سٹی42: پاکستان کو غیر معمولی مون سون کا سامنا ہے۔ سیلابی ریلا جنوب کی طرف جائے گا تو زور ٹوٹنے کا امکان ہے۔فی الوقت سندھ میں سپر فلڈ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
پاکستان کے ڈیزاسٹر سے بچنے کے ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے آج غیر معمولی پریس کانفرنس کی اور سیلاب سے ہونےوالی تباہی کی مکمل تصویر میڈیا اور عوام کے سامنے پیش کی۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ گلوبل کلائنیٹ چینج یعنی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئرز پگھلنے کا عمل تیز ہوا ہے۔ آنے والے پچاس سالوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد گلیشیئرز ختم ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ یہ گلیشئیر تیزی سے پگھلیں گے تو پاکستان میں دریاؤں میں پانی آج کل کی نسبت بہت زیادہ آئے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ میٹ ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین بتا رہے ہیں کہ مون سون کا موسم ستمبر کے آخری ہفتے تک رہے گا۔
انہوں نے کہا، پاکستان کو منفرد مون سون کا سامنا ہے۔ پاکستان کو بیک وقت خلیج بنگال، بحیرہ عرب اور بحر اوقیانوس سے آنے والے بارش برسانے والےسسٹمز کا سامنا ہے۔
روایتی مون سون سسٹم نے پہلے بالائی پہاڑی علاقوں کو متاثر کیا، پہاڑی علاقوں کے بعد مون سون سسٹم اس وقت ملک کے میدانی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا، پاکستان سب سے زیادہ گلیشیئرز رکھنے والا ملک ہے۔گلوبل ٹمپریچر میں بتدریج اضافہ ہمارے گلیشیئرز کو پگھلا رہا ہے۔
ہمارے شمالی علاقوں سے آنے والے دریائوں اور پہاڑوں پر 200 ملین افراد کی زندگی منحصر ہے۔ مون سون بارشوں اور دریائوں میں آنے والے سیلاب سے ایک منفرد صورتحال کا سامنا ہے۔
پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس بار نصف مون سون گزرنے کے بعد آزاد کشمیر اور ملک کے وسطی علاقوں میں زیادہ بارش ہو گی۔ جو اب ہو رہی ہے۔
مون سون سیزن، سیلاب کی تباہ کاریاں، اعداد و شمار
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ مون سون کے باعث اب تک 804 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
جموں کھٹوعہ میں چھ سو ملی میٹر بارش
لیفٹیننٹ جنرل انعام نے بتایا کہ دو روز پہلے بارشوں کی ایک غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی۔
مقبوضہ کشمیر کے جموں اور کٹھوعہ میں غیر معمولی طور پر 600 ملی میٹر کے لگ بھگ بارش ہوئی۔
ارلی وارننگ تھی کہ بھارتی ڈیم بھرنے کے بعد ستلج میں سیلابی صورتحال ہو گی۔ ہم اس کے لئے پہلے سے تیار تھے۔
انہوں نے بتایا، سیلابی ریلوں کے ظفر وال سمیت مختلف علاقوں میں پل گرنے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔
ستلج،راوی اور چناب میں سب سے زیادہ طغیانی کی صورتحال ہے۔
دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلا ب ہے۔
آرمی چیف نے تمام فارمیشنز کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی ہدایت کی ہے۔
پاک فوج نے مختلف علاقوں میں ریلیف کیمپس لگائے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے درمیان آئیڈیل ہم آہنگی ہے۔
وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزراء اپنے اپنے علاقوں میں سیلاب زدہ شہریوں کی مدد اور امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
پنجند پر بڑے ریلی کی آمد
انہوں نے بتایا کہ پنجاب مین سیلاب کے ریلے نیچے کی طرف برھ رہے ہیں۔ اب پنجند پر 8 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے 4 سے 6 ہفتے پہلے بارش اور سیلاب کے حوالے سے ارلی وارننگ کر دی تھی۔
چئیرمین این ڈی ایم اے نے کہا، این ڈی ایم اے کی پیشگوئی 90 سے 95 فیصد درست ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال کا 2014 کی سیلابی صورتحال سے تقابل خیال جاتا ہے۔
چئیرمین این ڈی ایم نے بتایا کہ پناج سے سیلابی ریلا جنوب کی طرف جائے گا تو زور ٹوٹنے کا امکان ہے۔ اس وقت سندھ میں سپر فلڈ کا کوئی خطرہ نہیں۔
چئیرمین این ڈی ایم اے نے کہا، گرائونڈ پر جو بھی کارروائی ہو گی وہ صوبائی حکومتیں ہی کریں گی۔ صوبائی حکومتوں کے پاس وسائل بھی ہیں اور قابلیت بھی موجود ہے۔
مون سون کا دو ہفتے کا اسپیل باقی ہے، نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کا ریلیف اکائونٹ تمام شیڈولڈ بینکس میں کھولا جا چکا ہے۔ عوام اس میں سیلاب زدہ بہن بھائیوں کی مدد کیلئے چندہ دے سکتے ہیں۔
















