سٹی42: اسرائیل میں "قطر گیٹ" کی تحقیقات کے دوران سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھاوا دیتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے قطر گیٹ کی تحقیقات ' کو سیاسی شکار' قرار دے دیا اور اپنے ، 2 زیر حراست ساتھیوں کو "پولیس کا یرغمالی" قرار دے دیا۔
نیتن یاہو کے اس بیان نے سیاسی کشیدگی مزید بڑھا دی اور سابق وزیراعظم اور اپوزیشن کی ایک مرکزی پارٹی کنیشنل یونٹی کے چیئرمین بینی گینٹز نے ردعمل مین زیادہ تیز بیان دے دیا۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے قطر گیٹ اسکینڈل میں پولیس کی طرف سے پوچھ گچھ کئے جانے کے بعد ایک ویڈیو ریلیز کی اور تحقیقات کو "سیاسی محرک کا نتیجہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کرت دیا اور مزید کہا کہ گرفتار کیے گئے ان کے دو اعلیٰ معاونین کو "یرغمال بنایا جا رہا ہے۔"
لفظ یرغمال پندرہ ماہ سے حماس کی قید مین موجود یرغمالیوں کے حوالے سے اسرائیل میں حساسیت کا حامل ہو چکا ہے اور نیتن یاہو کے اپنے دو گرفتار ساتھیوں کو "یرغمال" قرار دینے پر سخت تنقید شروع ہو گئی ہے، اس ضمن میں پہلا بیان اپوزیشن لیڈنت بینی کینتز کی طرف سے پیر اور منگل کی درمیانی رات ہی آ گیا۔
ٹیلی گرام پر وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے ریلیز کی گئی ویڈیو میں نیتن یاہو نے کہا کہ جب پولیس نے انہیں بتایا کہ انہیں اس کیس میں گواہی دینے کی ضرورت ہے تو انہوں نے فوری طور پر اس کے لیے وقت نکالا۔
نیتن یاہو نے کہا، کہ "پولیس نے کہا کہ انہیں چار گھنٹے درکار ہیں، لیکن ایک گھنٹے کے بعد، ان کے پاس سوالات ختم ہو گئے۔"
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو ثبوت فراہم کرنے کو کہا۔ ’’میں نے کہا کہ مجھے کچھ دکھائیں، اور ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔"
نیتن یاہو نے اپنے دو معاونین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "میں سمجھ گیا کہ یہ ایک "سیاسی تفتیش" تھی، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ کتنا۔۔۔ اور وہ [یوناتھن] یوریچ اور [ایلی] فیلڈسٹین کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔"
ٹائمز آف اسرائیل نےنیتن یاہوک ے اس بیان پر لکھا، " نیتن یاہو کے کومنٹس غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی حالت زار سے اسرائیلی پولیس کے زیر حراست دو افراد کا موازنہ کرتے ہوئے قابل ذکر لہجے میں بہرے (deaf) دکھائی دیتے ہیں۔
"یہ ایک سیاسی شکار ہے جس کا مقصد شن بیٹ کے سربراہ کی برطرفی کو ناکام بنانا اور ایک وزیر اعظم کو گرانا ہے،" وہ دعوی کرتے ہیں۔