ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بریکنگ نیوز: نیا تجارتی معاہدہ ہو گیا! دنیا کی معیشت بچ گئی

China USA Trade war ends, US Tariffs on Chinees products fixed at 55%, 55% tariff, Precious metals, Rare metals, President Xi, President Trump, City42 , China USA Trade agreement
کیپشن: عوامی جمہوریہ چین کے نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ پیر کو لندن میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ منگل کے روز بھی چین اور امریکہ کے تجارتی ایشوز پر مذاکرات جاری رہے اور آکر کار ایک معاہدہ طے پا گیا جس سے یہ توقع ہے کہ اب چین کے خلاف امریکہ کی یک طرفہ تجارتی جنگ رک جائے گی اور دنیا کی معیشت میں تلاطم بھی تھم جائے گا۔

سٹی42: امریکہ کو "پھرسے دولت مند" بنانے کی مشقت میں مبتلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے خلاف چھیڑی ہوئی ٹریڈ وار میں آج ٹھہراؤ آنے پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج چین کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سے پہلے بلوم برگ اور دوسری میڈیا آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا تھا کہ لندن میں مذاکرات میں چین اور امریکہ کے وفود نے" کچھ طے کر لیا ہے جسے صدر زی اور صدر ٹرمپ کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا"۔ اب یہ بریکنگ نیوز پہلے واشنگٹن سے آئی ہے کہ امریکہ چین پر ٹھونسے گئے ڈیر سو فیصد ٹیرفس کم کر کے 55 فیصد کر رہا ہے۔

Caption صدر ڈونلڈ ٹرمپ دس جون کو (پاکستانی وقت 11 جون)  جوائنٹ بیس اینڈریو ایم ڈی پر  اپنے ائیر فورس ون سے اترنے کے بعد وہاں پہلے سے بلائے گئے صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں آض بدھ کے روز  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاعلان کیا کہ امریکہ ایک نئے تجارتی معاہدے کے تحت چین سے میگنائیٹ اور نایاب زمینی معدنیات خریدے گا اور چینی پروڈکٹس پر محصولات کو ڈیڑھ سو فیصد سے کم کر کے  55 فیصد  تک محدود کر دیا جائے گا۔  

اس کے بدلے میں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ چین کو وہ پروڈکٹس فراہم کرے گا جس پر اتفاق کیا گیا تھا، اس میں چینی طلباء کو امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت بھی شامل ہے۔


 دنیا کی دو بڑی معیشتوں چین اور امریکہ نے کہا ہے کہ انہوں نےتجارتی  تنازعات کی ایک سیریز کے بعد اپنے تجارتی مذاکرات کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے۔  دونوں فریقوں نے منگل کے روز لندن میں دو روزہ بات چیت کو سمیٹ لیا جس میں معدنیات اور ٹیکنالوجی کی برآمدات پر تنازعات کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی. ان ایشوز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جارحانہ  کموینیکیشن نے گزشتہ ماہ جنیوا میں ہونے والی" تجارت پر  نازک جنگ بندی" کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

Caption بیجنگ میں چائنہ ایکسپو میں ایک خاتون ورکر ریموٹ کنٹرول سے مائیننگ کر رہی ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین مائیننگ کی صنعت مین اس وقت دنیا میں لیڈر ہے۔ چین میں ہر طرح کی مائیننگ ہو رہی ہے لیکن جدید انڈسٹریز کیلئے انتہائی قیمتی تصور کی جانے والی میٹلز کی تلاش اور مائیننگ کئئی سال سے چین کے جیالوجسٹوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

چین سے  جو قیمتی معدنیات امریکہ کو بھیجی جاتی ہیں ان مین لیتھئیم، ٹائیٹینیم اور کئی دیگر رئیر  میٹلز شامل ہیں جو چین میں سنکیانگ کے انتہائی شمالی سوبہ سے بھی نکالی جاتی ہیں۔

2021 میں، اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے سنکیانگ کے علاقے سے درآمدات کو روکنے کے لیے ایک قانون پر دستخط کیے  تھے جب تک کہ کاروبار یہ ثابت نہ کر سکیں کہ اشیاء کو جبری مشقت کے بغیر بنایا گیا تھا۔ اس قانون میں ابتدائی طور پر شمسی مصنوعات، ٹماٹر، کپاس اور ملبوسات کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن امریکی حکومت نے حال ہی میں اس قانون کے نفاذ کے لیے نئے شعبے شامل کیے ہیں، جن میں ایلومینیم اور سمندری غذا شامل ہیں۔

گزشتہ مہینوں کے دوران جب ٹرمپ نے چین کے خلاف یک طرفہ تجارتی جنگ چھیڑی تو چین نے امریکہ کو بھیجی جا رہی بہت قیمتی معدنیات کی فراہمی روکنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ان معدنیات کی چین کی الیکٹرونکس کی انڈسٹری میں سخت ضرورت ہوتی ہے۔  

اب ان معدنیات کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین کے خلاف ٹیرف بڑھاتے جانے کی تقریباً یک طرفہ جارحانہ تجارتی جنگ کو نہ صرف روک بیک کر دیا بلکہ سنکیانگ سے امپورٹس پر اپنے بنائے ہوئی  قانون کی رکاوٹ  کو بھی از خود مینیج کرنے کا انتظام کر لیا ہے۔