سٹی42: اسرائیل کی خاتون اٹارنی جنرل نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیرعظم نیتن یاہو کو قطر گیٹ سکینڈل کی تفتیش میں گواہی کے لیے طلب کرے۔ اٹارنی جنرل کے حکم پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے اور اس وقت اسرائیل کے وزیراعظم اپنے دفتر میں کام کرنے والے دو معاونوں کے "قطر گیٹ" سکینڈل میں اب تک سامنے آنے والے حقائق کے متعلق اپنی گواہی ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ اس کے بعد انہیں مشتبہ ملزم کی حیثیت بھی دی جا سکتی ہے۔
اسرائیل کے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، اٹارنی جنرل گیلی بہارو-میارا نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ان کے معاونین کے "قطر کے ساتھ مبینہ طور پر غیر قانونی تعلقات" کے بارے میں جاری تحقیقات میں گواہی دینے کے لیے طلب کریں۔
نیتن یاہو کی گواہی اس مرحلے پر ایک مشتبہ شخص کے طور پر نہیں بلکہ معاملے کا علم رکھنے والے شخص کے طور پر دی جائے گی۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، ابتدا میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو سے قطر گیٹ سکینڈل کے متعلق "معاملہ کو جاننے والے شخص" کی حیثیت سے ان کی گواہی لی جائے گی۔ اس کے بعد انہین خود اس سکینڈل میں ملوث مشتبہ شخص کی حیثیت سے پوچھ گچھ کے لئے بلوایا جا سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل گیلی بہارو میارا کو خود بھی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے برطرف کئے جانے کے کھلے خطرات کئی ماہ سے لاحق ہیں کیونکہ وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے اتحادی گیلی بہارو کو اپنے خلاف بہت سے قانونی اقدامات کی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق
نیتن یاہو گواہی ریکارڈ کروانے کے لئے پہنچ گئے ہیں اور ان کی ٹیسٹی مونی ریکارڈ کرنے کا عمل آغاز وہ چکا ہے۔