کے خلاف "بنکر بسٹر" بموں کا استعمال ہوگا۔ جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کی جن نیوکلئیر تنصیبات پر ائیر سٹرائیکس کی تھیں ان میں فردو کی تنصیبات بھی تھیں لیکن یہ اسرائیلی طیاروں کے بموں اور میزائلوں کی پہنچ سے محفوظ رہیں۔
نیویارک ٹائمز نے وائت ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے متعلق کہا کہ ٹرمپ امریکی ٹینکر طیاروں کو اسرائیلی جنگی طیاروں کے جنگی آپریشنز کے دوران ان میں ایندھن بھرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ وہ طویل فاصلے تک مشن انجام دے سکیں۔
امریکی حکام نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا - جسے مغربی ممالک کہتے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، حالانکہ ایرانی حکومت اس کی تردید کرتی ہے - ٹرمپ کی ترجیح بنا ہوا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلئیر پروگرام کے متعلق مؤقف مین گزشتہ دو دن میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے جس کا اظہار ان کے حالیہ بیانات سے ہوا ہے۔ پہلے وہ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے اپنی تجویز کردہ نیوکلئیر ڈیل کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، آج وہ ایران سے مکمل سرنڈر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو ایران نے پبلک سطح پر آج ہی مسترد کر دیا ہے اور آج شب اسرائیل کے شہروں پر زیادہ تیز رفتار میزائلوں سے حملے کئے ہیں جن کے بارے میں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل اس سے پہلے استعمال نہیں کئے تھے، ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان میزائلوں کو روکنا میزائل ڈیفینس سسٹم کے لئے ممکن نہیں۔ اسرائیل کے شہروں(شہریوں) پر حملے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کے بیان کے مطابق وہ اقدام ہے جو انہیں فیصلہ کن کارروائی کی طرف جانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ایران کے پاکستان میں متعین سفیر نے ایک پاکستانی نیوز آؤٹ لیٹ سے نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ جب کہ ایران پر حملے ہو رہے ہیں تو وہ مذاکرات نہیں کر سکتا۔
سٹی42: چین نے ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر ڈی ایسکلیشن کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ چین امن کی بحالی اور علاقائی استحکام کے لیے "تعمیری کردار ادا کرنے" کے لیے تیار ہے۔
منگل کو چین کے صدر شی جن پنگ نے اسرائیل ایران تنازع میں تحمل سے کام لینے پر زور دیا اور علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے بیجنگ کی تیاری کی تصدیق کی۔
آستانہ میں چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کے ساتھ بات چیت کے دوران ژی جن پنگ کے حوالے سے شنہوا نے کہا کہ "تمام فریقین کو جلد از جلد تنازعے کو کم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ چین امن کی بحالی کے لیے "تعمیری کردار ادا کرنے" کے لیے تیار ہے۔
صدر ژی نے ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو اچانک ایسکلیشن کا محرک قرار دیا اور چین کی طرف سے خودمختاری یا علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کا اعادہ کی۔
صدر ژی نے خبردار کیا کہ مسلح تصادم علاقائی اور عالمی مفادات دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
آج ہی چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے اطلاع دی کہ وزارت خارجہ نے ایران اور اسرائیل سے چینی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے، کچھ افراد اپنے طور پر پڑوسی ممالک میں منتقل ہو گئے ہیں۔
تہران اور تل ابیب کے درمیان حملوں کا سلسلہ آج پانچوین روز بھی جاری ہے۔
ایران کی سرکاری نیوز آؤٹ لیت شفق نیوز نے بتایا کہ تازہ ترین واقعات میں آج ایران کی جانب سے زیادہ تباہی والے ڈرون اور میزائل بیراج کے ساتھ اسرائیل پر حملے ہوئے ہیں۔ جب کہ اسرائیل نے مغربی ایران میں "فوجی مقامات" پر حملے کئے۔
اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 224 ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں، جب کہ ایران کے میزائل حملوں میں 24 افراد ہلاک اور سیکڑوں اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں، یہ بھی عام شہری ہیں اور ان مین آدھی تعداد عورتوں کی ہے۔
ایران میں آج کئی اہم ڈیویلپمنٹ سامنے ٓٓ آئی ہیں جن میں سے ایک تہران سمیت ایران بھر میں انٹرنیٹ کی سروس کو انتہائی محدود کر دیا جانا ہے۔
پاکستانی میدیا نے ایرانی میڈیا کی وساطت سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے شرانگیزی کے خدشے کے بعد ایران میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں 80 فیصد تک کمی کردی گئی۔
ایرانی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کارروائیوں کے خدشے پر انٹرنیٹ رفتارکم کی گئی ہے جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ آج رات انٹرنیٹ بند کرکے حکومتی نظام کو متحرک کیا جائےگا۔
ایران میں اس وقت موبائل ڈیٹا نیٹ ورکس میں خلل درپیش ہے، غیرملکی ایپ اورویب سائٹس تک رسائی محدود ہے، ایران میں وی پی این سروسز بھی بلاک کردی گئی ہیں، شہری ہوم وائی فائی پر انحصار کررہے ہیں۔
آج تہران سے آنے والی خبروں میں سے ایک اہم خبر یہ ہے کہ سپریم لیڈر خامنہ ای نے جنگ سے متعلق اختیارات اپنی خاص فورس پاسداران کی "شوریٰ" کو دے دیئے ہیں۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ خامنہ ای خود کو روپوش کرنے والے ہیں کوینکہ گزشتہ تین دنوں کے دوران پہلے اسرائیل اور آج امریکہ کے صدر نے بھی ان کی اسیسی نیشن کی باتیں کی ہیں۔
آج شب ، چیف آف جنرل سٹاف کا حیفہ اور تل ابیب کے شہریوں کو علاقہ چھوڑ جانے کی وارننگ دے کر اس کے دوراً بعد دو میزائل فائر کئے ہیں۔
ویب ڈیسک : ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے اسرائیل کے خلاف عنقریب بڑی کارروائی کا اعلان کردیا۔
اپنے ویڈیو پیغام میں ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف کا کہناتھاکہ اب تک جو کارروائی کی گئی وہ ایک انتباہی عمل تھا، اصل کارروائی عنقریب ہوگی۔انہوں نے اسرائیلیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی جان بچاتے ہوئے فوراً حیفا اور تل ابیب چھوڑ دیں۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ دنیاکو بھی یقین رکھنا چاہیے کہ ایرانی قوم، مسلح افواج کی قیادت میں شہدا کے خون کا بدلہ لے گی، ایران قوم نے کسی بھی جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف کا کہناتھاکہ ایران اسرائیلی حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دے کر چھوڑے گا۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے خلاف ایران کے جوابی حملے آج شام سے ہی جاری ہیں۔
عوامی جمہوریہ چین نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تہران کے شہریوں کو شہر خالی کر دینے کے حکم پر سخت تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ امریکی صدر ایران اسرائیل کشیدگی میں جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں۔ آج بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ایک غیر معمولی بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اسرائیل کشیدگی میں جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں، وہ اس تنازعہ کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین ایران اور اسرائیل میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل میں سفارتی عملہ متعلقہ محکموں سے رابطے میں ہے، ایران اوراسرائیل سے چینی باشدوں کے انخلا پرتیزی سےکام ہورہاہے۔
سٹی42: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو دوسری مرتبہ سدر بننے کے بعد 15 مرتبہ نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے منع کیا۔
اسرائیل ایران تنازعہ کے درمیان، آج منگل کے روز واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے صدر کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ایک ای میل بھیجی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے منع کرنے کی کرونولوجی درج ہے۔
اس ای میل میں 15 سے زائد موقعوں کا حوالہ دیا گیا ہےجب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس ای میل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کے الیکشن کے لئے اپنی کیمپین کے دوران 40 سے زائد مرتبہ اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایران کو ایتمی ہتھیار بنانے سے روکیں گے۔
اتفاق سے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی صدارتی مہم کے دوران ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلد وِیو یہ تھا کہ وہ صدر بن کر چین پر سب سے زیادہ توجہ دیں گے، ان کی چائنہ سنٹرڈ پالیسی کے برعکس ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر کے عہدہ کے لئے امیدوار خاتون کمیلا ہیریس نے بہت واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد ایران کو امریکہ کی توجہ کا مرکز سمجھتی ہیں، چین کو نہیں۔
کمیلا ہیرس کو ہرا کر صدر بن جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے متعلق دو رخا رویہ رکھا جو اب تک برقرار ہے، وہ ایک طرف ایران کو نیوکلئیر مذاکرات کے لئے انگیج کر رہے تھے اور دوسری طرف نیوکلئیر پروگرام بند کرنے کے لئے دھمکی بھی دے رہے تھے، انہوں نے اپنے لئے جو راستہ چنا وہ بہرحال نیوکلئیر مذاکرات کرنے کا تھا جس میں انہیں ایران پر حملے تک سرف اتنی کامیابی ملی کی تیسرے فریق کی پیغام بری سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا اور بہت ابتدائی نوعیت کا فریمورک ڈسکس ہوا۔ جب بھی امریکہ نے یورینیم ان رچمنٹ کو محدود کرنے کی بات کی، ایران کی قیادت نے واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ ایسی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔
سٹی42: روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لئے سرگرم ہو گئے۔ پوٹن نے ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
پیسکوف نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر پوتن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو روس ثالثی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدر کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت ہم کم از کم اسرائیل کی طرف سے کسی ثالثی کا سہارا لینے یا تصفیہ کی طرف پرامن راستہ اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ دیکھ رہے ہیں۔
روس کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں لیکن ایران اس کا سٹریٹیجک اتحادی ہمسایہ ہے۔ روس ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کر چکا ہے لیکن وہ اسرائیل کو الگ نہ کرنے کا بھی خواہش مند رہا ہے، جس کے ساتھ اس نے برسوں سے اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
گزشتہ روز ترکی کے صدر اردوان نے صدر پوٹن سے ایران اسرائیل جنگ بند کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا تھا، دونوں کی فون پر بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران اسرائیل تنازعہ کا بات چیت کے ذریعہ حل تلاش کیا جانا چاہئے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے صدر پیوٹن سے ٹیلیفون پرگفتگو کی تھی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پربات کی گئی تھی۔
روسی صدارتی دفترکریملن کے حکام کے مطابق دونوں صدور کی گفتگو 50 منٹ تک جاری رہی،گفتگو بہت مفید اور بامعنی تھی۔ صدرپیوٹن نےکہا تھا کہ روس ایران کےخلاف اسرائیلی فوجی آپریشن کی مذمت کرتا ہے۔
16 جون 2025 کو رامات گان کے بیالیک لائٹ ریل اسٹیشن میں ایرانی میزائل حملوں سے پناہ حاصل کرنے والے رہائشی۔ (ارییلا کرمل)
سٹی42: ایران کے اسرائیل پر آج منگل کی شام میزائلوں کے حملے میں بیشتر میزائل راستے میں انٹرسیپٹ ہو گئے۔ فوج نے شہریوں کو پناہ گاہوں سے باہر آنے کی اجازت دے دی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیل کی جانب سے ایران سے داغے گئے زیادہ تر بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاع نے روک دیا تھا۔
IDF کے جائزوں کے مطابق،آج منگل کی شام آنے والے بیلسٹک میزائلوں کے بیرج میں 10 سے کم میزائل داغے گئے۔
ہوم فرنٹ کمانڈ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں حملہ ختم ہونے کے سائرن بج رہے ہیں، وہاں کے شہری پناہ گاہوں سے نکل سکتے ہیں۔
سٹی42: اسرائیل میں ایران کے تین راتوں کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے ایرانی میزائلوں کی روانگی سے پہلے الرٹ دینا بند کر دیا۔آج سے IDF ہوم فرنٹ کمانڈ شیلٹرز کے قریب رہنے کے لیے پری لانچ الرٹس جاری نہیں کرے گی۔ اسرائیلی فوج کے ہوم سکیورٹی مینویل میں یہ تبدیلی بظاہر محض تشویش کا درجہ کم کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ اب اسرائیل کی فوج ایران کے میزائل لانچ ہونے کے بعد ان کے ممکنہ طور پر اسرائیل پہنچنے سے پہلے اس وقت ہی الرٹ جاری کرے گی جس سے شہریوں کو محفوظ جگہوں پر پہنچنے کے لئے تقریباً دس منٹ کا وقت مل جائے۔
آئی ڈی ایف ہوم فرنٹ کمانڈ کا کہنا ہے کہ اب صرف ان علاقوں میں عام شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کے لئے کہا جائے گا جو ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے خطرے سے دوچار ہوں گے۔
اب تک کے طریقہ کار کے مطابق جونہی آئی ڈی ایف کو ایران میں میزائل لانچ کئے جانے کی تیاری کا علم ہوتا ہے وہ شہریوں کو "تیار رہو" الرٹ فون پر بھیجتی ہے۔ اس کے بعد جب میزائل لانچ ہوتے ہیں تو دوسرا فون الرٹ بھیجتی ہے۔ اس دوسرے الرٹ کے بعد تقریباً نوے سیکنڈ بعد ممکنہ ٹارغت علاقوں اور ان میزائلوں کی متوقع گزرگاہوں کے نیچے رہنے والی آبادیوں کے لوگوں کے لئے وارننگ سائرن بجائے جاتے ہیں۔ان سائرن کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ اب بموں کی پناہ گاہوں کی طرف چلے جائیں۔ پہلے الرٹ کا مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ میزائل لانچ ہونے والے ہیں اگر دور ہیں تو پناہ گاہوں کے نزدیک چلے جائیں، اگر نزدیک ہیں تو تیار رہیں۔
یہ انتباہات آئی ڈی ایف کی جانب سے ایران کی جانب سے میزائل داغنے کی تیاریوں کی نشاندہی کے بعد، میزائل لانچ ہونے سے 15-30 منٹ پہلے جاری کیے جا رہے تھے۔
ہوم فرنٹ کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اب بھی سائرن بجنے سے 10 منٹ قبل قبل از وقت وارننگ فراہم کرنا ہے، کیونکہ ایران سے میزائل داغے جانے کا پتہ چلا ہے۔
سائرن بجنے کے بعد، شہریوں کے لئے لازمی ہو جاتا ہے وہ بم سے بچانے والی پناہ گاہوں میں داخل ہوں اور اگلے اطلاع تک وہیں رہیں۔
یہ پناہ گاہین عام گھروں کے ساتھ یا گھروں کے اندر بھی ہو سکتی ہیں اور آبادی میں سب کے لئے بڑے سائز کی پناہ گاہیں بھی ہو سکتی ہیں۔
حملے کے الرٹ کے اس نطام نے حالیہ جنگ اور اس سے پہلے اٹھارہ ماہ سے جاری راکٹوں کے کئی اطراف سے ہونے والے حملوں میں عام شہریوں کا جانی نقصان کم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
سٹی42: ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد وسطی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے داغے جانے کے بعد وسطی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔
جن علاقوں میں سائرن بج رہے ہیں وہاں کے شہریوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ بم پناہ گاہوں میں داخل ہوں اور اگلے اطلاع تک ان میں رہیں۔
ایران اسرائیل جنگ کے دوران آج شام پہلی مرتبہ ایران سے سر شام ہی اسرائیل پر میزائل حملے کی ابتدا کی گئی ہے۔
سٹی42: اٹلی کی بحریہ کا شاندار جنگی جہاز انتونیو مارسیلیا پاکستان نیوی کی دعوت پر کراچی پہنچ گیا۔
اٹالین نیوی کے جنگی بحری جہاز آئی ٹی ایس انتونیو مارسیلیاکی کراچی بندرگاہ آمد کے موقع پر پاکستان نیوی نے جہاز کا شایانِ شان استقبال کرنے کے لئے خاص اہتمام کیا۔ پاک بحریہ کے سینئیر افسروں اور اسلام آباد میں اٹلی کے ایمبیسیڈر نے کراچی پورٹ پر آئی ٹی ایس انتونیو مرسیلیا کے کیپٹن اور عملے کا پرتپاک استقبال کیا۔
اطالوی بحریہ کاجہاز تین روزہ خیر سگالی دورےپرکراچی پہنچا ہے، دورے کا مقصد دو طرفہ بحری تعاون کا فروغ اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے ۔
دورے کے دوران دونوں بحری افواج کے اہلکاروں کے مابین پیشہ ورانہ ملاقاتیں اور مشترکہ مشقیں منعقد کی جائیں گی۔
اٹالین بحریہ کے جہازوں کی باقاعدگی سے پاکستان آمد باالعموم پاکستان اور اٹلی کے دو طرفہ تعلقات اور بالخصوص دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے بحری تعاون کی مظہر ہے۔
پاکستان نیوی اہم بین الاقوامی نیویز سے دیر پا بحری تعاون کے فروغ کےلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے۔
سٹی42: پاکستان میں تہران میں اپنے سفارتی عملہ کی حفاظت کے لئے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اس تشویش کو لے کر یہ غور کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگی کارروائیاں زیادہ برھ گئیں تو پاکستان اپنے سفارتی عملہ کی حفاظت کے لئے کیا کرے گا۔
پاکستان کے تہران، مشہد اور زاہدان میں ایک سو سے زیادہ سفارتی اہلکار اور ان کے ساتھ ان سب کے قریبی فیملی ارکان موجود ہیں۔
اسلام آباد میں باخبر ذرائع نے بتایا کہ اس وقت وفاقی حکومت اہم ترین سطح پر کئی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان میں سے ایک تہران مین سفارتی عملہ کی تعداد کم سے کم کرنے کا آپشن ہے۔ سفارتی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ مطابق ایران اسرائیل جنگ پھیلنے کی صورت میں وہاں پاکستانی سفارتی عملے کا رہنا غیر محفوظ اور مشکل ہو جائے گا۔ ایک رائے یہ آ رہی ہے کہ ایران میں موجود بیشتر پاکستانی سفارت کاروں کو کچھ دن کے لئے اسلام آباد بلا لیا جائے اور سفارتخٓنہ انتہائی کم عملہ کے ساتھ کام کرے۔
پہلے سفارت خانہ اور قونصلیٹس کے اہلکاروں کی فیملیز واپس آئیں گی
سفارتی عملہ کی فیملیز کے ارکان کو پہلے مرحلہ میں پاکستان واپس لانے کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق صورتحال زیادہ خراب ہونے پر پاکستانی سفارتی عملے کو واپس بلایا جا سکتا ہے۔
ایرانی دارلحکومت تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے 70 کے قریب سفارتی اہلکار اپنی فیملیز کے ہمراہ موجود ہیں۔
مشہد اور زاہدان کے قونصل خانوں میں 25 کے قریب پاکستانی سفارتی اہلکار موجود ہیں, ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو پہلے ہی ضروری مشاورت کے لئے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
مدثر ٹیپو کو خطے کی صورتحال, ایران اسرائیل کشیدگی پرمشاورت کے لیے اسلام آباد طلب کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے بانی نے اپنی رہائی کے لئے نئی احتجاجی تحریک چلانے کا پلان ملتوی کر دیا۔ بانی نے عالمی حالات کے باعث اپنی رہائی کی تحریک چلانے کا فیصلہ ملتوی کیاہے۔
یہ بات پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی اور عظمیٰ خان نے اپنے بھائی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں آج ملاقات کے بعد خود بتائی۔
نورین نیازی اور عظمیٰ خان نے آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔
جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں نورین نیازی نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے "احتجاجی تحریک" عالمی حالات کی وجہ سے مؤخر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو عالمی حالات کے بارے معلومات ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت متحد ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں بانی کی بہن عظمیٰ خان نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ عمران خان کا اسرائیل کے بارےمیں کیا مؤقف ہے، یہ ساری دنیا جانتی ہے۔
امریکہ، ایندھن بھرنے والے طیاروں کو منتقل کر کے ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو تقویت دے رہا ہے۔ ڈھائی درجن ری فیولنگ ہوائی جہاز مشرق میں نئی منزلوں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور ساٹھ لڑاکا طیاروں کے ساتھ چلنے والا جنگی شپ ایران مشرق وسطیٰ منتقل کیا گیا ہے۔
پرواز وں کی سرگرمی سے باخبر رہنے والی ویب سائٹ AirNav سسٹمز نے کہا کہ امریکی فضائیہ کے 31 سے زیادہ ایندھن بھرنے والے طیارے - بنیادی طور پر KC-135s اور KC-46s - اتوار کو مشرق کی طرف امریکہ سے روانہ ہوئے۔
امریکی فوج ایران اسرائیل تنازعہ کے درمیان ایران کے قریبی علاقوں میں اپنی فضائی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے بہت سے نئے انتظامات کر رہی ہے۔ کل یورپ میں ایک اہم ڈپلائمنٹ کی گئی اور درجنوں ری فیولینگ طیارے یورپ کے مختلف ائیر بیسز پر پہنچا دیئے گئے۔ پرواز کے دوران فائٹر طیاروں کو ری فیول کرنے والے ہوائی جہازوں کو لے کر طیارہ بردار بحری جہاز نیمٹز بھی اب اسرائیل کے قریب ترین پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے فوجی حکام نے یہ بھی کہا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز نمٹز مشرق وسطیٰ کی طرف جا رہا تھا، جس میں ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تعیناتی تھی۔ نمٹز میں 5000 اہلکار کام کرتے ہیں اور یہ شپ 60 سے زیادہ طیارے بشمول لڑاکا طیاروں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ بیک وقت بہت بڑی ڈپلائمنٹ جس کی اطلاع سب سے پہلے نیوز ایجنسی روئٹرز نے دی تھی، یہ بتاتی ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر پائیدار کارروائیوں کے لیے اپنی فضائی طاقت کو ایران کے قریب تر منتقل کر رہا ہے کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان غیر معمولی کھلی جنگ ہو رہی ہے۔ اسرائیل نے جمعہ کے روز ایران پر بمباری شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے، ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے ہیں، ایک دوسرے کے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے اور ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کو دیر گئے X پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے، لیکن اس کی تفصیلات پیش نہیں کیں۔ ہیگستھ نے X پر ایک پوسٹ میں کہا، "امریکی افواج کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ان تعیناتیوں کا مقصد خطے میں ہماری دفاعی پوزیشن کو بڑھانا ہے۔" پرواز سے باخبر رہنے والی ویب سائٹ AirNav سسٹمز نے کہا کہ امریکی فضائیہ کے 31 سے زیادہ ایندھن بھرنے والے طیارے - بنیادی طور پر KC-135s اور KC-46s - اتوار کو مشرق کی طرف امریکہ سے روانہ ہوئے۔ امریکی حکام نے طیاروں کی تعداد پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ پینٹاگون نےسوال کرنے والے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کا حوالہ دیا، جس نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ دیامی سیکیورٹی انٹیلی جنس میں ایرک شوٹن نے کہا، "امریکی فضائیہ کے دو درجن سے زیادہ ٹینکروں کی اچانک مشرق کی طرف تعیناتی معمول کے مطابق نہیں ہے۔ یہ تزویراتی تیاری کا واضح اشارہ ہے۔" "چاہے یہ اسرائیل کی حمایت کے بارے میں ہو، طویل فاصلے تک کارروائیوں کی تیاری ہو، لاجسٹکس کلیدی حیثیت رکھتا ہے، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تناؤ بڑھتا ہے تو امریکہ تیزی سے بڑھنے کے لیے خود کو پوزیشن میں لے رہا ہے۔"
AirNav سسٹمز نے کہا کہ امریکی فوجی پروازیں یورپ میں اتری ہیں، ان طیاروں کی ابتدائی منزل جرمنی میں رامسٹین ایئر بیس اور برطانیہ، ایسٹونیا اور یونان کے ہوائی اڈے ہیں۔ امریکہ اب تک محتاط رہا ہے، اسرائیل کو آنے والے میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ دو امریکی حکام نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو "ویٹو کر دیا" تھا۔ ان عہدیداروں نے کہا کہ جب تک امریکیوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، امریکہ ایران کی سیاسی قیادت کے پیچھے جانے کی حمایت نہیں کرےگا۔ ٹرمپ نے اسرائیل کے جارحانہ اقدام کی تعریف کی ہے اور تہران کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکی ہدف کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ ایک اور امریکی اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی تھیں۔
اس معاملے سے واقف ایک اور ذریعے نے کہا کہ امریکہ نے علاقہ کے ممالک کو بتایا ہے کہ وہ دفاعی تیاری کر رہا ہے اور اگر ایران نے امریکی تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ جارحانہ کارروائیوں کی طرف جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی آج دستیاب جنگی طاقت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پاس پہلے سے ہی ایک قابل قدر قوت موجود ہے، اس خطے میں تقریباً 40,000 فوجی موجود ہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، لڑاکا طیارے اور جنگی جہاز شامل ہیں جو میزائلوں کو گرانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ پچھلے مہینے، پینٹاگون نے B-2 بمبار طیاروں کو انڈو پیسیفک کے ایک اڈے پر ایک اور قسم کے بمبار سے تبدیل کیا جسے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے کے لیے ایک مثالی مقام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ B-52 بمبار بڑے بنکروں کو تباہ کرنے والے گولہ بارود لے جا سکتے ہیں، جسے ماہرین کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کسی حتمی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی فضائیہ کے 30 طیاروں کی بیک وقت پرواز کی پس پردہ کہانی یہ پس پردہ کہانی اتنہائی سادہ ہے، امریکہ دیر سے ہی سہی لیکن اپنی فورسز کو مڈل ایسٹ اور خلیج فارس کے وار تھیٹر کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ جن طیاروں کے کل امریکہ سے بیک وقت پرواز کر کے یورپ کی مختلف منازل کی طرف جانے کی کچی خبر نے ہلچل مچائی وہ فائٹر طیاروں کی مشن کے دوران فضا مین ہی ری فیولنگ کرنے والے بڑے طیارے ہیں جنہیں ٹینکر طیارے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اہم جنگی مشنز پر بھیجے گئے ایڈوانسڈ لیول کے فائٹر طیاروں کے ساتھ یا پیچھے موجود رہتے ہیں۔ کل ایک فلائٹ ریڈار ن ویب سائٹ ےے امریکی فضائیہ کے تقریباً 30 طیاروں کے ایک بڑے سکواڈرن کی "تصویر" ریلیز کی تھی جو یورپ کے مختلف ائیر بیسز پر اتارے گئے۔
فلائٹ ریڈار کے مطابق امریکی فضائیہ کے تقریباً 30 طیارے، جن میں سے زیادہ تر KC-46A Pegasus اور KC-135 Stratotankers طیارے تھے، وہ رات گئے روانہ ہوئے اور یورپ پہنچ کر الگ الگ ہوگئے۔
فلائٹ ریڈارکی ٹریکنگ کے بعد 2 طیارے شمالی اٹلی میں ایویانو ائیر فورس کے اڈے پر لینڈ کرتے دیکھے گئے جبکہ 2 طیاروں نے سیویل کے جنوب مشرق میں اسپین کے قصبے ڈی لا فرونٹیرا کے مورون ایئربیس پر لینڈ کیا۔
2 طیاروں نے جرمنی کے قصبے Kaiserslautern میں لینڈ کیا۔ ایک طیارہ یونان کے چینہ ائیر بیس پر اترا جبکہ ایک نے جرمنی کے رامسٹین ائیر بیس پر لینڈنگ کی۔
اب امریکہ کے عہدیداروں کی نیوز ایجنسی سے گفتگو سے یہ واضح ہوا ہے کہ یہ طیارے خلیج فارس کے نزدیک کے علاقوں تک منتقل کئے جائیں گے۔