ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانیہ اور جرمنی نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے سے منع کر دیا

annexation, Two state solution, General Assembly,
کیپشن:  فلسطین کے بعض علاقوں کو جو اسرائیل کے  ٹو سٹیٹ سالیوشن کے خالق مقتول وزیراعظم اضحاک رابن نے  فلسطین کا حصہ قرار دے دیئے تھے، اور فلسطینی اتھارٹی کے کلی یا جزوی کنٹرول میں دے دیئے تھے،  انہیں اسرائیل میں دوبارہ شامل کرنا وزیراعظم نیتن یاہو کا پسندیدہ نعرہ ہے جو وہ اس وقت لگاتے ہیں جب انہیں اسرائیل کے اندر دائین بازو کے ووٹروں سے ووٹ لینا ہوتے ہیں۔ آخری مرتبہ انہہوں نے یہ نعرہ  2019 کے الیکشن سے پہلے لگایا تھا اور اب جب کہ دنیا کے طاقتور ترین ملکوں مین سے پانچ نے فلسطین کو اس لئے تسلیم کر لیا کہ وہ نیتن یاہو کی امن دشمن پالیسیوں سے عاجز آ کر انہیں سزا دینا چاہتے ہیں، نیتن یاہو اپنے پسندیدہ نعرے کو ایک بار پھر بلند کر رہے ہین لیکن اس مرتبہ ان کی آڈئینس اسرائیل کے اندر دائیں بازو کے شہری نہین ہیں۔ اس مرتبہ انہین اس نعرے  کے خلاف ہر طرف سے وارننگز مل رہی ہیں۔  2019 کی ایک ویڈیو سے لی گئی اس سکرین شوٹ میں نیتن یاہو کو فلسطین کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے پلان کی وضاح کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

 سٹی42:  برطانیہ اور جرمنی نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے سے منع کیا ہے۔
متعدد عالمی حکام اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمامکے منصوبہ کو ترک کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیرنے والے ملکوں کے مطالبات کو توجہ سے سننے کی بجائے ان مطالبات کے بالکل برعکس طرز عمل اپنا لیا اور یہ دھمکی دی ہے کہ وہ آئندہ بدھ کے بعد بعض فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کر لے گا۔ 

اس سلسلے میں اب جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی شامل ہوتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی سرزمین کا مزید انضمام نہیں ہونا چاہیے۔

 یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا کہ وہ کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد اگلی کابینہ میٹنگ میں فلسطینی علاقے کے انضمام کا معاملہ اٹھائیں گے۔

اور اس ماہ کے اوائل میں ایک اور انتہائی دائیں بازو کے  وزیر  وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے مغربی کنارے کے 82 فیصد علاقے کے انضمام کی تجویز پیش کی تھی۔

اسی دوران  برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے ردعمل میں مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام میں توسیع نہ کی جائے۔ 

یویٹ کوپر نے اقوامِ متحدہ کے نیویارک میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ نے ’ اسرائیلی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔’

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ’ اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کی سیکیورٹی کا احترام کرنے کا بہترین طریقہ ہے’۔

اسرائیلی وزراء، جن میں دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر بھی شامل ہیں، نے دھمکی دی ہے کہ وہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے ردعمل میں مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری نافذ کریں گے۔