سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جنگ بندی کو درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے پاکستان کی حدود میں براہموس میزائل داغے، بھارت کی جارحیت پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کیا، پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا، بھارت نے 7 تا 10 مئی کئی حملے کیے، خواتین، بچوں سمیت معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بھارتی حملوں میں عبادت گاہوں سمیت انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، بھارت نے وفاقی دارالحکومت سمیت کئی علاقوں پر قاتل ڈرونز بھیجے، بھارتی میزائل حملوں سے شہری و فوجی اثاثے نشانہ بنے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جواب شہری ہلاکتوں سے گریز، درست، محدود اور متوازن تھا، صرف وہ بھارتی اہداف نشانہ بنائے گئے جہاں سے جارحیت ہوئی, بھارتی اڈوں سے پاکستانی اڈوں پر میزائل داغے گئے، ناقابل تردید شواہد عالمی برادری کو دیے، دو جوہری ریاستوں میں کشیدگی عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے، خطے کی عدم استحکام کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑ رہا ہے، سرد جنگ کے اثرات نے خطے کو غیر مستحکم کیا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں، بھارت ہائبرڈ جنگ اور پراکسیز سے پاکستان کو غیر مستحکم کر رہا ہے، پاکستان کو اندرونی مسائل میں الجھا کر ترقی سے روکا جا رہا ہے، بھارت ہر بار دہشتگردی کا جھوٹا بیانیہ سامنے لاتا ہے، یہ جھوٹا بیانیہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں رکاوٹ بنتا ہے ، پاکستان کو عالمی برادری کی حمایت درکار ہے ۔ مزید کہا گیا کہ بھارت داخلی مظالم کو بیرونی مسئلہ بنا کر دنیا کو گمراہ کر رہا ہے، بھارت مسئلہ کشمیر کو اندرونی معاملہ ظاہر کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام امور پر مذاکرات کا حامی ہے، عالمی برادری کشیدگی روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تمام قومی ادارے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان نے انتہائی ذمہ داری اور تدبر سے جواب دیا، جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کا تصور ناقابلِ قبول ہے، مزید کشیدگی تباہ کن نتائج لا سکتی ہے ۔