ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطین کے ایریا A,  ایریا B اور ایریا C کیا ہیں

Two state solution, Area A, Area B, Area C, Canada, Australia, England, Mark Carney, General Assembly,
کیپشن: File Photo of The West Bank area

سٹی42:  اتوار  21 ستمبر کو دنیا کے چار اہم ملکوں نے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہے اور آج پیر  22 ستمبر کو نیویارک میں فرانس کی سرکردگی میں "ٹو سٹیٹ سالیوشن" کی طرف بڑھنے کے لئے ایک انتہائی اہم انترنیشنل کانفرنس ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ جنرل اسمبلی کا بھی آغاز ہو رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ جنرل اسمبلی میں کئی مزید ملک فلسطین کو تسلیم کریں گے۔  دوسری طرف اسرائیل نے اوسلو معاہدہ کے تحت جس علاقہ کو مستقبل کا فلسطین تسلیم کیا اور جہاں فلسطینی اتھارٹی کو محدود اختیارات دیئے، اسرائیل نے اتوار کے روز یہ عندیہ دیا کہ وہ ان علاقوں میں دیئے گئے اختیارات کو مزید محدود کرے گا اور ممکن ہے کہ کچھ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کر لے گا۔

 اسرائیل کے منصوبہ کی معمولی تفصیل جو میڈیا میں سامنے آئی ہے اس میں مغربی کنارے کے ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی کے تسلیم شدہ  معاملہ کو چھیڑنے اور علاقوں کا سٹیٹس بدل دینے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔

فلسطین کے ایریا A,  ایریا B اور ایریا C کیا ہیں

اوسلو معاہدہ کے تحت "Two States Solution"(دو ریاستیں حل ہیں) کے اصول کو مانتے ہوئے،  فلسطین کی مکمل آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے جن علاقوں کو "فلسطینی اتھارٹی" کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، ان میں سے کچھ علاقوں کا کنٹرول اسرائیل نے فوری طور پر مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کو منتقل نہیں کیا تھا، اسے بعد میں عمل کا عمل (پیس پروسیس) مکمل ہونے پر فلسطین کی اتھارٹی کو منتقل کرنا طے تھا۔

اس عبوری ارینجمنٹ کے تحت فلسطین کی اتھارٹی کے سپرد کئے گئے مغربی کنارے کو ایریاز A، B، اور C میں تقسیم کیا گیا ہے (بعض اوقات لوگ انہیں غلطی سے "List A, B, C" کہتے ہیں)۔ یہ علاقوں کی یہ انتظامی تقسیم اوسلو II معاہدے (1995) کے تحت اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان طے کی گئی تھی۔  یہ تین ایریاز فلسطینی اتھارٹی (PA) اور اسرائیل کے ذریعے استعمال کیے جانے والے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کی سطحوں کی وضاحت کرتے ہیں۔

اس کا بریک ڈاؤن یوں ہے:

ایریا اے

یہ وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی (PA) کا مکمل سول اور سیکیورٹی کنٹرول مانا گیا ہے۔

حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 18 فیصد۔

مقام/ محلِ وقوع:  بنیادی طور پر  مغربی کیارے کے علاقہ میں واقع بڑے فلسطینی شہر اور ان شہروں کے ،ضافات کے علاقے، جیسے نابلس، رملہ، بیت لحم، جنین، قلقیلیہ، تلکرم، جیریکو، اور ہیبرون شہر کا 80% حصہ۔

اسرائیل فورسز (IDF) عام طور پر یہاں کام نہیں کرتی ہیں، حالانکہ عملی طور پر، وہ کبھی کبھی ان علاقوں میں جا کرچھاپے مارتی ہیں۔

ایریا بی

یہ مغربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا سول کنٹرول  مانا گیا۔ اس کنٹرول میں تعلیم، صحت، مقامی حکومت، وغیرہ کے تمام شعبے شامل ہیں۔

ایریا B میں اسرائیل کا عبوری طور پر سیکورٹی کنٹرول (انسداد دہشت گردی، بیرونی سلامتی) تسلیم کیا گیا۔ ان تمام ایریاز مین جو ایریا B کی فہرست میں شامل ہیں, IDF عملاً موجود رہتی ہے۔

حد/ رقبہ:  فلسطینی اتھارٹی کو دیئے گئے رقبہ میں سے مغربی کنارے کا تقریباً 22 فیصد رقبہ ایریا B ہے۔ یعنی یہ علاقے اسرائیل کے فوجی کنٹرول مین ہیں لیکن یہاں سویلین انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کی ہے۔

مقام/محل وقوع:  مغربی کنارے کے زیادہ تر دیہی قصبات، دیہات اور کچھ پناہ گزین کیمپ ایریا B ہیں۔

ان تمام علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار  روزمرہ کی زندگی کی شہری سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اسرائیل نے سکیورٹی اختیارات کو برقرار رکھا  ہوا ہے۔

ایریا سی

یہ مگربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جن کو اوسلو معاہدہ کے تحت مستقبل کے فلسطین کا حصہ تو تسلیم کیا گیا لیکن یہاں اسرائیل کا مکمل سول اور سیکورٹی کنٹرول باقی رکھا گیا۔

حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 60% (رقبہ کے لحاظ سےاکثریت علاقہ)۔

مقام/محل وقوع:    ایریا C مغربی کنارے کے علاقوں میں موجود اسرائیلی بستیوں، سٹریٹیجک زمینی علاقوں، وادیِ اردن، اور دیہی/غیر ترقی یافتہ زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی PA کی یہاں موجودگی بہت محدود ہے۔

ایریا سی C میں شمار کئے گئے تمام علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کرنے، انفراسٹرکچر  تعمیر کرنے یا اسے تبدیل کرنے یا  زراعت  کاری کرنے کے لیے اسرائیل کے اجازت نامے کی ضرورت ہے۔

 اسرائیل نے ایریا C کے کچھ حصوں کو  اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے۔

موجودہ صورتحال

آج یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی قرار دیئے علاقوں میں وسیع تبدیلیاں کر کے ایریا اے اور ایریا بی کو مزید کم کرنے کی طرف جا رہا ہے۔