ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹوسٹیٹس سالیوشن؛ نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب  کا اقوام متحدہ میں سربراہی اجلاس آج ہو رہا ہے

Two State Solution, France and Saudia collaborate on Palestine issue resolution, City42
کیپشن: فرانس کے صدر میکروں ٹو سٹیٹ سالیوشن پر عالمی کانففرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

سٹی42: فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب  کا اقوام متحدہ میں سربراہی اجلاس آج ہو رہا ہے۔ 
فرانس اور سعودی عرب دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے درجنوں عالمی رہنماؤں کو بلا رہے ہیں، جن میں سے کئی ایک  سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی طرف بڑھین گے۔  یہ ایک ایسا اقدام  ہو گا جس سے اسرائیل اور امریکہ کے سخت ردعمل سامنے آ سکتے ہیں۔

برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا نے کل اتوار کے روز یہ  اعلان کیا کہ انہوں نے فلسطین کی ایک ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

اب  چھ مزید ممالک فرانس، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، سان مرینو اور اندورا شامل ہیں، جو آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عالمی رہنماؤں کے خطاب سے پہلے  فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ 

پس منظر

اس صدی کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ یورپی ممالک بہٹ بڑی تعداد میں  فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ 

گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں  یورپ کے ملک ناروے نے کئی سال پر محیط بہت پیچیدہ سفارتی عمل سے گزر کر آخر کار 1993 میں اسرائیل کی لیبر پارٹی کے وزیراعظم اضحاک رابن اور فلعطین کی تنظیمِ آزادی کے سربراہ یاسر عرفات کے درمیان تاریخ کا رخ بدل دینے والا معاہدہ  کروا دیا تھا جسے اوسلو اکارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کے تحٹ اسرائیل نے کچھ علاقوں کو فلسطین کی مجوزہ ریاست کے علاقے ڈیکلئیر کر کے ان علاقوں میں ایک فلسطینی اتھارٹی قائم کرنے اور اس اتھارٹی کو محدود اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔ بعد میں اسرائیل کے اندر اضحاک رابن کو یہ معاہدہ کرنے کے مخالفوں مین سے ایک نے قتل کر دیا اور یاسر عرفات اپنی وفات تک فلسطین کی اتھارٹی کے صدر کی حیثیت سے فلسطین کی ریاست کی تعمیر اور اسرائیل کے ساتھ امن کا عمل آگے بڑھانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ 

بعد کے سالوں میں فلسطین کے اندر  گزشتہ 19 سال سے فلسطینی اتھارٹی اور بلدیاتی اداروں کے کوئی الیکشن نہیں ہوئے، غزہ پر حماس نے قبضہ کر لیا اور فلسطینی اتھارٹی کا غزہ پر  کنٹرول اور عمل دخل ختم کر دیا، اسرائیل کے اندر دو ریاستی معاہدہ اور اوسلو اکارڈ کے مخالف نیتن یاہو کی حکومت آ گئی اور  یورپ میں دو ریاستی حل اور فلسطین کی ریاست کے قیام کے  زیر التوا عمل کو مکمل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

اب کچھ ماہ کے دوران  فرانس کی قیادت میں یورپ میں تیزی سے یہ سوچ ابھری ہے کہ دو ریاستی حل کی طرف بڑھنا  فلسطین اور پورے مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے ناگزیر ہے۔ اس نئی کوشش کے موجد فرانس کے صدر میکروں ہیں جو سعودی عرب کے کراؤن پرنس کے ساتھ مل کر آج نیویارک میں ایک لینڈ مارک کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔