ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت نے راوی میں تھین ڈیم کے تمام دروازے کھول دیئے، پاکستان میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا

 Thein Dam, Pathankot Punjab, City42, Ravi river flooding, city42
کیپشن: file photo بھارت نے پٹھان کوٹ کے قریب تھین ڈیم کے تمام دروازے اچانک کھول دیئے ہیں جس سے راوی دریا میں پانی کی مزید بہت زیادہ مقدار آنے کا خدشہ ہے۔

سٹی42:  راوی اور ستلج  میں منگل کی رات 9 بجے پانی کی صورتحال انتہائی شدید خطرے کو ظاہر کر رہی ہے۔ مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت کی حکومت نے بھارت نے دریائے راوی پر قائم تھین ڈیم کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں۔

 اس ڈیم سے راوی میں پانی کی بہت بڑی مقدار داخل ہونے سے آنے والے گھنٹوں میں راوی دریا میں پانی کی مقدار میں خوفناک اضافہ ہو جائے گا اور راوی کی قریبی آبادیوں خصوصاً شاہدرہ میں سیلاب کا خطرہ برھ جائے گا۔

پانی کا دباؤ، راوی کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا

شکرگڑھ کے علاقہ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا، متعدد علاقے زیر آب آگئے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور مسلسل بارشوں کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج  تینوں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد کو چھونے لگا۔

سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹنے سے متعدد علاقے زیر آب آگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے بھیکو چک، ہریالی، ممکہ،نوشہرہ، نوگزہ کے علاقے زیر آب آگئے۔

   ننگل، بیرہ، نانوووال بارہ منگا بھی زیرآب آگئے۔

 چندا سنگھ والا سمیت متعدد دیہاتوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا جبکہ ظفروال میں نالا ڈیک کے سیلابی ریلے سے ہنجلی پل کا ایک حصہ ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا۔

تھین ڈیم کہاں ہے

تھین ڈیم، جسے  بھارت میں سرکاری طور پر رنجیت ساگر ڈیم کے نام سے جانا جاتا ہے، بھارت میں جموں، ہماچل پردیش اور پنجاب کی سرحد کے قریب  پٹھانکوٹ کے قریب دریائے راوی پر بنایا گیا ہے۔
بین الاقوامی سرحد سے فاصلہ: پاکستان کی سرحد سے تقریباً 24 کلومیٹر (15 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔

 یہ ڈیم لاہور (پاکستان) کے شمال مشرق میں 220-250 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے - 

تھین ڈیم ایک بڑا کثیر المقاصد منصوبہ ہے — جسے آبپاشی، ہائیڈرو الیکٹرک پاور جنریشن (600 میگاواٹ صلاحیت) اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت اس ڈیم کو پاکستان میں سیلاب لانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

 پی ڈی ایم اے  کی تصدیق

پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ پاک بھارت سرحد پر کوٹ نیناں سے پاکستانی حدود میں 2 لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی دریائے راوی میں داخل ہو رہا ہے۔آئندہ 24 گھنٹوں میں کوٹ نیناں کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔

آئندہ 48 گھنٹوں میں جسڑ شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزرے گا۔ 
 

کمشنر لاہور گجرانوالہ ملتان ساہیوال فیصل آباد اور متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری 

دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے بعد  لاہور گجرانوالہ ملتان ساہیوال فیصل آباد کے کمشنروں اور ان ڈویژنوں کے  متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیئے گئے ہیں۔

منگل کی رات نو بجے تک دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور شاہدرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

جسڑ کے مقام پر 1 لاکھ 42 ہزار کیوسک پانی مسلسل  دریائے راوی میں داخل ہو رہا ہے۔

دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ  56 ہزار کیوسک  ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دریائے راوی کے پاٹ میں موجود شہریوں کے فوری انخلاء کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ 

مساجد کے ذریعے اعلانات کے ذریعے شہریوں کو ممکنہ صورتحال بارے آگاہ کیا جا رہا ہے۔