ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتے، مسودہ قانون امریکی سینیٹ میں آ گیا

Iran Israel war, Virginia Senator Tim Kaine, The US senate, City42

سٹی42:  ایک امریکی سینیٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ ​​کرنے کے اختیارات کو روکنے کے لیے بل سینیٹ میں پیش کر دیا۔
ڈیموکریٹک قانون ساز ٹم کین کی طرف سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے خارجہ پالیسی کے ماہرین نے امریکہ سے ایران پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔   

اسرائیل نے چار دن پہلے ایران پر حملہ کیا تو امریکہ اس میں شریک نہیں ہوا، اب امریکہ میں خاص طور سے ریپبلکن پارٹی کے ایک حلقہ کی طرف سے صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس جنگ میں اسرائیل کی عملی مدد کریں۔

واشنگٹن، ڈی سی  سے آمدہ تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک ممتاز ڈیموکریٹک سینیٹر  ٹِم کین نےسینیٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کا حکم دینے سے پہلے کانگریس سے اجازت لینے کی ضرورت ہو گی۔

پیر کو ورجینیا کے سینیٹر ٹم کین کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ اقدام، اسرائیل کے حامی گروپوں کی طرف سے امریکہ سے ایران کے خلاف اسرائیلی بمباری کی مہم میں شامل ہونے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے درمیان سامنے آیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے۔

بظاہر اس بل کے سینیٹ میں منظور ہو جانے کا کوئی امکان نہیں، اگر کسی صورت میں یہ کسی انہونی کے تحت سینیٹ میں منظور ہو بھی جائے تو بھی اس ہائیپوتھیٹیکل بل کی عملاً کوئی اہمیت نہیں۔ اس بل کو کانگرس میں لایا جائے گا، اگر یہاں بھی یہ کسی طرح منطور ہو گیا تب بھی اس کا کوئی عملی مصرف نہیں۔

اول تو صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں کودنے کی طرف نہیں جا رہے، اگر وہ ایسا چاہیں گے تو کانگرس میں انہیں اکثریت حاصل ہے، وہ ٹم کین کا بل  ہاؤس کے دونوں ایوانوں میں منظور ہو جانے کے بعد بھی  اپنے ارادے کو بلا روک ٹوک عملی جامہ پہنا سکیں گے۔