سٹی42: پاکستان آرمی کے کمانڈوز نے لھ بھگ چوبیس گھنٹوں کی مشقت کے بعد بلوچستان میں بولان کے ویرانے میں بچوں اور عورتوں سے بھری ٹرین ہائی جیک کرنے والے تمام دہشتگردوں کا صفایا کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جوانوں نے جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ میں ملوث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ٹرین کے 190 مسافروں کو بازیاب کرالیا تھا، اس کے بعد باقی سینکڑوں کو مسافروں کو بچانے اور دہشتگردوں کا مکمل صفایا کرنے کے لئے فل سکیل آپریشن جاری تھا، سیکیورٹی ذرائع نے بدھ کو، محاصرے کے دوسرے دن عصر کے بعد بتایا کہ تمام دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
"خودکش بمباروں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی موجودگی کی وجہ سے آرمی کے کمانڈوز نے آپریشن مین خاص احتیاط برتی جس کے سبب تمام دہشتگردوں کا کام تمام کرنے میں قدرے زیادہ وقت لگا۔
اس سے چند گھنٹے قبل، سیکیورٹی فورسز نے بدھ کو بلوچستان کے بولان شہر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ٹرین کے مسافروں کو بچانے کے لیے ایک "مکمل پیمانے پر" آپریشن شروع کیا۔
جعفر ایکسپریس کل صبح کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے روانہ ہوئی تو اس مین ساڑھے چار سو سے زیادہ مسافر موجود تھے، نو بوگیوں مین زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ بیرون ملک سے ہدایات لے کر کام کرنے والے غدار دہشتگردوں نے دوپہر کے وقت ٹرین کو بولان کے علاقے میں ریلوے ٹریک پر ایک سرنگ کے دروازے پر ٹرین کو روک لیا اور ٹرین پر بھاری اسلحہ کے بل پر قبضہ کر لیا۔ بی ایل اے کے دہشتگردوں نے منگل کی دو پہر ریلوے ٹریک کے ایک حصے پر بم سے حملہ کیا تھااور جب ٹرین یہاں رکی تو انہوں نے ٹرین پر دھاوا بول دیا۔ نامعلوم تعداد میں عورتیں، بچے اور مرد یرغمال بنا لئے۔ ان یرغمالیوں میں زیادہ تر پنجابی تھے۔
دہشتگردی کے واقعہ کے فوراِ بعد سکیورٹی فورسز کے جوان اس مقام پر پہنچ گئے اور پورے علاقہ کو گھرے میں لے لیا۔ اس دوران ہی کوئٹہ سے ہیلی کاپٹرز بھیج کر پورے علاقہ کی فضائی سرویلئینس کی گئی۔ ٹرین کے اندر کئی دبوں میں موجود دہشتگرد خواتین اور بچوں کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق، "دہشت گردوں نے خود کش حملہ آوروں کو یرغمال بنائے گئے معصوم مسافروں کے بالکل قریب رکھا ہوا ہے"۔
پہاڑی ضلع سبی میں محاصرے کے دوران ٹرین ڈرائیور سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایک سیکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ "مکمل پیمانے پر آپریشن" کا مقصد باقی قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔ ایک سیکورٹی ذریعہ نے کہا، "سیکیورٹی فورسز نے 190 مسافروں کو بحفاظت بچا لیا ہے... 30 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے"۔ پہلے کی گئی گنتی میں کم از کم "31 خواتین اور 15 بچے" شامل تھے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جہاز میں کتنے افراد باقی تھے۔
سیکیورٹی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ عسکریت پسند افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں تھے۔







