کیپشن: فلسطین کے بعض علاقوں کو جو اسرائیل کے ٹو سٹیٹ سالیوشن کے خالق مقتول وزیراعظم اضحاک رابن نے فلسطین کا حصہ قرار دے دیئے تھے، اور فلسطینی اتھارٹی کے کلی یا جزوی کنٹرول میں دے دیئے تھے، انہیں اسرائیل میں دوبارہ شامل کرنا وزیراعظم نیتن یاہو کا پسندیدہ نعرہ ہے جو وہ اس وقت لگاتے ہیں جب انہیں اسرائیل کے اندر دائین بازو کے ووٹروں سے ووٹ لینا ہوتے ہیں۔ آخری مرتبہ انہہوں نے یہ نعرہ 2019 کے الیکشن سے پہلے لگایا تھا اور اب جب کہ دنیا کے طاقتور ترین ملکوں مین سے پانچ نے فلسطین کو اس لئے تسلیم کر لیا کہ وہ نیتن یاہو کی امن دشمن پالیسیوں سے عاجز آ کر انہیں سزا دینا چاہتے ہیں، نیتن یاہو اپنے پسندیدہ نعرے کو ایک بار پھر بلند کر رہے ہین لیکن اس مرتبہ ان کی آڈئینس اسرائیل کے اندر دائیں بازو کے شہری نہین ہیں۔ اس مرتبہ انہین اس نعرے کے خلاف ہر طرف سے وارننگز مل رہی ہیں۔ 2019 کی ایک ویڈیو سے لی گئی اس سکرین شوٹ میں نیتن یاہو کو فلسطین کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے پلان کی وضاح کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سٹی42: برطانیہ اور جرمنی نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے سے منع کیا ہے۔ متعدد عالمی حکام اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمامکے منصوبہ کو ترک کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیرنے والے ملکوں کے مطالبات کو توجہ سے سننے کی بجائے ان مطالبات کے بالکل برعکس طرز عمل اپنا لیا اور یہ دھمکی دی ہے کہ وہ آئندہ بدھ کے بعد بعض فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کر لے گا۔
اس سلسلے میں اب جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی شامل ہوتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی سرزمین کا مزید انضمام نہیں ہونا چاہیے۔
یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا کہ وہ کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد اگلی کابینہ میٹنگ میں فلسطینی علاقے کے انضمام کا معاملہ اٹھائیں گے۔
اور اس ماہ کے اوائل میں ایک اور انتہائی دائیں بازو کے وزیر وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے مغربی کنارے کے 82 فیصد علاقے کے انضمام کی تجویز پیش کی تھی۔
اسی دوران برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے ردعمل میں مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام میں توسیع نہ کی جائے۔
یویٹ کوپر نے اقوامِ متحدہ کے نیویارک میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ نے ’ اسرائیلی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔’
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ’ اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کی سیکیورٹی کا احترام کرنے کا بہترین طریقہ ہے’۔
اسرائیلی وزراء، جن میں دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر بھی شامل ہیں، نے دھمکی دی ہے کہ وہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے ردعمل میں مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری نافذ کریں گے۔
سٹی42: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی فرانس کے پریذیڈنٹ عمانوئیل میکروں سے انوکھا انتقام لیا جس نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کے طرز عمل پر سوالات کھڑے کر دیئے۔
صدر ٹرمپ نے خود سڑک پر سے گزرنے کے لئے پریذیڈنٹ میکروں کی گاڑی کو نیویارک میں مین ہٹن کے علاقے میں مصروف سڑک پر ویسے ہی کھڑاکروا دیا جیسے عام امریکیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اپنے اتحادی فرانس کے صدر میکروں پر غصہ یہ ہے کہ میکروں نے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے نہ صرف خود تسلیم کیا بلکہ اپنے ساتھ چار اہم ترین ممالک کو بھی فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے پر آمادہ کر لیا اور مزید کئی ملکوں کو فلسطین کو تسلیم کرنے کے لئے قائل کرنے کی غرض سے نیویارک میں "ٹو سٹیٹ سالیوشن سمٹ" کر ڈالی۔
صدر ٹرمپ اپنے اتحادی فرانس کے اولاعزم صدر کو تو ان کے خیالات پر عملدرآمد سے نہ روک سکے لیکن انہوں نے اپنے غصے کا اظہار نیویارک میں صدر میکروں کے ساتھ سرد مہری اور بڑی حد تک اَن ڈپلومیٹک رویئہ اپنا کر دیا۔
Caption میکروں جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر کے اپنی ایمبیسی جانے کے لئے سڑک پر آئے تو ان کی گاڑی کو غیر متوقع طور پر روک لیا گیا، اس تصویر مین میکروں صدر ٹرمپ کو فون کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ہوا یوں کہ صدر میکروں اپنی بہت اہم ٹو سٹیٹ سالیوشن سربراہی کانفرنس کے لئے نیویارک آئے ہوئے ہیں۔ وہاں بہت سے دوسرے ملکوں کے سربراہ اور اہم ترین نمائندے بھی اس اہم سمٹ مین شرکت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ آج اس سمت سے واپس جاتے ہوئے پریذیڈنٹ میکروں کی گاڑی کو مین ہٹن کی ایک مصروف سڑک پر اس لئے روک لیا گیا کہ امریکی سکیورٹی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کی گاڑیوں کے کاررواں کو وہاں سے گزرنا تھا۔ ٹریفک روکا گیا تو فرانس کے صدر کی گاڑی کو بھی عام امریکیوں کی گاڑیوں کی طرح روک دیا گیا۔
اچانک سڑک پر روکے جانے کے سبب پریذیڈنٹ میکروں کی سکیورٹی خطرے میں پڑ گئی۔ اس لئے بھی کہ وہ ایک خاص سرگرمی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک میں ہیں جسے بہت سے امریکی ری پبلکن نا پسند کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کوئی بری خبر بننے سے روکنے کے لئے، اپنے شخصی وقار اور فرانس کے قومی وقار کے تحفظ کیلئے پریذیڈنٹ میکروں نے فوری اقدام یہ کیا کہ خود صدر ٹرمپ کو فون پر کال کی اور ان سے سڑک کھلوانے کے لئے کہا۔
صدر میکروں اقوام متحدہ (یواین) کی جنرل اسمبلی میں شرکت کےلیے نیو یارک آئے ہیں۔
کیروں کو مین ہٹن کی سڑک پر روکے جانے کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں
نیو یارک پولیس نے فرانسیسی صدر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کانوائے گزارنے کے لیے روکا تو اس واقعے کی ویڈیو بھی بن گئی۔ اب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
پیر کے روز نیویارک کے قلب میں ٹریفک کا جھڑپ اس وقت ایک غیر معمولی سفارتی لمحے میں بدل گیا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قافلے نے روک لیا۔ ویڈیو میں ریکارڈ کیا گیا یہ واقعہ تیزی سے وائرل ہو گیا، جس میں فرانسیسی رہنما کو مین ہٹن کی سڑکوں پر پھنسے ہوئے لمحہ بہ لمحہ دکھایا گیا جب کہ پولیس نے امریکی صدر کے گزرنے کے لیے سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔
???? LMAO! In NYC for the UN, police halted French President Macron’s motorcade for President Trump…
…Macron calls Trump and it appears he was just told to walk, because he just starts walking multiple blocks
مڈ ٹاؤن میں مکس اپ یہ واقعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں میکرون کے خطاب کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے فرانس کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ جیسے ہی فرانسیسی صدر اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے باہر نکلے اور فرانسیسی سفارت خانے کی طرف جا رہے تھے، ان کی گاڑی کو نیویارک پولیس نے ٹرمپ کے صدارتی قافلے کے راستے کو محفوظ بناتے ہوئے روک لیا۔
Caption پریذیڈنٹ میکروں نے سڑک پر روکے جانے کو خوشدلی سے مینیج کیا، جب وہ صدر ٹرمپ کو فون کر کے شکایت کر رہے تھے، اس وقت ان کے مداح سیلفیاں اور ویدیو کلپ بنا رہے تھے۔ اس وقت وہاں سیلفی بنانے کے امیدواروں کی قطار لگ چکی تھی۔
فرانسیسی میڈیا آؤٹ لیٹ برٹ کی طرف سے بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں، ایک افسر کو پریذیڈنٹ میکروں سے معافی مانگتے ہوئے سنا گیا ہے، "مجھے افسوس ہے جناب صدر، ابھی سب کچھ مسدود ہے۔" فرنچ پریذیڈنٹ کو اپنی گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، وہ اپنے شیڈول میں غیر متوقع وقفے پر خوش اور قدرے ناراض دکھائی دے رہے تھے جب کہ مداح اس اچانک پیدا ہو جانے والے گولڈن موقع کو لے کر میکروں کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
میکروں نے سڑک پر تاخیر کے درمیان ٹرمپ کو فون کیا ہلکے پھلکے موڈ میں، میکروں نے ٹرمپ کو براہ راست ڈائل کیا، ان کی وجہ سے اپنے ٹریفک میں بند ہو جانے کا مذاق اڑایا۔ "اندازہ لگائیں کیا، میں گلی میں انتظار کر رہا ہوں کیونکہ سب کچھ آپ کے لیے مسدود ہے،" میکروں نے طنز کیا، پریذیڈنٹ میکروں کے الفاظ کو معاونین نے سنا اور جزوی طور پر ویڈیو پر بھی ریکارڈ ہوئے۔
Captionاس واقعہ نے اقوام متحدہ کے اجتماع کے سنگین سفارتی پس منظر کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی تعلقات کو اجاگر کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس نے پہلے ہی مین ہٹن میں اوور لیپنگ موٹر کیڈز، سڑکوں کی بندش اور سخت سیکیورٹی کے ساتھ توجہ مبذول کرائی ہے۔ میکرون کی مختصر ہولڈ اپ نے نیویارک میں متعدد عالمی رہنماؤں کی میزبانی کی لاجسٹک پیچیدگیوں کو واضح کیا، جہاں صدر بھی گرڈ لاک سے محفوظ نہیں ہیں۔
میکروں کے ساتھ تو نیویارک میں صرف سڑک پر روکے جانے کا سانحہ ہی ہوا ہے، فلسطین کے صدر کو امریکہ کے غصیلے صدر نے جنرل اسمبلی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک آنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ صدر محمود عباس کو فرانس اور سعودی عرب کی بلائی ہوئی ٹو سٹیٹ سمِٹ سے خطاب کرنے کے لئے فلسطین کے شہر رام اللہ میں اپنے دفتر میں ویڈیو کیمرے کے سامنے بیٹھنا پڑا۔
سٹی42: لندن میں فلسطینی مشن کو انگلینڈ میں فلسطین کی ایمبیسی کا درجہ مل گیا۔ فلسطین کی ایمبیسی پر فلسطین کا پرچم لہرا دیا گیا۔ برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد سنٹرل لندن میں واقع فلسطینی سفارت خانے کی عمارت پر آج فلسطین کا پرچم لہرادیا گیا۔
پرچم کشائی کی باقاعدہ تقریب ہوئی۔
اس موقع پر برطانیہ میں فلسطینی اتھارٹی کے مقرر کردہ سفیر حسام زملوط نے کہا کہ’ براہِ کرم میرے ساتھ شامل ہوکر فلسطین کا پرچم بلند کریں، جس کے رنگ ہماری قوم کی نمائندگی کرتے ہیں: سیاہ ہمارے سوگ کے لیے، سفید ہماری امید کے لیے، سبز ہماری زمین کے لیے اور سرخ ہماری قوم کی قربانیوں کے لیے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ’ ہم یہ پرچم فلسطینی عوام کے آزادی اور انصاف کی طویل جدوجہد کے اعزاز میں اور برطانیہ اور دنیا بھر کے ان لاکھوں لوگوں کے اعزاز میں بلند کرتے ہیں جو آزادی سے محبت کرتے ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ’ ہم یہ پرچم اس عہد کے طور پر بلند کرتے ہیں کہ فلسطین زندہ رہے گا، فلسطین ابھرے گا اور فلسطین آزاد ہوگا۔’
سٹی42: اٹلی کا بایاں بازو غزہ جنگ رکوانے اور فلسطین کے حق میں سڑکوں پر آ گیا۔ مزدوروں کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور بندرگاہوں کے داخلی دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ غزہ جنگ کے خلاف دسیوں ہزار افراد کے احتجاج کے سبب پورے اٹلی میں معمول کی زندگی میں خلل پڑ گیا ہے۔ آج ہونے والے ان احتجاجوں کو یورپ کے سب سے بڑے مظاہرے بتایا جا رہا ہے اور اٹلی میں اسکول اور اسٹیشن بند اور بندرگاہیں بند ہو گئے ہیں۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف یورپ کے سب سے بڑے ملک گیر مظاہروں میں سے ایک میں - دسیوں ہزار لوگ اٹلی کے درجنوں شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں - اسکول بند کر رہے ہیں، ٹرینوں میں خلل ڈال رہے ہیں اور بندرگاہوں اور سڑکوں کو بلاک کر رہے ہیں۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب فرانس اور کئی دیگر ممالک نے پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کی جب کہ اتوار کو برطانیہ، آسٹریلیا، پرتگال اور کینیڈا فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔
اٹلی نے اب تک خود کو مربوط اقدام سے دور رکھا ہے۔ وزیر اعظم، جارجیا میلونی، پہلے کہہ چکی ہیں کہ ریاست فلسطین کے قیام سے پہلے اسے تسلیم کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے جولائی کے آخر میں اطالوی روزنامہ لا ریپبلیکا کو بتایا کہ "اگر کوئی ایسی چیز جو موجود نہیں ہے اسے کاغذ پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے جب یہ نہ ہو۔"
دنیا کے میڈیا میں آج رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ اٹلی کے طول و عرض میں غزہ جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ درجنوں احتجاج بیک وقت ہونے سے سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اٹلی میں غزہ کی صورتحال کے خلاف بائیں بازو کے مزدوروں کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی اور احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
احتجاج کے باعث بندرگاہوں، ریلویز، اسکولوں اور پبلک سروسز میں کام متاثر ہوا ہے، اٹلی کی ٹریڈ یونین کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل سے تعلقات فوری ختم کیے جائیں اور غزہ میں جنگ پر واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔
احتجاج کرنے والےڈاک ورکرز کا کہنا تھا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اٹلی کو اسرائیل کے لیے اسلحہ اور دیگر ساز و سامان کی ترسیل کے اڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔
آنسو گیس، جھڑپیں
میلان کے مرکزی اسٹیشن کے قریب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جنوبی شہر نیپلز میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جہاں مظاہرین زبردستی مرکزی ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوگئے۔ کچھ مظاہرین مختصر وقت کے لیے پٹریوں پر بھی پہنچ گئے، جس کے باعث ٹرین سروسز میں تاخیر ہوئی۔
ہزاروں افراد نے شہروں میں بھی احتجاج کیا، اس دوران کئی اسکول بند رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی یونینز کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث متاثر ہوئی۔
شمال مغربی شہر جینووا میں مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرایا، لیورنو میں بھی بندرگاہ کے داخلی راستے کو احتجاجی مزدوروں نے بلاک کر دیا جبکہ شمال مشرقی شہر ٹریئسٹ میں بھی اسی نوعیت کا احتجاج کیا گیا۔
Caption احتجاج کرنے والے ایک سٹور کے دروازے توڑ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت یورپ میں اسرائیل کی روایتی حامی ہے اور اس نے دیگر مغربی ممالک کی طرح فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
سٹی42: امریکہ نے اسرائیل کے پرائم منسٹر کو ان کے مغربی علاقہ کو اسرائیل مین شامل کرنے کے ارادے کے خلاف خبردار کیا، لیکن اسرائیل نہیں سمجھتا کہ بات چیت ختم ہو گئی ہے -یروشلم میں سرکاری ذرائع بتا رہے ہیں کہ امریکہ نے پرائیویٹ طور پر اسرائیل کو انیکسیشن کے منصوبے سے باز رہنے کے لئے کہا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نےاسرائیل کی نیوز آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ متعدد مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کے خلاف نجی طور پر خبردار کیا ہے۔
تاہم،اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ یروشلم محسوس نہیں کرتا کہ انتباہ "بات چیت کے خاتمے" کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اگلے پیر کو وائٹ ہاؤس میں ان کی ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نیتن یاہو کا ارادہ
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو گزشتہ کئی ماہ سے تسلسل کے ساتھ یہ پیغامات مل رہے تھے کہ وہ فلسطین کے اندر ایک تو اپنی سیٹلمنٹس کی پالیسی کو روکیں، دوسرے غزہ کے علاقہ میں ناکہ بندی کر کے انسانی بحران پیدا نہ کریں۔ اگر وہ یہ دو کام نہین کریں گے تو پیگام دینےوالے ممالک بتا رہے تھے کہ وہ ردعمل مین فسلطین کی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔ پہلے یہ پیگامات فرانس کی طرف سے آئے، پھر کینیڈا اور انگلینڈ نے بھی یہی دباؤ ڈالا اور آخر میں آسٹریلیا نے بھی واضح الفاظ میں وارننگ دی کہ نیتن یاہو اپنی پالیسیاں فوراً بدلیں ورنہ آسٹریلیا فلسطین کو ستمبر میں تسلیم کر لے گا۔
اب جب کہ چار اہم ترین ملکوں نے کل اتوار کے روز اور پانچویں نے آج پیر کو فلسطین کو تسلیم کر لیا ہے تو نیتن یاہو ان ملکوں کے مطالبات کے عین برعکس سمت میں جانے کا منسوبہ بنا رہے ہیں۔ وہ غرب اردن کے کچھ علاقوں کا درجہ بدل کر انہیں اسرائیل میں ضم کرنے کی حد تک جانے کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن کہہ رہے ہیں کہ کل وہ امریکہ جائین گے، ایک ہفتے بعد جب واپس آئیں گے تو یہ کام کرین گے۔ نیتن یاہو کو کل امریکہ جانا ہے، آج اسرائیلی میڈیا میں یہ اطلاع لیک ہوئی ہے کہ واشنگٹنسے نیتن یاہو کے منصوبے کی حمایت نہیں کی جا رہی۔
سٹی42: پاکستان نے فلسطینی ریاست کو فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے تسلیم کرنےکا خیرمقدم کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحق ڈار نے یہ ایکس پر اپنے خیرمقدمی بیان میں کہا، آج میں نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں شرکت کی ہے جو کہ فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے مشترکہ طور پر چئیر کی گئی۔
اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو 1988 میں تنظیم آزادی فلسطین کی طرف سے فلسطین کی آزادی کے اعلان کے فوری بعد تسلیم کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کو تسلیم کیا جانا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت فلسطینی عوام کا قانونی حق ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی جانب قدم ہے۔
کل اتوار کے روز برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال فلسطین کو باضابطہ طور پر خود مختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
آج فرانس نے بھی اقوام متحدہ کانفرنس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کا باضابطہ اعلان کردیا۔ مزید کئی ملک آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں فلسطین کو ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے والے ہیں۔
Today I attended the High-Level Int’l Conference on the Peaceful Settlement of the Question of Palestine and the Implementation of the Two-State Solution, co-chaired by the Kingdom of Saudi Arabia and France, at the #UN Headquarters. #Pakistan welcomes announcements on…
فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ حماس کو ہتھیار ڈال کر غیر مسلح ہو جانا چاہئے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دینے چائیں۔
صدر محمود عباس نے یہ کلام نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی بلائی ہوئی ٹو سٹیٹ سالیوشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صدر محمود عباس نے اپنے خطاب میں واضح الفاظ میں حماس کے 7 اکتوبر کے قتل عام کی مذمت کی۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے دو ریاستی حل پر اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر مہلک حملے کی مذمت کرتے ہوئے حماس سے اپنے ہتھیار اپنی فلسطینی اتھارٹی کی افواج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
صدر محمود عباس نے انٹرنیشنل کمیونٹی کو یقین دلایا کہ "[غزہ] پر حکومت کرنے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ حماس اور دیگر دھڑوں کو اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے چاہئیں،"
صدر محمود عباس کو امریکہ نے اس انتہائی غیر معمولی سربراہی کانفرنس میں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک آنے کے لئے ویزا نہیں دیا۔ صدر محمود عباس فلسطین میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر ویڈیو لنک کے ذریعہ فلسطین اور اسرائیل کا دیرینہ تنازعہ ختم کرنے کی غرض سے دو ریاستوں کے قیام پر مشتمل حل کی طرف بڑھنے کے لئے بلائی گئی اس تاریخ ساز کانفرنس میں شریک ہیں۔
Caption فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نیویارک شہر میں 22 ستمبر 2025 کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت میں فرانس اور سعودی عرب کے زیر اہتمام اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویڈیو لنک پر بات کر رہے ہیں۔ (اسپینسر پلاٹ/گیٹی امیجز/اے ایف پی)
محمود عباس کی جانب سے حماس کے اسرائیلی شہریوں کو قتل اور اغوا کرنے کی مذمت
انہوں نے ویڈیو لنک کے ذرعیہ اپنے خطاب میں کہا، "ہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی کارروائیوں سمیت شہریوں کے قتل اور حراست کی بھی مذمت کرتے ہیں،" وہ گروپ کی طرف سے یرغمال بنائے گئے افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں۔
ہتھیاروں کے بغیر ایک متحد فلسطینی ریاست
فلسطینن کے صدر نے غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی پر مصر اور قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم ہتھیاروں کے بغیر ایک متحد فلسطینی ریاست چاہتے ہیں۔
فلسطین میں نیا عبوری آئین، نئے الیکشن؛ حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا
صدر محمود عباس نے اعلان کیا کہ جنگ کے خاتمے کے 3 ماہ کے اندر ایک عبوری آئین تیار کیا جائے گا تاکہ اقتدار کی منتقلی شفاف اور منظم طریقے سے ہو۔ اس کے بعد بین الاقوامی اداروں اور مبصرین کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ آئین و قانون کے تحت ریاست کا قیام ممکن ہو۔
انہوں نے کہا کہ حماس کا فلسطینی گورننس میں کوئی کردار نہیں ہوگا، تنظیم کو چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔
صدر محمود عباس نے ان 149 ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھی جلد فلسطین کو تسلیم کریں۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے تعاون پر آمادگی کا بھی اظہار کیا۔
صدر محمود عباس کے خطاب کی دنیا کے میڈیا میں رپورٹنگ
نیویارک میں حالیہ "دو ریاستی" اجتماع / سربراہی اجلاس میں صدر محمود عباس نے جو کچھ کہا (یا بتایا گیا ہے) اس کی کچھ تفصیلات یہ ہیں، خاص طور پر حماس کے حوالے سے دنیا کے میڈیا میں آج منگل کی صبح دو بجے تک جو شائع ہوا ہے وہ یہ ہے۔ :
حماس ہتھار ڈال دے
گارڈین نے رپورٹ کیا، فلسطین (فلسطینی اتھارٹی) کے صدر محمود عباس نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔ محمود عباس نے کہا کہ حماس اور دیگر مسلح دھڑوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیں۔ محمود عباس نے کہا، حماس کا غزہ کی مستقبل کی حکمرانی میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کا غزہ پر حکومت کرنے میں "کوئی کردار" نہیں ہونا چاہیے۔
ایک قانون اور ایک سیکورٹی فورس کے تحت متحد اتھارٹی انہوں نے ایک متحد ریاست کے ساتھ، ایک قانون کے تحت اور ایک قانونی سیکورٹی فورس کے ساتھ ایسی صورتحال کا مطالبہ کیا - جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو سیکورٹی اور ہتھیاروں پر خصوصی کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔
غزہ میں حماس کی حکومت کا خاتمہ صدر محمود عباس نے کہا کہ حماس کو غزہ پر اپنی ڈی فیکٹو حکمرانی ختم کرنی چاہیے، اور یہ کنٹرول واپس دینا چاہیے یہ فلسطینی اتھارٹی PA کے اختیار میں ہونا چاہیے۔
صدر محمود عباس کے آج کے خطاب کا سیاق و سباق اور معنی
یہ ستمبر 2025 کے آخر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی / متعلقہ سربراہی اجلاس (جسے اکثر "دو ریاستی اجتماع کہا جاتا ہے) کے دوراناقوام متحدہ میں فرانسیسی وفد کی طرف سے دیے گئے بیانات سے سامنے آیا کہ حماس سے ہتھیار حوالے کرنے کا مطالبہ کای گیا اور فلسطین کے تمام علاقہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کرنے کے مطالبات کئےگئے۔ فلسطین کی مرکزی حکومت/سیکیورٹی کو مضبوط کرنے، اور آزاد فوجی طاقت کے حامل متعدد مسلح گروہوں س کی صورتحال کا خاتمہ کرنے پر زور دیا گیا۔
حماس کے ہتھیار ڈالنے کا مسئلہ
الجزیرہ نیوز نے رپورٹ کیا کہ، یہ مسئلہ متنازعہ ہے: کتنے لوگوں نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے خلاف مزاحمت کی ہے، یہ بحث کرتے ہوئے کہ یہ (حماس کی سرگرمیاں) مزاحمت کا حصہ ہے۔ صدر محمود عباس کی پوزیشن زیادہ مرکزی سیکورٹی ڈھانچہ کے لئے فلسطینی اتھارٹی PA کے نظریے کی نمائندگی کرتی ہے۔
صدر محمود عباس کے خطاب پر دنیا بھر میں سامنے آنے والا ردعمل جیسے ہی سامنے آئے گا سٹی42 کے ریڈرز کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
سٹی42: امن کا وقت آ گیا': پریذیڈنٹ عمانوئیل میکروں نے فرانس کی طرف سے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ عمانوئل میکروں نے اعلان کیا ہے کہ فرانس نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
"ہمیں اپنی طاقت کے اندر ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ دو ریاستی حل کے امکان کو برقرار رکھا جا سکے، اسرائیل اور فلسطین امن اور سلامتی کے ساتھ شانہ بشانہ رہیں،" وہ کہتے ہیں۔
وقت آگیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ، مشرق وسطیٰ، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے میرے ملک کے تاریخی عزم کے مطابق۔
اس لیے میں اعلان کرتا ہوں کہ آج فرانس نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔
Caption پریذیڈنٹ میکروں نیویارک مین اپنی بلائی ہوئی یو این ٹو سٹیٹ سالیوشن سمِٹ میں ابتدائی کلمات کہہ رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے فرانس کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کی تنقید کے درمیان امن کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔
"فرانس آج فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے،" میکروں نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں فلسطینی وفد کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ وہ "اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے درمیان امن" کی حمایت کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دو ریاستی حل کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے، میکروں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے آغاز کیا کہ غزہ میں 48 بقیہ یرغمالیوں کی رہائی اور پٹی میں جنگ کے خاتمے کا "وقت آ گیا ہے"۔
انہوں نے فرانس کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کرنے کے لیئے اس بات پر زور دیا کہ "تشدد کے چکر کو توڑنا دوسرے کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔"
میکروں کا کہنا ہے کہ "ہم صرف چند لمحوں کی دوری پر ہیں کہ اب امن قائم نہیں ہو سکے گا… کچھ کہہ سکتے ہیں کہ بہت دیر ہو چکی ہے، کچھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بہت جلدی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے: ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے،" میکروں کہتے ہیں۔
صدر میکروں نے تسلیم کیا کہ حماس کا 7 اکتوبر کا حملہ "اسرائیلیوں کے لیے کھلا زخم" اور "ہمارے عالمی ضمیر" کے خلاف ہے۔ میکروں نے پیرس کی جانب سے حملے کی غیر مبہم، واضح مذمت کا اعادہ کیا۔
میکروں کا کہنا ہے کہ فرانس متاثرین کو کبھی نہیں بھولے گا اور سام دشمنی کے خلاف لڑنا کبھی نہیں چھوڑے گا۔
لیکن جب کہ اسرائیل نے اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ میں حماس کے خلاف اہم فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ کہتے ہیں، یروشلم کا ردعمل بہت آگے نکل گیا ہے، جس سے دسیوں ہزار شہری زخمی اور لاکھوں زخمی، بھوکے اور صدمے سے دوچار ہوئے۔
"کچھ بھی غزہ میں جاری جنگ کا جواز نہیں بنتا۔ کچھ بھی نہیں،" وہ کہتے ہیں۔ "اس کے برعکس، ہر چیز ہمیں فوری طور پر ختم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔"
وہ "یرغمالیوں کو درپیش ظالمانہ حالات" پر روشنی ڈالتے ہیں، یہ یاد کرتے ہوئے کہ انہوں نے اسیر ایویاتر ڈیوڈ اور نمرود کوہن کے خاندانوں کو کس طرح اپنے بازوؤں میں تھام رکھا ہے۔
لیکن "ایک زندگی ایک زندگی ہے،" وہ مصری غزہ سرحد پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے زخمی ہونے والے فلسطینی شہریوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
سٹی42: حماس نے صدر ڈولڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 60 روزہ معاہدے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ فاکس نیوز نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور دوحہ مذاکرات میں شامل ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ غزہ میں 60 دن کی جنگ بندی کی ضمانت دیں جس کے بدلے حماس اپنے قبضہ مین موجود آدھے یرغمالیوں کو رہا کر دے گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ خط اس وقت قطر کے پاس ہے اور ہفتے کے آخر میں ٹرمپ کو دیا جائے گا۔
قطر نے غزہ میں بقیہ 48 یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں روک دی ہیں جب سے اسرائیل نے اس ماہ کے شروع میں دوحہ میں حماس کی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔
حماس نے اسرائیلل کے آڈھے یرغمالیوں کو اپنی قید سے رہا کرنے کے لئے جنگ بندی کی شرط کے ساتھ خط اس وقت لکھا ہے جب فلسطین کے حامی درجنوں ملک نیویارک میں اکٹھے ہو کر دو ریاستوں کی تشکیل کے حل پر زور دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس اسرائیل کے تمام یرغمال بنائے ہوئے شہریوں کو فوراً غیر مشروط طور پر رہا کرے، اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کو واپس کر دے۔
سٹی42: فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کا اقوام متحدہ میں سربراہی اجلاس آج ہو رہا ہے۔ فرانس اور سعودی عرب دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے درجنوں عالمی رہنماؤں کو بلا رہے ہیں، جن میں سے کئی ایک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی طرف بڑھین گے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہو گا جس سے اسرائیل اور امریکہ کے سخت ردعمل سامنے آ سکتے ہیں۔
برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا نے کل اتوار کے روز یہ اعلان کیا کہ انہوں نے فلسطین کی ایک ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
اب چھ مزید ممالک فرانس، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، سان مرینو اور اندورا شامل ہیں، جو آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عالمی رہنماؤں کے خطاب سے پہلے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔
پس منظر
اس صدی کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ یورپی ممالک بہٹ بڑی تعداد میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔
گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں یورپ کے ملک ناروے نے کئی سال پر محیط بہت پیچیدہ سفارتی عمل سے گزر کر آخر کار 1993 میں اسرائیل کی لیبر پارٹی کے وزیراعظم اضحاک رابن اور فلعطین کی تنظیمِ آزادی کے سربراہ یاسر عرفات کے درمیان تاریخ کا رخ بدل دینے والا معاہدہ کروا دیا تھا جسے اوسلو اکارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کے تحٹ اسرائیل نے کچھ علاقوں کو فلسطین کی مجوزہ ریاست کے علاقے ڈیکلئیر کر کے ان علاقوں میں ایک فلسطینی اتھارٹی قائم کرنے اور اس اتھارٹی کو محدود اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔ بعد میں اسرائیل کے اندر اضحاک رابن کو یہ معاہدہ کرنے کے مخالفوں مین سے ایک نے قتل کر دیا اور یاسر عرفات اپنی وفات تک فلسطین کی اتھارٹی کے صدر کی حیثیت سے فلسطین کی ریاست کی تعمیر اور اسرائیل کے ساتھ امن کا عمل آگے بڑھانے کی جدوجہد کرتے رہے۔
بعد کے سالوں میں فلسطین کے اندر گزشتہ 19 سال سے فلسطینی اتھارٹی اور بلدیاتی اداروں کے کوئی الیکشن نہیں ہوئے، غزہ پر حماس نے قبضہ کر لیا اور فلسطینی اتھارٹی کا غزہ پر کنٹرول اور عمل دخل ختم کر دیا، اسرائیل کے اندر دو ریاستی معاہدہ اور اوسلو اکارڈ کے مخالف نیتن یاہو کی حکومت آ گئی اور یورپ میں دو ریاستی حل اور فلسطین کی ریاست کے قیام کے زیر التوا عمل کو مکمل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
اب کچھ ماہ کے دوران فرانس کی قیادت میں یورپ میں تیزی سے یہ سوچ ابھری ہے کہ دو ریاستی حل کی طرف بڑھنا فلسطین اور پورے مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے ناگزیر ہے۔ اس نئی کوشش کے موجد فرانس کے صدر میکروں ہیں جو سعودی عرب کے کراؤن پرنس کے ساتھ مل کر آج نیویارک میں ایک لینڈ مارک کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔
سٹی42: فرانس ایک ایسے اقدام کو آگے بڑھا رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے لئے ایک "بین الاقوامی استحکام مشن" قائم کرنا ہے۔ یہ انٹرنیشنل فورس غزہ میں IDF کی جگہ لے گی اور جنگ بندی ہونے کے بعد حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے کام کرے گی۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی ایک ایکسکلیوسَو رپورٹ میں بتایا ہے کہ فرانس کی اس تجویز کا مقصد جولائی میں کئے گئے بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ اعلان کو عملی شکل دینا ہے جس میں دو ریاستی حل، حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ میں داخلی سلامتی کو فلسطینی اتھارٹی کو بتدریج منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس تجویز میں عبوری قوت کی قیادت کرنے والی متعدد ریاستوں کا تصور کیا گیا ہے اور خاص طور پر مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو ترجیحی امیدواروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
فرانس کا مسودہ اس انٹرنیشنل مشن کو "تعینات کرنے کے لیے ایک عملی راستے کا خاکہ پیش کرتا ہے — ایک مختصر وقت میں — اقوام متحدہ کا مینڈیٹڈ، علاقائی سطح پر عارضی استحکام کا مشن فلسطین میں جیسا کہ نیویارک کے اعلامیے میں بتایا کیا گیا ہے، ایک بار جب ماحول کافی حد تک اس تعیناتی کی اجازت دے رہا ہو۔"
نیویارک ڈیکلریشن کو فرانس اور سعودی عرب نے جولائی میں سپانسر کیا تھا اور اس کے بعد اس مہینے کے شروع میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد میں شامل ہونے سے پہلے قطر اور مصر سمیت عرب ممالک نے اس کی تائید کی تھی۔
نیویارک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اعلامیہ پر دستخط کرنے والے ممالک "فلسطینی اتھارٹی کی دعوت پر اور اقوام متحدہ کے زیراہتمام اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی حمایت کرتے ہیں۔"
Caption اس فوٹو میں 12 ستمبر 2025 کو نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر (UN) میں فلسطینی سوال کے دو ریاستوں کے حل پر ووٹنگ کے لیے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نتائج دکھائے گئے ہیں۔ (اینجیلا ویس / اے ایف پی)
"یہ مشن، جو ضروریات کے مطابق تیار ہو سکتا ہے، فلسطینی شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرے گا، فلسطینی اتھارٹی کو داخلی سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی میں معاونت فراہم کرے گا، فلسطینی ریاست اور اس کی سیکورٹی فورسز کے لیے صلاحیت سازی میں معاونت فراہم کرے گا، اور فلسطین اور اسرائیل کے لیے سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرے گا، بشمول نیویارک کے اعلامیے کے مکمل احترام کے پہلو میں مستقبل کی نگرانی بھی۔
امن فوج بمقابلہ کثیر القومی مشن انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن مشن کے لیے فرانسیسی تجویز، جس کی تفصیل کو ٹائمز آف اسرائیل نے حاصل کیا ہے، مشن کے مینڈیٹ اور دائرہ کار کے بارے میں زیادہ واضح ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے لیے ممکنہ پیشرو کے طور پر کام کرے گی جو اس قوت کو قائم کرے گی۔
فرنچ تجویز کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ یہ فورس مثالی طور پر اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ آپریشن (PKO) یا ایک خصوصی سیاسی مشن (SPM) کی شکل اختیار کرے گی، جو سرکاری طور پر غیر جانبدار ہو گی، بین الاقوامی سطح پر زیادہ قانونی حیثیت رکھتی ہو گی اور اصولوں کے واضح سیٹ کے تحت کام کرے گی۔
تاہم، تجویز میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک نچلے درجے کے، ایڈہاک ملٹی نیشنل مشن کی سربراہی اور مخصوص ممالک کی قیادت میں تیزی سے تعیناتی کی اجازت دے گی، کیونکہ اس کے لیے کم منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ فریقین کی طرف سے قبول کیے جانے کا زیادہ امکان ہے۔
Caption اقوام متحدہ کے امن دستوں نے 25 جنوری 2025 کو جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ساتھ لبنان کے سرحدی گاؤں بلیدہ میں اپنا جھنڈا تھام رکھا ہے۔ (اے پی فوٹو/محمد زاتاری)
مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس مشن کو رضاکارانہ عطیہ دہندگان، جیسے خلیجی ممالک، ایک وقف ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے فراہم کریں گے، نہ کہ لازمی عطیات کے ذریعے۔
خاص طور پر، تجویز یہ بتاتی ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے سے پہلے مشن کو تعینات کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ واضح کرتا ہے کہ وقت سے پہلے جنگ بندی کے معاہدے کو حاصل کرنا "سب سے افضل" ہے۔
دو مرحلے کی تعیناتی اس مسودے میں دو مرحلوں میں تعیناتی کا تصور کیا گیا ہے، جو مثالی طور پر جنگ بندی کے حصول کے بعد شروع ہوتا ہے، اس فورس کے مقاصد کے ساتھ "جنگ بندی کی نگرانی، فلسطینی شہری آبادی کا تحفظ، حماس کو بتدریج تخفیف اسلحہ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی اور اقوام متحدہ کی بنیادی خدمات کی فراہمی میں سہولت فراہم کرنا۔"
دوسرے مرحلے میں، جسے درمیانی سے طویل مدتی کے طور پر خصوصیت دی گئی ہے، بین الاقوامی قوت مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے "صلاحیت سازی کی حمایت" پر توجہ مرکوز کرے گی، جو کوسوو اور مشرقی تیمور میں اقوام متحدہ کے اسی طرح کے مشنوں سے سبق حاصل کرے گی۔
فلسطینی پولیس کی تربیت
یہ فورس فلسطینی پولیس کو تربیت دینے کے موجودہ اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے PA کو داخلی سلامتی کی منتقلی کی حمایت کرے گی، مسودے میںمصر اور اردن کی قیادت میں جاری پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی PA کی سیکیورٹی فورس کے ہزاروں ارکان کو غزہ میں تعیناتی کے لیے تیار کیا جائے گا۔
استحکام مشن غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی انتخابات کی تیاریوں اور پٹی میں تعمیر نو کی کوششوں کو مربوط کرنے میں بھی مدد کرے گا۔
Caption فلسطینی 4 جولائی 2025 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں سنجیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پہاڑی کے پار بھاگ رہے ہیں۔ (جان ویسلز / اے ایف پی)
جہاں تک فورس کے دائرہ کار کا تعلق ہے، فرانسیسی تجویز میں کہا گیا ہے کہ اسے ابتدائی طور پر صرف غزہ میں تعینات کیا جائے گا۔
تجویز متنبہ کرتی ہے،"طویل مدت میں غزہ میں اس مشن کے مینڈیٹ کو محدود کرنا غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان دیرپا علیحدگی کا باعث بن سکتا ہے،" ، جو بعد کے علاقے میں تعیناتی کی حتمی توسیع کے حق میں بحث کرتی ہے۔
تاہم، تجویز میں کہا گیا ہے کہ ایسا اقدام "سیاسی معاہدے اور آپریشنل فزیبلٹی سے مشروط ہو گا، حساس مسائل جیسے کہ آباد کاروں کے تشدد اور اسرائیلی افواج کی موجودگی،"۔
ممکنہ رکاوٹیں مذکورہ دو صفحات پر مشتمل تجویز میں صرف اسرائیل کا ذکر تھا۔ اسرائیل اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ یروشلم غزہ میں PA کے کردار کی مخالفت میں اٹل رہا ہے، ایک بین الاقوامی فورس کو مغربی کنارے میں کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
کسی بھی بین الاقوامی قوت کو ممکنہ طور پر IDF کے ساتھ ہم آہنگی اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور جب کہ فرانسیسی مسودہ حتمی نہیں ہے، اسرائیلی فوج کے ساتھ بین الاقوامی فورس کے تعلقات کے بارے میں تفصیلات کو اس مسودہ میں چھوڑنا واضح نظر آیا ہے۔
Caption اسرائیل کی فوج کے ایک سپاہی کی فوٹو۔ اسرائیل کی فوج اپنی حکومت کو بار ہا بتا چکی ہے کہ حماس کو غزہ کے اندر غیر مسلح کرنے کا ان کے پاس کوئی قابلِ عمل طریقہ نہیں۔ فرانس کی تجویز کے متعلق رپورٹ میں بھی یہ غیر واضح ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے یا اس امر پر آمادہ کرنے کا کیا طریقہ ہو گا۔
سیکیورٹی مشن میں قطر کی شمولیت کو یروشلم سے بھی دھکے/ مسترد کئے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل قطر کو حماس کا سرپرست سمجھتا ہے، حالانکہ اس تجویز سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ حماس کو دور رکھنے میں دوحہ کا کردار ضروری ہوگا۔
Caption اکیس 21 ستمبر 2025 کو IDF کی طرف سے جاری کی گئی ایک ہینڈ آؤٹ تصویر میں 36ویں ڈویژن کے دستے غزہ میں کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ (اسرائیل ڈیفنس فورسز)
پھر بھی، فرانس کی اس تجویز میں حماس کے تخفیف اسلحہ کا واضح ذکر سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے تیار کردہ امریکی حمایت یافتہ منصوبے سے کہیں زیادہ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جسے ٹائمز آف اسرائیل نے گزشتہ ہفتے حاصل کیا اور شائع کیا تھا۔
ٹونی بلئیر کی تجویز کیا ہے
انگلینڈ کے سابق پرائم منسٹر ونی بلیئر کی تجویز غزہ میں عبوری حکومتی اتھارٹی کے قیام پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ "تخفیف اسلحہ، تخفیف کاری، اور دوبارہ انضمام (DDR)" کو آگے بڑھانے کے مقصد کو اجاگر کرتی ہے، لیکن اس میں حماس کا نام لے کر ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
فرانسیسی تجویز اس بارے میں بھی زیادہ واضح ہے کہ طاقت دو ریاستی حل کا پیش خیمہ ہے، جس پر عرب ممالک نے بار بار زور دیا ہے کہ ان کی شمولیت کے لیے اہم ہے۔ پیرس اپنی تجویز میں عرب اتحادیوں کے مؤقف کو مدنظر رکھنے کا خواہاں نظر آتا ہے، جب کہ بلیئر امریکہ اور اسرائیل سے بھی اپیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو فلسطینی ریاست کے قیام کے خیال کے لیے اگر مخالف نہیں تو بہت کم پرجوش ہیں۔
امریکی حمایت کے بغیر، فرانسیسی تجویز کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
میکرون اپنی تجویز پر کیا کیس بنا رہے ہیں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اتوار کے روز سی بی ایس کے "میٹ دی پریس" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیرس کی تجویز کے بارے میں امریکہ اور بلیئر کو انگیج کر رہے ہیں۔
انہوں نے دلیل دی کہ آنے والے ہفتے میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ان کا فیصلہ عرب ممالک کو حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے درکار سیکیورٹی مشن میں حصہ ڈالنے کے لیے اہم ہے۔
Caption حماس کے کارکنوں کو اسلحہ چھوڑ دینے یا ہتھیار ڈال کر غزہ سے لاتعلق ہو جانے پر کون اور کیسے قائل کرے گا، فرانس کی تجویز کے متعلق یہ جواب اب تک سامنے نہیں آیا۔
میکرون نے فرانسیسی منصوبے کے بارے میں کچھ اضافی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی فوجیوں کی اسرائیلی جانچ کو دیکھے گا۔
صدر میکروں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں - جس نے اتوار کے روز ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا - اور عرب رہنماؤں کے ساتھ "غزہ میں اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے ساتھ، [فلسطینی] پولیس اہلکاروں اور سیکورٹی فورسز کی مدد اور پشت پناہی کے لیے ایک بین الاقوامی فورس کو تعینات کرنے کی پیش کش کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔"
Caption فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون 18 اگست 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے مشرقی کمرے میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ ایک میٹنگ میں شریک ہیں۔
میکرون نے کہا کہ "اس میں اردن اور مصر شامل ہوں گے، اور دیگر مالی امداد کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ فرانس کے اس سکیورٹی پلان کا بنیادی عنصر حماس کو ختم کرنا ہے۔
میکرون نے مزید کہا کہ "اگر آپ صورتحال کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے - حماس کو غیر مسلح کریں، [اس کے] جنگجوؤں کو غیر فعال کریں اور ایک ڈی ڈی آر عمل کو منظم کریں... اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حماس کبھی بھی حکومت میں شامل نہیں ہوگی، کچھ اہم لوگ غزہ چھوڑ کر جائیں گے اور کچھ دوسرے غیر بنیاد پرست،" میکرون نے مزید کہا۔
انہوں نے کہا، "ایسا کرنے کے لیے، آپ کو ان بین الاقوامی افواج کی ضرورت ہے۔
سٹی42: اتوار 21 ستمبر کو دنیا کے چار اہم ملکوں نے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہے اور آج پیر 22 ستمبر کو نیویارک میں فرانس کی سرکردگی میں "ٹو سٹیٹ سالیوشن" کی طرف بڑھنے کے لئے ایک انتہائی اہم انترنیشنل کانفرنس ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ جنرل اسمبلی کا بھی آغاز ہو رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ جنرل اسمبلی میں کئی مزید ملک فلسطین کو تسلیم کریں گے۔ دوسری طرف اسرائیل نے اوسلو معاہدہ کے تحت جس علاقہ کو مستقبل کا فلسطین تسلیم کیا اور جہاں فلسطینی اتھارٹی کو محدود اختیارات دیئے، اسرائیل نے اتوار کے روز یہ عندیہ دیا کہ وہ ان علاقوں میں دیئے گئے اختیارات کو مزید محدود کرے گا اور ممکن ہے کہ کچھ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کر لے گا۔
اسرائیل کے منصوبہ کی معمولی تفصیل جو میڈیا میں سامنے آئی ہے اس میں مغربی کنارے کے ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی کے تسلیم شدہ معاملہ کو چھیڑنے اور علاقوں کا سٹیٹس بدل دینے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔
فلسطین کے ایریا A, ایریا B اور ایریا C کیا ہیں
اوسلو معاہدہ کے تحت "Two States Solution"(دو ریاستیں حل ہیں) کے اصول کو مانتے ہوئے، فلسطین کی مکمل آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے جن علاقوں کو "فلسطینی اتھارٹی" کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، ان میں سے کچھ علاقوں کا کنٹرول اسرائیل نے فوری طور پر مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کو منتقل نہیں کیا تھا، اسے بعد میں عمل کا عمل (پیس پروسیس) مکمل ہونے پر فلسطین کی اتھارٹی کو منتقل کرنا طے تھا۔
اس عبوری ارینجمنٹ کے تحت فلسطین کی اتھارٹی کے سپرد کئے گئے مغربی کنارے کو ایریاز A، B، اور C میں تقسیم کیا گیا ہے (بعض اوقات لوگ انہیں غلطی سے "List A, B, C" کہتے ہیں)۔ یہ علاقوں کی یہ انتظامی تقسیم اوسلو II معاہدے (1995) کے تحت اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان طے کی گئی تھی۔ یہ تین ایریاز فلسطینی اتھارٹی (PA) اور اسرائیل کے ذریعے استعمال کیے جانے والے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کی سطحوں کی وضاحت کرتے ہیں۔
اس کا بریک ڈاؤن یوں ہے:
ایریا اے
یہ وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی (PA) کا مکمل سول اور سیکیورٹی کنٹرول مانا گیا ہے۔
حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 18 فیصد۔
مقام/ محلِ وقوع: بنیادی طور پر مغربی کیارے کے علاقہ میں واقع بڑے فلسطینی شہر اور ان شہروں کے ،ضافات کے علاقے، جیسے نابلس، رملہ، بیت لحم، جنین، قلقیلیہ، تلکرم، جیریکو، اور ہیبرون شہر کا 80% حصہ۔
اسرائیل فورسز (IDF) عام طور پر یہاں کام نہیں کرتی ہیں، حالانکہ عملی طور پر، وہ کبھی کبھی ان علاقوں میں جا کرچھاپے مارتی ہیں۔
ایریا بی
یہ مغربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا سول کنٹرول مانا گیا۔ اس کنٹرول میں تعلیم، صحت، مقامی حکومت، وغیرہ کے تمام شعبے شامل ہیں۔
ایریا B میں اسرائیل کا عبوری طور پر سیکورٹی کنٹرول (انسداد دہشت گردی، بیرونی سلامتی) تسلیم کیا گیا۔ ان تمام ایریاز مین جو ایریا B کی فہرست میں شامل ہیں, IDF عملاً موجود رہتی ہے۔
حد/ رقبہ: فلسطینی اتھارٹی کو دیئے گئے رقبہ میں سے مغربی کنارے کا تقریباً 22 فیصد رقبہ ایریا B ہے۔ یعنی یہ علاقے اسرائیل کے فوجی کنٹرول مین ہیں لیکن یہاں سویلین انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کی ہے۔
مقام/محل وقوع: مغربی کنارے کے زیادہ تر دیہی قصبات، دیہات اور کچھ پناہ گزین کیمپ ایریا B ہیں۔
ان تمام علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار روزمرہ کی زندگی کی شہری سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اسرائیل نے سکیورٹی اختیارات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایریا سی
یہ مگربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جن کو اوسلو معاہدہ کے تحت مستقبل کے فلسطین کا حصہ تو تسلیم کیا گیا لیکن یہاں اسرائیل کا مکمل سول اور سیکورٹی کنٹرول باقی رکھا گیا۔
حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 60% (رقبہ کے لحاظ سےاکثریت علاقہ)۔
مقام/محل وقوع: ایریا C مغربی کنارے کے علاقوں میں موجود اسرائیلی بستیوں، سٹریٹیجک زمینی علاقوں، وادیِ اردن، اور دیہی/غیر ترقی یافتہ زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی PA کی یہاں موجودگی بہت محدود ہے۔
ایریا سی C میں شمار کئے گئے تمام علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کرنے، انفراسٹرکچر تعمیر کرنے یا اسے تبدیل کرنے یا زراعت کاری کرنے کے لیے اسرائیل کے اجازت نامے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل نے ایریا C کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے۔
موجودہ صورتحال
آج یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی قرار دیئے علاقوں میں وسیع تبدیلیاں کر کے ایریا اے اور ایریا بی کو مزید کم کرنے کی طرف جا رہا ہے۔
سٹی42: سعودی عرب نے اسرائیل کو خبردار کرنے کے لیے کہا ہے کہ مغربی کنارے کا الحاق "ریڈ لائن"ہے۔ سعودی عرب کی اسرائیل کو یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کئی یورپی ملکوں اور آسٹریلیا کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کے جواب میں اپنے اگلے اقدامات کے متعلق ناپ تول میں الجھا ہوا ہے۔
اسرائیل کے نیوز چینل 12 کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر اس نے دریائے اردن مغربی کنارے (موجودہ فلسطینی علاقہ) کے کچھ حصے کو اپنے ساتھ ملایا تو اس کے "تمام شعبوں میں بڑے مضمرات" ہوں گے۔
چینل 12 کے مطابق سعودی عرب کے حکام نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں، لیکن چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ وہ (سعودی عرب) نارملائزیشن کو مردہ قرار دے سکتے ہیں یا ایک بار پھر اپنی فضائی حدود کو اسرائیلی پروازوں کے لیے بند کر سکتے ہیں، جسے انہوں نے 2022 میں کھولا تھا۔
نیوز آؤٹ لیٹ چینل 12 کے مطابق، سعودی حکام اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، مصر اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتھ غزہ کی جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دریں اثناء اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج ایک اجلاس منعقد کیا جس میں مغربی ممالک کے اس ہفتے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسرائیل کی اتحادی حکومت کے نزدیک کئی ملکوں کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کے اقدامات کے جوابات میں مغربی کنارے کے "علاقے A" کے حصوں کی درجہ بندی کو ایریا B میں تبدیل کرنا شامل ہے.
اس ممکنہ اقدام کا مطلب ہے کہ یہ علاقے فلسطینی سیکیورٹی اور سول کنٹرول (صدر محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی)سے اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول میں چلے جائیں اور فلسطینی اتھارٹی کا صرف سول کنٹرول باقی رہ جائے۔ اسرائیل کے جواب مین یہ بھی ہو گا کہ فلسطین کے موجودہ " ایریا B" کے کچھ حصے کا "ایریا C" میں بدل دیئے جائیں۔ یعنی ان علاقوں کو اسرائیل کے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کے تحت کر دیا جائے۔۔
اسرائیل کی حکومت کے دیگر ردعمل میں کچھ ممالک کے قونصل خانے بند کرنا شامل ہو سکتا ہے جو فلسطین کی ایک آزاد ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، خاص طور پر فرانس کے قونصل خانے بند کئے جا سکتے ہیں جو فلسطین کو تسلیم کرنے کی حالیہ انٹرنیشنل کیمپین کا اصل محرک ملک ہے۔
اسرائیل کی اتحادی کابینہ کی آج کی میٹنگ میں سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے زور دیا کہ چاہے کچھ بھی ہو، امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جانی چاہیے۔
اس طرح، اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ نیتن یاہو اگلے ہفتے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات (اور مشاورت) کر کے واپس نہیں آتے، وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج شام کے اوائل میں ایک ویڈیو بیان میں یہ ہی کہا تھا۔
فلسطین کے ایریا A, ایریا B اور ایریا C کیا ہیں
اوسلو معاہدہ کے تحت "Two States Solution"(دو ریاستیں حل ہیں) کے اصول کو مانتے ہوئے، فلسطین کی مکمل آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے جن علاقوں کو "فلسطینی اتھارٹی" کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، ان میں سے کچھ علاقوں کا کنٹرول اسرائیل نے فوری طور پر مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کو منتقل نہیں کیا تھا، اسے بعد میں عمل کا عمل (پیس پروسیس) مکمل ہونے پر فلسطین کی اتھارٹی کو منتقل کرنا طے تھا۔
اس عبوری ارینجمنٹ کے تحت فلسطین کی اتھارٹی کے سپرد کئے گئے مغربی کنارے کو ایریاز A، B، اور C میں تقسیم کیا گیا ہے (بعض اوقات لوگ انہیں غلطی سے "List A, B, C" کہتے ہیں)۔ یہ علاقوں کی یہ انتظامی تقسیم اوسلو II معاہدے (1995) کے تحت اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان طے کی گئی تھی۔ یہ تین ایریاز فلسطینی اتھارٹی (PA) اور اسرائیل کے ذریعے استعمال کیے جانے والے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کی سطحوں کی وضاحت کرتے ہیں۔
اس کا بریک ڈاؤن یوں ہے:
ایریا اے
یہ وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی (PA) کا مکمل سول اور سیکیورٹی کنٹرول مانا گیا ہے۔
حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 18 فیصد۔
مقام/ محلِ وقوع: بنیادی طور پر مغربی کیارے کے علاقہ میں واقع بڑے فلسطینی شہر اور ان شہروں کے ،ضافات کے علاقے، جیسے نابلس، رملہ، بیت لحم، جنین، قلقیلیہ، تلکرم، جیریکو، اور ہیبرون شہر کا 80% حصہ۔
اسرائیل فورسز (IDF) عام طور پر یہاں کام نہیں کرتی ہیں، حالانکہ عملی طور پر، وہ کبھی کبھی ان علاقوں میں جا کرچھاپے مارتی ہیں۔
ایریا بی
یہ مغربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا سول کنٹرول مانا گیا۔ اس کنٹرول میں تعلیم، صحت، مقامی حکومت، وغیرہ کے تمام شعبے شامل ہیں۔
ایریا B میں اسرائیل کا عبوری طور پر سیکورٹی کنٹرول (انسداد دہشت گردی، بیرونی سلامتی) تسلیم کیا گیا۔ ان تمام ایریاز مین جو ایریا B کی فہرست میں شامل ہیں, IDF عملاً موجود رہتی ہے۔
حد/ رقبہ: فلسطینی اتھارٹی کو دیئے گئے رقبہ میں سے مغربی کنارے کا تقریباً 22 فیصد رقبہ ایریا B ہے۔ یعنی یہ علاقے اسرائیل کے فوجی کنٹرول مین ہیں لیکن یہاں سویلین انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کی ہے۔
مقام/محل وقوع: مغربی کنارے کے زیادہ تر دیہی قصبات، دیہات اور کچھ پناہ گزین کیمپ ایریا B ہیں۔
ان تمام علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار روزمرہ کی زندگی کی شہری سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اسرائیل نے سکیورٹی اختیارات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایریا سی
یہ مگربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جن کو اوسلو معاہدہ کے تحت مستقبل کے فلسطین کا حصہ تو تسلیم کیا گیا لیکن یہاں اسرائیل کا مکمل سول اور سیکورٹی کنٹرول باقی رکھا گیا۔
حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 60% (رقبہ کے لحاظ سےاکثریت علاقہ)۔
مقام/محل وقوع: ایریا C مغربی کنارے کے علاقوں میں موجوداسرائیلی بستیوں، سٹریٹیجک زمینی علاقوں، وادیِ اردن، اور دیہی/غیر ترقی یافتہ زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی PA کی یہاں موجودگی بہت محدود ہے۔
ایریا سی C میں شمار کئے گئے تمام علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کرنے، انفراسٹرکچر تعمیر کرنے یا اسے تبدیل کرنے یا زراعت کاری کرنے کے لیے اسرائیل کے اجازت نامے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل نے ایریا C کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے۔
موجودہ صورتحال
آج یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی قرار دیئے علاقوں میں وسیع تبدیلیاں کر کے ایریا اے اور ایریا بی کو مزید کم کرنے کی طرف جا رہا ہے۔
سٹی42: ٹو سٹیٹ سالیوشن کی جانب ایک اور ہنگامہ خیز پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے بعد پرتگال نے بھی فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہے۔
یہ بریکنگ نیوز آ رہی ہے کہ پرتگال نے آزاد فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا کے کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ پرتگال کے وزیر خارجہ پاؤلو رینگل نے لزبن کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے بعد پرتگال چوتھا ملک ہے جس نے آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تصدیق کی ہے۔
دو روز پہلے پرتگال کی وزارت خٓرجہ نے رسمی بیان جاری کیا تھا کہ پرتگال اتوار کو فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔ آج فارن منسٹر پاؤلو رینگل نے دارالحکومت لزبن میں اعلان کیا کہ پرتگال فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر رہا ہے۔
سٹی42: برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے اور اپنے اس اقدام کو حماس اور دہشتگردی کو آئسولیٹ کرنے کا اقدام قرار دیا ہے۔ اس کے ردعمل میں اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو نے کوئی ٹھوس بات کرنے کی بجائے کہا ہے کہ "میرا ان رہنماؤں کے لیے واضح پیغام ہے جو 7 اکتوبر کو ہونے والے ہولناک قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں - آپ دہشت گردی کو بہت بڑا انعام دے رہے ہیں"۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا ردعمل ان کے دورہ امریکہ کے بعد آئے گا، تاہم انہوں نے اپنا ایجنڈا ایک ہی جملے میں واضح کر دیا کہ سیٹلمنٹس کو پھیلائیں گے۔
یہ سیٹلمنٹس کے متعلق نیتن یاہو کی انتہائی دائین بازو کی حکومت کی پالیسیاں ہی ہیں جنہوں نے انگلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور دیگر کئی ملکوں کو اسرائیل کو سزا دینے کے لئے فلسطین کو تسلیم کر لینے کی طرف دھکیلا۔
اس دوران آج اسرائیل کے یرغمالیوں کے فورم نے بھی فلسطین کو تسلیم کر لینے والے تین ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ 48 شہریوں کو یرغمال بنانے والے دہشت گرد گروپ کی طرف سے آنکھیں بند کر رہے ہیں۔ آج اتوار کے روز برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے اتوار کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان یہ استدلال کرتے ہوئے کیا ہے کہ ان کے اس اقدام سے حماس کو الگ کر دیا (ایسولیٹ کردیا) جائے گا اور امن کو آگے بڑھے گا۔
حماس کا کوئی مستقبل نہیں
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک ویڈیو بیان میں فخریہ طور پر اعلان کیا، "آج، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن کی امید کو بحال کرنے اور دو ریاستی حل کے لیے، برطانیہ رسمی طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے،"
لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر کئیر سٹارمر نے اصرار کیا کہ دو ریاستی حل "حماس کے لیے کوئی انعام نہیں ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ حماس کا کوئی مستقبل نہیں، حکومت میں کوئی کردار نہیں، سلامتی میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔"
سٹارمر نے کہا، "حماس ایک سفاک دہشت گرد تنظیم ہے۔ دو ریاستی حل کے لیے ہمارا مطالبہ ان کے نفرت انگیز وژن کے بالکل برعکس ہے۔"
اسرائیل فلسطینی ریاست کا قیام روکنے کیلئے سسٹمیٹک کام کر رہا ہے
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ "موجودہ اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو روکنے کے لیے سسٹمیٹک کام کر رہی ہے۔"
دو ریاستی حل ہی پائیدار امن اور سلامتی کا راستہ
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے کہا کہ ان کا فیصلہ آسٹریلیا کی "دو ریاستی حل کے لیے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ سے ہی اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کا واحد راستہ رہا ہے۔"
انہوں نے زور دے کر کہا کہ "دہشت گرد تنظیم حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔"
Captionبے گھر فلسطینی 20 ستمبر 2025 کو وادی غزہ کے قریب ساحلی سڑک پر اپنا سامان لے کر پیدل اور گاڑیوں میں شمالی غزہ کی پٹی سے بھاگ رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/عبدالکریم ہانا)
جنرل اسمبلی کے طوفان خیز اجلاس سے ایک روز پہلے طوفان
تین ترقی یافتہ ترین ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے مربوط اعلانات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے آغاز سے ایک روز قبل سامنے آئے، اس جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور دو ریاستی حل پر خاص توجہ دی جائے گی۔ سعودی عرب اور فرانس کل پیر کو نیویارک میں ایک سربراہی اجلاس کی بھی میزبانی کر رہے ہیں، جس میں مزید رہنما فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیل کے اندر "صیہونی سیاست" کی تلملاہٹ، بائیں بازو کی خاموشی
جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، اتوار کے اعلانات نے اسرائیل میں صہیونی سیاسی میدان میں غصے سے مذمت کی لہر دوڑادی۔ اسرائیل کا بایاں بازو اپنے اتحادی ممالک کے بائیں بازو کی حکومتوں کے نیتن یاہو کی حکومت کو "سزا دینے" کے عمل کو اتوار کے روز خاموشی سے دیکھتا رہا۔
دو ریاستی حل میں لیبر پارٹیوں کی حکومتوں کےعظیم اقدام کاکا پس منظر
اسرائیل کو آج تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والی انگلینڈ اور آسٹریلیا کی حکومتین "لیبر پارٹی" کی حکومتیں ہیں اور 1993 میں اسرائیل کی لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر اضحاک رابین نے اوسلو اکارڈ پر دستخط کر کے "دو ریاستی حل"/ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی ریاست کی قیام کی ابتدا کرتے ہوئے "پیس پروسیس" کا آغاز کیا تھا۔ اس اوسلو معاہدہ اور امن کا عمل شروع کرنے کے ردعمل میں پرائم منسٹر اضحاک رابین کو 1995 میں چاقو مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
اوسلو پیس پروسیس کیا تھا اوسلو پیس پروسیس کو عام طور سے صرف "امن کا عمل" بھی کہا جاتا رہا ہے۔ یہ پروسیس 1993 میں اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن PLO کے درمیان خفیہ مذاکرات کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ یہ مذاکرات، معطلی، ثالثی، دوبارہ مذاکرات اور دوبارہ معطلی کے پیچیدہ چکر کی شکل میں سست رفتار کے ساتھ آگے بڑھے۔
سنہ 2000 میں کیمپ ڈیوڈ سربراہی اجلاس کی ناکامی اور فلسطین میں دوسری انتفادہ کے پھوٹ پڑنے کے بعد اوسلو پیس پروسیس کے عملاً ختم ہونے تک کئی معاہدے طے پاگئے۔
دوسری انتفاضہ کے دوران، امن کے لیے روڈ میپ تجویز کیا گیا تھا، اور اس کا واضح مقصد دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تھا۔ تاہم جلد ہی یہ روڈ میپ بھی اوسلو پیس پروسیس کی طرح ایک تعطلی چکر میں داخل ہو گیا۔
امن منصوبے کا خاکہ اسرائیل کے مقتول پرائم منسٹر اضحاک رابین اور پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کے درمیان دستخط ہونے والے اوسلو معاہدے کے بیان کردہ اہداف میں دیگر چیزوں کے ساتھ جو خاص اہداف شامل تھے وہ یہ تھے: فلسطینی عبوری خود حکومت (فلسطینی اتھارٹی (PA) نہیں بلکہ فلسطینی قانون ساز کونسل)کا قیام اور سلامتی کونسل کی قراردادوں 342 اور 338 کے مطابق پانچ سال کے اندر حل نہ ہونے والے مسائل کا مستقل تصفیہ کرنا۔
اگرچہ ان معاہدوں میں فلسطینیوں کے "جائز اور سیاسی حقوق" کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن وہ عبوری مدت کے بعد اپنے مستقبل (اور حیثیت)کے بارے میں خاموش ہیں۔ اوسلو معاہدے میں نہ تو اوسلو پیس پروسیس کے بعد کی" فلسطینی خود مختار حکومت" کی نوعیت اور اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی وہ اس علاقے کی سرحدوں کی وضاحت کرتے ہیں جس پر یہ خود مختار فلسطینی حکومت بالاخر حکومت کرے گی۔
Caption اسرائیل کے وزیر اعظم اضحاک رابن (بائیں) اور فلسطین کے صدر یاسر عرفات (دائیں) 1993 میں وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن (درمیان) کی موجودگی میں مصافحہ کر رہے ہیں۔
اوسلو معاہدے کا بنیادی ایشو فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء تھا۔ یہ منصوبہ مرحلہ وار دستبرداری اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے فلسطینی حکام (موجودہ فلسطینی اتھارٹی) کو ذمہ داریاں بیک وقت منتقل کرنا تھا۔
اوسلو امن معاہدہ کی پیداوار؛ پرائم منسٹراضحاک رابین کا قتل اور بنجمن نیتن یاہو کا ظہور
اوسلو امن معاہدہ سے ایک طرف فلسطین کے قیام کا راستہ طے پایا، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی قائم ہوئی جس کے پہلے سربراہ یاسر عرفات بنے اور دوسرے سربراہ محمود عباس ہیں، دوسری طرف اس معاہدہ کے ردعمل میں اسرائیل کے اندر پرائم منسٹر اضحاک رابین کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ گئے اور 1993 کے الیکشن میں بنجمن نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی کو پہلی مرتبہ اہمیت ملی، 1996 میں اضحاک رابین کے قتل کے بعد ہونے والے پہلے الیکشن میں نیتن یاہو وزیراعظم بن گئے اور انہوں نے آتے ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ بند کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ نیتن یاہو 1999 کے الیکشن میں شکست کھا کر پرائیویٹ سیکٹر میں چلے گئے لیکن 2006 میں انہیں دوبارہ الیکشن میں کامیابی مل گئی، وہ دوسری بار وزیراعظم بنے ، تب سے ان کا اقتدار معمولی وقفے کے ساتھ اب تک جاری ہے، اس سارے عرصہ کے دوران اسرائیل کے اندر زیادہ وقت نیتن یاہو وزیراعظم رہے اور بائیں بازو کو کبھی اقتدار نہیں ملا۔
نیتن یاہو کا آج کا ردعمل؛ فلسطینی ریاست نہیں بنےگی
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کی صبح اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں، رسمی اعلانات سے پہلے کہا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبات کا جواب دے گا، اور اس اقدام کے خلاف "جنگ" کا مطالبہ کرے گا، جس سے ان کے بقول "[اسرائیل] کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔"
Caption وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، بائیں سے تیسرے نمبر پر، 21 ستمبر 2025 کو کابینہ کا اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ (Maayan Taof/GPO)
اس تسلیم کے بارے میں اسرائیل کا ردعمل اگلے ہفتے وزیر اعظم کی امریکہ سے واپسی کے بعد آئے گا، نیتن یاہو نے اتوار کو بعد میں کہا۔
وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج اتوار کو جاری کئے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ "میرا ان (تین ملکوں کے) رہنماؤں کے لیے واضح پیغام ہے جو 7 اکتوبر کو ہونے والے ہولناک قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں - آپ دہشت گردی کو بہت بڑا انعام دے رہے ہیں"۔
"یہ نہیں ہوگا،" اس نے جاری رکھا۔ اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی۔
نیتن یاہو نے فخر کیا کہ ان کی قیادت میں اسرائیل نے "یہودیہ اور سامریہ میں یہودی آباد کاری(سیٹلمنٹس) کو دوگنا کر دیا ہے - اور ہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔"
نیتن یاہو نے کہا کہ ہماری سرزمین کے قلب میں ایک دہشت گرد ریاست کو ہم پر مسلط کرنے کی حالیہ کوشش کا جواب میری امریکہ سے واپسی کے بعد دیا جائے گا۔ "انتظار کرو۔"
اب نیتن یاہو مغربی کنارے کو "ضم" کرنے کی طرف جائیں گے؟
حالیہ جولائی میں، اسرائیل کی کنیست نے دریائے اردن کےمغربی کنارے(فلسطینی اتھارٹی کے علاقے) میں "خودمختاری کے اطلاق" کی حمایت میں ایک غیر پابند تحریک کے حق میں 71-13 ووٹ دیا - مغربی کنارے کے علاقے پر فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول کے طے شدہ اصول سے پیچھے ہٹنے کا یہ اقدام نیتن یاہو کی حکومت کے اتحاد میں موجود دو انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا حمایت یافتہ ہ اقدام تصور کیا جاتاہے۔اب خیال کیا جاتا ہے کہ نیتن یاہو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کے جواب میں مغربی کنارے کے حصے کو ضم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو بدھ کی رات نیویارک جائیں گے اور پھر اگلے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جائیں گے۔ توقع ہے کہ وہ اگلے بدھ تک اسرائیل واپس پہنچ جائیں گے۔ اور اس کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنے کے تمام اقدامات کا کوئی جواب دینے کی کوشش کریں گے۔
آج اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دولت مشترکہ کے ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم کے ہاتھوں ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کے سب سے بڑے قتل عام کا صلہ دیتا ہے جو اسرائیل کے خاتمے کے لیے آواز اٹھا رہی ہے بلکہ حماس کو حاصل حمایت کو بھی مستحکم کرتی ہے۔ "اسرائیل کسی بھی علیحدہ اور خیالی متن کو قبول نہیں کرے گا جو اسے ناقابل دفاع سرحدوں کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔"
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون ساعار نے الزام لگایا کہ یہ ممالک "ایک ایسا قدم اٹھا رہے ہیں جو نہ صرف غلط ہے، بلکہ اشتعال انگیز اور غیر اخلاقی بھی ہے۔"
Captionاسرائیل کے اپوزیشن لیڈر اور یش اتید کے چیئرمین ایم کے یائر لاپڈ یکم ستمبر 2025 کو تل ابیب میں یش اتید پارٹی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ (فوٹو: Avshalom Sassoni/Flash90)
یہ سفارتی تباہی ہے،اسرائیل میں کوئی اور حکومت ہوتی تو یہ نہ ہوتا، اپوزیشن لیڈر یائیو لیپڈ
اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے آج تین اہم ممالک کے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لینے کے اقدام کو "ایک نقصان دہ قدم، اور دہشت گردی کا انعام" قرار دیا۔ انہوں نے اسے اسرائیل کی ایک "سفارتی تباہی" قرار دیا جسے ایک مختلف اسرائیلی حکومت روک سکتی تھی۔
تباہ کن اور انتہائی نقصان دہ: ہائیو گولن
بائیں بازو کی ڈیموکریٹس پارٹی کے چیئرمین یائر گولن نے کہا کہ تین ملکوں کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا اسرائیل کے لیے "تباہ کن" اور "انتہائی نقصان دہ" ہے۔
منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم : محمود عباس
دریں اثنا، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ "بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم ہے۔"
Caption اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین اور مظاہرین 16 ستمبر 2025 کو یروشلم میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران تصاویر اٹھا رہے ہیں جس میں ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ (احمد غرابلی / اے ایف پی)
فلسطین کو تسلیم کرنے کے عمل کو یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط کرنے کا مطالبہ یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے "فلسطینی ریاست کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے کے لئے تینوں ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کا عم لقرار دیا کہ 48 یرغمالی حماس کی قید میں ہیں۔"
فورم نے اسے "اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا،" خاندانوں کے طور پر جو خطے میں گہری امن کے خواہاں ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں کوئی بھی بات چیت تمام مغویوں کی فوری رہائی پر منحصر ہونی چاہیے۔
فورم نے دیگر اقوام پر زور دیا کہ وہ "ذمہ داری سے کام کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے پیاروں کو گھر لانے کے بعد ہی کوئی بھی 'بعد کے دن' بات چیت ہو۔"
نیتن یاہو پر مزید بجلیاں گرنے والی ہیں
فرانس، انڈورا، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، پرتگال اور سان مارینو سے بھی اس ہفتے اقوام متحدہ میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی توقع ہے۔
Caption صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 ستمبر 2025 کو آئلسبری، انگلینڈ کے قریب چیکرز میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/ایون ووکی)
امریکہ کیا کر پایا؛ محمود عباس کی جنرل اسمبلی میں جسمانی موجودگی ہی روک پایا
ان اعلانات کے احتجاج میں کہ مغربی ممالک کی ایک لہر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گی، واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے دیگر عہدیداروں کو جنرل اسمبلی میں شرکت سے روک دے گی۔ اقوام متحدہ نے جمعے کے روز بھاری اکثریت سے ووٹ دیا کہ محمود عباس کو عملی طور پر تقریر کرنے دیں۔ اب محمود عباس جنرل اسمبلی میں فزیکلی تو نہیں بیٹھیں گے لیکن ان کا خطاب ویڈیو لنک کے ذریعہ تب بھی ہو گا۔
فلسطین کو تسلیم کرنے والی تینوں ریاستیں امریکہ کی قریبی سٹریٹیجک اتحادی ہیں لیکن امریکہ انہیں فلسطین کو تسلیم کرنے سے روکنے میں بری طرح ناکام ہوا، بلکہ دراصل تو کسیب ھی ملک نے اس موضوع پر امریکہ کی بات سنی ہی نہیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران کہا تھا کہ وہ سٹارمر کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے سے متفق نہیں ہیں، ان اطلاعات کے درمیان کہ سٹارمر امریکی صدر کے ملک چھوڑنے کے بعد ایسا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
لندن کے باہر برطانوی پی ایم کے ساتھ رسمی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ "اس موضوع پر ان کے وزیر اعظم کے ساتھ کچھ اختلافات تھے، جو ہمارے چند اختلافات میں سے ایک ہے۔"
سٹارمر نے کہا کہ وہ اور ٹرمپ اس کے باوجود خطے میں امن کے حتمی مقصد پر متفق ہیں۔
تین چوتھائی ملک فلسطین کو تسلیم کر چکے
اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، جسے جنرل اسمبلی نے 2012 میں عالمی ادارے میں اس کے مبصر کی حیثیت کو "اینٹیٹی" سے "غیر رکن ریاست" میں اپ گریڈ کرکے حقیقت میں تسلیم کرنے کی منظوری دی۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے تباہ کن حملے سے شروع ہونے والی غزہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے کئی دیگر یورپی ممالک، جیسے سپین اور ناروے، نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سٹی42: کینیڈا اور آسٹریلیا نے 'آزاد اور خودمختار ریاست فلسطین' کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل اپنے ملکوں کی طرف سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پرائم منسٹر کارنی نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ "موجودہ اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو روکنے کے لیے طریقہ کار سے کام کر رہی ہے۔"
"کینیڈا ریاست فلسطین کو تسلیم کرتا ہے اور ریاست فلسطین اور اسرائیل کی ریاست دونوں کے لیے پرامن مستقبل کے وعدے کی تعمیر میں ہماری شراکت کی پیشکش کرتا ہے،" پرائم منسٹر مارک کارنی کہتے ہیں۔
پرائم منسٹر البانی نے کہا کہ ان کے ملک کی جانب سے "فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست" کو تسلیم کرنا آسٹریلیا کے "دو ریاستی حل کے لیے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ سے اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کا واحد راستہ رہا ہے۔"
انہوں نے زور دیا کہ "دہشت گرد تنظیم حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔"
سٹی42: بریکنگ نیوز یہ ہے کہ انگلینڈ کی بائیں بازو کی لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر کئیرسٹارمر نے 'امن کی امید کو زندہ کرنے کے لیے' انگلینڈ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے آسٹریلیا کی بائیں بازو کی لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر اور کینیڈا کی بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی لبرل ڈیموکریٹک حکمران پارٹی کے پرائم منسٹر بھی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کر چکے ہیں۔ کینیڈا اور آسٹریلیا کے اسی طرح کے اعلانات کے چند منٹ بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے برطانیہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک بیان میں، پرائم منسٹر کئیر سٹارمر کنے کہا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں تنازعات کے خاتمے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن کو فروغ دینے میں مدد کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔
"آج، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن کی امید کو بحال کرنے، اور دو ریاستی حل کے لیے، برطانیہ رسمی طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے،" وہ X پر کہتے ہیں۔
( ویب ڈیسک )امریکا کے ویزا دینے سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اجلاس سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دے دی۔
کئی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا۔
کینیڈا، فرانس، برطانیہ، بیلجیم اور آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک باضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔
سٹی42: کل اتوار کے روز سے اسرائیل کے ہٹ دھرمی کی آخری انتہا پر پہنچے ہوئے وزیراعظم اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی وزیروں کو تشنج کے جھٹکے لگنے کی ابتدا ہو گی۔ پہلے یہ جھٹکے پیر 22 ستمبر کے روز سے آغاز ہونا تھے لیکن کل جمعہ کے روز لزبن میں پرتگال کی حکومت نے اچانک اعلان کر دیا کہ وہ اپنے حصے کا جھٹکا اتوار 21 ستمبر کو لگائیں گے۔ یہ - درحقیقت کئی- جھٹکے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے باضابطہ اعلانات سے آنے والے ہیں۔
کل جمعہ کے روز سے پہلے بھی اسرائیل کا دائیں بازو کا حکمران اتحاد نیویارک میں جنرل اسمبلی کی خصوصی کانفرنس سے یہ توقع کر رہا تھا کہ وہاں سے اسے جھٹکے لگیں گے اور کئی ملک جن میں فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا شامل ہیں فلسطین کو آذاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیں گے۔ لیکن پرتگال والا جھٹکا اسرائیل اور بہت سے دوسرے آبزرورز کے لئے غیر متوقع ہے۔
پرتگال نے 21 ستمبر سے فلسطین کو آزاد ملک حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام پر اسرائیل دَم بخود ہے۔ فرانس کے صدر عمانوئل میکروں کے مشیر نے کہا ہے کہ اینڈورا، آسٹریلیا، بلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور سین مرینو جیسے ملک بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کی تیاری میں ہیں۔ انگلینڈ کے وزیراعظم کئیر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد الگ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ حالانکہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنی ملاقات کے دوران انہیں فلسطین کو تسلیم کرنے سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی اور میڈیا کے سامنے اس کا اظہار بھی کیا کہ انہوں نے سٹارمر کو روکا ہے اور ان کا سٹارمر کے ساتھ اس موضوع پر اختلاف ہے۔۔ اسرائیل اور فلسطین کی جاری جنگ کے درمیان پرسوں پیر کے روز 22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔
فرانس اور سعودی عرب کی کوشش سے ہو رہی اس خاص میٹنگ میں گفتگو پوری طرح سے ’2 ریاستی حل‘ (ٹو سٹیٹس سالیوشن)پر مرکوز رہنے والی ہے۔
اس میٹنگ سے عین قبل یورپی ملک پرتگال نے کچھ ایسا اعلان کیا ہے، جس نے اسرائیل کو دَم بخود کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو جھٹکا دیتے ہوئے پرتگال نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو آزاد ملک کی شکل میں منظوری عطا کرے گا۔ پرتگال نے آفیشل سٹیٹمنٹ میں بتایا کہ وہ کل 21 ستمبر (اتوار) کو فلسطین کو آزاد ملک کی شکل میں منظوری دے گا۔ پرتگال کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز جاری بیان میں یہ اطلاع دی۔ لزبن نے جولائی میں ہی واضح کر دیا تھا کہ مستقل بگڑتے حالات، انسانی بحران اور اسرائیل کی بار بار دی جا رہی دھمکیوں کے بعد یہ قدم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ پرتگال کے قدم سے اسرائیل کی اتحادی حکومت دَم بخود ہے۔ اسرائیل جنرل اسمبلی کی پرسوں ہونے والی میٹنگ سے قبل پیدا ہو رہے ماحول کو لے کر بھی فکر مند ہے۔ کئی مغربی اور یوروپی ممالک ہیں جو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں فلسطین کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے کئی ملکوں کے ان اعلانات کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہین کی گئی ،بس اتنا کیا گیا کہ پرائم منسٹر نیتن یاہو نے ہر ملک کی جانب سے ایسے اعلان کے بعد ایک سٹیریو ٹائپ بیان دیا کہ غزہ جنگ کے دوران فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان حماس کو دہشتگردی کا انعام دینے کے مترادف ہو گا۔ ان بیانات سے فرانس، آسٹریلیا، انگلینڈ، کینیڈا- فلسطین کو تسلیم کرنے کی طرف جا رہے کسی بھی ملک کے ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ جو ملک آنے والے چند دنوں میں فلسطین کو تسلیم کرنے جا رہے ہین وہ فلسطین کی پی ایل او کی قیادت مین کام کر رہی "فلسطینی اتھارٹی" سے پہلے ہی یہ ضمانتیں لے چکے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی، فلسطین میں حماس کا کوئی کردار نہیں رہنے دے گی۔ یہ سب ممالک 7 اکتوبر 2023 کو غزہ جنگ کے آغاز سے پہلے بھی حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں دیکھتے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ خود فلسطینی اتھارٹی حماس کے سخت خلاف ہے۔
اسرائیلی حکومت کی دلیل ہے کہ فلسطین کو منظوری دینے سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا اور امن و امان کا عمل کمزور ہوگا۔ اس کے بالکل برعکس فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھنے والے سبھی ملک کئی مہینوں سے اسرائیل کی اتحادی حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ غزہ میں جنگ بند کرے، سیٹلمنٹس کی اپنی پالیسی ترک کرے اور دو ریاستی حل کی طرف بڑھے ورنہ وہ مجبوراً فلسطین کو تسلیم کر لیں گے۔ ان مین سے کوئی بھی ملک حماس سے ہمدردی نہین رکھتا لیکن وہ حماس کی آڑ مین غزہ جنگ جاری رکھنے اور وہاں سنجیدہ نوعیت کا ہیومینیٹیرین کرائسس پیدا کرنے کے بھی سخت ناقد ہیں۔
اسرائیل کی حکومت کو غزہ جنگ اور دیگر انتہا پسندانہ پالیسیوں سے روکنے کے لئے فلسطین کو تسلیم کرنے کی پالیسی کا لیڈر فرانس ہے، فرانس مستقل آزاد فلسطینی ملک کے حق میں آواز اٹھا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانوئل میکروں کے مشیر کا کہنا ہے کہ اینڈورا، آسٹریلیا، بلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور سین مرینو جیسے ممالک بھی فلسطین کو منظوری دینے کی تیاری میں ہیں۔ جیسے حالات بن رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے صاف پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ، کینیڈا اور فرانس جیسے بڑے مغربی ممالک اس مرتبہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین کو منظوری دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ فی الحال اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً تین چوتھائی فلسطین کو پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔
پیر 22 ستمبر کو جب نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں ’2 ریاستی حل‘ پر گفتگو ہو رہی ہوگی۔ اسی دوران فرانس اور سعودی عرب مل کر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کریں گے۔ اس کانفرنس میں ناروے اور اسپین کی بھی شرکت رہے گی۔ کانفرنس کا اہم مقصد فلسطینی اتھارٹی کو معاشی بحران سے بچانا ہے۔ اسرائیل 4 ماہ سے فلسطینی اتھارٹی کے لیے وصول کیے گئے کروڑوں ڈالر کی رقم روک رکھی ہے، جس سے اس کی مالی حالت انتہائی خستہ ہو گئی ہے۔
مڈ ٹاؤن میں مکس اپ یہ واقعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں میکرون کے خطاب کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے فرانس کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ جیسے ہی فرانسیسی صدر اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے باہر نکلے اور فرانسیسی سفارت خانے کی طرف جا رہے تھے، ان کی گاڑی کو نیویارک پولیس نے ٹرمپ کے صدارتی قافلے کے راستے کو محفوظ بناتے ہوئے روک لیا۔
Caption پریذیڈنٹ میکروں نے سڑک پر روکے جانے کو خوشدلی سے مینیج کیا، جب وہ صدر ٹرمپ کو فون کر کے شکایت کر رہے تھے، اس وقت ان کے مداح سیلفیاں اور ویدیو کلپ بنا رہے تھے۔ اس وقت وہاں سیلفی بنانے کے امیدواروں کی قطار لگ چکی تھی۔
فرانسیسی میڈیا آؤٹ لیٹ برٹ کی طرف سے بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں، ایک افسر کو پریذیڈنٹ میکروں سے معافی مانگتے ہوئے سنا گیا ہے، "مجھے افسوس ہے جناب صدر، ابھی سب کچھ مسدود ہے۔" فرنچ پریذیڈنٹ کو اپنی گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، وہ اپنے شیڈول میں غیر متوقع وقفے پر خوش اور قدرے ناراض دکھائی دے رہے تھے جب کہ مداح اس اچانک پیدا ہو جانے والے گولڈن موقع کو لے کر میکروں کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
میکروں نے سڑک پر تاخیر کے درمیان ٹرمپ کو فون کیا ہلکے پھلکے موڈ میں، میکروں نے ٹرمپ کو براہ راست ڈائل کیا، ان کی وجہ سے اپنے ٹریفک میں بند ہو جانے کا مذاق اڑایا۔ "اندازہ لگائیں کیا، میں گلی میں انتظار کر رہا ہوں کیونکہ سب کچھ آپ کے لیے مسدود ہے،" میکروں نے طنز کیا، پریذیڈنٹ میکروں کے الفاظ کو معاونین نے سنا اور جزوی طور پر ویڈیو پر بھی ریکارڈ ہوئے۔
Captionاس واقعہ نے اقوام متحدہ کے اجتماع کے سنگین سفارتی پس منظر کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی تعلقات کو اجاگر کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس نے پہلے ہی مین ہٹن میں اوور لیپنگ موٹر کیڈز، سڑکوں کی بندش اور سخت سیکیورٹی کے ساتھ توجہ مبذول کرائی ہے۔ میکرون کی مختصر ہولڈ اپ نے نیویارک میں متعدد عالمی رہنماؤں کی میزبانی کی لاجسٹک پیچیدگیوں کو واضح کیا، جہاں صدر بھی گرڈ لاک سے محفوظ نہیں ہیں۔
میکروں کے ساتھ تو نیویارک میں صرف سڑک پر روکے جانے کا سانحہ ہی ہوا ہے، فلسطین کے صدر کو امریکہ کے غصیلے صدر نے جنرل اسمبلی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک آنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ صدر محمود عباس کو فرانس اور سعودی عرب کی بلائی ہوئی ٹو سٹیٹ سمِٹ سے خطاب کرنے کے لئے فلسطین کے شہر رام اللہ میں اپنے دفتر میں ویڈیو کیمرے کے سامنے بیٹھنا پڑا۔
چینل 12 کے مطابق سعودی عرب کے حکام نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں، لیکن چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ وہ (سعودی عرب) نارملائزیشن کو مردہ قرار دے سکتے ہیں یا ایک بار پھر اپنی فضائی حدود کو اسرائیلی پروازوں کے لیے بند کر سکتے ہیں، جسے انہوں نے 2022 میں کھولا تھا۔
نیوز آؤٹ لیٹ چینل 12 کے مطابق، سعودی حکام اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، مصر اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتھ غزہ کی جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دریں اثناء اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج ایک اجلاس منعقد کیا جس میں مغربی ممالک کے اس ہفتے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسرائیل کی اتحادی حکومت کے نزدیک کئی ملکوں کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کے اقدامات کے جوابات میں مغربی کنارے کے "علاقے A" کے حصوں کی درجہ بندی کو ایریا B میں تبدیل کرنا شامل ہے.
اس ممکنہ اقدام کا مطلب ہے کہ یہ علاقے فلسطینی سیکیورٹی اور سول کنٹرول (صدر محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی)سے اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول میں چلے جائیں اور فلسطینی اتھارٹی کا صرف سول کنٹرول باقی رہ جائے۔ اسرائیل کے جواب مین یہ بھی ہو گا کہ فلسطین کے موجودہ " ایریا B" کے کچھ حصے کا "ایریا C" میں بدل دیئے جائیں۔ یعنی ان علاقوں کو اسرائیل کے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کے تحت کر دیا جائے۔۔
اسرائیل کی حکومت کے دیگر ردعمل میں کچھ ممالک کے قونصل خانے بند کرنا شامل ہو سکتا ہے جو فلسطین کی ایک آزاد ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، خاص طور پر فرانس کے قونصل خانے بند کئے جا سکتے ہیں جو فلسطین کو تسلیم کرنے کی حالیہ انٹرنیشنل کیمپین کا اصل محرک ملک ہے۔
اسرائیل کی اتحادی کابینہ کی آج کی میٹنگ میں سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے زور دیا کہ چاہے کچھ بھی ہو، امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جانی چاہیے۔
اس طرح، اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ نیتن یاہو اگلے ہفتے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات (اور مشاورت) کر کے واپس نہیں آتے، وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج شام کے اوائل میں ایک ویڈیو بیان میں یہ ہی کہا تھا۔
فلسطین کے ایریا A, ایریا B اور ایریا C کیا ہیں
اوسلو معاہدہ کے تحت "Two States Solution"(دو ریاستیں حل ہیں) کے اصول کو مانتے ہوئے، فلسطین کی مکمل آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے جن علاقوں کو "فلسطینی اتھارٹی" کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، ان میں سے کچھ علاقوں کا کنٹرول اسرائیل نے فوری طور پر مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کو منتقل نہیں کیا تھا، اسے بعد میں عمل کا عمل (پیس پروسیس) مکمل ہونے پر فلسطین کی اتھارٹی کو منتقل کرنا طے تھا۔
اس عبوری ارینجمنٹ کے تحت فلسطین کی اتھارٹی کے سپرد کئے گئے مغربی کنارے کو ایریاز A، B، اور C میں تقسیم کیا گیا ہے (بعض اوقات لوگ انہیں غلطی سے "List A, B, C" کہتے ہیں)۔ یہ علاقوں کی یہ انتظامی تقسیم اوسلو II معاہدے (1995) کے تحت اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان طے کی گئی تھی۔ یہ تین ایریاز فلسطینی اتھارٹی (PA) اور اسرائیل کے ذریعے استعمال کیے جانے والے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کی سطحوں کی وضاحت کرتے ہیں۔
اس کا بریک ڈاؤن یوں ہے:
ایریا اے
یہ وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی (PA) کا مکمل سول اور سیکیورٹی کنٹرول مانا گیا ہے۔
حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 18 فیصد۔
مقام/ محلِ وقوع: بنیادی طور پر مغربی کیارے کے علاقہ میں واقع بڑے فلسطینی شہر اور ان شہروں کے ،ضافات کے علاقے، جیسے نابلس، رملہ، بیت لحم، جنین، قلقیلیہ، تلکرم، جیریکو، اور ہیبرون شہر کا 80% حصہ۔
اسرائیل فورسز (IDF) عام طور پر یہاں کام نہیں کرتی ہیں، حالانکہ عملی طور پر، وہ کبھی کبھی ان علاقوں میں جا کرچھاپے مارتی ہیں۔
ایریا بی
یہ مغربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا سول کنٹرول مانا گیا۔ اس کنٹرول میں تعلیم، صحت، مقامی حکومت، وغیرہ کے تمام شعبے شامل ہیں۔
ایریا B میں اسرائیل کا عبوری طور پر سیکورٹی کنٹرول (انسداد دہشت گردی، بیرونی سلامتی) تسلیم کیا گیا۔ ان تمام ایریاز مین جو ایریا B کی فہرست میں شامل ہیں, IDF عملاً موجود رہتی ہے۔
حد/ رقبہ: فلسطینی اتھارٹی کو دیئے گئے رقبہ میں سے مغربی کنارے کا تقریباً 22 فیصد رقبہ ایریا B ہے۔ یعنی یہ علاقے اسرائیل کے فوجی کنٹرول مین ہیں لیکن یہاں سویلین انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کی ہے۔
مقام/محل وقوع: مغربی کنارے کے زیادہ تر دیہی قصبات، دیہات اور کچھ پناہ گزین کیمپ ایریا B ہیں۔
ان تمام علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار روزمرہ کی زندگی کی شہری سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اسرائیل نے سکیورٹی اختیارات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایریا سی
یہ مگربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جن کو اوسلو معاہدہ کے تحت مستقبل کے فلسطین کا حصہ تو تسلیم کیا گیا لیکن یہاں اسرائیل کا مکمل سول اور سیکورٹی کنٹرول باقی رکھا گیا۔
حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 60% (رقبہ کے لحاظ سےاکثریت علاقہ)۔
مقام/محل وقوع: ایریا C مغربی کنارے کے علاقوں میں موجوداسرائیلی بستیوں، سٹریٹیجک زمینی علاقوں، وادیِ اردن، اور دیہی/غیر ترقی یافتہ زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی PA کی یہاں موجودگی بہت محدود ہے۔
ایریا سی C میں شمار کئے گئے تمام علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کرنے، انفراسٹرکچر تعمیر کرنے یا اسے تبدیل کرنے یا زراعت کاری کرنے کے لیے اسرائیل کے اجازت نامے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل نے ایریا C کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے۔
موجودہ صورتحال
آج یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی قرار دیئے علاقوں میں وسیع تبدیلیاں کر کے ایریا اے اور ایریا بی کو مزید کم کرنے کی طرف جا رہا ہے۔