سٹی42: دبئی میں کل ہونے والے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات کا ایک معقول اندازہ یہ ہے کہ پاکستان کے چالیس فیصد اور بھارت کے ساٹھ فیصد یہ میچ جیتنے کے امکانات ہیں۔ لیکن یہ اندازہ ٹاس ہونے سے پہلے کا ہے۔ ٹاس ہونے کے بعد اس اندازے کو دوبارہ دیکھنا لازم ہو گا۔ اس اندازے کی بنیاد دونوں ٹیموں کے باؤلرز، بیٹرز کی پرفارمنس اور صلاحیتوں کا تجزیہ ہے، اس کے ساتھ پچ کے حالات کل شام کیا ہونے کا امکان ہے اور موسم / اوس / نمی کیسے دونوں ٹیموں پر اثر انداز ہوں گے، اسے الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کے جیتنے کے امکانات - کیا ان کے حق میں / کیا مخالفت میں ہے
کسی بڑے فائنل سے پہلے نتیجہ کی پیش گوئی کرنا ہمیشہ قیاس آرائی پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ٹی ٹوینٹی کرکٹ میں تو یہ زیادہ دشور ہو جاتا ہے لیکن ہم کھیلنے والے بائیس کھلاڑیوں کی طاقت، کمزوریوں اور میچ کے حالات کو دیکھ کر اندازہ بہرحال کر سکتے ہیں:
پاکستان کو فائدہ پہنچانے والے عوامل
رفتار اور عزم
پاکستان اکثر اس وقت کارکردگی دکھاتا ہے جب سٹیکس ہائی ہوں۔ گرین شرٹس جب خود میں جذبہ (جنون) کی شدت لاتے ہیں تو وہ کسی بھی ٹیم کو پریشانی میں ڈال سکتے ہیں۔ انڈیا سے دو میچ ہارنے اور ہینڈ شیک کے تنازعہ، سٹیڈیم میں بعض میچ دیکھنے والوں کی ہوٹنگ اور پاکستانی فینز کے تقاضوں نے گرین شرٹس میں جنون تو بہرحال بھر دیا ہے، یہ کل شام کیسے کام کرے گا، ہم توقع کر سکتے ہیں کہ یہ پرفارمنس کوبوسٹ کرے گا۔
بولنگ اٹیک
پاکستان کے کل کھیلنے والے گیارہ کے کمبینیشن مین زیادہ طاقت بیٹرز مین ہے یا باؤلرز میں؛ ہمارا جواب باؤلرز زیادہ طاقتور ہیں اور وہی جیت تک لے جانے کے زیادہ ذمہ دار بھی ہوں گے۔ اس جواب میں وکٹ کی مخصوص صورتحال کا بھی عمل دخل ہے اور انڈین سائیڈ کی بیٹنگ لائن کی کیپیبلیٹی کا بھی۔ گرین شرٹس کی رفتار اور سپن کا امتزاج ایسی سطح کا فائدہ اٹھا سکتا ہے جو باؤلرز کی مدد کرتا ہے (خاص طور پر ابتدائی اوورز میں)۔
اگر پیس باؤلرز مضبوطی سے بولنگ کرتے ہیں تو وہ بھارت کو دباؤ میں ڈال سکتے ہیں۔ گزشتہ میچوں کا حال کچھ بھی رہا ہو، بنگلہ دیش کے ساتھ سپر فور راؤنڈ کے آخری میچ میں شاہین اور حارث ایک سے برھ کر ایک گیندیں ڈال رہے تھے، کنٹرول گزشتہ میچوں سے بہت بہتر تھا اور بال ٹو بال سٹریٹیجی بھی رنز روکنے، وکٹیں گرانے دونوں اہداف کی طرف جانے کیلئے بہتر تھی۔ کل یہ دونوں کیا کریں گے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ "گھس کر ماریں گے" اور "چھ صفر والی ہسٹری دہرائیں گے"۔
سپنرز ابرار، نواز اور صائم کے لئے پرفارمنس کے امکانات وکٹ کی کنڈیشن، ڈیو کی شرح اور بال ملنے کے وقت پر زیادہ منحصر ہے۔ اگر پہلے بیٹنگ بھارت کو کرنا پڑی تو پاکستانی پیسر اور سپنر - دونوں زیادہ بہتر پرفارم کرنے کے لئے وکت سے مدد ملنے کی امید رکھ سکتے ہیں۔
بھارت پر دباؤ
بھارت بظاہر تو فیورٹ ہے، لیکن کل ایشیا کپ کا فاینل جیتنے کے لئے گرین شرٹس مین جتنا زیادہ جوش ہے، بھارتی ٹیم میں اتنا ہی دباؤ ہے اور انہیں میدان سے زیادہ گھر واپسی پر ملنےوالے رویوں کی فکر ہے۔ یہ خوف اضافی دباؤ لائے گا اور دباؤ بہرحال کام دکھائے گا۔ پاکستان اس دباؤ سے فائدہ اتھا کر خاص طور سے بیترز سے غلطیاں کروانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اوس کا ہیزرڈ ایڈوانٹیج کیسے بنے / ٹارگڑ چیز کرنے کا فائدہ
اگر کل شام کے بعد اوس کا فیکٹر اہم ہو جاتا ہے، تو یہ سائیڈ بعد میں بیٹنگ کرنے والے فریق کے حق میں ہو سکتا ہے (لائٹس کے نیچے ٹارگٹ کو چیز کرنا کل کچھ آسان ہو سکتا ہے)۔ اس سے پاکستان کو برتری مل سکتی ہے اگر سلمان آغا ٹاس جیت کر ہدف کا تعاقب کریں گے تو باؤلرز اور بیٹرز کو ایڈوانٹیج مل جائیں گے۔
پاکستان کے خلاف کام کرنے والے عوامل
بھارت کا غلبہ اور گہرائی
بھارت مضبوط بیٹنگ کی طاقت اور متوازن باؤلنگ اٹیک کے ساتھ مستقل مزاجی کے ساتھ میچ جیتتا آ رہا ہے۔ کل اتوار کی شام میچ کے لئے بھی وہ ہی زیادہ تر تجزیوں میں پسندیدہ ٹیم ہیں۔ مثال کے طور پر، رائٹرز کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنا ٹائٹل برقرار رکھنے کے لیے مضبوط فیورٹ دکھائی دیتا ہے۔ خود پاکستان کے اندر بہت سے (واقعتا بہت سے) لوگ یہ قرار دیتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان کے فائنل جیتنے کا امکان تو دس فیصد بھی نہیں۔ ان بیشتر ولگوں کی یہ رائے کھیل کے متعلق نالج کی بنیاد پر نہیں بلکہ بھارتی تیم کی بنائی ہوئی پرسیپشن کی بنیاد پر ہے۔
ہیڈ ٹو ہیڈ برتری اور نسفیاتی بالادستی
گزشتہ دو میچ اور اس سے پہلے بہت سے میچ- پاکستان اور بھارت کے میچوں میں بھارت کی جیت کی شرح پاکستان سے ڈھائی گنا زیادہ رہی ہے۔
بھارت کی ٹیم نفسیاتی بالادستی کے ساتھ کل شام کو میدان میں آ سکتی ہے، خاص طور پر بڑے میچوں میں بھارت کی گزشتہ کچھ عرصہ کی پرفارمنس ان کو نفسیاتی برتری عطا کر سکتی ہے۔
پچ اور ویدر کنڈیشن
کل اتوار کی شام سے رات بھیگنے کے دوران پچ کس طرح برتاؤ کرتی ہے، یہ اس پر منحصر ہے؛ اگر وکٹ، جیسا کہ اب تک بیشتر وقت رہی ہے- کل شام بھی سست رہتی ہے تو بیٹنگ (خاص طور پر ابتدائی) آسان نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے کیس مین یہ مشکل کچھ برھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان کی اوپننگ جوڑی بھارت کی اوپننگ جوڑی کے مقابلہ میں کافی کم سٹیبل رہی ہے۔ اگر پچ سست رہتی ہے یا بعد میں ٹرن آفر کرتی ہے، جب تک کہ پاکستان اچھی طرح سے مطابقت نہیں بناتا، پاکستان کو اضافی جدوجہد کرنا پڑ سکتی ہے۔
دباؤ کے تحت پھانسی
کل ہونے والے فائنل میں، غلطی کا مارجن کم ہے۔ اگر پاکستان کچھ غلطیاں کرتا ہے (کیچ ڈراپ، ڈھیلی ڈیلیوری، بیٹرز کی جلد بازی، رن ریٹ کا دباؤ لے کر غیر محتاظ سٹروکس) تو بھارت ان کو سزا دے سکتا ہے۔ یہ بات آج ہفتہ کے روز کیپٹن سلمان آغا نے خاص طور سے مینشن کی کہ گزشتہ دو میچوں میں بھارت سے کھیلتے ہوئے جو غلطیاں ہوئیں وہ کل نہیں ہونا چاہئیں۔ گزشتہ میچوں کی طرح کل بھی غلطی کی سزا خوفناک ہو گی۔
کس کیلئے جیتنا زیادہ آسان
یہ فرض کرتے ہوئے کہ حالات "نارمل" رہیں گے؛ تمام متغیرات کو دیکھتے ہوئے، میں ہندوستان کے جیتنے کا امکان ~60-70% کے درمیان دیکھ رہا ہوں اور پاکستان کو جیتنے کا امکان 30-40% تک ہو سکتا ہے۔
ٹاس پاکستان کی جیت کے امکان کو 20 فیصد تک بڑھا سکتاہے
یہ مجرد اندازہ ٹاس سے پہلے کا ہے اور اوس کی حقیقی صورتحال سامنے آنے سے پہلے کا ہے۔ اگر ٹاس پاکستان جیتتا ہے تو صرف وکٹ کی ابتدا میں کنڈیشن اور اوس کی بعد میں کنڈیشن کے فیکٹرز کو اپنے حق میں استعمال کر کے پاکستان اپنے جیتنے کے امکانات کو دس سے بیس فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
دبئی میں پچ/وکٹ کی حالت
حالیہ رپورٹس اور پچ تجزیہ کی بنیاد پر:
پاکستان انڈیا فائنل میچ کے لیے دبئی کی پچ تازہ (نئی سطح) ہونے کی امید ہے اور ممکنہ طور پر تیز باؤلرز کو کچھ مدد ضرور فراہم رکے گی۔ زیادہ فائدہ بومرہ کے حصے میں آتا ہے یا شاہین اور حارث کے حصے میں اس کا دارومدار سلمان آغا کی ٹاس جیتنے کی سکِل پر ہے۔
وکٹ نئی ہونے کی سورت میں ہم توقع کر رہے ہیں کہ جیسے جیسے اننگز آگے بڑھے گی، بیٹنگ کے حالات میں بہتری کی توقع کی جاتی ہے (پچ "بس جائے گی")۔
اس سے پہلے کے میچوں میں، دبئی کی پچز کو بعض اوقات بلے بازوں کے لیے کچھ سست اور چیلنجنگ قرار دیا گیا تھا - سپن کو بھی کرشن مل سکتا ہے۔
ڈِیو فیکٹر
کہا جاتا ہے کہ آؤٹ فیلڈ تیز ہے، اس لیے اچھے وقت سے فرق پڑے گا، لیکن رقبہ کے سائز کے لحاظ سے گراؤنڈ کی حدود کو ڈیو سے صاف کرنا اب بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
دبئی کے حالیہ میچوں میں اوس بہت بڑا عنصر نہیں رہا ہے، لیکن کپتان اب بھی اس پر نظر رکھیں گے - اگر دوسرے ہاف میں بھاری اوس آتی ہے، تو اس سے فلڈ لائٹس کے نیچے بیٹنگ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔
مختصراً میرا خیال ہے کہ کل شام ہم کیوریٹرز سے ایک ایسی پچ کی توقع کریں جو بلے اور گیند کے درمیان ایک منصفانہ مقابلہ دے؛ جس میں باؤلرز کو ابتدائی فائدہ ہو، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بیٹرز کو بھی کچھ آسانی دستیاب ہونا چاہیے۔
دبئی میں کل شام موسم کی پیشن گوئی، اوس اور نمی کتنی ہو سکتی ہے
دبئی کی میٹ ایجنسی بتا رہی ہے کہ کل دن بھر دبئی میں دھوپ رہے گی۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے کل شام کی پیشین گوئی یہ ہے کہ آسمان صاف رہے گا/ دھوپ والے حالات رہیں گے، بارش کی توقع نہیں ہو گی۔ رات کو ڈ،یو بھی کم بنے گی۔
دبئی میں کل اتوار کی شام کا درجہ حرارت: تقریباً 32 °C ہو سکتا ہے۔
نمی کتنی ہو گی
کل اتوار کی شام دن بھر دھوپ رہنے کے بعد شام میں ہوا میں نمی تقریباً 63% ہو گی۔
حالیہ میچوں میں بھی ایشیا کپ کے میچوں کے دوران دبئی میں رات کے وقت نمی 61-62٪ کی حد میں رہنے کی فورکاسٹ ہوتی رہیں۔ اتوار کی شام اور رات کو دبئی میں بارش کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
نمی اور ٹھنڈک کی وجہ سے شام کے بعد شبنم بڑھ سکتی ہے، لیکن غالب کی بجائے کل شام ڈیو/ اوس کی مقدار بہت زیادہ بہرحال نہیں ہو گی۔
اس طرح، کل شام موسم کے حالات نسبتاً گرم ہوں گے معتدل نمی، صاف آسمان، اور رات کے بڑھنے کے ساتھ ہی اوس کے کچھ امکانات لیکن زیادہ اوس سرِ دست گرتی دکھائی نہیں دیتی۔ ۔






