سٹی42: وزیراعلیٰ مریم نواز نے تصدیق کی ہے کہ آج شب لاہور کے ملحقہ بڑی آبادی شاہدرہ کو راوی کے سیلاب سے شدید خطرہ ہے، شاہدرہ میں خطرہ سے دوچار علاقوں مین انخلا تیزی سے کروایا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے 38 سال میں پہلی مرتبہ راوی، ستلج اور چناب میں بیک وقت سیلاب آنے کو انتہائی غیر معمولی صورتحال قرار دیا اور کہا کہ وہ صوبے میں سب سے بڑا اور غیر معمولی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کریں گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے آج لاہور میں ہنگامی نیوز کانفرنس کی۔ انہوں نے سیلاب کی صورتحال، مون سون کی غیر معمولی بارشوں کے دوران ہی بھارت کی طرف سے دریاؤں مین بہت زیادہ پانی چھوڑ دیئے جانے کو پنجاب کے حالیہ سیلاب کی وجہ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لئے گرینڈ ریسکیواینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے 263 ریلیف کیمپ، 161 میڈیکل کیمپ قائم کئے جا چکے ہیں۔ خوراک، علاج اور عارضی پناہ گاہیں فراہم کردی گئی ہیں۔
مریم نواز نے کہا، سیلاب سے متاثر ہونے والے شہریوں کو جو بھی مدد درکار ہو گی وہ حکومت تمام دوسرے کام چھوڑ کر فراہم کرے گی۔
تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لئے گرینڈ ریسکیواینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ 38 سال بعد پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار تیں دریاؤں میں سیلاب کی وجہ سے صوبے میں سب سے بڑا اور غیر معمولی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن شروع کیا گیا ۔
جہاں جہاں پانی آیا ہے، وہاں بروقت، فوری انخلا سے لوگوں کی قیمتی جانیں بچ گئی ہیں۔
لائیو سٹاک اور زرعی پیداوار، گھروں کا نقصان؛ مکمل لاش شیتیں بنائیں
مریم نواز نے کہا اچھی بات یہ ہے کہ لائیو سٹاک کا نقصان نہین ہوا۔ فصلوں کا جو نقصان ہوا ہے، لائیو سٹاک کا، جانوں کا، گھروں کا جو بھی نقصان پہنچا ہے، اس کی مکمل لاس شیٹیں بنائیں۔
لوگوں کو محفوظ ایریاز مین لائین تو ان کے لائیو سٹاک کے چارے، پانی اور علاج معالجے کا مکمل انتظام کریں۔ جانوروں کی ویکسینیشن پہلے کریں۔ وٹرنری ٹیمیں ہر جگہ پہنچائیں۔
متاثرہ شہریوں کی بھی ویکسینیشن کریں۔
جہاں جہاں ریت کے تھیلوں سے پانی کی آمد کو روکا جا سکتا ہے وہاں سیند بیگ استعمال کر کے پانی کی آمد کو روکیں۔
سڑکیں جو ٹوٹ گئیں، راستے جو بند ہوئے ان سب کو بحال کریں۔
چھ لاکھ شہری متاثر ہو چکے
انہوں نے بتایا، دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے پنجاب کے کل 769 موضع جات کے 6 لاکھ ایک ہزار 126 شہری متاثر ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں۔
مریم نواز نے کہا، 2023 میں جب ایسی صورتحال ہوئی تھی، تب نقصانات اس سے بہت زیادہ تھے، آج واقعتاً سارا پنجاب سیلاب سے متاثر ہو رہا ہے۔ لیکن انتظامیہ نے بہت اچھی تیاری شو کی ہے۔
ستلج، راوی، چناب کے پانی کو کہیں نکالنے کی کوئی جگہ بھی نہیں
بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، بہت سے علاقوں میں متاثرہ لوگوں کو سنبھال رہے ہیں۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائیں لیکن ہماری تیاری میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے۔
آج رات شاہدرہ کو خطرہ
مریم نواز نے بتایا کہ آج رات راوی میں بڑے سیلاب کا خطرہ ہے اور لاہور کے نواحی علاقہ شاہدرہ کو خطرہ ہے۔ مریم نواز نے بتایا کہ کمشنر اور ڈی سی کو ہدایت کی ہے کہ تیاریاں مکمل رکھے، جو علاقے حقیقی خطرہ سے دوچار ہیں وہاں سے مکمل انخلا کروائیں، ان علاقوں میں انخلا ہو بھی چکا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ جہاں جہاں پانی آیا وہاں ٹائملی اویکیوئیشن کی اور قیمتی جانیں بچ گئیں۔
ریلیف کیمپ کیسے ہوں
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا، انٹطامیہ سے کہہ رہی ہوں کہ ریلیف کیمپ نمایاں اور قابلِ رسائی جگہوں پر ہی بنائیں۔ تمام کیمپوں کا ماحول بہتر رکھیں۔ دوا، کھانے، سونے کے انتظامات، ٹینٹ اچھے ہونے چائیں۔ فرسٹ ایڈ اچھی مہیا کریں۔ فیلڈ ہسپتالوں کو زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھیجیں۔
سیلاب زدہ عوام کو خوراک اور ضروری سامان کی فراہمی
مریم نواز نے بتایا کہ سمبڑیال، سیالکوٹ اور پسرور اور دوسرے تمام علاقوں میں سیلاب متاثرین میں خوراک، پانی اور دیگر اشیاءکی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔قصور، ننکانہ، چنیوٹ، پلکھو نالہ وزیرآباد سمیت دیگر سیلاب زدہ علاقوں سے شہریوں کی منتقلی کا بڑا آپریشن کیاگیا۔
پاک فوج، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے مشترکہ طورپر ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں شریک ہیں ۔ سیلاب سے بے گھر ہونے والوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
راوی کا سیلاب دیکھنے والے شوقینوں کو سنبھالیں
چیف منسٹر نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ لوگ راوی کا سیلاب دیکھنے کے لئے راوی کے پل پر جا رہے ہیں اور بعض لوگ سیفٹی کی پروا نہیں کر رہے۔
لوگ راستوں میں کھڑے ہو رہے ہیں۔ ویدیوز بنا رہے ہیں، بچے سوئمنگ کر رہے ہیں۔ مریم نواز نے بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ آپ کو جو کچھ کرنا پرے وہ کریں، لوگوں کو وہاں جانے سے روکیں اور انہیں سیفٹی ہیزرڈز (خطرات) سے آگاہ کریں۔
















