ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اٹلی کا بایاں بازو سڑکوں پر آ گیا، غزہ جنگ رکوانےکیلئے یورپ کا سب سے بڑا احتجاج

Itali protests, Two state solution, General Assembly,

سٹی42:  اٹلی کا بایاں بازو غزہ جنگ رکوانے اور  فلسطین  کے حق میں سڑکوں پر آ گیا۔  مزدوروں کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور  بندرگاہوں کے داخلی دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ غزہ جنگ کے خلاف دسیوں ہزار افراد کے احتجاج کے سبب پورے اٹلی میں معمول کی زندگی میں خلل پڑ گیا ہے۔
آج ہونے والے ان احتجاجوں کو  یورپ کے سب سے بڑے مظاہرے بتایا جا رہا ہے اور اٹلی میں  اسکول اور اسٹیشن بند اور بندرگاہیں بند ہو گئے ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف یورپ کے سب سے بڑے ملک گیر مظاہروں میں سے ایک میں - دسیوں ہزار لوگ اٹلی کے درجنوں شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں - اسکول بند کر رہے ہیں، ٹرینوں میں خلل ڈال رہے ہیں اور بندرگاہوں اور سڑکوں کو بلاک کر رہے ہیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب فرانس اور کئی دیگر ممالک نے پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کی جب کہ اتوار کو برطانیہ، آسٹریلیا، پرتگال اور کینیڈا  فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔

اٹلی نے اب تک خود کو مربوط اقدام سے دور رکھا ہے۔ وزیر اعظم، جارجیا میلونی، پہلے کہہ چکی ہیں کہ ریاست فلسطین کے قیام سے پہلے اسے تسلیم کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے جولائی کے آخر میں اطالوی روزنامہ لا ریپبلیکا کو بتایا کہ "اگر کوئی ایسی چیز جو موجود نہیں ہے اسے کاغذ پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے جب یہ نہ ہو۔"


دنیا کے میڈیا میں آج رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ اٹلی کے طول و عرض میں غزہ جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ درجنوں احتجاج  بیک وقت ہونے سے سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ 
اٹلی میں غزہ کی صورتحال کے خلاف بائیں بازو کے مزدوروں کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی اور احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

احتجاج کے باعث بندرگاہوں، ریلویز، اسکولوں اور پبلک سروسز میں کام متاثر  ہوا ہے، اٹلی کی ٹریڈ یونین کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل سے تعلقات فوری ختم کیے جائیں اور غزہ میں جنگ پر واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔

 احتجاج کرنے والےڈاک ورکرز کا کہنا تھا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اٹلی کو اسرائیل کے لیے اسلحہ اور دیگر ساز و سامان کی ترسیل کے اڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔ 

آنسو گیس، جھڑپیں

 میلان کے مرکزی اسٹیشن کے قریب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے  آنسو گیس کا استعمال کیا، جنوبی شہر نیپلز میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جہاں مظاہرین زبردستی مرکزی ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوگئے۔ کچھ مظاہرین مختصر وقت کے لیے پٹریوں پر بھی پہنچ گئے، جس کے باعث ٹرین سروسز میں تاخیر ہوئی۔

ہزاروں افراد نے  شہروں میں بھی احتجاج کیا، اس دوران کئی اسکول بند رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی یونینز کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث متاثر ہوئی۔

شمال مغربی شہر جینووا میں مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرایا، لیورنو میں بھی بندرگاہ کے داخلی راستے کو احتجاجی مزدوروں نے بلاک کر دیا جبکہ شمال مشرقی شہر ٹریئسٹ میں بھی اسی نوعیت کا احتجاج کیا گیا۔

Caption  احتجاج کرنے والے ایک سٹور کے دروازے توڑ رہے ہیں۔ 

خیال رہے کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت یورپ میں اسرائیل کی روایتی حامی ہے اور اس نے دیگر مغربی ممالک کی طرح فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔