سٹی42: اسرائیل کی سکیورٹی انٹیلی جنس ایجنسی شہ بیخ Shen Bet کے سربراہ رونن بار نے کہا ہے کہ انہیں برطرف کرنا شہ بیخ کو کمزور کرنے کی ایک 'بنیادی طور پر غلط' کوشش ہے کیونکہ شہ بیخ Shen Bet اس وقت وزیر اعظم کے دفتر پر قطر کے اثر و رسوخ کے معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
جمعرات کی سب جب یرشلم میں اسرائیل کی کابینہ وزیراعظم نیتن یاہو کی فرمائش پر رونن بار کو شہ بیخ Shen Bet کی سربراہی سے قبل از وقت الگ کرنے کے لئے "ووٹنگ" کی غرض سے اجلاس کر رہی تھی تو رونن بار نے کابینہ کے وزراء کو ایک خط لکھا۔
رونن بار نے اس سخت خط میں بتایا کہ وہ آج رات کے اجلاس میں کیوں شرکت نہیں کریں گے جس میں کابینہ ان کی برطرفی کے سوال پر ووٹنگ کرے گی۔ شہ بیخ کے سربراہ رونن بار ن اپنے خط میں حکومت کے "بے بنیاد دعووں کے متعلق پھٹ پڑے؛ انہوں نے کہا یہ مکمل بے بنیاد الزام مکمل طور پر مختلف معاملہ کی پردہ پوشی کے لئے تھوپے گئے ہیں۔ وہ معاملہ رونن بار کے مطابق یہ ہے کہ نیتن یاہو انٹیلی جنس ایجنسی شہ بیخ Shen Bet کو اس کے کردار کو پورا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے درپے ہیں۔"
رونن بار نے خبردار کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو ملک کو "اندرونی طور پر اور اس کے دشمنوں کے خلاف" کمزور کر رہے ہیں۔
بار نے اس خیال کو پیچھے دھکیل دیا کہ ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان "اعتماد کا خلا" ہے، جسے وزیر اعظم نے اپنے انٹیلی جنس چیف کو تبدیل کرنے کی مرکزی وجہ کے طور پر پیش کیا۔
کابینہ کے ارکان کے نام اپنے خط میں رونن بار لکھتے ہیں، "میری قیادت اور وزیر اعظم کے تحت شہ بیخ Shen Bet کے درمیان گہرا اور موثر تعاون رہا ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کو ناکام بنانے میں اہم نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔"
اپنے دعوے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے، بار نے کہا کہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کا حالیہ معاہدہ "ایک منفرد کارروائی کی وجہ سے ہوا جس کی میں نے ذاتی طور پر قیادت کی، سب کچھ وزیراعظم کے علم میں رکھ کر کیا۔"
رونن بار کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے اس اصرار کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ان (دونوں) کے درمیان کوئی اعتماد نہیں ہے، "سوائے اس کے کہ اگر میں نیتن یاہو کے اصل ارادہ کو سمجھنے مین ناکام رہا کہ وہ (یرغمالیوں کی رہائی کے) کسی معاہدے تک پہنچنے کے بغیر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔"
رونن بار نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے انہیں اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کو یرغمالیوں کے مذاکرات سے ہٹانے کے فیصلے نے "ٹیم کو نقصان پہنچایا اور رہائی کو بالکل بھی آگے نہیں بڑھایا۔"
"قطر گیٹ" کی تحقیقات مکمل کرنے پر زور
"قطر گیٹ" کی طرف رجوع کرتے ہوئے - جسے رونن بار سمجھتے ہیں کہ " اس وقت اسرائیلی فیصلہ سازی کے مرکز میں_ وزیر اعظم کے دفتر میں قطر کے ملوث ہونے کے بارے میں ، پیچیدہ، وسیع، اور انتہائی حساس تحقیقات ہیں " - شہ بیخ کے سربراہ نے کابینہ کے ارکان کو لکھا، کہ تحقیقات کو مکمل طور پر مکمل کرنا "اعلیٰ ترین پبلک ڈیوٹی ہے۔"
شہ بیخ اس وقت ایک حساس تحقیقات کر رہی ہے جس میں وزیراعظم (نیتن یاہو) کے دفتر کے ایک اہلکار کے قطر کی حکومت کے ساتھ مشکوک تعلقات کے متعلق چھان بین کی جا رہی ہے۔
اس تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے رونن بار نے اپنے خط میں لکھا، تفتیش کے دوران شہ بیخ Shen Bet کے سربراہ کو برطرف کرنا، غیر متعلقہ کنسیڈریشنز سے داغدار ہے، "بیرونی تحفظات اور مفادات کے ذاتی اور ادارہ جاتی تصادم سے داغدار ہے۔ اس سے زیادہ سنگین کچھ نہیں ہو سکتا۔" ان کا کہنا ہے کہ اس (برطرفی) سے (قطر گیٹ سکینڈل کی) تحقیقات کو خطرے میں ڈالنے کا خطرہ ہے، جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
سات اکتوبر کی ریاستی کمشن برائے انکوائری کے ذریعہ مکمل تحقیقات
رونن بار اپنے اس خط میں 7 اکتوبر کو ریاستی کمیشن برائے انکوائری کے لیے بھی زور دیتے ہیں: "اس طرح کی تحقیقات کی فوری قومی ضرورت کو اس معاملے میں ملوث افراد کے ذاتی مفادات کے ماتحت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے کہ اس طرح کی ملٹی سسٹم ناکامی دوبارہ نہ ہو۔"
بار نے لکھا کہ آج رات حکومتی اجلاس اسرائیل کے قوانین کے خلاف اور اٹارنی جنرل کے موقف کے خلاف بلایا گیا تھا۔
رونن بار نے لکھا، "حکومتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا میرا فیصلہ صرف اور صرف میری سمجھ پر مبنی ہے کہ یہ ایک ایسی بحث ہے جو کسی بھی ملازم کے عہدے کی مدت ختم کرنے سے متعلق قانون اور قواعد کے مطابق نہیں ہے، اس نکتہ کو چلئے فراموش ہی کر دیں کہ یہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کو ، اور خاص طور پر شہ بیخ کے سربراہ کو عہدے عہدے سے ہٹانے کا معاملہ ہے۔
بار نے مزید لکھا کہ "اس طرح کے دعووں کے لیے ٹھوس جواب کے لیے ایک منظم عمل کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں متعلقہ دستاویزات کی پیشکش بھی شامل ہے، نہ کہ بظاہر پہلے سے طے شدہ عمل جس کا نتیجہ پہلے سے متعین ہو،"۔