ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

’پہلے دھماکا ہوا، ٹرین رک گئی، پھر شدید فائرنگ ہوتی رہی‘ بچنے والے مسافروں کی گفتگو

’پہلے دھماکا ہوا، ٹرین رک گئی، پھر شدید فائرنگ ہوتی رہی‘ بچنے والے مسافروں کی گفتگو

ویب ڈیسک : دہشت گردوں سے بازیاب ہونے والے جعفر ایکسپریس کے مسافروں کی جانب سے میڈیا چینلز پر انٹرویوز دیے جارہے ہیں، جس میں انہوں نے آنکھوں دیکھا حال سنایا ہے۔  

جعفر ایکسپریس کے زندہ بچ جانے والے مسافروں نے دہشت گردوں کے حملے کو قیامت کی گھڑی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے دھماکا ہوا، ٹرین رک گئی، پھر شدید فائرنگ ہوتی رہی۔ ایک مسافر نے روداد سناتے ہوئے بتایا کہ حملے کے وقت ہر طرف چیخ و پکار تھی، ہم سب جان بچانے کے لیے ٹرین کے فرش پر لیٹ گئے تھے اور پھر اسی دوران فائرنگ کے ساتھ دھماکے ہوئے، جس کے بعد ٹرین رک گئی۔ مسافر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے کہا کہ سب لوگ نیچے اتر جائیں، لوگ نہیں اتر رہے تھے لیکن میں اپنے بچوں کو لیکر اتر گیا، میں نے کہا جب وہ کہہ رہے ہیں کہ نیچے اترو تو پھر اتر جانا چاہیئے ورنہ اندر آ کر بھی مارنا شروع کریں گے۔

چار گھنٹے پیدل چل کر قریبی ریلوے سٹیشن پہنچنے والے ایک مسافر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ آئے، انہوں نے شناختی کارڈ اور سروس کارڈ چیک کیے، اور میرے سامنے دو فوجیوں کو گولی مار دی، جبکہ باقی چار کو اپنے ساتھ لے گئے، میں نہیں جانتا کہاں۔‘ اس مسافر نے بتایا کہ’جو پنجابی تھے، انہیں وہ اپنے ساتھ لے گئے۔‘

مسافر نے بتایا کہ ہم نیچے اتر گئے جس کے بعد انہوں نے مجھ سمیت میرے بچوں اور میری اہلیہ کو چھوڑ دیا، ساتھ یہ بھی کہا کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ 

ایک اور مسافر محمد بلال نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کہ ہم کیسے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ خوفناک تھا۔‘

49 سالہ مسافر اللہ دتہ نے اے ایف پی کو مچھ کے ریلوے سٹیشن پر بتایا کہ ’میں نے ایک دھماکے کی آواز سنی، اس کے فوراً بعد گولیاں چلنے لگیں اور پھر شدت پسند ٹرین میں داخل ہو گئے۔‘  اللہ دتہ نے کہا کہ ’لوگ گھبراہٹ میں اپنی نشستوں کے نیچے چھپنے لگے۔ شدت پسندوں نے مردوں کو عورتوں سے الگ کر دیا۔ انہوں نے مجھے اور میرے خاندان کو جانے دیا کیونکہ میں نے انہیں بتایا کہ میں دل کا مریض ہوں۔‘ 

اللہ دتہ نے مزید کہا کہ ’ہم کافی دیر تک پہاڑوں میں چلتے رہے تاکہ قریبی سٹیشن تک پہنچ سکیں۔ میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا کیونکہ میں روزے سے تھا، لیکن میں اب بھی کھانے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔‘

بازیابی پانے والے ایک اور بزرگ مسافر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے کہنے پر بچوں کو اترنے کا کہا کیونکہ اندر میں بھی مرنا تھا اور باہر بھی، پھر اتر گئے لیکن ہم سب کو چھوڑ دیا گیا، ہم سب لوگ چلتے چلتے قریب نہر میں گر گئے اور 4 گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد محفوظ مقام پر پہنچے۔

ایک اور مسافر نے واقعے سے متعلق بتایا کہ اچانک فائرنگ ہوئی لیکن اللّٰہ کا شکر ہے کہ فوجی اور ایف سی ہمت کرکے ہمیں با حفاظت یہاں لے آئے، یہ فوجیوں اور ایف سی والوں کی ہی ہمت تھی کہ ہمیں بازیاب کرا کر یہاں تک باحفاظت پہنچا دیا۔ 

 گزشتہ روز کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے اور 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے کے بعد کلیئرنس آپریشن میں اب تک 30 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ 190 مسافروں کو بازیاب کروا لیا گیا۔ 

ٹرین صبح ساڑھے نو بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، خود کش بمباروں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے اور خود کش بمباروں نے تین مختلف جگہوں پر عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

عورتوں اور بچوں کی خود کُش بمباروں کے ساتھ موجودگی کی وجہ سے آپریشن میں انتہائی اختیاط برتی جا رہی ہے۔