ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل میں حکمران لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو "قطر کا سفارت خانہ" بنا ڈالنے والے   درجنوں مظاہرین گرفتار

 City42, Qatargate Scandal,, Lekud Parti headquarter, Netanyaho, PRime Minister's aids, PMO , Israeli politics, Times of Israel
کیپشن: تل ابیب میں وزیراعظم نیتن یاہو کی پارٹی لیکود کے ہیڈکوارٹر پر حکومت مخالف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے قطر کا جھنڈا لہرا دیا ۔ اس احتجاج مین 57 افراد گرفتار ہوئے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب میں سینکڑوں مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے باہر سخت احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران پولیس نے کم از کم  57 افراد کو گرفتار کیا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان لوگوں نے لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا جس کے سبب انہیں گرفتار کیا گیا۔  احتجاج کرنے والوں نے لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کی دیوار پر "قطر کا سفارتخانہ" لکھ دیا۔  احتجاج کرنے والے گروپ کے سینکڑوں ارکان نے  لیکود پارٹی کے دفتر کو قطر ایمبیسی میں بدل ڈالا۔ ’قطر ایمبیسی‘ کے باہر مظاہرین، پولیس آمنے سامنے ڈٹے رہے۔

Caption پولیس 28 مئی 2025 کو رات گئے  تل ابیب میں لیکود پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرین کو سڑک سے ہٹانے کے لئے انہیں گھسیٹ رہی ہے۔

  بدھ کی صبح  پاکستانی وقت کے مطابق صبح ایک بجے ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا کہ تل ابیب میںحکومت مخالف مظاہرین کا پولیس اہلکاروں سے مقابلہ ہوا، کچھ پولیس اہلکار گھوڑوں پر سوار تھے۔ 

 وسطی تل ابیب میں لیکود پارٹی کے صدر دفتر Metzudat Zeev کے باہر درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔  حکومت مخالف مظاہرین کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کے ایک گروپ کے مطابق، عمارت پر درجنوں افراد کے دھاوا بولنے کے بعد کم از کم 57 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

احتجاج کے دوران، کارکنوں نے عمارت پر عبرانی اور عربی میں "قطر کا سفارت خانہ" کیپشن کے ساتھ ایک بڑا  قطری جھنڈا لگایا۔ 

 لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کی عمارت کا نام ترمیم پسند صہیونی رہنما زیف جبوتنسکی کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس عمارت میں جبوتنسکی  کی تحریریں شائع کرنے والا ایک ادارہ  بھی کام کر رہا ہے۔


28 مئی 2025 کو تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے لیکوڈ ہیڈ کوارٹر کی دیوار پر  قطر کا پرچم آویزاں کر دیا گیا ہے۔

سخت احتجاج کا پس منظر

بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات پاکستانی وقت کے مطابق ایک بجے میڈیا میں رپورٹ ہونے والے اس احتجاج کا پس منظر "قطر گیٹ سکینڈل" ہے۔ 

سٹی42 نے  31 مارچ کو اپنی رپورٹ میں اس سکینڈل کے متعلق  بتایا تھا کہ یہ اسرائیل کی سیاست میں بھونچال ہے۔(اسرائیل کی سیاست میں بھونچال، پرائم منسٹر کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری) اب اس بھونچال کے نتیجہ میں حکمران لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر قطر کا جھنڈا لگ گیا اور درجنوں افراد گرفتار ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیئے: "قطرگیٹ" سیاسی انتقام ہے، میرے ساتھیوں کو پولیس نے یرغمال بنایا، اسرائیلی وزیراعظم کا بیان

یہ بھی پڑھیئے:  "وزیراعظم — آپ منقطع ہیں";  نیتن یاہو کے قطر گیٹ تحقیقات کے متعلق بیان پر اپوزیشن لیڈر کا بیان

یہ بھی پڑھیئے: رونن بار نے اپنی برطرفی کی کوشش کو "قطر گیٹ" کی تحقیقات رکوانے کی کوشش قرار دے دیا

یہ بھی پڑھیئے: اسرائیل کے وزیراعظم کی قطر گیٹ سکینڈل تحقیقات میں گواہی کا آغازہوگیا

یہ بھی پڑھیئے:  اسرائیل میں انٹیلی جنس ایجنسی پر قبضہ کرنے کی نیتن یاہو کی نئی کوشش

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ک خود لیکود پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کے  دفتر میں ان کے ساتھ کام کرنے والے  سینیئر معاونین پر قطر کی حامی لابنگ فرم کے لیے کام کرتے ہوئے متعدد جرائم کا ارتکاب کرنے کا شبہ ہے۔ یہ معاملہ "قطر گیٹ سکینڈل" کے نام سے بدنام ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر میں ان کے لئے میڈیا مینیجمنٹ کرنے والوں پر الزام ہے کہ انہوں نے قطر کی لابنگ فرم سے پیسے لے کر اسرائیل کے اندر قطر کے لئے "پبلک ریلیشننگ" نوعیت کا پروپیگنڈا کیا۔

 یہ کام کوئی عام اسرائیلی کرتا تو اس کی کم اہمیت ہوتی لیکن یہ کام کرنے والے وزیراعظم کے قریبی ساتھی ہیں جن کے متعلق ان کے مخالفوں کا تاثر یہ ہے کہ انہوں نے یہ کام وزیراعظم نیتن یاہو کی مرضی کے بغیر نہیں کئے ہوں گے۔

زیر حراست افراد کی مدد کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ "Metzudat Zeev تل ابیب میں حراست میں لیے گئے، افراد جنہوں نے لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو  آج شام کو قطری سفارت خانے میں تبدیل کر دیا ان  کو گرفتاری کے بعد  شہر کے جنوب میں واقع سلام پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ہے۔

جرنلسٹوں نے کیا دیکھا

لیکود کے ہیڈکوارٹر Metzudat Zeev میں پولیس مظاہرین کو سڑک سے فٹ پاتھوں پر گھسیٹ رہی تھی۔ مظاہرین میں سے کچھ اورنج جمپ سوٹ اور نیتن یاہو کے چہرے جیسے ماسک پہنے ہوئے تھے۔

پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے اور منتشر کرنے کے لئے گھوڑوں کا استعمال کیا۔

فضا میں احتجاج کرنے والوں کی سڑک پر لگائی ہوئی آگ کی بدبو موجود تھی۔  آگ سے اٹھنے والے  دھوئیں کا بادل ابھی تک ختم ہونا باقی تھا۔

مظاہرین "سول بغاوت" اور "بین گویر ایک دہشت گرد ہے" کے نعرے لگاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیئے:   اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف پر امن بغاوت

احتجاج کرنے والے اسرائیل کی اتحادی حکومت کے  قومی سلامتی کے وزیر اِتمار بین گویر کا حوالہ دے رہے تھے، جو پولیس کے محکمہ کی بھی  نگرانی کرتے ہیں۔ اور اتمار بن گویر کی سخت ہدایات پر پولیس خاص احتجاجوں کے دوران احتجاج کرنے والوں کے ساتھ معمول کے برعکس بہت زیادہ بدسلوکی کرتی ہے جو اس احتجاج میں بھی کی گئی۔