سٹی42: راوی میں بھارت کی طرف سے گنجائش سے بہت زیادہ پانی چھوڑے جانے کے نتیجہ میں سکھ مذہب کا مقدس تاریخی استھان گورودوارہ کرتار پور صاحب دس فٹ تک پانی میں ڈوبا۔
بھارت سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے نے گورودوارہ کرتارپور صاحب کے نزدیک بنائے گئے حفاظتی پشتے کو تباہ کر دیا اور پانی گورودوارہ صاحب میں داخل ہو گیا بلکہ ارد گرد کے کئی دیہات میں بھی پانی گھروں میں گھس گیا۔
گورودوارہ میں زائرین اور منتظمین، خٓدموں کو سیلاب کے ریلے کی آمد سے پہلے محفوظ مقام پر پہنچنے کا موقع نہیں ملا۔ بہت سے لوگ گورودوارہ میں رکے رہے۔ اس دوران پاک فوج کے جوانوں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن کیا اور گورودوارہ میں موجود افراد کو وہاں سے مھفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کی۔ گورودوارہ میں موجود گورو گرنتھ صاحب کے تمام نسخے سیلاب کے پانی سے مکمل محفوظ ہیں۔
دھوسی پشتہ ٹوٹنے سے پوری زرعی زمین زیر آب ہے۔ سرحدی علاقے کے کئی گھروں میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ ہند-پاک سرحد کے پاس واقع گرودوارہ کرتار پور کوریڈور کھلنے کے بعد پہلی بار سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔
مشرقی پنجاب میں دریائے راوی میں زیادہ پانی چھوڑے جانے سے نارووال میں سکھ دھرم کا مقدس استھان گورودوارہ کرتار پور صاحب دس فٹ تک سیلابی پانی میں ڈوب گیا۔

پنجاب میں کئی دنوں سے بارش کا سلسلہ جاری ہے لیکن مشرقی پنجاب میں سیلاب کہیں نہیں آیا۔ گرداس پور ضلع کے سرحدی علاقوں میں کل رات ڈھلے راوی کا بہاؤ تیز ہو گیا کیونکہ پیچھے ڈیم سے زیادہ پانی راوی میں ڈالا جا رہا تھا۔
راوی کے سیلاب سے ڈیرہ بابا نانک میں پاکستان انڈیا سرحد پر کرتار پور کوریڈور کے نزدیک حفاظتی پشتہ ٹوٹ گیا۔
پاکستان کی سرحد پر بنے کرتارپور کوریڈور کے پُل کے نیچے پانی کا تیز ریلا بہہ رہا تھا۔ آس پاس کے کئی گاؤں میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے۔
دھوسی پشتہ ٹوٹنے سے پوری زرعی زمین بھی زیر آب ہو گئی ہے۔ یہاں رات میں کئی گھروں میں پانی داخل ہو چکا ہے اور ڈیرہ بابا نانک شہر بھی سیلاب کی زد میں ہے۔ لوگ انتظامیہ سے مدد کی درخواست کی تو پاکستان آرمی فوراً حرکت میں آئی اور علاقہ میں ریسکیو کا کام سنبھال لیا۔
سیلاب سے کرتا پور صاحب گرودواہ کی مرکزی عمارت اور احاطہ میں پانی بھرا ہوا ہے۔

کرتارپور میں حال ہی میں تعمیرِ نو کے عمل سے گزارا گیا یہ تواریخی گرودوارہ سکھوں کے پہلے گورو گورونانک دیو جی کی آخری آرام گاہ ہے۔ گورودوارے میں 5 سے 7 فٹ تک پانی بھر گیا ہے لیکن گورودوارے کے منتظمین مطمئین ہیں کہ گورو گرنتھ صاحب کے تمام نسخےمحفوظ ہیں۔
ہند-پاک سرحد کے پاس واقع یہ تاریخی گورودوارہ بھارتی پنجاب سے آنے والے عقیدت مندوں کے لئے خاص طور سے بنائے گئے کرتار پور کوریڈور کے کھلنے کے بعد پہلی بار سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ کوریڈور آج کل اپریل کے آخری ہفتے سے ہندوستان کی طرف سے بند ہے۔
پاکستان کی حکومت اور گورودوارہ دربار صاحب کرتارپور
پاکستان کی حکومت نے پاکستان میں سکھ مذہب کے خاص الخاص مقدس مقام گورودوارہ دربار صاحب کرتارپور کی تعمیر نو سرکاری خرچ سے کروائی تھی۔ سکھ مذہب کے بھارت میں بسنے والےپیروکاروں کو گورودوارہ تک آنے کے لئے خاص سہولت مہیا کرنے کی غرض سے پاکستان کی حکومت نے کرتارپور میں خصوصی بارڈر کوریڈور بنانے کے لئے مذاکرات کئے اور طویل کوشش کے بعد یہ کوریدور بنانے میں کامیاب ہوئی جہاں سے گزر کر مشرقی پنجاب کے بہت سے علاقوں کے لوگ آسانی سے بہت تھوڑا وقت خرچ کر کے گورودوارہ دربار صاحب تک آ سکتے ہیں اور یہاں درشن کر کے دن کی روشنی میں ہی واپس بھی جا سکتے ہیں۔ اس مقدس گورودوارے کی تعمیر کےوقت ہی سیلاب سے اس کو بچائے رکھنے کا بھی انتظام کیا گیا تھا لیکن راوی میں بھارت نے اتنا زیادہ پانی چھوڑ دیا کہ حفاظت کے لئے بنایا گیا پشتہ ہی ٹوٹ گیا۔ اس کی پاکستان کے حکام کو منگل کی شام تک بھی توقع نہیں تھی۔ دراصل گورودوارہ کی تعمیر کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بھارت نے پہلے سے بھرے ہوئے دریا راوی میں اپنے ڈیموں سے اتنی زیادہ مقدار میں پانی چھوڑا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم خود گورودوارہ دربار صاحب کرتارپور کو دیکھنے جا رہے ہیں
بدھ کی شب یہ مصدقہ اطلاعات آئی ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم خود گورودوارہ دربار صاحب کرتارپور کو دیکھنے جا رہے ہیں۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اور وزیراعظم کے اہم وزیر بھی ان کے ساتھ کرتارپور جا رہے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت سیلاب کئی جگہوں پر آیا ہوا ہے لیکن وزیراعظم کا خاص کرتاپور کا دورہ کرنا سکھ برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا اہم انڈیکیٹر ہے۔
بھارت کا میڈیا کیا بتا رہا ہے
بھارت کے میڈیا میں صرف ایک نکتے کو ڈسکس کیا جا رہا ہے کہ دراصل ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں ستلج، بیاس اور موسمی نالوں میں شدید بارش کے بعد آبی سطح بڑھنے سے بھارت کے پنجاب میں سیلاب کی حالت سنگین ہو گئی تھی لیکن بھارتی میڈیا یہ نہیں بتا رہا ہے کہ بھارت کی حکومت نے کئی ڈیمز سے پاکستان آنے والے دریاؤں میں مزید پانی ڈال کر پاکستان کے علاقوں میں صورتحاک زیادہ سنگین کر دی۔ بھارت کی اس آبی جارحیت کے سبب پنجاب کے کئی ضلعوں میں دریاؤں کے کنارے بڑے پیمانے پر زرعی زمین اور گاؤں زیر آب ہو چکے ہیں۔
بھارت کے پنجاب میں بھی بھارت کی آبی جارحیت کا ضمنی اثر کچھ سرحدہ علاقوں کے دیہات پر پڑا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گاؤں پٹھان کوٹ، گرداس پور، فاجلکا، کپور تھلہ، ترن تارن، فیروز پور اور ہوشیار پور اضلاع میں ہیں۔














