ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حماس اسرائیل کے آدھے یرغمالی چھوڑنے پر رضا مند، دو ماہ جنگ بندی کی شرط

Two state solution, General Assembly,
کیپشن: file photo حماس کی جانب سے اسرائیل سے اغوا کئے گئے یرغمالیوں میں سے ایک کو اسرائیل سے قیدیوں کے بدلے رہا کرنے کا سودا طے ہونے کے بعد ایک یرغمالی کو رہا کیا جا رہا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  حماس نے صدر ڈولڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 60 روزہ معاہدے  پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
فاکس نیوز نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور  دوحہ مذاکرات میں شامل ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ غزہ میں 60 دن کی جنگ بندی کی ضمانت دیں جس کے بدلے حماس اپنے  قبضہ مین موجود  آدھے یرغمالیوں کو رہا کر دے گی۔

رپورٹ کے مطابق یہ خط اس وقت قطر کے پاس ہے اور ہفتے کے آخر میں ٹرمپ کو دیا جائے گا۔

قطر نے غزہ میں بقیہ 48 یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں روک دی ہیں جب سے اسرائیل نے اس ماہ کے شروع میں دوحہ میں حماس کی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔

حماس نے اسرائیلل کے آڈھے یرغمالیوں کو اپنی قید سے رہا کرنے کے لئے جنگ بندی کی شرط کے ساتھ خط اس وقت لکھا ہے جب فلسطین کے حامی درجنوں ملک نیویارک میں اکٹھے ہو کر دو ریاستوں کی تشکیل کے  حل پر زور دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس اسرائیل کے تمام یرغمال بنائے ہوئے شہریوں کو فوراً  غیر مشروط طور پر رہا کرے، اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کو واپس کر دے۔