ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطین نہیں بنےگا، مغربی کنارے کو ہی ضم کر لوں گا، نیتن یاہو کاعندیہ

 Palestinian Authority, Palestine, General Assembly, Two States Solution, Oslo Accord, Prime Minister of Israel Yitzhak Rabin, left wing , PLO, Labour Party of Israel, Labour Party of England, President of Palestine Yasser Arafat
کیپشن: بائیں سے دائیں: برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر 18 ستمبر 2025 کو وسطی انگلینڈ کے شہر آئلسبری میں چیکرز میں ہونے والی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اشارہ کر رہے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی 18 ستمبر 2025 کو میکسیکو سٹی کے نیشنل پیلس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ (یوری کورٹیز/اے ایف پی)؛ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی 16 ستمبر 2025 کو پورٹ مورسبی میں پاپوا نیو گنی کی 50 ویں آزادی کی سالگرہ کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ (اینڈریو کٹان/ اے ایف پی)

سٹی42: برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے اور اپنے اس اقدام کو حماس اور دہشتگردی کو آئسولیٹ کرنے کا اقدام قرار دیا ہے۔  اس کے  ردعمل میں اسرائیل کے پرائم منسٹر  نیتن یاہو نے کوئی ٹھوس بات کرنے کی بجائے  کہا ہے کہ  "میرا ان رہنماؤں کے لیے واضح پیغام ہے جو 7 اکتوبر کو ہونے والے ہولناک قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں - آپ دہشت گردی کو بہت بڑا انعام دے رہے ہیں"۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا ردعمل ان کے دورہ امریکہ کے بعد آئے گا، تاہم انہوں نے اپنا ایجنڈا ایک ہی جملے میں واضح کر دیا کہ سیٹلمنٹس کو پھیلائیں گے۔

  یہ سیٹلمنٹس کے متعلق نیتن یاہو کی انتہائی دائین بازو کی حکومت کی پالیسیاں ہی ہیں جنہوں نے انگلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور دیگر کئی ملکوں کو اسرائیل کو سزا دینے کے لئے فلسطین کو تسلیم کر لینے کی طرف دھکیلا۔

 اس دوران آج اسرائیل کے یرغمالیوں کے فورم نے بھی فلسطین کو تسلیم کر لینے والے تین ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ 48 شہریوں کو یرغمال بنانے والے دہشت گرد گروپ کی طرف سے آنکھیں بند کر رہے ہیں۔
آج اتوار کے روز برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے اتوار کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان یہ استدلال کرتے ہوئے کیا ہے  کہ ان کے اس اقدام سے حماس کو الگ کر دیا (ایسولیٹ کردیا) جائے گا اور امن کو آگے بڑھے گا۔

حماس کا کوئی مستقبل نہیں

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک ویڈیو بیان میں فخریہ طور پر اعلان کیا، "آج، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن کی امید کو بحال کرنے اور دو ریاستی حل کے لیے، برطانیہ رسمی طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے،" 

لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر کئیر سٹارمر نے اصرار کیا کہ دو ریاستی حل "حماس کے لیے کوئی انعام نہیں ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ حماس کا کوئی مستقبل نہیں، حکومت میں کوئی کردار نہیں، سلامتی میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔"

سٹارمر نے کہا، "حماس ایک سفاک دہشت گرد تنظیم ہے۔ دو ریاستی حل کے لیے ہمارا مطالبہ ان کے نفرت انگیز وژن کے بالکل برعکس ہے۔"

اسرائیل فلسطینی ریاست کا قیام روکنے کیلئے سسٹمیٹک کام کر رہا ہے

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ "موجودہ اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو روکنے کے لیے سسٹمیٹک کام کر رہی ہے۔"

دو ریاستی حل ہی پائیدار امن اور سلامتی کا راستہ

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے کہا کہ ان کا فیصلہ آسٹریلیا کی "دو ریاستی حل کے لیے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ سے ہی اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کا واحد راستہ رہا ہے۔"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "دہشت گرد تنظیم حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔"

Captionبے گھر فلسطینی 20 ستمبر 2025 کو وادی غزہ کے قریب ساحلی سڑک پر اپنا سامان لے کر پیدل اور گاڑیوں میں شمالی غزہ کی پٹی سے بھاگ رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/عبدالکریم ہانا)

جنرل اسمبلی کے طوفان خیز اجلاس سے ایک روز پہلے طوفان

تین ترقی یافتہ ترین ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے مربوط اعلانات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے آغاز سے ایک روز قبل سامنے آئے،  اس جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور دو ریاستی حل پر خاص توجہ دی جائے گی۔ سعودی عرب اور فرانس کل  پیر کو نیویارک میں ایک سربراہی اجلاس کی بھی میزبانی کر رہے ہیں، جس میں مزید رہنما فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل کے اندر "صیہونی سیاست" کی تلملاہٹ، بائیں بازو کی خاموشی

جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، اتوار کے اعلانات نے اسرائیل میں صہیونی سیاسی میدان میں غصے سے مذمت کی لہر دوڑادی۔ اسرائیل کا بایاں بازو اپنے اتحادی ممالک کے بائیں بازو کی حکومتوں کے نیتن یاہو کی حکومت کو "سزا دینے" کے عمل کو اتوار کے روز خاموشی سے دیکھتا رہا۔

دو ریاستی حل  میں لیبر پارٹیوں کی حکومتوں کےعظیم اقدام کاکا پس منظر

اسرائیل کو آج تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والی انگلینڈ اور آسٹریلیا کی حکومتین "لیبر پارٹی" کی حکومتیں ہیں اور  1993 میں اسرائیل کی لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر اضحاک رابین نے  اوسلو اکارڈ  پر دستخط کر کے "دو ریاستی حل"/ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی ریاست کی قیام کی ابتدا کرتے ہوئے "پیس پروسیس" کا آغاز کیا تھا۔ اس اوسلو معاہدہ اور امن کا عمل شروع کرنے کے ردعمل میں پرائم منسٹر اضحاک رابین کو  1995 میں چاقو مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 

اوسلو پیس پروسیس  کیا تھا
اوسلو پیس پروسیس کو عام طور سے  صرف  "امن کا عمل" بھی کہا جاتا رہا ہے۔ یہ پروسیس   1993 میں اسرائیل اور  فلسطین لبریشن آرگنائزیشن PLO کے درمیان خفیہ مذاکرات کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ یہ مذاکرات، معطلی، ثالثی، دوبارہ مذاکرات اور دوبارہ معطلی کے پیچیدہ  چکر کی شکل میں سست رفتار کے ساتھ آگے بڑھے۔  

سنہ  2000 میں کیمپ ڈیوڈ سربراہی اجلاس کی ناکامی اور فلسطین میں دوسری انتفادہ کے پھوٹ پڑنے کے بعد اوسلو پیس پروسیس کے عملاً  ختم ہونے تک کئی معاہدے طے پاگئے۔

دوسری انتفاضہ کے دوران،  امن کے لیے روڈ میپ تجویز کیا گیا تھا، اور اس کا واضح مقصد دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تھا۔ تاہم جلد ہی یہ روڈ میپ بھی اوسلو پیس پروسیس  کی طرح ایک تعطلی چکر میں داخل ہو گیا۔

امن منصوبے کا خاکہ
اسرائیل کے مقتول پرائم منسٹر اضحاک رابین اور پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کے درمیان دستخط ہونے والے اوسلو معاہدے کے بیان کردہ اہداف میں دیگر چیزوں  کے ساتھ جو خاص اہداف  شامل تھے وہ یہ تھے:  فلسطینی عبوری خود حکومت (فلسطینی اتھارٹی (PA) نہیں بلکہ فلسطینی قانون ساز کونسل)کا قیام اور سلامتی کونسل کی قراردادوں 342 اور  338 کے مطابق پانچ سال کے اندر حل نہ ہونے والے مسائل کا مستقل تصفیہ  کرنا۔

اگرچہ ان معاہدوں میں فلسطینیوں کے "جائز اور سیاسی حقوق" کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن وہ عبوری مدت کے بعد اپنے مستقبل (اور حیثیت)کے بارے میں خاموش ہیں۔ اوسلو معاہدے میں نہ تو اوسلو  پیس پروسیس کے بعد کی" فلسطینی خود مختار حکومت"  کی نوعیت اور اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی وہ اس علاقے کی سرحدوں کی وضاحت کرتے ہیں جس پر یہ  خود مختار فلسطینی حکومت بالاخر حکومت کرے گی۔

Caption  اسرائیل کے وزیر اعظم اضحاک رابن (بائیں) اور فلسطین کے صدر یاسر عرفات (دائیں) 1993 میں وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن (درمیان) کی موجودگی میں مصافحہ کر رہے ہیں۔

اوسلو معاہدے کا بنیادی ایشو فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء تھا۔ یہ منصوبہ مرحلہ وار دستبرداری اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے فلسطینی حکام (موجودہ فلسطینی اتھارٹی) کو ذمہ داریاں بیک وقت منتقل کرنا تھا۔

اوسلو امن معاہدہ کی پیداوار؛  پرائم منسٹراضحاک رابین کا قتل  اور بنجمن نیتن یاہو کا ظہور 

اوسلو امن معاہدہ سے ایک طرف فلسطین کے قیام کا راستہ طے پایا، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی  قائم ہوئی جس کے پہلے سربراہ یاسر عرفات بنے اور دوسرے سربراہ محمود عباس ہیں، دوسری طرف اس معاہدہ کے ردعمل میں اسرائیل کے اندر پرائم منسٹر اضحاک رابین کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ گئے اور  1993 کے الیکشن میں بنجمن نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی کو پہلی مرتبہ اہمیت ملی،  1996 میں اضحاک رابین کے قتل کے بعد ہونے والے پہلے الیکشن میں نیتن یاہو وزیراعظم بن گئے اور انہوں نے آتے ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ بند کرنے کی کوشش شروع کر دی۔  نیتن یاہو 1999 کے الیکشن میں شکست کھا کر پرائیویٹ سیکٹر میں چلے گئے لیکن 2006 میں انہیں دوبارہ الیکشن میں کامیابی مل گئی، وہ دوسری بار وزیراعظم بنے ، تب سے ان کا اقتدار  معمولی وقفے کے ساتھ اب تک جاری ہے، اس سارے عرصہ کے دوران اسرائیل کے اندر زیادہ وقت نیتن یاہو وزیراعظم رہے اور بائیں بازو کو کبھی اقتدار نہیں ملا۔

نیتن یاہو کا آج کا ردعمل؛ فلسطینی ریاست نہیں بنےگی

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کی صبح اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں، رسمی اعلانات سے پہلے کہا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبات کا جواب دے گا، اور اس اقدام کے خلاف "جنگ" کا مطالبہ کرے گا، جس سے ان کے بقول "[اسرائیل] کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔"

Caption وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، بائیں سے تیسرے نمبر پر، 21 ستمبر 2025 کو کابینہ کا اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ (Maayan Taof/GPO)


اس تسلیم کے بارے میں اسرائیل کا ردعمل اگلے ہفتے وزیر اعظم کی امریکہ سے واپسی کے بعد آئے گا، نیتن یاہو نے اتوار کو بعد میں کہا۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج اتوار کو جاری کئے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ "میرا ان (تین ملکوں کے)  رہنماؤں کے لیے واضح پیغام ہے جو 7 اکتوبر کو ہونے والے ہولناک قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں - آپ دہشت گردی کو بہت بڑا انعام دے رہے ہیں"۔

"یہ نہیں ہوگا،" اس نے جاری رکھا۔ اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی۔

نیتن یاہو نے فخر کیا کہ ان کی قیادت میں اسرائیل نے "یہودیہ اور سامریہ میں یہودی آباد کاری(سیٹلمنٹس) کو دوگنا کر دیا ہے - اور ہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔"

نیتن یاہو نے کہا کہ ہماری سرزمین کے قلب میں ایک دہشت گرد ریاست کو ہم پر مسلط کرنے کی حالیہ کوشش کا جواب میری امریکہ سے واپسی کے بعد دیا جائے گا۔ "انتظار کرو۔"

اب نیتن یاہو مغربی کنارے کو "ضم" کرنے کی طرف جائیں گے؟

حالیہ جولائی میں، اسرائیل کی کنیست نے  دریائے اردن کےمغربی کنارے(فلسطینی اتھارٹی کے علاقے) میں "خودمختاری کے اطلاق"  کی حمایت میں ایک غیر پابند تحریک کے حق میں 71-13 ووٹ دیا -  مغربی کنارے کے علاقے پر فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول کے طے شدہ اصول سے پیچھے ہٹنے کا یہ اقدام نیتن یاہو کی حکومت کے  اتحاد میں موجود دو انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا حمایت یافتہ ہ اقدام تصور کیا جاتاہے۔اب خیال کیا جاتا ہے کہ نیتن یاہو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کے جواب میں مغربی کنارے کے حصے کو ضم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو بدھ کی رات نیویارک جائیں گے اور پھر اگلے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جائیں گے۔ توقع ہے کہ وہ اگلے بدھ تک اسرائیل واپس پہنچ جائیں گے۔ اور اس کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنے کے تمام اقدامات کا کوئی جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

آج  اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دولت مشترکہ کے ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم کے ہاتھوں ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کے سب سے بڑے قتل عام کا صلہ دیتا ہے جو اسرائیل کے خاتمے کے لیے آواز اٹھا رہی ہے بلکہ حماس کو حاصل حمایت کو بھی مستحکم کرتی ہے۔ "اسرائیل کسی بھی علیحدہ اور خیالی متن کو قبول نہیں کرے گا جو اسے ناقابل دفاع سرحدوں کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔"

اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون ساعار نے الزام لگایا کہ یہ ممالک "ایک ایسا قدم اٹھا رہے ہیں جو نہ صرف غلط ہے، بلکہ اشتعال انگیز اور غیر اخلاقی بھی ہے۔"

Captionاسرائیل کے اپوزیشن لیڈر اور یش اتید کے چیئرمین ایم کے یائر لاپڈ یکم ستمبر 2025 کو تل ابیب میں یش اتید پارٹی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ (فوٹو: Avshalom Sassoni/Flash90)

یہ سفارتی تباہی ہے،اسرائیل میں کوئی اور حکومت ہوتی تو یہ نہ ہوتا، اپوزیشن لیڈر یائیو لیپڈ

اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے آج تین اہم ممالک کے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لینے کے اقدام کو "ایک نقصان دہ قدم، اور دہشت گردی کا انعام" قرار دیا۔ انہوں نے اسے اسرائیل کی ایک "سفارتی تباہی" قرار دیا جسے ایک مختلف اسرائیلی حکومت روک سکتی تھی۔


تباہ کن اور انتہائی نقصان دہ: ہائیو گولن

بائیں بازو کی ڈیموکریٹس پارٹی کے چیئرمین یائر گولن نے کہا کہ تین ملکوں کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا اسرائیل کے لیے "تباہ کن" اور "انتہائی نقصان دہ" ہے۔

 منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم : محمود عباس

دریں اثنا، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ "بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم ہے۔"

Caption اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین اور مظاہرین 16 ستمبر 2025 کو یروشلم میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران تصاویر اٹھا رہے ہیں جس میں ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ (احمد غرابلی / اے ایف پی)

فلسطین کو تسلیم کرنے کے عمل کو یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط کرنے کا مطالبہ
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے "فلسطینی ریاست کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے کے لئے تینوں ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کا عم لقرار دیا  کہ 48 یرغمالی حماس کی قید میں ہیں۔"

فورم نے اسے "اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا،" خاندانوں کے طور پر جو خطے میں گہری امن کے خواہاں ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں کوئی بھی بات چیت تمام مغویوں کی فوری رہائی پر منحصر ہونی چاہیے۔

فورم نے دیگر اقوام پر زور دیا کہ وہ "ذمہ داری سے کام کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے پیاروں کو گھر لانے کے بعد ہی کوئی بھی 'بعد کے دن' بات چیت ہو۔"

نیتن یاہو پر مزید بجلیاں گرنے والی ہیں

فرانس، انڈورا، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، پرتگال اور سان مارینو سے بھی اس ہفتے اقوام متحدہ میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی توقع ہے۔

Caption صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 ستمبر 2025 کو آئلسبری، انگلینڈ کے قریب چیکرز میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/ایون ووکی)

امریکہ کیا کر پایا؛ محمود عباس کی جنرل اسمبلی میں جسمانی موجودگی ہی روک پایا


ان اعلانات کے احتجاج میں کہ مغربی ممالک کی ایک لہر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گی، واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ  فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور  فلسطینی اتھارٹی کے دیگر عہدیداروں کو جنرل اسمبلی میں شرکت سے روک دے گی۔ اقوام متحدہ نے جمعے کے روز بھاری اکثریت سے ووٹ دیا کہ محمود عباس کو عملی طور پر تقریر کرنے دیں۔ اب محمود عباس جنرل اسمبلی میں فزیکلی تو نہیں بیٹھیں گے لیکن ان کا خطاب ویڈیو لنک کے ذریعہ تب بھی ہو گا۔

فلسطین کو تسلیم کرنے والی تینوں ریاستیں امریکہ کی قریبی سٹریٹیجک اتحادی ہیں لیکن امریکہ انہیں فلسطین کو تسلیم کرنے سے روکنے میں بری طرح ناکام ہوا، بلکہ دراصل تو کسیب ھی ملک نے اس موضوع پر امریکہ کی بات سنی ہی نہیں۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران کہا تھا کہ وہ سٹارمر کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے سے متفق نہیں ہیں، ان اطلاعات کے درمیان کہ سٹارمر امریکی صدر کے ملک چھوڑنے کے بعد ایسا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

لندن کے باہر برطانوی پی ایم کے ساتھ  رسمی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ "اس موضوع  پر ان کے وزیر اعظم کے ساتھ کچھ اختلافات تھے، جو ہمارے چند اختلافات میں سے ایک ہے۔"

سٹارمر نے کہا کہ وہ اور ٹرمپ اس کے باوجود خطے میں امن کے حتمی مقصد پر متفق ہیں۔

تین چوتھائی ملک فلسطین کو تسلیم کر چکے

اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، جسے جنرل اسمبلی نے 2012 میں عالمی ادارے میں اس کے مبصر کی حیثیت کو "اینٹیٹی" سے "غیر رکن ریاست" میں اپ گریڈ کرکے حقیقت میں تسلیم کرنے کی منظوری دی۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے تباہ کن حملے سے شروع ہونے والی غزہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے کئی دیگر یورپی ممالک، جیسے سپین اور ناروے، نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔