ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قادر آباد بیراج بچانےکیلئے ایک اور بند کی قربانی، مزید علاقے زیرآب

Qadirabad Beraj, Chanab River, City42
کیپشن: file photo قادر آباد بیراج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: چناب میں پانی کا بہت بڑا ریلا گزر رہا ہے اور اس کے پیچھے زیادہ برا ریلا آ رہا ہے۔ چناب پر بنے بڑے بیراج قادر آباد بیراج کے چناب کی کانگ میں بہہ جانے کا شدید خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ انتظامیہ قادر آباد بیراج سے پہلے دریا کے پانی کو سیلاب کی صورت میں سمیٹے رکھنے کے لئے خطیر سرمایہ اور محنت سے بنائے بند میں ایک اور بڑا شگاف ڈالنا پڑ گیا۔ نیا شگاف علی پور چٹھہ کے علاقہ مین بنائے گئے حفاظتی بند میں ڈالا گیا ہے۔

پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ انتظامیہ ایک اور بند توڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر بیراج کو خطرہ برقرار رہا تو بند میں شگاف ڈال کر بیراج تک آنے والے پانی میں سے کچھ پانی کو  ڈائیورٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس عمل سے گوجرانوالہ اور  منڈی بہاؤلدین ضلع میں مزید بہت سے علاقے زیر آب آ جائیں گے لیکن بیراج بچ جائے گا اور کہیں زیادہ خوفناک سیلاب سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔

آج شام تک قادر آباد بیراج سے نو لاکھ کیوسک سے کچھ زیادہ پانی گزر رہا تھا۔ قادر آباد بیراج سے کچھ پانی چناب کی نہروں میں ڈالا جاتا ہے جو اس وقت اپنی مکمل گنجائش کا پانی لے کر چل رہی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے تصدیق کی ہے کہ چناب پر بنے بڑے بیراج قادر آباد بیراج کو بچانے کے لئے حفظتی بند میں ایک اور شگاف ڈالا جا رہا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ انفراسٹرکچر کوئی کوئی خطرہ نہیں ہے۔

چناب کی صورتحال

ڈائریکٹر ریجنل میٹ آفس لاہور علیم الحسن رامے  کے مطابق  دریائے چناب میں ہیڈ خانکی سے 10 لاکھ 14 ہزار 443 کیوسک جبکہ  قادرآباد سے 10 لاکھ 70 ہزار 951  کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔

ڈائریکٹر ریجنل میٹ آفس لاہور کے مطابق قادرآباد پر انتہائی اونچے درجےکا سیلاب ہے جبکہ دریائےچناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر 3لاکھ 12 ہزار918 کیوسک کا ریلا گزررہا ہے۔

قادر آباد بیراج کی گنجائش کیا ہے، بیراج ٹوٹا تو کیا ہو گا

اگر قادر آباد  ہیڈ ورکس ٹوٹ گیا تو حافظ آباد اور چنیوٹ کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم ہیڈ ورکس کی موجودہ صلاحیت صرف آٹھ لاکھ کیوسک ہے۔
خیال رہے اس سے قبل بدھ کے روز قادر آباد ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے منڈی بہاؤالدین کی طرف ایک شگاف ڈالا گیا تھا، آج شب علی پور چٹھہ کا حفاظتی بند بھی توڑ دیا گیا۔  تاہم پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہیڈ ورکس پر دباؤ برقرار ہے۔ 

قادر آباد بیراج کیا ہے

قادر آباد بیراج، پنجاب، پاکستان میں دریائے چناب پر ہائیڈرولک انجینئرنگ کا ایک اہم منصوبہ ہے، جو 1967 میں سندھ طاس منصوبے کے حصے کے طور پر شروع ہوا تھا۔ یہ ایک اہم ٹرانسفر پوائنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔  جو دریائے جہلم سے (منگلا ڈیم سے چھوڑا گیا پانی) "رسول قادر آباد (RQ) لنک کینال" کے ذریعے پانی لے کر، یہیں سے " قادر آباد بلوکی (QB) لنک کینال" کے ذریعے دریائے راوی میں ڈالتا ہے، جو بالآخر "لوئر باری دوآب لنک مانکی' اور ـ(BS) بلوکی" کو فراہم کرتا ہے۔

 چناب میں پانی کہاں سے آ رہا ہے

دریائے چناب میں پانی جموں و کشمیر کے سینکڑوں ندیوں، نالوں ور توی جیسے کئی چھوٹےدریاؤں سے آتا ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر مین دو دن پہلے کی بارشوں سے کشمیر کے تمام علاقوں کے نالوں، ندیوں اور دریاؤں میں اونچے درجہ کا سیلاب آیا، ان تمام آبی ذرائع کا پانی اب چناب میں پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ اندیا کی جانب سے ڈیم سے بھی پانی چھوڑنے کی حرکتیں کی جا رہی ہیں جن کی پاکستان کو بروقت اطلاع تک نہیں دی جاتی۔

اس وقت  چناب میں ہیڈ خانکی سے 10 لاکھ 14 ہزار 443 کیوسک جبکہ  قادرآباد سے 10 لاکھ 70 ہزار 951  کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔

ڈائریکٹر ریجنل میٹ آفس لاہور کے مطابق قادرآباد پر انتہائی اونچے درجےکا سیلاب ہے جبکہ دریائےچناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر 3لاکھ 12 ہزار918 کیوسک کا ریلا گزررہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قادر پور براج سے پانی کے برے ریلے خیریت سے گزر گئے تو اس سے نیچے دریا مین زیادہ پانی کی وجہ سے کچھ نشیبی علاقے تو زیر آب آئیں گے لیکن جنوب میں بڑھتے ہوئے سیلاب کسی حد تک مینیج ایبل ہو جائے گا اور اس سے انفراسٹرکچر اور آبادیوں کو زیادہ خطرہ نہیں رہے گا۔