ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی تنصیبات پر ایرانی حملے؛ ٹرمپ کہاں ہیں

Donald Trump, City42

سٹی42:  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہم لوگ اس وقت وائٹ ہاؤس کے سچؤیشن روم میں بیٹھے ایران کے قطر، عراق اور بعض دوسرے ملکوں میں امریکی تنصیبات پر حملوں سے پیدا ہو جانے والی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 

اب تک سچؤیشن روم سے کوئی اطلاع باہر نہیں آئی۔ صحافی منتظر ہیں لیکن کوئی اشارہ تک نہیں دیا جا رہا کہ ٹرمپ ان حملوں کے بعد کیا کرنےوالے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کی تین نیوکلئیر تنصیبات پر حملے ختم کرنے کے بعد ان حملوں کا خود اعلان کیا تھا اور اس اعلان کے ساتھ انہوں نے ایران سے کہا تھا کہ "اب امن کی طرف آؤ"، تب سے  آج شام تک ترمپ اور ان ےک ساتھ بار بار یہ دہرا چکے ہین کہ ایران نے امریکہ کی تنصیبات پر حملہ کیا تو اس کا جواب بہت زیادہ سخت حملوں سے دیا جائے گا۔

ایران کی قیادت ان تنبیہات کو کسی خاطر میں نہین لائی اور قطر کی  سرزمین پر بنے امریکہ کے بیس اعدید پر میزائل فائر کر دیا، اس میزائل کو امریکہ کی بجائے قطر کے ائیر ڈیفینس سسٹم نے انٹرسیپٹ کیا  اور قطر نے اس پر ایران کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا، اپن یسرزمین اور خود مختاری کی وائلیشن پر قطر جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

دیگر اطلاعات میں بتایا  گیا کہ عراق میں بھی امریکہ کی ایک بیس پر میزائل چلایا گیا جس کا انجام اب تک سامنے نہیں آیا۔

ایک اور اطلاع میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں امریکہ کی بیس پر ایرانی حملے کے لئے تیار رہنے کے سائرن بجائے گئے۔

تازہ ترین

امریکی صدر اس وقت بھی وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ہیں۔ ابتدائی طور پر، ان کی قومی سلامتی کی بریفنگ اوول آفس کے لیے طے کی گئی تھی، لیکن امریکی اڈوں پر خاص طور پر قطر میں حملوں سے متعلق  بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے اسے منتقل کر دیا گیا۔

اب ہم جانتے ہیں کہ صدر ایرانی حملوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ کو پہلے سے ہی اس بات کا علم تھا کہ ایران کی طرف سے حملے ہوں گے۔ نتیجے کے طور پر، یہ اس قابل ہو گیا - جیسا کہ قطری وزارت خارجہ نے کیا - العدید میں شہریوں اور اہلکاروں کو الرٹ کرنے کے لیے، پروازوں کا رخ موڑنے اور ہلاکتوں کو کم کرنے کی اجازت دی۔

وائٹ ہاؤس سے موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایئر بیس پر ایرانی حملے کا استعمال میزائلوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکی حملے کے جواب میں "برابری" رکھنے کے لئے کیا گیا۔

تاہم، امریکی صدر نے ایران کو یہ اقدام کرنے سے خبردار کیا تھا - اور اب ایسا ہوا ہے۔

لہذا، ہم اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کیا اقدامات کر سکتی ہے۔