سٹی42: پنجاب میں بھارت سے آنے والے دریاؤں اور نالوں میں آنے والے گھنٹوں اور دنوں کے دوران شدید سیلاب کا خطرہ ہے اور اس دوران ہی پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشوں کا بھی خطرہ ہے جن سے بعض شہروں میں نظامِ زندگی درہم برہم ہو سکتا ہے۔
پنجاب میں بھارت سے آنے والے دریاؤں اور نالوں سے آنے والے چند گھنٹوں میں اور اس کے بعد کئی دنوں میں بہت زیادہ پانی اور نتیجہ میں سیلاب اس لئے آ سکتا ہے کہ بھارت میں ہماچل پردیش اور کشمیر کی ریاستوں میں شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ ہماچل اور کشمیر کے دریا، ندیاں نالے بیشتر پاکستان آتے ہیں۔
ان دریاؤں اور نالوں میں اس وقت شدید طغیانی ہے جو کئی روز تک برقرار رہ سکتی ہے جب کہ اب تک ہو چکی شدید بارشوں کا پانی بڑے سیلابی ریلوں کی صورت میں پاکستان میں آ کر راوی، ستلج، نالہ ڈیک، نالہ ایک، پلکھو، توی اور دوسرے نالوں میں سیلاب لا چکا ہے، اس سیلاب سے پنجاب کے کئی اضلاع میں سینکڑوں دیہات متاثر ہوئے ہیں۔
بہت سے دیہات کو حکومت پہلے ہی خالی کروا کر لوگوں کو محفوظ جگہوں پر پہنچا چکی ہے، اب مزید دیہات کو خالی کروایا جا رہا ہے کیونکہ ایک تو ستلج اور راوی اپنے کناروں سے باہر پھیل رہے تھے، اس کے ساتھ ایک اور ڈیک نالوں نے بھی اپنے قریبی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے اور اب پنجاب کے سب سے بڑے دریا چناب میں بھی پانی کی سطح خطرناک ہو رہی ہے۔
تازہ ترین/دریائے چناب
آج منگل کی شام تک کی صورت حال یہ ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے۔ قادر آباد فلڈ کنٹرول روم کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 81ہزار 293 کیوسک ہے۔
ہیڈ مرالہ پر پانی کا اخراج 2 لاکھ 64 ہزار 143کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔
دریائے چناب میں خانکی بیراج پر پانی کی آمد 1 لاکھ 16ہزار 252کیوسک ہے۔
ہیڈ خانکی پر پانی کا اخراج 1 لاکھ 8 ہزار970کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔
دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد 99 ہزار25 کیوسک ہے۔
ہیڈ قادر آباد پر اخراج 88 ہزار 30 ریکارڈ کیا گیا ۔
چناب میں پانی بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے آتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آج شام تک کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق بارشوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے۔ سارے مقبوضہ کشمیر کا پانی سینکڑوں نالوں اور ندیوں سے ہو کر چناب میں آ رہا ہے۔
آنے والے کچھ گھنٹوں میں پاکستان پہنچنے والے پانی کی مقدار مزید بڑھنے کا یقین ہے۔
ہیڈ قادر آباد بیراج سے زیادہ سے زیادہ پانی چناب کی نہروں میں ڈالا جا رہا ہے اور تمام نہریں اس وقت بلند ترین سطح پر بہہ رہی ہیں۔
اس کے باوجود چند گھنٹوں کے دوران قادر آباد کے مقام پر اس وقت ریکارڈ کیا جا رہا دو لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی کا بیشتر حصہ نیچے دریا میں آئے گا اور مٹھن کوٹ میں سندھ دریا میں گرنے کے مقام تک دریا کے کناروں پر آباد تمام دیہات کو خطرہ لاحق ہو گا۔
ستلج کی صورتحال؛ آج رات سوا لاکھ کیوسک پانی آئے گا
ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا ، پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا، پنجاب کے سیکرٹری ایریگیشن افتخار علی سہو ، صوبائی سیکرٹری ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے آج مل کر لاہور کے نزدیک دریائے راوی کا وزٹ کیا اور سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
سیکرٹری ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر نے بریفننگ دی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ستلج اور راوی دونوں دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ اگلے چار پانچ دن میں اسی طرح کا پانی کا بہاؤ زیادہ رہےگا۔
ستلج میں جسٹر کے مقام پر سوا لاکھ کیوسک کے قریب پانی آنے کا امکان ہے۔ اس وقت ستاون ہزار کیوسک تک پہنچ چکے ہیں،آج رات تک پانی سوا لاکھ تک ہونے کا امکان ہے۔
راوی کاسیلاب؛ 48 گھنٹے مشکل ہیں
راوی میں تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں،راوی میں تین چار دن بہت اہم ہیں۔عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی
راوی میں آئندہ 48 گھنٹے میں پانی کا بہاؤ ایسا ہی رہے گا،عوام سے گزارش ہے کہ اس پاس کے علاقوں سے انخلاء کو یقینی بنائیں۔ سرکاری عملہ منتقلی میں مدد دینے کے لئے ہر وقت تیار بیٹھا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اگلے چار روز اہم قرار دے دیے،دریائے راوی کے اطراف میں رہائشیوں کو فوری نکل مکانی کرنے کی ہدایت جاری کردیں دریائے راوی میں پانی کی سطح چھپن ہزار کیوسک تک پہنچ گئی،ریسکیو عملہ ہائی الرٹ ہے ، اگلے چار روز میں پانی کی سطح ایک لاکھ کیوسک تک جاسکتی ہے۔
شاہدرہ کو خطرہ
لاہور کی دریا پار آبادی شاہدرہ کو راوی مین پانی کی مقدار خوفناک حد تک بڑھنے سے سیلاب کا شدید خطرہ ہے۔ اسوقت بھی شاہدرہ کے دریا کے کناروں پر آباد کچھ حصہ میں پانی موجود ہے۔ اداروں کی مسڈقہ اطلاع کے مطابق آج منگل کی شام شاہدرہ کے مقام پر راوی دریا کا بہاؤ 46 ہزار کیوسک ہے جو آج ہی رات بڑھ کر 70 ہزار کیوسِک تک پہنچ سکتا ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں پانی آنے سے شاہدرہ کی دریا کے نزدیک واقع نشیبی آبادی کو شدید خطرہ ہو گا۔
دریائے راوی میں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی ہنگامی امداد کی مشقیں جاری ہیں ۔ڈی جی ریسکیو نے ہر طرح سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کروانے کی ہدایت کردی ہے۔
توی ندی کا سیلاب
سیالکوٹ میں جموں کے پہاڑوں سے آنے والی ندی توی میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا ہے اور توی ندی عملاً دریا بن گئی ہے۔
توی کا پانی ایک، ڈیک اور پلکھو کی طرح نیچے آ کر چناب دریا میں کر جاتا ہے۔
توی مین بے تحاشا پانی آ جانے سے سیال کوٹ میں بجوات کے سرحدی علاقہ کے 85 دیہات کا راستہ باقی آبادی سے منقتع ہو گیا ہے۔ سیالکوٹ کے علاقہ میں دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب آگیا ، پانی کی سطح 2 لاکھ 88 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کردیاگیا، وزیر آباد، گجرات کے متعدد علاقے چناب کی طغیانی سے زیرآب آنے کا خطرہ ہے۔
سیالکوٹ شہر میں بارش
سیالکوٹ شہر اور نواحی علاقوں میں مقبوضہ کشمیر کی بارش کے زیر اثر گزشتہ رات سے مسلسل موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے ، بارش نے شہر کو ڈبو دیا ہے۔
بدترین بارش، لوگ تب بھی سڑکوں پر، نتیجہ: ٹریفک جام
سیالکوٹ شہر کی گلیاں اور بازار منگل کی شام ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے۔شہر میں دن بھر بارش کے باوجود لوگ باہر نکلنے سے باز نہیں آئے اور بدترین ٹریفک جام ہو گیا ، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
بارش کا پانی کئی نشیبی آبادیوں میں گھروں ، دکانوں اور دفاتر میں داخل ہو گیا ہے ۔ کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وقفے سے وقفے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا