سٹی42: موسلادھار بارش اور لینڈسلائیڈ نے بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہمالیائی ریاست ہماچل پردیش تک تباہی مچا دی ہے۔ بھارت کے پنجاب میں بارش اور سیلاب جیسی صورتحال کے باعث وزیر اعلیٰ نے سکول 31 اگست تک بند کر دیئے ہیں۔
جموں کشمیر میں انتہائی غیر معمولی بارش ہوئی جس کی مقدار 600 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس بارش سے ہونے والے حادثات میں 13افراد جاں بحق ہوئے۔
جہماچل اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تباہ کن بارشوں کا خمیازہ پاکستان کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان دونوں بلند پہاڑی علاقوں میں ہزاروں مربع کلومیٹر رقبہ پہاڑوں پر برسنے والا تمام پانی سینکڑوں ندیوں، نالوں اور کئی بڑے دریاؤں میں جمع ہو کر پاکستان کے پنجاب میں ہی آتا ہے۔
بھارت کے میڈیا نے آج منگل کے روز رپورٹ کیا ہے کہ ہماچل پردیش اور مقبوضہ کشمیر میں زندگی کا نظام گزشتہ دو دن کی بارش سے ٹھپ ہو گیا ہے۔
جموں و کشمیر میں شدید بارش کے سبب موبائل اور فائبر نیٹورک ٹھپ ہو گیا ہے۔ بھارت کے میٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے اگلے چند گھنٹوں کے دوران کئی علاقوں میں تیز بارش کا ریڈ الرٹ بھی جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی کئی ریاستوں میں اس وقت مون سون کی بارش نے مشکل حالات پیدا کر دیے ہیں۔ خصوصاً جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں کلاؤڈ برسٹ جیسی شدید بارشوں کے سبب بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
ڈوڈہ میں آج کلاؤڈ برسٹ، تین افراد جاں بحق
جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں آج 26 اگست کو اچانک تیز بارش شروع ہو گئی جو بھارتی میڈیا کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کا واقعہ تھا۔ اس شدید بارش میں اب تک رپورٹوں کے مطابق تقریباً 15 مکان بہہ گئے اور کم از کم 3 لوگوں کی موت بھی ہو گئی۔
موبائل فون سروس، انٹرنیٹ سب کچھ بند، پبلک میں خوف
متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کی کوشش کی جا رہی لیکن بھارتی میڈیا نے بتایا کہ مقامی لوگوں میں دہشت کا ماحول ہے۔ جموں و کشمیر میں شدید بارش کے سبب موبائل اور فائبر نیٹورک ٹھپ ہو گیا ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ میٹ ڈیپارٹمنٹ نے اگلے چند گھنٹوں کے دوران کئی علاقوں میں تیز بارش کا ریڈ الرٹ بھی جاری کیا ہے۔
ہماچل پردیش میں بھی اس وقت مشکل حالات کا سامنا ہے۔
کشمیر ، ہماچل کے حالات کا خلاصہ
پانچ افراد کی موت نے وشنو یاترا رکوا دی
موسلادھار بارش کے سبب ماتا ویشنو دیوی کی یاترا روک دی گئی ہے۔ کیونکہ اس راستہ میں اچانک لینڈسلائیڈ ہو گیا ہے۔ یہ حادثہ اَردھ کنواری کے پاس ہوا، جہاں ہزاروں عقیدتمند ہر روز ماں ویشنو دیوی کے دربار کی طرف جاتے ہیں۔ اس حادثہ میں 5 لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے افسران کے مطابق تیز بارش کے بعد سب سے پہلے "ہم کوٹی" کا راستہ بند کیا گیا۔

کل صبح تک کشمیر کے چھ ضلعوں میں سیلاب کا خطرہ
آئی ایم ڈی (انڈین میٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ) کے مطابق اودھم پور، سانبا، ڈوڈہ، جموں، کٹھوا اور کشتواڑ ضلعوں میں 27 اگست کی صبح 5.30 بجے تک سیلاب کا خطرہ بنا ہوا ہے۔
ادھم پور میں توی کا سیلاب؛ 2014 کے سیلاب سے بھی زیادہ پانی، جموں شہر کو خطرہ
اودھم پور میں توی ندی فی الحال خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ بھگوتی نگر میں توی ندی پر پُل کا ایک حصہ بھی بہہ گیا ہے۔ اس ندی کی آبی سطح 2014 میں آئے سیلاب کے دوران درج کردہ آبی سطح سے کافی زیادہ ہے۔ آنے والے چند گھنٹوں میں پانی جموں شہر تک پہنچ سکتا ہے۔ احتیاطاً بکرم چوک، جموں سے مرکزی توی پُل کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

جموں ڈویژنل کمشنر نے سبھی 10 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ مل کر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اپنے اپنے علاقوں کی زمینی حالت اور تیاریوں سے مطلع کرایا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو مختلف مقامات پر سیلاب کی سطح، الرٹ کی سطح اور ندیوں، نالوں اور دیگر پانی نکلنے والے راستوں میں بڑھتی آبی سطح سے مطلع کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ کو متاثرہ کنبوں کو کھانا، صاف پانی، دوائیاں اور دیگر ضروری سامان کی وقت پر فراہمی یقینی کرنے کی ہدایت دی۔
بیاس میں سیلاب سے دیہات زیر آب
کئی مقامات پر شدید بارش کے سبب لینڈسلائیڈ اور اچانک سیلاب آنے سے معمولات زندگی مفلوج ہو گئی۔ کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور قومی شاہراہ سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ منالی میں بیاس ندی کی آبی سطح اتنی بڑھ گئی کہ پانی منالی کے میدانی علاقوں میں گھس گیا، جس سے منالی-لیہہ قومی شاہراہ دھنس گئی۔
جموں سے ٹرین سروس ٹھپ ہو گئی
جموں علاقہ میں مستقل شدید بارش کے سبب نارتھ ریلوے نے منگل کو کٹرا، اودھم پور اور جموں ریلوے اسٹیشنوں سے آنے جانے والی 18 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جموں علاقہ میں پیر کی شب سے موسلادھار بارش ہو رہی ہے، جس سے پُلوں کو نقصان پہنچا، سڑک رابطہ میں رخنہ پڑا اور بڑا علاقہ زیر آب ہو گیا۔ اس وجہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
چگی ندی کا سیلاب: پٹھانکوٹ سے ہماچل ٹرین سروس بند
ریلوے افسران کے مطابق چکّی ندی پر بھاری مٹی کے کٹاؤ اور اچانک آئے سیلاب کے سبب پٹھان کوٹ سے ہماچل پردیش کے کندروری تک ٹرین خدمات بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ افسران نے کہا کہ فیروزپور، مانڈا اور چک رکھوال میں 4 ٹرینوں کو شارٹ ٹرمنیٹ کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کٹرا-سری نگر روٹ پر ٹرینوں کی آمد و رفت جاری ہے۔
جموں سری نگر ہائی وے بند
جموں-سری نگر اور کشتواڑ-ڈوڈہ قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی پہاڑی سڑکیں لینڈسلائیڈ یا اچانک آئے سیلاب کے سبب رخنہ انداز یا متاثر ہو گئی ہیں۔
پنجاب میں سکول 30 اگست تک بند
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بتایا کہ شدید بارش کی پیشین گوئی کے سبب ریاست کے سبھی اسکول 30-27 اگست تک بند رہیں گے۔ تیز بارش کے سبب پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
لداخ میں برف باری ہو گئی
مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کے اونچائی والے علاقوں میں برف باری ہو گئی۔ اسے آئندہ سرما کے موسم کی پہلی برف باری شمار کیا جا رہا ہے۔ جبکہ نشیبی علاقوں میں درمیانہ درجہ کی بارش ہوئی۔ لداخ میں متعین افسران نے بتایا کہ 18379 فُٹ کی اونچائی پر واقع کھاردُنگ لا درّا پر برف باری ہوئی ہے۔ لیہہ اور بھاری مقبوضہ کارگل ضلع ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ساتھ دیگر سَب ڈویژن میں بھی بارش ہوئی ہے۔ آئی ایم ڈی نے لداخ میں شدید بارش سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
جموں ڈویژن کے سکول بھی بند
خراب موسم اور علاقے میں سیلاب جیسے حالات کو دیکھتے ہوئے جموں ڈویژن کے سبھی سرکاری اور پرائیویٹ اسکول 27 اگست 2025 کو بند رہیں گے۔