ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عورتوں بچوں سے بھری ٹرین کو حیریبیار مری کے دہشتگردوں نے یرغمال بنایا، ریسکیو آپریشن جاری

Bolan, Jafar Express, Hostages, BLA, Balochhistan Liberation Army, بلوچ آجوئی لشکر، Baloch insurgency,
کیپشن:  بلوچستان میں عورتوں اور بچوں سے بھری ٹرین کو یرغمال بنا لینے والے غدار دہشتگرد گروہ بی ایل اے کا سرغنہ حیریبیار مری،  یہ فوٹو ولی پیڈیا سے ڈاؤن لوڈ کی گئی۔

سٹی42:  پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں  بولان کے پہاڑی ویرانے  ڈھاڈر میں پانچ سو مسافروں کو کوئٹہ سے پنجاب لانے والی، عورتوں اور بچوں سے بھری ٹرین جعفر ایکسپریس پر رمضان شریف کے روزہ کے دوران حملہ غدار  دشہتگردوں کے گروہ بی ایل اے کے کارندوں نے کیا۔ اس گروہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ  مجید بریگیڈ اور ایس ٹی او ایس نے ٹرین پر حملہ کر کے اس کی حفاظت کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو مار دیا اور  مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ دہشتگردوں نے اپنے خلاف جوابی کارروائی کرنے کی صورت میں یرغمال مسافروں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

غدار بلوچ دشہتگرد گروہ کے انڈین سرپرست  بے گناہ سویلینز پر اس دہشتگرد حملہ کو سوشل میڈیا کے ساتھ انڈیا کے نیوز میڈیا میں بھی سلیبریٹ کر رہے ہیں۔

انڈیا میں را کے ساتھ قریبی ربط رکھنے والی ایک نیوز آؤٹ لیٹ  کی ویب سائٹ پر لکھا گیا کہ " جیسے ہی پاکستانی حکومت اور فوج کو ٹرین پر قبضہ ہونے کی خبر ملی تو ان کی سانسیں اٹک گئیں ۔"

انڈیا کی میڈیا آؤٹ لیٹس نے دہشت گرد گروہ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان دہشتگردوں کی فائرنگ میں پاک فوج کے 6 جوان  شہید ہوگئے ہیں۔یہ فوجی اہلکار ٹرین کی سیکورٹی کے لیے تعینات تھے۔

انڈین ویب سائٹ نے یہ بھی لکھا کہ دہشتگرد گروہ  بی ایل اے نے پاکستان کی حکومت کو براہ راست دھمکی دی ہے کہ اگر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ تمام یرغمالیوں کا قتل کر دیں گے۔

بی ایل اے کی نام نہاد "مجید بریگیڈ" بدنام دہشتگرد مجید  لانگو کے نام سے بنائی گئی ہے۔ یہ خود کش نوعیت کے دہشتگردوں پر مشتمل ہے جن کے دلوں اور دماغوں میں کئی سال تک مسلسل پروپیگنڈا کر کے پنجابیوں اور پاکستانیوں سے نفرت بھری گئی ہے۔  اس گروہ کے ٹرینر  اور منصوبہ ساز انڈیا  کی بدنام دہشت گرد ایجنسی "را" کے براہ راست ملازم ہیں۔

بی ایل اے کے دو اہم لیڈر حیریبیار مری اور براہمدغ بگٹی انڈیا کی ایجنسیوں  کی مالی اور تکنیکی معاونت سے اس گروہ کو چلا رہے ہیں اور دونوں سالہا سال سے  پاکستان سے باہر   ہیں۔ 

یہ چند ماہ میں دوسرا موقع ہے کہ  بی ایل اے کے دہشتگردوں نے جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے دھماکے میں 26 افراد شہید اور 62 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 12 کا تعلق لیویز، ایف سی اور فوج سے تھا۔ اس  حملے مین شہید ہونے والوں میں بھی عورتیں اور بچے زیادہ تعداد میں  تھے۔
آج ہونے والے حملے میں بھی یرغمالیوں میں عورتیں اور بچے  زیادہ  ہیں۔ عسکری ذرائع نے یرغمال بنائے جانے والے افراد کی تعداد تو نہیں بتائی لیکن کہا جا رہا ہے کہ ٹرین کی نو بوگیوں میں سوا مسافر سبھی یرغمال ہیں۔

حیریبیار مری کے بیشتر کارندوں نے اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ کو بھی پاکستان سے باہر منتقل کر لیا ہے۔ یہ لوگ مختلف  خلیجی ممالک اور یورپی ممالک میں مقیم ہیں۔
پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق منگل کو بلوچستان میں پشاور جانے والی ٹرین پر فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد فوج کو فوری طور پر الرٹ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس فائرنگ کا واقعہ بلوچستان کے ضلع کچھ(بولان) کے علاقے پیروکنری میں پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور زخمی ہوگیا ہے جبکہ ٹرین اس وقت سرنگ میں کھڑی ہے۔

Caption  بلوچستان کے صحرائی پہاڑی علاقہ بولان میں عورتوں اور بچوں سے بھری ٹرین کو یرغمال بنانے کے غیر انسانی واقعہ سے انڈین ٹیررسٹ ایجنسی را سے ربط رکھنے والی نام نہاد نیوز آؤٹ لیٹ کے پروپیگنڈا کارکن اتنے ایکسائٹڈ ہوئے کہ انہوں نے اپنے ٹیررسٹ ساتھیوں کو گلوریفائی کرنے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے ایک مصنوعی تصویر بنا کر ویب سائٹ پر پوسٹ کر دی۔ اس تصویر میں کسر یہ ہے کہ دہشتگردوں کے حلئیے را کی سپانسرڈ بی ایل اے کے دہشتگردوں کے حلیئوں سے یکسر مختلف ہیں۔


ریلوے کنٹرولر محمد کاشف نے بتایا کہ نو بوگیوں والی ٹرین میں تقریباً 500 مسافر سفر کر رہے تھے۔ لیکن  حیریبیار مری کے دہشتگردوں  کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پوری ٹرین کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

 ذرائع ریلویز  نے بتایا کہ بولان میں حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس  صبح 9بجے پشاور کے لیے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی ، ٹرین پر حملے کا واقعہ درہ بولان میں پیشی اور پنیر کے درمیانی علاقے میں پیش آیا ، : ٹرین میں مجموعی طور پر کوئٹہ سے 11بوگیاں شامل تھیں  ، کوئٹہ سے مجموعی  طور پر چار سو سے زائد مسافر ٹرین میں سوار تھے ،ٹرین پر حملے کی اطلاع ریلوے حکام کو ایک بج کر 20 منٹ پر ملی ،