سٹی42: سرِ شام ہی لاہور میں اندھیرا چھا گیا۔
تھنڈر سٹارم تو اب تک لاہور نہین پہنچا البتہ شام پونے پانچ بجے ڈسٹ سٹارم لاہور پہنچ گیا۔ آندھی نے اندھیر مچا دیا۔ بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا، شام کو ہی لاہور میں کئی علاقوں مین رات جیسا اندھیرا چھا گیا ہے۔
آندھی سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ یہ ایک بریکنگ سٹوری ہے، مزید تفصیلات جاننے کے لئے اس پیج کو کچھ دیر بعد ری فریش کیجئے۔
شہر میں گرد، غبار اور شاپنگ بیگز کی بے پناہ گندگی
کئی ہفتوں سے لاہور میں سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کے ناقص اہتمام کی قلعی آج آندھی سے کھل گئی۔ آندھی چلی تو ہر طرف موٹی مٹی اور ہزاروں شاپنگ بیگ اُڑ رہے تھے۔ اس آندھی کے ساتھ اڑنے والی مٹی نے سڑکوں اور گلیوں میں موجود خواتین اور مردوں کو بری طرح بد حواس کر دیا۔
شہری یہ کہتے پائے گئے کہ ماحول مین اس قدر مٹی موجود ہے تو صفائی کرنے والے روزانہ کیا کرتے ہیں۔ اگر شہریوں نے گرد و غبار کے ساتھ موٹی مٹی ہی پھانکنی ہے تو نام نہاد صفائی کے ذمہ دار ان اداروں پر ماہانہ کروڑوں روپے کی ٹیکس منی کیوں اجاڑی جاتی ہے۔
آج کے ڈسٹ سٹارم ڈیزاسٹر سے پہلے شہری بار ہا صفائی کے ناقص نظام کی نشان دہی کر چکے ہیں۔ بڑی سڑکوں پر مٹی اور گرد اٹھانے والی آٹومیٹک مشینوں سے مزین گاڑیاں روزانہ علی الصبح گشت کرتی ہیں لیکن مٹی جہاں ہوتی ہے وہیں چھوڑ جاتی ہیں۔
سڑکوں پر لکیریں کھینچنے کا نام صفائی!
چھوٹی سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں ہاتھ سے صفائی کرنے والے روزانہ صبح باقاعدگی سے جھاڑوں سے لکیریں کھینچتے ہیں۔ بیشتر صفائی کرنے والی اہلکار محض "لکیریں کھینچتے" ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ ان لکیروں سے شہریوں اور بازاروں کے دکانداروں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ صفائی کا عملہ آیا تھا اور کچھ نہ کچھ کر کے گیا ہے لیکن عملاً مٹی اور بہت سا سالڈ ویسٹ وہین کا وہیں رہتا ہے۔
صفائی کرنے والے ورکرز شاپنگ بیگ، مٹی اور دیگر کوڑا کرکٹ تھوڑا بہت جمع کر کے ڈھیریاں بناتے جاتے ہیں لیکن اس ہیزرڈس سالڈ ویسٹ کو سڑکوں اور گلیوں سے ہٹا پر مناسب طریقہ سے ٹھکانے لگانے کا مستحکم اہتمام نہیں کیا جاتا ہے۔
آج جب آبدھی آئی تو ہر طرف مٹی اڑنے لگی جو شہر کے اندر پہلے سے موجود تھی۔
ڈسٹ سٹارم اپ ڈیٹ
لاہور ہائیکورٹ اور گردونواح میں تیز آندھی سے لاہور ہائیکورٹ بار میں بجلی بھی بند ہو گئی۔
شانو بابا چوک میں سائن بورڈ اور بجلی کے کھمبے گرے ہیں۔
گلبرگ مین بلیوارڈ میں صدیق ٹریڈ سینٹر جانب اوریگا سنٹر کے قریب کجھور کا ایک درخت گرا ہے۔
بوہڑ والا والا چوک جانب گڑھی شاہو چوک میں ایک درخت گرا ہے
تیز ہوائیں چلنے سے چھتوں پر لگی سولر پلیٹیں اڑ گئیں، درخت ٹوٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ہسپتال جانب ٹھوکر کینال روڈ پر ایک بڑا درخت گرا ہے ۔
ٹریفک بلاک
ڈسٹ سٹارم سے بہت سی سڑکوں پر ٹریفک رک گیا اور پھر ہجوم بڑھنے سے ٹریفک بلاک ہو گیا۔ گلزار پل جانب کیمپس پل کینال روڈ پر ایک بڑا سائن بورڈ گرا ہے۔
منیر چوک جانب باغ علی ، کینٹ ایرایا میں ایک بڑا درخت گرا ہے۔
نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس میں تیز آندھی اور طوفان سے نقصان ہوا ہے۔
قذافی سٹیڈیم کی پرانی بلڈنگ کی ٹائلز گر گئیں۔
تیز آندھی اور طوفان کے باعث سکیورٹی بیرئیرز بھی ہوا میں اڑ گئے۔
پاکستان سپر لیگ سیزن دس کے فائنل سے پہلے تیز آندھی اور طوفان کے باعث کوئٹہ گلیڈیٹرز اور لاہور قلندر کی ٹیموں کی پریکٹس منسوخ کرنا پڑ گئے۔