ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پٹرولیم کی قیمتوں میں راتوں رات ہوش اڑا دینے والا اضافہ

Petroleum prices surge, City42,Strait of Hormuz, Iran Israel war, President Trump, Truth Social, Wall Street, Nasdaq Composite, The Dow Jones
کیپشن: ایران اسرائیل جنگ منگل کے روز اس نہج پر پہنچ گئی جہاں آبنائے ہرمز سے دنیا کو تیل کی ترسیل رک جانے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا۔

سٹی42:  عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں راتوں رات ہوش اڑا دینے والا اضافہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ مین سٹاک مارکیٹ میں شئیرز کی قیمتیں گر گئیں۔

 ایران اسرائیل جنگ کے پانچویں دن اچانک آئل مارکیٹ اور سٹاک مارکیٹ میں سنگین صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا قوی امکان ہے۔
خام تیل کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تحت سٹاک ڈوب رہے ہیں۔

منگل کے روز پٹرولم کی عالمی منڈی میں بینچ مارک یو ایس کروڈ کا ایک بیرل 4.3 فیصد اضافے سے 74.84 ڈالر  فی بیرل پر پہنچ گیا۔ برینٹ کروڈ، بین الاقوامی معیار کی قیمت، 4.4 فیصد اضافے سے $76.45 فی بیرل  ہو گئی ہے۔

خام تیل کی قیمت میں اچانک بے تحاشا اضافہ ایران اسرائیل جنگ کے پانچویں روز  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےایران سے  "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" کا مطالبہ کرنے کے بعد ہوا ہے۔

 ایران کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی کا درجہ حرارت بڑھنے کے بعد یہ خوف بڑھ گیا ہے کہ ایران اور ایران کے پراکسی حوثی مل کر  عرب ممالک سے  پٹرولیم مصنوعات کی دنیا کو ترسیل کا سب سے بڑا روٹ آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور ایران کے پراکسی حوثی بحیرہ احمر میں امریکہ کے بحری جہازوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے ملکیتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل پر یہ بیان دیا تھا کہ "ہم ایران کے رہنما کو" کم از کم فی الحال تو " قتل نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے ایران سے فوری طور پر  سرنڈر کر دینے اور اپنے نیوکلئیر پروگرام کو بس بند کر دینے کا مطالبہ کیا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس مطالبے کی بعد ایران کی طرف سے یہ واضح اشارے دیئے گئے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کو روکنے کی طرف جائے گا۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے منگل کے روز اس قیاس آرائی نے بھی آئل مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو ابھارا کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ مین شریک ہو کر فردو کی نیوکلئیر تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ایران کی یہ زیر زمین نیوکلئیر تنصیبات اسرائیل کے حملوں میں محفوظ رہی ہیں۔ ان تنصیبات کو ایران اپنی ریڈ لائن تصور کر رہا ہے اور پہلے دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے جنگ میں کود کر ان تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔

Caption ایران کی فردو نیوکلئیر تنصیبات  پہاڑی علاقہ میں زیر زمین واقع ہیں، انہیں صرف بنکر بسٹر بموں سے نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
Caption خلیج فارج کا انتہائی تنک علاقہ آبنائے ہرمز کہلاتا ہے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات سے تیل لے کے آنے والے جہازوں کو اس تنگ گزر گاہ سے گزر کر بحیرہ عرب، بحر ہند اور باقی دنیا تک جانا ہوتا ہے۔

اس سے پہلے

پیر کے روز صدر  ٹرمپ نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کو جلد چھوڑ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ایران کے دارالحکومت سے لوگ فوری طور پر  نکل جائیں۔

ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی تجویز سے  اپنی پوزیشن کو سخت تر کر  کے ایران کو سرندر کا مطالبہ کرنےمیں صرف آٹھ گھنٹے لگے  اور اس وقت نے تیل کی عالمی مارکیٹ کو شدید خوف اور اس کے نتیجہ مین قیمتوں مین غیر معمولی اضافہ کی طرف دھکیل دیا۔

 ایران اسرائیل جنگ خام تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ ایران تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے، اور یہ تنگ آبنائے ہرمز پر بیٹھا ہے، جہاں سے دنیا کا زیادہ تر خام تیل گزرتا ہے۔ خلیج فارس کے صرف  33 کلومیٹر چوڑے علاقہ آبنائے ہرمز کے ایک طرف ایران کا ساحلی علاقہ ہے۔ اس تنگ سمندری راستے پر سمندری بارودی سنگیں پھینک کر اسے کسی بھی وقت بحری جہازوں کے لئے عملاً ناقابلِ عبور بنایا جا سکتا ہے۔ 

Caption ایران کی  بندرگاہ  بندر عباس میں ستارہ خلیج فارس (خلیج فارس کا ستارہ) آئل ریفائنری کا عمومی منظر دکھاتی ہیہ تصویر 30 اپریل 2017 کو   ایران کے ایوان صدر نے ریلیز کی۔ ایران اسرائیل جنگ پھیلنے کی صورت میں یہ بندرگاہ بھی حملوں کا نشانہ بن سکتی ہے جس سے ایران کے تیل کی ترسیل کو سخت دھچکا لگ سکتا ہے۔ یہ بھی پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے کا ایک فیکٹر ہے۔ ا(ہینڈ آؤٹ/ایرانی ایوان صدر/اے ایف پی)

خلیج فارس کے اس مخصوص علاقے میں ماضی کے تنازعات نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ  اضافہ کیا ہے، حالانکہ ماضی کے تنازعات ایران اسرائیل موجودہ جنگ کی نسبت کہیں کم خطرناک تھے اور انہوں نے آبنائے ہرمز مین بحری ٹریفک مین زیادہ دیر کے لئے خلل نہیں ڈالا تھا۔

امریکی سٹاک مارکیٹ میں بحران کا آغاز

امریکی سٹاک مارکیٹ خام تیل کی قیمت میں ایک اور چھلانگ کے وزن کے نیچے گر گئی۔ 

صرف ایک دن پہلے اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ میں مذاکرات اور جنگ  بندی کی خوش کن قیاس آرائیوں کے زیر اثر نہ صرف خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کچھ کم ہوئی تھی بلکہ  مالیاتی منڈیوں میں استحکام کی واپسی کے امکان کے  بعد وال سٹریٹ بہتری کی طرف جاتی دکھائی دے رہی تھی۔

آج منگل کے روز نیویارک میں سٹاک مارکیٹ کا ایس اینڈ پی 500 انڈیکس  0.8% گرا ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹ میغ شئیرز کی قیمتین گرنے کا سلسلہ اس  اشارے کے بعد شروع ہوا کہ اسرائیل اور ایران تنازعہ مزید خراب ہو سکتا ہے اور یہ کہ امریکی معیشت کا ایک اہم انجن کمزور ہو رہا ہے۔ اس سوئنگ نے وال سٹریٹ کو تقریباً اسی جگہ پہنچا دیا جہاں سے اس نے ہفتہ شروع کیا تھا۔

منگل کے روز ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 299 پوائنٹس یا 0.7 فیصد کمی ہوئی اور نیس ڈیک کمپوزٹ 0.9 فیصد گر گیا۔