ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

"امریکی حملے عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھے"

NATO on Operation Midnight Hammer, USA NATO relations, City42
کیپشن: نیٹو چیف مارک روٹے کی یہ تصویر سوشل میڈیا سے لی گئی

سٹی42:  نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بالکل نہیں بنانے چاہئیں، امریکی حملے عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھے۔ 

نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں پریس بریفنگ کے دوران نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ اتحادی ممالک نے بارہا ایران پر جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریاں نبھانے پر زور دیا۔ 

 نیٹو کے سیکریٹری جنرل  نے کہا کہ ایران پر امریکا کے حملے عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھے۔

مارک روٹے کنے سوالات کے جواب میں کہا، نیٹو کو براہ راست اور سب سے اہم خطرہ روس سے ہے، یوکرین کے لیے ہماری حمایت مستقل اور غیرمتزلزل ہے۔ 

 انھوں نے کہا کہ اس سال یوکرین کو 35 ارب یورو سے زائد کی فوجی امداد فراہم کریں گے، روس کی یوکرین سے جنگ میں ایران کی بہت زیادہ شمولیت ہے۔ 

نیٹو اور امریکہ کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں آتے ہی شدید دوری پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ صدر ٹرمپ کی یوکرین کے متعلق نیٹو سے بہت زیادہ مختلف پالیسی، یورپی ممالک کے ساتھ ڈیفینس کے ایشوز پر دوری اختیار کرنے اور خود نیٹو سے دوری اختیار کرنے کی پالیسیاں تھیں۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ پانچ ماہ کی دوری کے باوجود  نیٹو ممالک ایران کے معاملہ میں نیٹو کے مفادات کو الگ سے دیکھیں گے تاہم وہ مشترکہ مفاد کے لئے  ضرورت پڑنے پر  امریکہ  کے ساتھ تعاون کے لئے ہاتھ کسی بھی وقت بڑھا سکتے ہیں۔گو کہ نیٹو ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزر کر آنے والے پٹرولیم سے کوئی براہ راست مفاد وابستہ نہیں اس کے باوجود  ایک اہم مشترکہ مفاد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے