ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیالکوٹ میں سیلاب کیوں آیا، خواجہ آصف نے قبضہ گیروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

Khawaja Asif Ali, Sialkot Flood, Monsoon, India's water invasion

سٹی42:  وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ مین سیلاب کی اصل وجہ بتا دی۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ حالیہ سیلاب کو بھارتی آبی جارحیت نہیں کہہ سکتا بھارت نے پروٹوکول کے مطابق دوبار سیلاب کی پیشگی اطلاع دی۔  

خواجہ آصف نے کہا کہ جموں سے بہنے والے تمام نالے ہی سیالکوٹ کے علاقہ سے گزرتے ہیں۔   سیال کوٹ کو روایتی طور پر ہمیشہ ہی سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اب یہاں زیادہ تباہی اس لئے ہو رہی ہے کہ لوگوں نے نالوں کے راستوں پر قبضہ کر کے مکان اور فیکٹریاں بنا لئے ہیں۔

نیوز چینل کے نمائندہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصٖف نے بتایا کہ اب جو سیلاب آیا ہے اس میں چالیس پچاس ایسے گھر ڈوبے ہیں جو نالوں کے راستے پر قبضے پر کے بنائےگئے تھے۔

خواجہ آصف علی نے کہا کہ اڑتیس سال بعد پنجاب میں بیک وقت تین دریاؤں میں سیلاب آئے ہیں۔ فوج اور حکومت کے تمام ادارے مل کر اس سیلاب کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

ایک نیوز چینل کے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے سیلاب سے متعلق 2 بار اطلاع دی ہے بھارت ہمیشہ سے ہی سیلاب کی پیشگی اطلاع دیتا رہا ہے بھارت بعض اوقات عین سیلاب کے وقت وارننگ دیتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سیلابی ریلوں سے متعلق بھارت کی شرارت کے کوئی ثبوت نہیں بھارت نے اس بار ڈیم سے پانی ریلیز کرنےکے بعد بھی بتایا ہم  بھی ڈیم سے پانی ریلیز کرتے ہیں اگر نہ کریں تو آبادی کو خطرہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی میں 50 سال بعد اس طرح کی شدید بارش ہوئی ہے ہمارے ہاں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات بہت زیادہ ہیں، سیالکوٹ کے وسط سے گزرنے والے نالے پر تجاوزات ہیں ان کے دونوں طرف فیکٹریاں ہیں، دریاؤں اور نالوں کےکنارے پر تجاوزات نہیں ہونی چاہیے اگر چاہیں تو تجاوزات 3 دن میں ختم کر سکتے ہیں، شہری آبادی میں تجاوزات کے خاتمےکےلیے سروے شروع کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سرکاری زمین  پر پیشہ ور لوگ غیرقانونی تعمیرات کرتے ہیں سرکاری زمینوں کی لوٹ مار لگی ہوئی ہے ہر کوئی قبضہ کرلیتا ہے بارشوں کے بعد تجاوزات کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔

میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے وئے خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی میں بہت سے مسائل ہیں جو حل نہیں ہو سکتے۔