ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطین میں نیا عبوری آئین، نئے الیکشن؛ حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا

Two state solution, Mahmood Abbas. President Abbas, PA, General Assembly,
کیپشن: فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نیویارک شہر میں 22 ستمبر 2025 کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت میں فرانس اور سعودی عرب کے زیر اہتمام اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویڈیو لنک پر بات کر رہے ہیں۔ (یہ سکرین شوٹ یو ٹیوب پر اس کانفرنس کی لائیو سٹریم سے لیا گیا)

فلسطین کے  صدر محمود عباس نے  کہا ہے کہ حماس کو  ہتھیار ڈال کر غیر مسلح ہو جانا چاہئے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دینے چائیں۔

صدر محمود عباس نے یہ کلام نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی بلائی ہوئی ٹو سٹیٹ سالیوشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر محمود عباس نے اپنے خطاب میں واضح الفاظ میں حماس کے  7 اکتوبر کے قتل عام کی مذمت کی۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے دو ریاستی حل پر اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں حماس کے 7 اکتوبر  2023 کو  اسرائیل پر مہلک حملے کی مذمت کرتے ہوئے حماس سے اپنے ہتھیار اپنی فلسطینی اتھارٹی کی افواج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

صدر محمود عباس نے انٹرنیشنل کمیونٹی کو یقین دلایا کہ "[غزہ] پر حکومت کرنے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ حماس اور دیگر دھڑوں کو اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے چاہئیں،"

صدر محمود عباس کو امریکہ نے اس انتہائی غیر معمولی سربراہی کانفرنس میں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک آنے کے لئے ویزا نہیں دیا۔ صدر محمود عباس فلسطین میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر ویڈیو لنک کے ذریعہ فلسطین اور اسرائیل کا دیرینہ تنازعہ  ختم کرنے کی غرض سے دو ریاستوں کے قیام پر مشتمل حل کی طرف بڑھنے کے لئے بلائی گئی اس تاریخ ساز  کانفرنس میں شریک ہیں۔

Caption  فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نیویارک شہر میں 22 ستمبر 2025 کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت میں فرانس اور سعودی عرب کے زیر اہتمام اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویڈیو لنک پر بات کر رہے ہیں۔ (اسپینسر پلاٹ/گیٹی امیجز/اے ایف پی)

محمود عباس کی جانب سے حماس کے اسرائیلی شہریوں کو قتل اور اغوا کرنے کی مذمت

انہوں نے ویڈیو لنک کے ذرعیہ اپنے خطاب میں کہا،  "ہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی کارروائیوں سمیت شہریوں کے قتل اور حراست کی بھی مذمت کرتے ہیں،" وہ گروپ کی طرف سے یرغمال بنائے گئے افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں۔

ہتھیاروں کے بغیر ایک متحد فلسطینی ریاست 

فلسطینن کے  صدر  نے غزہ جنگ کے خاتمے  کیلئے  ثالثی پر  مصر  اور  قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم ہتھیاروں کے بغیر ایک متحد فلسطینی ریاست چاہتے ہیں۔

فلسطین میں نیا عبوری آئین، نئے الیکشن؛ حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا

صدر  محمود عباس نے اعلان کیا کہ جنگ کے خاتمے کے 3 ماہ کے اندر  ایک عبوری آئین تیار کیا جائے گا تاکہ اقتدار کی منتقلی شفاف اور  منظم طریقے سے ہو۔ اس کے بعد بین الاقوامی اداروں اور  مبصرین کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ  آئین و قانون کے تحت ریاست کا قیام ممکن ہو۔

 انہوں نے کہا کہ  حماس کا فلسطینی گورننس میں کوئی کردار نہیں ہوگا،  تنظیم کو چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔

صدر  محمود عباس نے ان 149 ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا  اور  دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھی جلد فلسطین کو تسلیم کریں۔

انہوں نے امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب اور دیگر  عالمی شراکت داروں کے ساتھ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے تعاون پر آمادگی کا بھی اظہار کیا۔

صدر محمود عباس کے خطاب کی دنیا  کے میڈیا میں رپورٹنگ

نیویارک میں حالیہ "دو ریاستی" اجتماع / سربراہی اجلاس میں صدر محمود عباس نے جو کچھ کہا (یا بتایا گیا ہے) اس کی کچھ  تفصیلات یہ ہیں، خاص طور پر حماس کے حوالے سے دنیا کے میڈیا میں آج منگل کی صبح دو بجے تک جو شائع ہوا ہے وہ یہ ہے۔ :

حماس ہتھار ڈال دے

گارڈین نے رپورٹ کیا،  فلسطین (فلسطینی اتھارٹی) کے صدر  محمود عباس نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔
محمود عباس نے کہا کہ حماس اور دیگر مسلح دھڑوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیں۔
محمود عباس نے کہا،  حماس کا غزہ کی مستقبل کی حکمرانی میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حماس کا غزہ پر حکومت کرنے میں "کوئی کردار" نہیں ہونا چاہیے۔

ایک قانون اور ایک سیکورٹی فورس کے تحت متحد اتھارٹی
انہوں نے ایک متحد ریاست کے ساتھ، ایک قانون کے تحت اور ایک قانونی سیکورٹی فورس کے ساتھ ایسی صورتحال کا مطالبہ کیا - جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو سیکورٹی اور ہتھیاروں پر خصوصی کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔

غزہ میں حماس کی حکومت کا خاتمہ
صدر محمود عباس نے کہا کہ حماس کو غزہ پر اپنی ڈی فیکٹو حکمرانی ختم کرنی چاہیے، اور یہ کنٹرول واپس دینا چاہیے یہ  فلسطینی اتھارٹی PA کے اختیار میں ہونا چاہیے۔

صدر محمود عباس کے آج کے خطاب کا سیاق و سباق اور معنی

یہ ستمبر 2025 کے آخر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی / متعلقہ سربراہی اجلاس (جسے اکثر "دو ریاستی اجتماع کہا جاتا ہے) کے دوراناقوام متحدہ میں فرانسیسی وفد کی طرف سے دیے گئے بیانات سے سامنے آیا کہ حماس سے ہتھیار حوالے کرنے کا مطالبہ کای گیا اور فلسطین کے تمام علاقہ کو فلسطینی اتھارٹی کے  تحت متحد کرنے کے مطالبات کئےگئے۔  فلسطین کی مرکزی حکومت/سیکیورٹی کو مضبوط کرنے، اور آزاد فوجی طاقت کے حامل متعدد مسلح گروہوں س کی صورتحال کا خاتمہ  کرنے پر زور دیا گیا۔

حماس کے ہتھیار ڈالنے کا مسئلہ

الجزیرہ نیوز نے رپورٹ کیا کہ، یہ مسئلہ متنازعہ ہے: کتنے لوگوں نے حماس کو غیر مسلح کرنے  کے خلاف مزاحمت کی ہے، یہ بحث کرتے ہوئے کہ یہ (حماس کی سرگرمیاں) مزاحمت کا حصہ ہے۔ صدر محمود  عباس کی پوزیشن زیادہ مرکزی سیکورٹی ڈھانچہ کے لئے فلسطینی اتھارٹی  PA کے نظریے کی نمائندگی کرتی ہے۔

صدر محمود عباس کے خطاب پر دنیا بھر میں سامنے آنے والا ردعمل  جیسے ہی سامنے آئے گا سٹی42 کے ریڈرز کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔