ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  نثار حویلی لاہور سے شبیہہِ ذوالجناح کی پرسوز برآمدگی، جلوس روایتی راستوں پر رواں

Lahore Azadari, Ashura, Nisal Haveli
کیپشن: نثار حویلی کی امام بارگاہ کے صحن میں شبیہہ ذوالجناح کی برامدگی کا منظر۔

سٹی42:شبِ عاشور لاہور میں نثار حویلی سے شبیہہ ذوالجناح کا جلوس روایتی انداز سے برآمد ہو چکا ہے۔ اس وقت جلوس روایتی راستوں سے گزرتا ہوا، اندرون لاہور  امام بارگاہ واجد علی شاہ سے ہوتا ہوا  امام بارگاہ سکینہ بنت حسین پہنچ چکا ہے۔

نثار حویلی سے نکلنے والا مرکزی ماتمی جلوس کل شام مغربین کے وقت بھاٹی دروازہ کے باہر کربلا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہو گا جہاں شامِ غریباں برپا ہو گی۔

آج صبح اذانِ علی اکبر سے پہلے جلوس کو مسجد نواب صاحب پہنچنا ہے جہاں گریہ ہو گا اور اس کے ساتھ اذانِ علی اکبر ہو گی۔ اس کے فوراً بعد  بازار کشمیریاں میں  زنجیر کا تواریخی ماتم ہو گا۔

شبیہہِ ذوالجناح کے جلوس کا روایتی راستہ

شبیہہ ذوالجناح کو اپنے ہاں بلانا قدیم روایت ہے۔ لاہور شہر میں نکلنے والے اس جلوس کی میزبانی درجنوں گھرانے اور امام بارگاہوں سے وابستہ افراد کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ روایت کے مطابق سال بہ سال ایک ہی طرح سے کیا جاتا ہے اور جلوس کے راستے اور معمولات میں کوئی فرق نہیں آنے دیا جاتا۔

نثار حویلی سے شبیہِ ذوالجناح جیسے آج نکلاہے، یہ ڈیڑھ سو سال سے اسی انداز سے نکل رہا ہے۔ 

یہاں سے شبیہہ ذوالجناح کا جلوس  واجد علی شاہ کی امام بارگاہ جاتا ہے، پھر یہ  ادریس وائیں کی امام بارگاہ  جاتا ہے، پھر  مہدی شاہ کی امام بارگاہ، وہاں سے مبارک حویلی اور مبارک حویلی سے لال حویلی جاتا ہے۔

 لال حویلی سے شبیہہ ذوالجناح کا جلوس  اکبر علی شاہ کی امام بارگاہ  میں جاتا ہے، پھر امام بارگاہ درِ بتول اور مزید دس بارہ امام بارگاہیں ہیں وہاں سے ہوتا ہوا  محلہ مغل حویلی چلا جاتا ہے۔ وہاں سے یہ طویلہ نواب صاحب کی طرف چلا جاتا ہے۔

وہاں سے واپس آتے ہوئے یہ محلہ شیعاں  چوک نواب صاحب میں پیچھے پیر گیلانیاں کی طرف چلا جاتا ہے۔

اذانِ علی اکبر اور نمازِ فجر

وہاں سے واپس آتے ہوئے ذوالجناح کا جلوس صبح  ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ مسجد  نواب صاحب پہنچتا ہے جہاں گِریہ ہوتا ہے ، اذانِ علی اکبر دی جاتی ہے، بازار کشمیریاں میں زنجیر کا ماتم ہوتا ہے  اور جلوس میں شامل عزادار نمازِ فجر ادا کرتے ہیں۔

رنگ محل چوک میں نمازِ ظہرین

وہاں سے گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد ذوالجناح آگے بڑھتا ہے اور  مقررہ راستوں سے گشت کرتا ہوا  چوہٹہ مفتی باقر، مسجد وزیر خان، کشمیری بازار سے ہوتا ہوا   دوپہر  کو  ظہر کے وقت رنگ محل پہنچتا ہے جہاں پر نمازِ ظہرین ادا کی جائے گی۔

 جلوس کے دوران  شبیہہِ ذوالجناح  کی تبدیلی

نثار حویلی سے نکلنے والے شبیہہِ ذوالجناح کا جلوس بہت طویل وقت تک پر ہجوم اور تنگ راستوں پر رواں رہتا ہے۔ اس دوران گرمی اور تھکن کی وجہ سے شبیہہِ ذوالجناح  جانور  کی سہولت کے مطابق تبدیل کئے جاتے رہتے ہیں۔ خدام جب محسوس کرتے ہیں کہ اب اس شبیہہِ ذوالجناح کو آرام دینا چاہئے تو وہ اس کی جگہ دوسرا شبیہہِ ذوالجناح جلوس میں لے آتے ہیں۔ 

نثارحویلی:یوم عاشور کے مرکزی جلوس کی مجلس کا آغاز
نثار حویلی میں مجلس عزا میں بہت سے سوز خوانوں نے بارگاہِ سید الشہدا میں ہدیہ عقیدت پیش کیا ان میں فواد علی بٹ،  شمس الحسن، کاشف زاہدی،  امانت علی، ناظم علی، زوہیر جعفری،  مقصود علی رضا، بیلا برادران،  عمران نثار، عون عباس، حسنین جعفری، رفعت عباس ،ظہیر منہاس ،علی اکبر ،علی راج ،محمد علی نشامل تھے۔ 
علی مہتشم ،غلام عباس ،باقر زیدی ،مقصود علی رضا اور آصف مغل نے سلام پڑھا نے کلام پیش کیا۔