ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مغربی کنارے کا الحاق "ریڈ لائن"ہے, سعودی عرب کی اسرائیل کو وارننگ

Two state solution, West Bank, List A, List B, Canada, Australia, England, Mark Carney, General Assembly,

سٹی42:  سعودی عرب نے اسرائیل کو خبردار کرنے کے لیے کہا ہے کہ مغربی کنارے کا الحاق "ریڈ لائن"ہے۔ سعودی عرب کی اسرائیل کو یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کئی یورپی ملکوں اور آسٹریلیا کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کے جواب میں اپنے  اگلے اقدامات کے متعلق ناپ تول میں الجھا ہوا ہے۔

اسرائیل کے نیوز  چینل 12 کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر اس نے دریائے اردن مغربی کنارے (موجودہ فلسطینی علاقہ) کے کچھ حصے کو اپنے ساتھ ملایا تو اس کے "تمام شعبوں میں بڑے مضمرات" ہوں گے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے آج ہی یہ عندیہ دیا گیا کہ وہ امریکہ کے دورہ سے واپس آتے ہی  مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی طرف جا سکتے ہیں۔

چینل 12 کے مطابق سعودی عرب کے حکام  نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں، لیکن  چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ وہ (سعودی عرب) نارملائزیشن کو مردہ قرار دے سکتے ہیں یا ایک بار پھر اپنی فضائی حدود کو اسرائیلی پروازوں کے لیے بند کر سکتے ہیں، جسے انہوں نے 2022 میں کھولا تھا۔

نیوز آؤٹ لیٹ چینل 12 کے مطابق، سعودی حکام اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، مصر اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتھ غزہ کی جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دریں اثناء اسرائیل کے  وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج ایک اجلاس منعقد کیا جس میں مغربی ممالک کے اس ہفتے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسرائیل کی اتحادی حکومت کے نزدیک کئی ملکوں کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کے اقدامات کے جوابات میں مغربی کنارے کے "علاقے A" کے حصوں کی درجہ بندی کو ایریا B میں تبدیل کرنا شامل ہے.

اس ممکنہ اقدام کا مطلب ہے کہ یہ علاقے فلسطینی سیکیورٹی اور سول کنٹرول  (صدر محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی)سے اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول میں چلے جائیں اور فلسطینی اتھارٹی کا صرف سول کنٹرول باقی رہ جائے۔ اسرائیل کے جواب مین یہ بھی ہو گا کہ فلسطین کے موجودہ " ایریا B" کے کچھ حصے کا "ایریا C"  میں بدل دیئے جائیں۔  یعنی ان علاقوں کو اسرائیل کے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کے تحت کر دیا جائے۔۔

اسرائیل کی حکومت کے دیگر ردعمل میں کچھ ممالک کے قونصل خانے بند کرنا شامل ہو سکتا ہے جو فلسطین کی ایک آزاد ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، خاص طور پر فرانس کے قونصل خانے بند کئے جا سکتے ہیں جو فلسطین کو تسلیم کرنے کی حالیہ انٹرنیشنل کیمپین کا اصل محرک ملک ہے۔

اسرائیل کی اتحادی کابینہ کی آج کی میٹنگ میں سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے زور دیا کہ چاہے کچھ بھی ہو، امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جانی چاہیے۔

اس طرح، اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ نیتن یاہو اگلے ہفتے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات  (اور مشاورت) کر کے واپس نہیں آتے، وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج شام کے اوائل میں ایک ویڈیو بیان میں یہ ہی کہا تھا۔

فلسطین کے ایریا A,  ایریا B اور ایریا C کیا ہیں

اوسلو معاہدہ کے تحت "Two States Solution"(دو ریاستیں حل ہیں) کے اصول کو مانتے ہوئے،  فلسطین کی مکمل آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے جن علاقوں کو "فلسطینی اتھارٹی" کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، ان میں سے کچھ علاقوں کا کنٹرول اسرائیل نے فوری طور پر مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کو منتقل نہیں کیا تھا، اسے بعد میں عمل کا عمل (پیس پروسیس) مکمل ہونے پر فلسطین کی اتھارٹی کو منتقل کرنا طے تھا۔

اس عبوری ارینجمنٹ کے تحت فلسطین کی اتھارٹی کے سپرد کئے گئے مغربی کنارے کو ایریاز A، B، اور C میں تقسیم کیا گیا ہے (بعض اوقات لوگ انہیں غلطی سے " List A, B, C" کہتے ہیں)۔ یہ علاقوں کی یہ انتظامی تقسیم اوسلو II معاہدے (1995) کے تحت اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان طے کی گئی تھی۔  یہ تین ایریاز فلسطینی اتھارٹی (PA) اور اسرائیل کے ذریعے استعمال کیے جانے والے سول اور سیکیورٹی کنٹرول کی سطحوں کی وضاحت کرتے ہیں۔

اس کا بریک ڈاؤن یوں ہے:

ایریا اے

یہ وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی (PA) کا مکمل سول اور سیکیورٹی کنٹرول مانا گیا ہے۔

حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 18 فیصد۔

مقام/ محلِ وقوع:  بنیادی طور پر  مغربی کیارے کے علاقہ میں واقع بڑے فلسطینی شہر اور ان شہروں کے ،ضافات کے علاقے، جیسے نابلس، رملہ، بیت لحم، جنین، قلقیلیہ، تلکرم، جیریکو، اور ہیبرون شہر کا 80% حصہ۔

اسرائیل فورسز (IDF) عام طور پر یہاں کام نہیں کرتی ہیں، حالانکہ عملی طور پر، وہ کبھی کبھی ان علاقوں میں جا کرچھاپے مارتی ہیں۔

ایریا بی

یہ مغربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا سول کنٹرول  مانا گیا۔ اس کنٹرول میں تعلیم، صحت، مقامی حکومت، وغیرہ کے تمام شعبے شامل ہیں۔

ایریا B میں اسرائیل کا عبوری طور پر سیکورٹی کنٹرول (انسداد دہشت گردی، بیرونی سلامتی) تسلیم کیا گیا۔ ان تمام ایریاز مین جو ایریا B کی فہرست میں شامل ہیں, IDF عملاً موجود رہتی ہے۔

حد/ رقبہ:  فلسطینی اتھارٹی کو دیئے گئے رقبہ میں سے مغربی کنارے کا تقریباً 22 فیصد رقبہ ایریا B ہے۔ یعنی یہ علاقے اسرائیل کے فوجی کنٹرول مین ہیں لیکن یہاں سویلین انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کی ہے۔

مقام/محل وقوع:  مغربی کنارے کے زیادہ تر دیہی قصبات، دیہات اور کچھ پناہ گزین کیمپ ایریا B ہیں۔

ان تمام علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار  روزمرہ کی زندگی کی شہری سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اسرائیل نے سکیورٹی اختیارات کو برقرار رکھا  ہوا ہے۔

ایریا سی

یہ مگربی کنارے کے وہ علاقے ہیں جن کو اوسلو معاہدہ کے تحت مستقبل کے فلسطین کا حصہ تو تسلیم کیا گیا لیکن یہاں اسرائیل کا مکمل سول اور سیکورٹی کنٹرول باقی رکھا گیا۔

حد/ رقبہ: مغربی کنارے کا تقریباً 60% (رقبہ کے لحاظ سےاکثریت علاقہ)۔

مقام/محل وقوع:     ایریا C مغربی کنارے کے علاقوں میں موجود اسرائیلی بستیوں، سٹریٹیجک زمینی علاقوں، وادیِ اردن، اور دیہی/غیر ترقی یافتہ زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی PA کی یہاں موجودگی بہت محدود ہے۔

ایریا سی C میں شمار کئے گئے تمام علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کرنے، انفراسٹرکچر  تعمیر کرنے یا اسے تبدیل کرنے یا  زراعت  کاری کرنے کے لیے اسرائیل کے اجازت نامے کی ضرورت ہے۔

 اسرائیل نے ایریا C کے کچھ حصوں کو  اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے۔

موجودہ صورتحال

آج یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایریا اے، ایریا بی اور ایریا سی قرار دیئے علاقوں میں وسیع تبدیلیاں کر کے ایریا اے اور ایریا بی کو مزید کم کرنے کی طرف جا رہا ہے۔