ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطین کو تسلیم کرنےپر صدر ٹرمپ کی صدر میکروں کو انوکھی سزا

https://www.city42.tv/digital_images/large/2025-09-23/news-1758638474-3602.jpg
کیپشن: نیویارک میں مین ہتن کے مصروف علاقہ مین پریذیڈنٹ میکروں کی گاڑی کو سڑک پر روک دیئے جانے کے بعد ایک پولیس آفیسر انہیں اس رکاوٹ کی وجہ بتا رہا ہے۔

سٹی42:  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی فرانس کے پریذیڈنٹ عمانوئیل میکروں سے انوکھا انتقام لیا جس نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کے طرز عمل پر سوالات کھڑے کر دیئے۔

صدر ٹرمپ نے خود سڑک پر سے گزرنے کے لئے پریذیڈنٹ  میکروں کی گاڑی کو نیویارک میں مین ہٹن کے علاقے میں مصروف سڑک پر  ویسے ہی کھڑاکروا دیا جیسے عام امریکیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اپنے اتحادی فرانس کے صدر میکروں پر غصہ یہ ہے کہ میکروں نے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے نہ صرف خود تسلیم کیا  بلکہ اپنے ساتھ چار اہم ترین ممالک کو بھی فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے پر آمادہ کر لیا اور مزید کئی ملکوں کو فلسطین کو تسلیم کرنے کے لئے قائل کرنے کی غرض سے نیویارک میں "ٹو سٹیٹ سالیوشن سمٹ" کر ڈالی۔

صدر ٹرمپ اپنے اتحادی فرانس کے اولاعزم صدر کو تو ان کے خیالات پر عملدرآمد سے نہ روک سکے لیکن انہوں نے اپنے غصے کا اظہار نیویارک میں صدر میکروں کے ساتھ سرد مہری  اور بڑی حد تک اَن ڈپلومیٹک رویئہ اپنا کر دیا۔

Caption  میکروں جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر کے  اپنی ایمبیسی جانے کے لئے سڑک پر آئے تو ان کی گاڑی کو غیر متوقع  طور پر روک لیا گیا، اس تصویر مین میکروں صدر ٹرمپ کو فون کرتے نظر آ رہے ہیں۔ 

ہوا یوں کہ صدر میکروں اپنی  بہت اہم ٹو سٹیٹ سالیوشن سربراہی کانفرنس کے لئے نیویارک آئے ہوئے ہیں۔ وہاں بہت سے دوسرے ملکوں کے سربراہ اور اہم ترین نمائندے بھی اس اہم سمٹ مین شرکت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ آج  اس سمت سے واپس جاتے ہوئے پریذیڈنٹ میکروں کی گاڑی کو   مین ہٹن کی ایک مصروف سڑک پر اس لئے روک لیا گیا کہ امریکی سکیورٹی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کی گاڑیوں کے کاررواں  کو وہاں سے گزرنا تھا۔ ٹریفک روکا گیا تو فرانس کے صدر کی گاڑی کو بھی عام امریکیوں کی گاڑیوں کی طرح روک دیا گیا۔

اچانک سڑک پر روکے جانے کے سبب پریذیڈنٹ میکروں کی سکیورٹی خطرے میں پڑ گئی۔ اس لئے بھی کہ وہ ایک خاص سرگرمی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک میں ہیں جسے بہت سے امریکی ری پبلکن  نا پسند کر رہے ہیں۔   اس صورتحال میں اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کوئی بری خبر بننے سے روکنے کے لئے، اپنے شخصی وقار  اور فرانس کے قومی وقار کے تحفظ کیلئے  پریذیڈنٹ میکروں نے فوری اقدام یہ کیا کہ خود صدر ٹرمپ کو فون پر کال کی اور ان سے سڑک کھلوانے کے لئے کہا۔  

صدر میکروں  اقوام متحدہ (یواین) کی جنرل اسمبلی  میں شرکت کےلیے نیو یارک  آئے ہیں۔ 

کیروں کو مین ہٹن کی سڑک پر روکے جانے کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں

 نیو یارک پولیس نے فرانسیسی صدر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کانوائے گزارنے کے لیے روکا تو اس واقعے کی ویڈیو بھی بن گئی۔ اب یہ  ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

پیر کے روز نیویارک کے قلب میں ٹریفک کا جھڑپ اس وقت ایک غیر معمولی سفارتی لمحے میں بدل گیا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قافلے نے روک لیا۔ ویڈیو میں ریکارڈ کیا گیا یہ واقعہ تیزی سے وائرل ہو گیا، جس میں فرانسیسی رہنما کو مین ہٹن کی سڑکوں پر پھنسے ہوئے لمحہ بہ لمحہ  دکھایا گیا جب کہ پولیس نے امریکی صدر کے گزرنے کے لیے سڑکیں بند کر  رکھی تھیں۔

مڈ ٹاؤن میں مکس اپ
یہ واقعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں میکرون کے خطاب کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے فرانس کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ جیسے ہی فرانسیسی صدر اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے باہر نکلے اور فرانسیسی سفارت خانے کی طرف جا رہے تھے، ان کی گاڑی کو نیویارک پولیس نے ٹرمپ کے صدارتی قافلے کے راستے کو محفوظ بناتے ہوئے روک لیا۔

Caption پریذیڈنٹ میکروں نے سڑک پر روکے جانے کو خوشدلی سے مینیج کیا، جب وہ صدر ٹرمپ کو فون کر کے شکایت کر رہے تھے، اس وقت ان کے مداح سیلفیاں اور ویدیو کلپ بنا رہے تھے۔  اس وقت وہاں سیلفی بنانے  کے امیدواروں کی قطار لگ چکی تھی۔

فرانسیسی میڈیا آؤٹ لیٹ برٹ کی طرف سے بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں، ایک افسر کو  پریذیڈنٹ میکروں سے معافی مانگتے ہوئے سنا گیا ہے، "مجھے افسوس ہے جناب صدر، ابھی سب کچھ مسدود ہے۔" فرنچ پریذیڈنٹ  کو اپنی گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، وہ اپنے شیڈول میں غیر متوقع وقفے پر خوش اور قدرے ناراض دکھائی دے رہے تھے جب کہ مداح اس اچانک پیدا ہو جانے والے گولڈن موقع کو لے کر میکروں کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے۔

میکروں نے سڑک پر  تاخیر کے درمیان ٹرمپ کو فون کیا
ہلکے پھلکے موڈ میں، میکروں نے ٹرمپ کو براہ راست ڈائل کیا، ان کی وجہ سے اپنے ٹریفک میں بند  ہو جانے کا مذاق اڑایا۔ "اندازہ لگائیں کیا، میں گلی میں انتظار کر رہا ہوں کیونکہ سب کچھ آپ کے لیے مسدود ہے،" میکروں نے طنز کیا،  پریذیڈنٹ میکروں کے الفاظ کو معاونین نے سنا اور جزوی طور پر ویڈیو پر بھی ریکارڈ ہوئے۔ 

Captionاس واقعہ نے اقوام متحدہ کے اجتماع کے سنگین سفارتی پس منظر کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی تعلقات کو اجاگر کیا۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس نے پہلے ہی مین ہٹن میں اوور لیپنگ موٹر کیڈز، سڑکوں کی بندش اور سخت سیکیورٹی کے ساتھ توجہ مبذول کرائی ہے۔ میکرون کی مختصر ہولڈ اپ نے نیویارک میں متعدد عالمی رہنماؤں کی میزبانی کی لاجسٹک پیچیدگیوں کو واضح کیا، جہاں صدر بھی گرڈ لاک سے محفوظ نہیں ہیں۔

میکروں کے ساتھ تو نیویارک میں صرف سڑک پر روکے جانے کا سانحہ ہی ہوا ہے، فلسطین کے صدر کو امریکہ کے غصیلے صدر نے جنرل اسمبلی میں شریک ہونے کے لئے نیویارک آنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ صدر محمود عباس کو   فرانس اور سعودی عرب کی بلائی ہوئی ٹو سٹیٹ سمِٹ سے  خطاب کرنے کے لئے فلسطین کے شہر رام اللہ میں اپنے دفتر میں ویڈیو کیمرے کے سامنے بیٹھنا پڑا۔