ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آزاد، خودمختار فلسطین؛ کل نیتن یاہو کو جھٹکے لگنے کی ابتدا ہو گی

Two state solution, General Assembly,

سٹی42:   کل اتوار کے روز سے اسرائیل کے ہٹ دھرمی کی آخری انتہا پر پہنچے ہوئے وزیراعظم اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی وزیروں کو تشنج کے جھٹکے لگنے کی ابتدا ہو گی۔ پہلے یہ جھٹکے  پیر 22 ستمبر  کے روز سے آغاز ہونا تھے لیکن کل جمعہ کے روز لزبن میں پرتگال کی حکومت نے اچانک اعلان کر دیا کہ وہ اپنے حصے کا جھٹکا  اتوار 21 ستمبر کو لگائیں گے۔ یہ - درحقیقت کئی- جھٹکے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے باضابطہ اعلانات سے آنے والے ہیں۔

کل جمعہ کے روز سے پہلے بھی اسرائیل کا دائیں بازو کا حکمران اتحاد  نیویارک میں جنرل اسمبلی کی خصوصی کانفرنس  سے یہ توقع کر رہا تھا کہ وہاں سے اسے جھٹکے لگیں گے اور کئی ملک جن میں فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا شامل ہیں فلسطین کو آذاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیں گے۔ لیکن پرتگال والا جھٹکا اسرائیل اور بہت سے دوسرے آبزرورز کے لئے غیر متوقع ہے۔

پرتگال نے 21 ستمبر سے فلسطین کو آزاد ملک حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام پر  اسرائیل دَم بخود ہے۔
فرانس کے صدر عمانوئل میکروں کے مشیر نے کہا ہے کہ  اینڈورا، آسٹریلیا، بلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور سین مرینو جیسے ملک بھی فلسطین کو تسلیم کرنے  کی تیاری میں ہیں۔
 انگلینڈ کے وزیراعظم  کئیر سٹارمر نے  صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد الگ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ حالانکہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنی ملاقات کے دوران انہیں فلسطین کو تسلیم کرنے سے باز رکھنے کی کوشش  بھی کی اور میڈیا کے سامنے اس کا اظہار بھی کیا کہ انہوں نے سٹارمر کو روکا ہے اور ان کا سٹارمر کے ساتھ اس موضوع پر اختلاف ہے۔۔
اسرائیل اور فلسطین کی جاری جنگ کے درمیان پرسوں پیر کے روز  22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔

فرانس اور سعودی عرب کی کوشش سے ہو رہی اس خاص میٹنگ میں گفتگو پوری طرح سے ’2 ریاستی حل‘ (ٹو سٹیٹس سالیوشن)پر مرکوز رہنے والی ہے۔

 اس میٹنگ سے عین قبل یورپی ملک پرتگال نے کچھ ایسا اعلان کیا ہے، جس نے اسرائیل کو دَم بخود کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو جھٹکا دیتے ہوئے پرتگال نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو آزاد ملک کی شکل میں منظوری عطا کرے گا۔
پرتگال نے آفیشل سٹیٹمنٹ میں بتایا کہ وہ کل 21 ستمبر (اتوار) کو فلسطین کو آزاد ملک کی شکل میں منظوری دے گا۔ پرتگال کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز جاری بیان میں یہ اطلاع دی۔ لزبن نے جولائی میں ہی واضح کر دیا تھا کہ مستقل بگڑتے حالات، انسانی بحران اور اسرائیل کی بار بار دی جا رہی دھمکیوں کے بعد یہ قدم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔
پرتگال کے قدم سے اسرائیل کی اتحادی حکومت دَم بخود ہے۔ اسرائیل جنرل اسمبلی کی پرسوں ہونے والی میٹنگ سے قبل پیدا ہو رہے ماحول کو لے کر بھی فکر مند ہے۔ کئی مغربی اور یوروپی ممالک ہیں جو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں فلسطین کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے کئی ملکوں کے ان اعلانات کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہین کی گئی ،بس اتنا کیا گیا کہ پرائم منسٹر نیتن یاہو نے ہر ملک کی جانب سے ایسے اعلان کے بعد ایک سٹیریو ٹائپ بیان دیا کہ غزہ جنگ کے دوران فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان حماس کو دہشتگردی کا انعام دینے کے مترادف ہو گا۔ ان  بیانات سے فرانس، آسٹریلیا، انگلینڈ، کینیڈا- فلسطین کو تسلیم کرنے کی طرف جا رہے کسی بھی ملک کے ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ جو ملک آنے والے چند دنوں میں فلسطین کو تسلیم کرنے جا رہے ہین وہ فلسطین کی پی ایل او کی قیادت مین کام کر رہی "فلسطینی اتھارٹی" سے پہلے ہی یہ ضمانتیں لے چکے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی،  فلسطین میں حماس کا کوئی کردار نہیں رہنے دے گی۔ یہ سب ممالک  7 اکتوبر  2023 کو غزہ جنگ کے آغاز سے پہلے بھی حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں دیکھتے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ خود فلسطینی اتھارٹی حماس کے سخت خلاف ہے۔ 

 اسرائیلی حکومت کی دلیل ہے کہ فلسطین کو منظوری دینے سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا اور امن و امان کا عمل کمزور ہوگا۔ اس کے بالکل برعکس فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھنے والے سبھی ملک کئی مہینوں سے اسرائیل کی اتحادی حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ غزہ میں جنگ بند کرے، سیٹلمنٹس کی اپنی پالیسی ترک کرے اور  دو ریاستی حل کی طرف بڑھے ورنہ وہ مجبوراً فلسطین کو تسلیم کر لیں گے۔ ان مین سے کوئی بھی ملک حماس سے ہمدردی نہین رکھتا لیکن وہ حماس کی آڑ مین غزہ جنگ جاری رکھنے اور وہاں سنجیدہ نوعیت کا ہیومینیٹیرین کرائسس پیدا کرنے  کے بھی سخت ناقد ہیں۔

اسرائیل کی حکومت کو غزہ جنگ اور دیگر انتہا پسندانہ پالیسیوں سے روکنے کے لئے فلسطین کو تسلیم کرنے کی پالیسی کا لیڈر فرانس ہے، فرانس مستقل آزاد فلسطینی ملک کے حق میں آواز اٹھا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانوئل میکروں کے مشیر کا کہنا ہے کہ اینڈورا، آسٹریلیا، بلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور سین مرینو جیسے ممالک بھی فلسطین کو منظوری دینے کی تیاری میں ہیں۔ جیسے حالات بن رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے صاف پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ، کینیڈا اور فرانس جیسے بڑے مغربی ممالک اس مرتبہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین کو منظوری دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ فی الحال اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً تین چوتھائی فلسطین کو پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔

پیر 22 ستمبر کو جب نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں ’2 ریاستی حل‘ پر گفتگو ہو رہی ہوگی۔  اسی دوران فرانس اور سعودی عرب مل کر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کریں گے۔ اس کانفرنس میں ناروے اور اسپین کی بھی شرکت رہے گی۔ کانفرنس کا اہم مقصد فلسطینی اتھارٹی کو معاشی بحران سے بچانا ہے۔ اسرائیل 4 ماہ سے فلسطینی اتھارٹی کے لیے وصول کیے گئے کروڑوں ڈالر کی رقم روک رکھی ہے، جس سے اس کی مالی حالت انتہائی خستہ ہو گئی ہے۔